آتشِ قلب

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 12

ماضی
3مہینے بعد ………..
حیدر کو ٹریننگ پر گئے اج پورے تین مہینے ہو گئے تھے
جب ک نیلم نے اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ایک پرائیویٹ سکول میں ایز وائس پرنسپل اپنی جاب سٹارٹ کی تھی نیلم اپنے کمرے کی بالکنی میں بیٹھے نیچے دیکھتے ہوئے حیدر کے انے کا انتظار کر رہی تھی
اس بات کا مکمل یقین نہیں تھا کہ حیدر اج ا جائے گا کیونکہ حیدر نے جانے سے پہلے کہا تھا کہ وہ تین مہینے بعد اسی ڈیٹ پر ائے گا مگر ادھر موبائل سروس نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس سے رابطہ نہیں کر پائی تھی اس کا دل کہہ رہا تھا کہ حیدر ائے گا
ابھی وہ انہی سوچوں میں گم تھی جب اسے اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھوں کا لمس محسوس ہوا اور اس نے اپنے ارد گرد پھیلی اس کلون کی خوشبو سے پہچان لیا کہ انے والا کون ہے
اسے نے پلٹ کر دیکھا تو اسے تو اپنی انکھوں پر یقین ہی نہ ہو رہا تھا کہ اس کی پہلی محبت اس کا شوہر اس کا محرم اس کے روبرو کھڑا ہےاس کی انکھیں بے ساختہ نہ ہوئی تھی
جبکہ وہ اس کے سامنے کھڑا اپنی چھا جانے والی پرسنلٹی کے ساتھ دلکشی سے مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا جیسے اس سے ضروری اور کوئی کام ہو ہی نہ
او یار جانی رو کیوں رہی ہو ادھر میرے پاس آؤ حیدر نیلم کے سامنے ہاتھ کرتے ہوئے بولا جب کہ نیلم نے اپنے آنسو روکیں اپنے دایاں ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا حیدر نے اس کے ہاتھ کو مضبوطی سے اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیا اور اپنی طرف کھینچا جبکہ نیلم کٹے ہی ڈال کی طرح اس کی باہوں میں اسمائی
حیدر نے اس کے گرد اپنا حصار بنایا اور اس اپنے سینے میں بھینج لیا
کافی ٹائم اسی پوزیشن میں رہنے کی بعد نیلم اس سے دور ہوئ
حیدر اپ کی ٹریننگ مکمل ہو گئ ہے تو اپ کی پوسٹنگ بھی ہو گئی ہے کیا
نیل نے جلدی سے اپنے دل میں مچلتا ہوا سوال کیا
جانی ارام سے ارام سے اتنی جلدی پوسٹنگ کہاں 10 20 دنوں میں لیٹر ا جائے گا تو پتہ چل جائے گا کہ میری پوسٹنگ کہاں ہوئ ہے
حیدر نے اس کی بے تابیاں دیکھتے مسکرا کر کہا
کیا مطلب ہے اپ کی اس بات کا اپ نے کہا تھا کہ اپ اپنی بوسٹنگ اسلام اباد میں ہی کروئیں گے
نیلم نے اس کی بات سننے کے بعد شوق سی حالت میں کہا
جی جی میں نے اسلام اباد کی ہے ایپلیکیشن دی ہے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے پر بندہ شوہر گھر ایا کوئی کھانے وغیرہ کا پوچھ لے اتے ہی شکوے شروع شروع
لگاتی ہوں اپ کے لیے کھانا بہت سارے کھانے بنائے ہیں میں نے اپ کے لیے اپنے ہاتھوں سے ائے نیچے چلتے ہیں نیلم اس کا ہاتھ پکڑتی نیچے چلی گئی
