قسط: 10
لیکچر ختم ہونے کے بعد قندیل کو یاد ایا کہ اس نے نوٹس ابھی تک نہیں لیے اس لیے وہ جلدی سے اپنے ڈیکس سے اگے بڑھی تھی جب اسے پیچھے سے ماہی کی اواز ائی
کہاں جا رہی ہو قندیل
میں کلیرک افس نوٹس لینے جا رہی ہوں کہ ابھی دس منٹ میں اگلا لیکچر سٹارٹ ہو جائے گا پھر ٹائم نہیں ملنا
اچھا ٹھیک ہے جاؤ لے اؤ اتنا کہنے کے بعد ماہی اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگی جبکہ قندیل کلاس روم سے باہر نکلتی کلیرک افس کی طرف بڑی ہی تھی کہ کیسی نے اس کی بازو سے پکڑ کر کمرے کے اندر کھینچا
وی اس کھیچاؤ کی وجہ سے لہراتے ہوئے سامنے کھڑے وجود سے بری طرح ٹکرائ
ایسے ایسا لگا جیسے اس کا سر کیسی کھنمے سے ٹکرا گیا ہے
اس نے گھومتے سر کے ساتھ اوپر دیکھا تو قلب غصے بھری آنکھوں سے اس کو ہی دیکھ رہا تھا
قلب نے اس کی کلائ کو اپنی آہنی گرفت میں لیتے ہوئے اندر کی طرف کرتے دروازہ زور سے بند کیا اور قندیل کو دروازے کے ساتھ بائیں طرف موجود دیوار سے پن کیا
جبکہ قندیل قلب کو بس حیران و پریشان دیکھ رہی تھی کہ اس کے ساتھ ہو کیا رہا ہے
تمہاری ہمت کیسے ہوئ خود سے لاپرواہ ہونے کی
قلب نے اس کی کلائ پر اپنی گرفت سخت کرتے ہوئے کہا
جبکہ اپنی کلائ پر بڑتے دباؤ کی وجہ سے اس کے آنکھوں میں آنسو آ گئے تھے
اس نے آنسو بھری آنکھوں سے قلب کی طرف دیکھا تو قلب نے کلائ پر دباؤ کچھ کم کیا مگر چھوڑی نہیں
میں کچھ پوچھ رہا ہوں تم سے
قلب نے اسے ہونکوں کی طرف خود کو دیکھتے پا کر غصے سے پھر سے دہاڑا
جبکہ اس کی دہاڑ سن کر قندیل اندر تج کانپ گئ
کیا مطلب ہے آپ کا سر میں کچھ سمجھی نہیں
قندیل نے کانپتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا
اس میں سمجھ نہ آنے والی کیا بات ہے
جب اس لڑکے کے سٹالر کھینچنے کی وجہ سے تمہارا سٹالر کھل گیا تھا تو تم اس کو اوسی وقت ٹھیک نہیں کر سکتی تھی
سٹالر کھلنے کی وجہ سے تمہاری گردن نظر آنے لگی تھی تم کو اس کا کچھ ہوش تھا
میں تم کو بتا رہا ہوں قندیل تم کو دیکھنے کا تم کو چھونے کا تم کو محسوس کرنے کا حق صرف مجھے ہو گا اور یہ حق میں بہت جلد آپنے نام لگا لو گا پر تب تک اگر تم نے پھر سے خود سے کوئ لاپروائ کی تو مجھ سے برا کوئ نہیں ہو کا سمجھ رہی ہو نو میری بات
اس کی غصے سے بھری دہاڑ سن کر قندیل نے بے ساختہ سر ہاں میں ہلایا
گڈ ….