نیلم اور حیدر ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھ کے کھانا کھا رہے تھے جبکہ حیدر مسلسل محبت بھرے نظروں سے نیلم کو دیکھے جا رہا تھا
جبکہ حسن شاہ (نیلم کا والد ) نے کھانا کھانے کے بعد دوائی لینی ہوتی ہے اس لیے وہ ٹائم سے کھانا کھا کر اپنے کمرے میں ارام کر رہے تھے
نیلم نے ہلکے اسمانی کلر کا کرتا سفید کلر کی شلوار پہن رکھی تھی کرتے کی ہم رنگ دوپٹہ وہ سر پہ اڑے سیدھا اس کے دل میں اتر رہی تھی
اتنا امیر ہونے کے باوجود نیلم ایک عام سی مشرقی لڑکی تھی ایسے دوسری امیر لڑکیوں کی طرف اپنے آپ کی نمائش کرنا شوآف کرنا زرا پسند نہیں تھا
کیا بات ہے حیدر ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں اپ کی نظروں سے مجھے الجھن ہو رہی ہے اپنے کھانے پر دھیان دے
جب نیلم اس کی نظروں کی تپش کو اور برداشت نہ کر پائی تو بول اٹھی
کیا ہو گیا نیلم جانم میں تو بس تمہیں دیکھ رہا ہوں اور تمہیں میرے دیکھنے سے بھی مسلہ ہے
اور اگر تم کو میرے دیکھنے سے مسئلہ ہے بھی نا تو اس کا میں کچھ نہیں کر سکتا میں تمہارا شوہر ہوں مجھے تمہیں دیکھنے کا پورا حق ہے بلکہ یوں کہا جائے صرف مجھے ہی تمہیں دیکھنے کا حق ہے
ایسی بات نہیں حیدر اپ دیکھیں جتنا مرضی دیکھیں بلکہ صرف اپ کو ہی دیکھنے کا حق ہے مگر مجھے کھانا تو ارام سے کھانے دے مجھے اپ کی نظروں سے الجھن ہو رہی ہے
نیلم نے اسے اپنی بات کا غلط مطلب لیتے ہوئے جلدی سے اپنی صفائی میں کہا
ابھی تم کو میری نظر سے الجھن ہو رہی ہے شادی کے بعد میرے پاس انے سے الجھن ہوگی
میں صحیح کہہ رہا ہوں نا
حیدر نے اس کے گھبرانے پر اسے مزید تنگ کرتے ہوئے کہا
نہیں ایسی بات نہیں ہے اپ کیا کہیں جا رہے ہیں نیلم نے سرخ چہرے سمیت شرماتے ہوئے کہا
اگر ایسی بات نہیں ہے تو کیسی بات ہے تم ہی بتا دو
حیدر نے اس کی شرمانے پر محبت سے اس کو نہارتے ہوئے کہا
اچھا بابا دیکھ لیں جتنا دیکھنا ہے دیکھ لیں نہیں میں روکتی نیلم نے ہار مانتے ہوئے کہا
ابھی باتیں کر ہی رہے تھے جب حسن شاہ ڈائننگ ٹیبل کی طرف ائے اور سربراہی کرسی پر بیٹھتے ہوئے حیدر کی طرف متوجہ ہوئے
اور برخودار کیا حال ہے انہوں نے استانہ انداز میں بات کا اغاز کیا
الحمدللہ انکل میں ٹھیک اپ کیسے ہیں
میں بھی ٹھیک ہوں اور سناؤ کیسی گئی تمہاری ٹریننگ ان کے سوال کرنے پر نیلم نے بھی حیدر کی طرف دیکھا جو اس کے انے کی خوشی میں اس سے پوچھنا ہی بھول گئی تھی اس بارے میں
الحمدللہ انکل ٹریننگ بہت اچھی گئی میرا سلیکشن بھی ہو گیا ہے انشاءاللہ 10 20 دنوں تک پوسٹنگ کا لیٹر بھی ا جائے گا
حیدر شاہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا برخوردار ارمی مین ہو اور پوسٹنگ اسلام اباد میں ارمی سرحدوں پہ نہیں ہوگی جسن شاہ نے قدر حیران ہوتے کہا