اب تم جاؤ کلاس میں تم کو نوٹس میں کل لا دو گا اس کی گال پر تھپکی دیتے ہو نرمی سے کہا
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد قندیل آنسو بھری آنکھوں سے اس کو دیکھتے آفس روم سے نکلی جبکہ قلب نے پیچھے اپنا ہاتھ زور سے دیواد میں دے مارا تھا
یہ لڑکی کیو نہیں سمجھ رہی کے میں اس سے محبت جرتا ہو میں نہیں برداشت کر سکتا اس پر کیسی اور کی نظر
کیو ……
کیو نہیں یہ مجھ رہی
قلب ہزیانی انداز میں چلا رہا تھا یہ تو اس کا روم وائس پروف تھا نہیں تو اس کی محبت و جنونیت کی داستان باہر چلتا ہر انسان سنتا
یہ میں کیا کہ رہا ہو………
کیا مجھے قندیل سے محبت ہو گی ہے
نہیں.. نہیں… نہیں مجھے محبت نہیں ہو سکتی
میں محبت نہیں کر سکتا میں تو اپنے بابا کو بے گناہ ثابت کرنے آیا تھا میں محبت نہیں کر سکتا
کیو تم کیو نہیں محبت کر سکتے کیا تم انسان نہیں ہو یہ تمہارے اندر دل نہیں ہے
قلب تمہارے اندر دل تو ہے پر تم نے اس کو پتھر کر دیا ہے تم پر اپنے باپ کو بے گناہ ثابت کرنے کا اتنا جنون سوار ہے کہ تم نے خود کو اپنے دل کو پتھر کا کر لیا ہے پر مس قندیل نے تمہارے اس پتھر دل کو پھر سے دھڑکناں سکھایا ہے تم محبت کرنا سکھایا اور یہ ہی بات تم قبول نہیں کر پا رہے
تم کو مس قندیل سے محبت ہو گی ہے یہ بات مان لو نکل اؤ اس خول سے جو تم نے اپنے گرد سات سال پہلے بنایا تھا خدارا زندگی کی طرف لوٹ اؤ چھوڑ دو ان وحشتوں کا ساتھ
قلب نے پلٹ کر دیکھا تو حارث اس کے پیچھے کھرا اس سے کہ رہا تھا
حارث جو لیکچر ختم ہونے کے بعد قلب سے اس کے اتنا غصہ کرنے کی وجہ پوچھنے آیا تھا کہ وہ اتنا غصہ کیو کر رہا تھا جبکہ بات اتنی بڑی نہیں تھی
نہیں ہے مجھے اس سے محبت میں کیوں کروں اس سے محبت میں اپنے باپ کو بے گنا ثابت کرنے ایا ہوں محبت کرنے نہیں اور اگر تم کہہ رہے ہو کہ مجھے اس محبت ہے بھی تو اب تم دیکھو گے کہ قلب شاہ کیسے اس محبت کو اپنے دل سے نکال کر باہر پھینکے گا
تم اپنے ہی دشمن کیوں ہو جب سے میں تم سے ملا ہوں تب سے میں نے اج تک تمہیں مسکراتے نہیں دیکھا تم اتنے پتھر دل کیوں ہو
میں جیسا بھی ہوں ٹھیک ہوں یہ میرا اپنا ذاتی مسئلہ ہے تم جو کرنے ائے ہو جلدی سے بولو اور دفع ہو جاؤوووو
قلب بیہیو یوئر سیلف. میں صرف تم سے بات کرنے ایا تھا پر مجھے نہیں لگتا کہ تم بات کرنے کی حالت میں ہو اسی لیے میں جا رہا ہو
اتنا کہنے کے بعد حارث دروازہ بند کرتا باہر چلا گیا جبکہ قلب واپس اپنے چیئر پر بیٹھتے اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں گرا لیا اور اپنا ماتھا مسلنے لگا کیونکہ اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا
پروفیسر قلب کے افس سے باہر نکلتے قندیل نے اپنے آنسو بہت مشکل سے روک رکھے تھے
یہ ہر دفعہ میرے ساتھ ایسا کیوں کرتے ہیں جلاد انسان اتنی زور سے مجھے دیوار سے پن کیا کہ میری کمر میں درد ہونا شروع ہو گئی یہ
یہ سوچتے ہوئے اس کے روکے انسو بہنا شروع ہو گئے