ان کی بات سننے کے بعد نیلم کی فیس ایکسپریشن بھی جیسے یہی کہہ رہے تھے ہاں ارمی تو سرحدوں پر ہوتی ہے تم یہاں کیا کرو گے
حالانکہ ان کو حقیقت معلوم تھی اصل میں وہ نیلم کے فیس ایکسپریشن دیکھ کر سوال کر رہے تھے جیسے بیٹی کے پوچھے جانے والے سوالات کو باپ الفاظ دے رہا ہو
اپ کی بات تو ٹھیک ہے اصل میں اسلام اباد میں ارمی کا ہیڈ کوارٹر موجود ہے جہاں پر سیکرٹ ایجنسی اور اس کے کچھ معلومات ہیں یہاں پر ٹاپ ارمی مینز مل کر ڈفرنٹ مشن سرانجام دیتے ہیں میری پڑھائی اور میرے سکیل کو دیکھتے ہوئے مجھے ان ٹاپ میں شامل کیا گیا ہے
اصل میں حیدر ان کی بات اور ان کی انکھوں کا اشارہ سمجھ گیا تھا اس لیے تفصیلا جواب دیا
تو کیا تم سگریٹ ایجنٹ ہو نیلم نے قدر حیرانی اور خوشی کی ملی جلی اواز میں پوچھا
نہیں جانم میں سیکرٹ ایجنٹ نہیں ہوں میں سیکرٹ ایجنسی کا بندہ ہوں مگر سگریٹ ایجنٹ نہیں ہوں میں ایک عام ارمی مین ہوں
او اچھا اس کی بات پر ٹھنڈا سا جواب دیا جبکہ اس کے یوں اپنے باپ کے سامنے جانم بلانے پر وہ کان کی لو تک سرخ ہوئی تھی
تو پھر تمہارا شادی کا کیا خیال ہے برخوردار حسن شاہ نے ان کی بات میں دوبارہ سے حصہ لیا
خیال تو نیک ہی ہے انکل اس مہینے میری پوسٹنگ ہو جائے گی اور انشاءاللہ اسی مہینے کے اخر میں مجھے گھر بھی مل جائے گا تو ڈیٹ ہم اگلے مہینے کی رکھیں گے
کیوں نیلم بیٹا صحیح ہے اگلی مہینے کی ڈیٹ حسن شاہ نے نیلم کی رضامندی لینا بھی ضروری سمجھی
پاپا میں کیا کہوں جیسا اپ کو اچھا لگے پڑھائی میری پہلے ہی مکمل ہو گئی ہے اب مجھے کوئی اعتراض نہیں اپ میری شادی جب چاہیں کر سکتے ہیں
جیسا تم دونوں کو اچھا لگے شادی تو تم دونوں نہیں کرنی ہے خیر اپنا خیال رکھنا برخوردار میں جا رہا ہوں اتنا کہنے کے بعد حسن شاہ دوبارہ اٹھا اور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا جیسے وہ صرف یہی بات کرنے ایا ہوں جو وہ کر چکے ہیں
ان کے جانے کے بعد حیدر شاہ نے معنی خیز نظروں سے نیلم شاہ کو دیکھا جبکہ اس کی نظروں کا محفوظ سمجھتے ہوئے نیلم اپنا کھانا ادھورا چھوڑتی واش روم کی طرف چلی گئی
جبکہ اس کے یوں اٹھ کر جانے پر حیدر شاہ اپنے امڈنے والے قہقے کا گلا دبا نہ سکا اور پورے لاؤنج میں اس کا قہقہ گونجہ
اپنے پیچھے حیدر شاہ کا قہقہ سنتے نیلم پھر سے سرخ ہوئی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
جب یونیورسٹی پہنچے تو انہیں غیر محسوس طریقے میں کچھ عجیب لگا اور ان کا دل تو صبح سے عجیب ہو رہا تھا جیسے کچھ غلط ہونے والا ہے وہ گھر سے نکلتے بھی کتنی دفعہ پلٹ کر قندیل کو دیکھ چکے تھے ان کا دل کچھ غلط ہونے کی پیش گوئی کر رہا تھا جبکہ اس کو اپنا وہم سمجھتے ہیں خدا کا نام لیتے اپنا لیکچر شروع کر چکے تھے