کیا ہوا قندیل تم رو کیوں رہی ہو ماہی جو قندیل کو گئے ہوئے اتنا ٹائم ہوگا سوچتے اس کے پیچھے ائی تھی اس کو روتا دیکھ اس سے پوچھنے لگی
ماہی میں نے تم کو بتایا تھا نا کہ پروفیسر شاہ نے مجھے پچھلی دفعہ بھی ڈانٹا تھا اور اج پھر بلا وجہ چھوٹی سی بات پہ پھر سے ڈانٹ دیا
ہوگی اتنا کہنے کے بعد وہ پھر سے رونا شروع ہو گئی
جبکہ ماہی بھی قلب کے بدلے ہوئے رویے سے کچھ حد تک پریشان تھی اس کا قندیل کو یوں چھوٹی چھوٹی بات پر ڈانٹنا اسے بہت عجیب لگ رہا تھا
کچھ نہیں ہوا میری جان چلو واش روم میں منہ دھو لو
اس کے بات سنتے قندیل ہاں میں سر ہلاتی اس کے ساتھ واش روم کی طرف چلی گئی
اج قندیل کو ہاسپٹل سے گھر واپس ائے پورا مہینہ گزر گیا تھا اس مہینے کے دوران قندیل کافی حد تک صحت یاب ہو گئی تھی جبکہ کبیر نے بہت شدت سی نوٹ کیا تھا کہ سندس اس واقعہ کے بعد بہت پریشان رہنے لگی تھی
کبیر شاہ نے اس سے بہت دفعہ اس کی پریشانی کی وجہ پوچھی مگر ہر دفعہ بات کو ٹال مٹول کرتی ان کے پاس سے اٹھ جاتی یا بات بدل دیتی
اور پریشان کیوں نہ ہوتی ان کی اکلوتی بیٹی اگے زندگی میں اتنا درد برداشت کرے گی کون ماں ہے جو اپنے بچوں کو درد میں دیکھ کر خوش ہوتی یہ سکون سے رہتی
اس حملے کے بعد کبیرشاہ کے اوپر یا ان کی فیملی کے اوپر اور کوئی حملہ نہیں ہوا تھا اور نہ ہی اب ان کو اپنا آپ کسی کی نظروں میں محسوس ہوتا تھا اس بات سے کبیر شاہ کافی سکون میں تھے
مگر یہ سکون کب تک قائم رہتا ہے یہ اس پاک ذات کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا
حیدر کہاں جا رہے ہو رکو تو صحیح مجھے بھی اپنے ساتھ لے کے جاؤ
حیدر جو کینٹین کی طرف جا رہا تھا پیچھے سے غازم کی اواز سنتے پیچھے کی طرف اڑا تھا جواب دیتے پھر آگے کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا
میں کینٹین جا رہا ہوں تم بھی آجاؤ
اچھا بتاؤ کیا کھائے گا دونوں کینٹین میں بیٹھے تو حیدر نے سوال کیا
جا دو برگر اور تین چار سموسے لے ا ساتھ میں کولڈ ڈرنک بھی
غازم نے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا
موٹے تو کتنا کھائے گا دو برگر ہی بہت ہے
اتنا کہنے کے بعد حیدر برگر لینے چلا کر جب کہ غازم نے پیچھے سے اپنی کتابیں کھول لی
یہ لکھا لے موٹے حیدر دو برگر اور تین سموسے لے کر ایا تھا اور ساتھ میں کولڈ ڈرنک اس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
غازم نے برگر اٹھا کر ابھی ایک وائٹ لی ہی تھی جب نیلم حیدر کو ڈھونڈتے ہوئے اس کے پاس آئ
حیدر چلو لائبریری چلتے ہیں نیلم نے حیدر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا
حیدر نے نیلم کی طرف دیکھا جو رائل بلو کلر کے گون میں وائٹ کلر کا سٹالر پہنے اس کے سامنے کھڑی تھی
یار میں غازم کے ساتھ کھانا کھا لوں پھر چلتے ہیں
وہ کھانا پکڑو اور میرے ساتھ کینٹین چلو ادھر بیٹھ کے کھا لینا ساتھ میں مجھے نوٹس بنانے میں ہیلپ کر دینا
نیلم دیکھ لو اب……..
حیدر نے کچھ حد تک مانتے ہوئے کہا
پلیزززززززززز…..