انہوں نے ایک نظر تمام کلاس پر ڈالی جب تھرڈ رو کے فرسٹ بینچ پر انہیں رابعہ بیٹھی نظر ائی جو نظریں نیچے کیے کتاب کو دیکھ رہی تھی رابیہ نے جب کبیر شاہ کو پروپوز کیا تھا اور کبیر شاہ کے ریجیکشن کے بعد وہ صرف کام کے لیے ہی کبیر شاہ سے مخاطب ہوتی اور زیادہ تر وہ انہیں دیکھتی بھی نہیں تھی
کبیر شاہ نے ایک نظر رابیہ کو دیکھتے ہوئے اپنا لیکچر سٹارٹ کیا ابھی لیکچر ادھا ہی ہوا تھا کبیر شاہ کو کلاس روم کے باہر دھواں دھار گولیوں کی اواز انا شروع ہوئی
اواز سنتے تمام بچے سہم کر اپنے ٹیکس کے نیچے چھپ گئے تھے جب کہ کبیر شاہ حیران و پریشان کھڑا سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ ہوا کیا ہے
کبیر شاہ ابھی دروازے کی طرف قدم بڑھا ہی رہا تھے جب انہیں کلاس میں لگے سپیکر سے اواز انا شروع ہوئی جو ہنگامی صورت میں ضروری اطلاع دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا
ٹیچرز سٹوڈنٹ کو لے کر یونی کے پچھلے دروازے سے باہر نکلیں کیونکہ ارمی کی ریڈ ہوئی ہے دہشت گردوں کے لیے ان میں سٹوڈنٹس اور ٹیچر کو کوئی نقصان نہ ہو اس لیے بیک ڈور سے تمام ٹیچرز اور سٹوڈنٹس یونی سے باہر نکل جائیں
سپیکر سے اتے ہوئے اواز سننے کے بعد تمام سٹوڈنٹس میں ایک بھگدڑ سی مچ گئی کبیر شاہ نے اونچی اواز میں انہیں چپ کروایا میں جو کہہ رہا ہوں وہ سبھی سنیں لائن بنا کر ایک دوسرے کے پیچھے یونی سے باہر نکلنے کے دروازے کی طرف چلیں
جلدی جلدی ہری اپ
اتنا کہنے کے بعد تمام سٹوڈنٹ نے کبیر شاہ کی بات پر عمل کرتے ہوئے لائن بنا کر دروازے سے باہر نکلتے یونی کے بیک ڈور کی طرف جاتا شروع کیا
تمام سٹوڈنٹس کے باہر نکلنے کے بعد جب کبھی شاہ نے کلاس روم سے باہر قدم بڑھایا تو اس کی نظر اچانک تھرڈ رو کی فرسٹ ٹیکس میں کسی بچے پر پڑی جو ابھی بھی ڈیکس کے نیچے چھپا ہوا تھا
انہوں نے جلدی سے قدم واپس موڑتے ٹیکس کی طرف بڑھائے
جب وہ ڈیکس کے قریب پہنچے تو ان کی نظر ڈیکس میں بے ہوش ہوئی رابیہ پر پڑی جو شاید گولیوں کی اواز سن کر گھبراہٹ کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی تھی
کبیر شاہ نے رابیہ کے بازو سے پکڑ کر اسے ڈیکس باہر نکالا اور اسی جگانے کی کوشش کی اس کے چہرے پر ٹیبل کی پر پڑے جگ میں سے پانی نکال کر چھینٹے مارے
پانی کے چھینٹوں کی وجہ سے رابعہ کو ہوش انا شروع ہو گئی
رابیہ کو ہوش میں آتا دیکھ کبیر شاہ کو کچھ حوصلہ ہوا
چلو رابیہ جلدی سے ہمیں یونی کے بیک ڈور سے باہر نکلنا ہے چلو جلدی جلدی
کبیر شاہ نے اسے مکمل ہوش میں اتے دیکھ جلدی جلدی کہا اور قدم دروازے کی طرف بڑھائے تھے جب کمرے میں مکمل ارمی یونیفارم میں کوئی داخل ہوا جس کے ہاتھ میں ایک گن تھی