نیلم نے معصوم سی شکل بناتے ہو اس کی طرف دیکھ کر کہا
چلو میری ماں
حیدر نے اس کی معصوم سی شکل دیکھتے ہوئے کہا
ماں نہیں بیوی
جب کہ اس کی بات سننے کے بعد نیلم نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
حیدر نیلم کا ہاتھ پکڑتے لائبریری کی طرف چلا گیا جب کہ پیچھے غازم اپنا سا منہ لے کے رہ گیا
کچھ سوچنے کے بعد اس نے کھانا کھانا شروع کر دیا
غازم اور حیدر نے سکول اور کالج اکٹھا ہی کیے تھے اور اب یونیورسٹی میں بھی دونوں ساتھ لاسٹ سمیسٹر کر رہے تھے
نیلم سے ان کی ملاقات فرسٹ سمسٹر میں ہوئی تھی نیلم ایک بزنس مین کی بیٹی تھی اور حیدر نے اپنی مکمل پڑھائی میرٹ پر کی تھی دونوں ہی بچپن سے بہت لائق تھے نیلم کو حیدر پہلی نظر میں ہی پسند اگیا اسی لیے فرسٹ سمسٹر کے اخر میں نیلم نے اسے شادی کی پرپوز کیا حیدر نے یہ کہہ کر ریجیکٹ کر دیا کہ وہ اس کے لیول کا نہیں ہے نیلم اور اس کا کوئی جوڑ نہیں ہے وہ ایک امیر ادمی کی بیٹی ہے اور وہ ایک میرٹ لسٹ پر پڑنے والا لڑکا
آخر کا تیسرے سمسٹر میں نیلم کے بار بار کہنے پر اس شادی کے لیے مان گیا تھا ماننا تو حیدر نے ہی تھا کیونکہ حیدر کے والدین کا انتقال عمرہ کے لیے جاتے ہوئے فلائٹ کریش کی صورت میں ہو گیا تھا جبکہ غازم حیدر سے فائننشل حالت میں کچھ حد تک بہتر تھا
اخر کار تھرڈ سمسٹر کے لاسٹ میں حیدر اور نیلم نے نکاح کر لیا اس کے باپ کی طرف سے حیدر کو صرف ایک گھر ہی اتا تھا جس میں وہ رہتا تھا
حیدر نے کہا تھا کہ وہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد جاب سٹارٹ کرنے کے بعد اچھا سا گھر لے گا پھر وہ نیلم کو اپنے پاس لے کر ائے گا
جبکہ نیلم کے باپ کو تو صرف اپنی بیٹی کی خوشی چاہیے تھی انہوں نے حیدر کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کی تھی انہیں حیدر ہر لحاظ سے اپنی بیٹی کے لیے درست لگا تھا اسی لیے انہوں نے رشتے کے لیے ہاں کر دی جب کہ نیلم کی ماں ڈیتھ تقریبا تین سال پہلے ہو چکی تھی
ہاں بولو کون سا سوال سمجھ نہیں ارہا حیدر نے لائبریری میں بیٹھتے ہوئے پوچھا
یہ والا
نیلم نے ایک سوال پر انگلی رکھتے ہوئے کہا
یار یہ تو اتنا ایزی سوال ہے تمہیں یہ کیوں نہیں ا رہا ادھر لاؤ کتاب مجھے دو حیدر نے اس کے ہاتھ سے کتاب پکڑتے ہوئے کہا
نیلم کتاب پر دھیان دو
حیدر سوال سمجھا رہا تھا جب کہ نیلم کو لگاتار اپنی طرف دیکھتے پتے کر کہا
حیدر تم غازم کو کیو نہیں چھوڑ دیتے
نیلم نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
میں نے تم سے کتنی دفعہ کہا ہے کہ وہ میرا سکول سے دوست ہے میں اسے نہیں چھوڑ سکتا اور تم ایسا کیوں چاہتی ہو کہ میں اسے چھوڑ دوں کیا مسلہ ہے تم کو اس سے
مجھے مسئلہ ہے حیدر وہ مجھے اس طرح سے دیکھتے ہیں جیسے وہ مجھے نظروں ہی نظروں سے کھا جائے گا مجھے اس کی نظروں سے وحشت ہوتی ہے
یہ صرف تمہارا وہم ہے نیلم ایسی کوئی بات نہیں ہے میں اسے بچپن سے جانتا ہوں وہ ایسا لڑکا نہیں ہے
پر حیدر…….
میں نے کہا نا نیلم…….
حیدر غصے سے بولا اپنی پڑھائی پر دھیان دو فضول سوچوں کو اپنے دماغ سے نکال دو انہی سوچو کی وجہ سے تم پڑھائی میں کمزور ہوتی جا رہی ہو اور مجھے پڑھی لکھی بیوی چاہیے نکمی نہیں اس نے کتاب کو ہلکا سا نیلم کے سر پہ مارتے ہوئے کہا پہلے غصے سے بات کرتے ہوئے اخر میں شرارتا بولا
حیدر تم دیکھ لینا ایک دن تم اسی دوست کی وجہ سے کوئی بڑا نقصان کر بیٹھو گے اور مجھے نہیں پڑنا تم سے اتنا کہنے کے بعد نیلم اپنی کتابیں اٹھاتی لائبریری سے باہر چلی گئی جبکہ پیچھے حیدر حیران و پریشان اس کو دیکھ رہا تھا جو ایک چھوٹی سی بات پر اتنا ناراض ہو کر اٹھ سے لے گئی تھی
جلدی سے اپنی کتابیں اٹھاتا اس کے پیچھے بھاگا
نیلم میری جان رک تو جاؤ حیدر نے اس کے بازو پکڑتے ہوئے کہا
کیوں رکو میں تمہارے پاس تمہیں میری بات پر یقین ہی نہیں ہے میں کہہ رہی ہوں نا مجھے تمہارا یہ دوست نہیں پسند
اچھا بابا ٹھیک ہے نہیں کرتا میں اس کے بارے میں بات اپنا موڈ تو ٹھیک کروں
حیدر نے اس کی حجاب کے حالے میں چھپے ہوئے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑتے پیار سے کہا
حیدر کے اتنے پیار سے منانے پر نیلم کا دل جھٹ سے پگل گیا حیدر میں تم سے پیار کرتی ہوں نا تم اسی بات کا فائدہ اٹھاتے ہو اور ہر دفعہ مجھے منا لیتے ہو کسی دن میں بڑی والی ناراض ہو گئی نا تو ڈھونڈتے پھرو گے پر تمہیں نیلم کہیں نہیں ملے گی
حیدر اس کے بعد سننے کے بعد اس کے چہرے کو غور سے دیکھا اس کی نظر اس کے ہونٹوں پر موجود تل پر گئ تو اس کو اپنے گلے سوکھتا محسوس ہوا
اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اس کے ہونٹوں پر جھک گیا اور اپنا شدت بھرا لمس اس کے ہونٹوں پر چھوڑا
کیونکہ یہ لائبریری کی سائیڈ کا حصہ تھا اور بریک ٹائم ہونے کی وجہ سے تمام سٹوڈنٹ اس ٹائم کینٹین موجود تھے تو اس طرف ان دونوں کے علاوہ کوئ موجود نہیں تھا
اور اگر کچھ طالب علم تھے بھی تو لائبریری کے اندر تھے
حیدر نے اس کی رکتی ہوئی سانس محسوس کر کے اپنے ہونٹ اس کے لبوں سے جدا تھی
جبکہ نیلم اپنا سرخ انار چہرہ لیے لمبے لمبے سانس لیتی اپنی سانس کو ہموار کر رہی تھی
تمہاری آج کل زبان بہت چلنے لگ گئی ہے میرے پاس اس سے اچھا طریقہ نہیں ہے تمہاری زبان بند کرنے کا
نیلم نے ایک شکوہ بھری نظر اس پر ڈالی اور اپنے قدم کلاس روم کی طرف بڑھائے جب کہ حیدر اس کے پیچھے پیچھے ا رہا تھا
جبکہ غازم جو اپنا کھانا ختم کرنے کے بعد حیدر کے پیچھے ایا تھا اس کو نیلم کے چہرے پر یوں جھکتا دیکھ جلدی سے اپنا رخ پلٹ گیا تھا
کمینہ انسان غازم کے منہ سے یہ الفاظ نکلے بے ساختہ نکلے اور بھی حیدر کے پیچھے کلاس روم کی طرف چلا گیا