میں نے کتنے ٹائم پہلے کا دیا ہے کہ یونی سے باہر نکلیں اپ ابھی تک یہاں ہیں جلدی جلدی باہر نکلو چلیں
ارمی مین نے انہیں ابھی بھی کلاس روم میں دیکھتے ہوئے کہا
یس سر ہم ابھی باہر جا ہی رہے تھے کبیر شاہ نے ارمی مین کو دیکھتے کہا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے جبکہ رابعہ پہلے ہی دروازے کے پاس کھڑی تھی
ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے کلاس روم میں ایک اور ارمی مین داخل ہوا اس کے داخل ہونے کے بعد اچانک کمرے میں ایک دھواں سا پھیلنا شروع ہوگیا شدید سفید گاڑے رنگ کا دھواں کمرہ مکمل طور پر دھوئیں میں ڈوب چکا تھا
یہ دھواں کیسا ہے حیدر شاہ (فرسٹ ارمی مین )
لگتا ہے اس کمرے میں بھی سمگلر ا گئے ہیں غازم ( سیکنڈ ارمی مین )نے حیدر کی بات کا جواب دیا
اسی سنا میں حیدر شاہ کو کسی نے پیچھے سے دھکا دیا جب ان کے گن ان کے ہاتھ سے چھوٹی زمین پر گری
اچانک ایک گولی چلنے کی اواز ائی اور کسی کو گرتا ہوا محسوس کیا
کچھ ٹائم بعد جب کمرے سے مکمل دھواں ختم ہو گیا تو ان کی نظر سامنے بڑی ڈیڈ باڈی پر پڑی جو کسی اور کی نہیں اس ٹیچر کی تھی جو اس کمرے میں موجود تھا
غازم اور حیدر شاکڈ حالت میں اس لاش کو دیکھ رہے تھے
غازم نے حیدر کی طرف دیکھا تو گن اس کے ہاتھ میں نہیں تھی اس کے پاؤں کے قریب گری پڑی تھی اور اس میں سے دھواں نکل رہا تھا جیسے ابھی اس میں سے گولی چلائی گئی ہو
حیدر نے غازم کی نظروں کے تعاقب میں دیکھا تو اپنے پاؤں کے پاس پڑی گن سے نکلتے ہوئے دھول کو دیکھ کر شاکڈ ہوا
حیدر نے پلٹ کر غازم کی طرف دیکھا تو اس کی نظروں کا محفوظ سمجھتے اندر تک لرز گیا جو اج تک کسی جنگ کے میدان میں کسی مشن میں کسی خطرے میں نہیں گھبرایا تھا اج غازم کی نظروں سے گھبرا گیا تھا
نہیں نہیں غازی میرے بھائی میں نے یہ قتل نہیں کیا
غازی گن تو میرے ہاتھ سے گولی چلنے سے پہلے ہی چھوٹ گئی تھی
حیدر پریشان نہ ہو تمہارا قتل میں اپنے سر لے لیتا ہوں غازم نے ایسے یوں گھبراتے دیکھ کہا
نہیں غازی جب میں نے یہ قتل کیا ہی نہیں ہے تو تم اپنے سر کیوں لو گے حیدر نے اس کی بات سننے کے بعد غصے سے کہا
گھبراؤ نہیں حیدر گازم نے اسی تسلی دینے چاہیی
غازم میں کیوں گھبراؤں گا میں نے یہ قتل نہیں کیا میں نہیں گھبراں گا
اگر تم نے نہیں کیا تو کس نے کیا ہے گن تمہاری سے دھواں نکل رہا ہے گولی تمہارے گن سے چلی گن تمہارے ہاتھ میں تھی پھر کس نے کیا یہ قتل غازم کو اس کی بات سننے کے بعد غصہ اگیا تھا
اس کی بات سننے کے بعد کچھ دیر تک بالکل خاموش ہو گیا جیسے اس کے اندر ایک سکوت چھا گیا ہو غازم کہہ تو صحیح رہا تھا گن اس کے ہاتھ میں تھی اس کی گن سے دھواں نکل رہا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ گولی اسی گن سے چلی ہے اور ان دونوں کے علاوہ کمرے میں کوئی اور موجود بھی نہیں ہے تو پھر قتل اس سے ہی ہوا ہے نا
اسے یقین نہیں ارہا تھا کہ یہ قتل اس کے ہاتھ سے ہو گیا تھا
غازی میرے ہاتھ سے قتل ہو گیا وہ اس کو یوں بتا رہا تھا جیسے اعتراف کر رہا ہو اپنے جرم کا
جب کے دروازے کے پاس کھڑی اور رابیہ تو سکتے میں تھی غازم کی اچانک نظر دروازے کی طرف گئی تو اسے رابیہ وہاں کھڑی نظر ائی
غازم رابیہ کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھا وہ رابیہ کے بالکل سامنے جا کھڑا ہوا ابھی اسے کھڑے ہوئے چند سیکنڈ ہی ہوئے تھے جب رابیہ لہراتی ہوئی نیچے زمین پر گری
حیدر رابیہ کو نیچے زمین پر گرتے دیکھ غازم کی طرف بڑھا
حیدر اس سے کچھ کہتا جب کمرے میں بہت سی ارمی داخل ہوئی جب کرنل اقبال کی نظر پیچھے پڑی لاش پر پڑی تو انہوں نے نہ سمجھی کہ حالت میں غازم اور حیدر کی طرف دیکھا
ان کی نظروں کا مطلب سمجھتے ہوئے غازم بولا
سر یہ لیکچرار جو شاید اس کمرے سے نکلنے والے تھے جب ہم اس کمرے میں ائے تو اچانک کمرے میں دھواں سا بھر گیا یہی میجر حیدر سے دھوئیں میں گولی چلی اور یہ لیکچرار مر گیا یہ قتل حیدر سے انجانے میں ہوا ہے
غازن کی بات سننے کے بعد کرنل نے حیرانی سے حیدر کی طرف دیکھا جیسے وہ اس سے پوچھ رہے ہو کیا یہ بات سچ ہے
سر میں نے یہ جان بوجھ کے نہیں کیا کمرے میں اچانک دھواں ہو گیا اور گولی چلی مجھے نہیں پتہ یہ گولی مجھ سے کیسی چلی حیدر نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا
آریسٹ ہم کرنل نے بہت ہی سفاکیت سے کہا جبکہ ان کے پاس سننے کے بعد حیدر اور غازم سکتے میں چلے گئے
حیدر نے حیران کن نظروں سے کرنل کی طرف دیکھا جیسے پوچھنا چاہ رہا ہو سر اپ مجھے اریسٹ کروانا چاہتے ہیں
اس کی نظروں کا مطلب سمجھنے کے بعد کرنل بولا
تم یہ اعتراف کر رہے ہو کہ یہ قتل تمہارے ہاتھ سے ہوا ہے اور ایک بے گناہ کے جان گئی ہے ارمی کا کام ہوتا ہے عوام کی حفاظت کرنا اگر ارمی ہی عوام کے لیے خطرہ بن جائے گی تو لوگ یقین کس پر کریں گے اس لیے مجھے اپ کو اریسٹ کرنا ضروری ہے
یہ مجھ سے غلطی سے ہوا ہے حیدر نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا
میجر حیدر قتل قتل ہوتا ہے چاہے وہ غلطی سے ہو یا چاہے وہ جان بوجھ کر ہو اب اپ نے جو بھی کہنا ہے عدالت میں جج کے سامنے کہیے گا مجھے اپ سے دلی لگاؤ ہے اور اج تک اپ نے بہت سے اپنے کامیاب مشن کیے ہیں جس کی وجہ سے میں مکمل کوشش کروں گا کہ اپ کو سزا کم سے کم ہو
اتنا کہنے کے بعد کرنل نے ایک ارمی مین کو اشارہ کیا اور وہ اگے بڑھتا ہے حیدر شاہ کو ہتکڑی لگاتا اپنے ساتھ لے گیا جب کہ غازم پیچھے حیران و پریشان کھڑا تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial