قسط: 13
یہ شاہ منزل کا منظر تھا جہاں اس وقت صف ماتم بچھی ہوئی تھی ہر شخص سفید لباس میں کوئی ا رہا تھا کوئی جا رہا تھا ایک ہلچل سی مچی ہوئی تھی جیسے اس گھر میں قیامت اتر ائی ہو
اس قیامت خیز منظر میں گھر کے بیچو بیچ کوئی سفید کفن اوڑھے سو رہا تھا ابدی نیند کبھی نہ اٹھنے کے لیے
جبکہ اس کے اس قدر گہری نیند سونے سے اس کے دل کے قریب رشتوں کو شاید اج فضا میں اکسیجن کی کمی محسوس ہو رہی تھی سانس سینے میں ہی اٹکتی محسوس ہو رہی تھی
اس جنازے کی چارپائی کی سرہندی اس کی بیوی بیٹھی تھی جو ایک دم خاموش تھی شاید اس کی سانس لینے کی اواز بھی کسی کو نہیں ارہی ہو وہ اس قدر خاموشی سے بیٹھی تھی جیسے ایک لفظ بولا تو اس قیامت پر ایک اور قیامت ا جائے گی
جبکہ اس کی بیٹی جس کی اج برتھ ڈے تھی اج اس نے 12 سال کے ہونا تھا اس کی لاش دیکھتے ہی کب سے ہوش و حواس سے بیگانہ اپنے بیڈ روم میں بے ہوش پڑی تھی
اس کی بیٹی نے تو صرف ایک جھلک اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھا اور دوسری دفعہ دیکھنے کی نوبت ہی نہ ائی ایک دفعہ دیکھنے پر ہی وہ اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ ہو گئی
جبکہ چار پائی کے پاؤں والی سائیڈ سلطان شاہ اپنی جھکے کندھوں کے ساتھ بیٹھا تھا شائد اپنے ہوئے نقصان کے بارے میں سوچ رہا تھا جنہوں نے کبیر شاہ کو اپنی زندگی سے پانچ سال صرف ایک لڑکی کے لیے الگ رکھا اور اب جب وہ ملے تھے تو کتنے کم عرصے کے لیے اکٹھے ہوئے تھے اور خدا نے ان سے ان کا بیٹا لے لیا تھا
جب کہ سلمہ بیگم اپنے بیٹے کی جدائی میں نڈھال سی ہو گئی تھی سندس نے انہیں بڑی مشکل سے نیند کی دوائی د** دے کر سلایا تھا
کچھ ہی دیر بعد کچھ لوگ جنازہ اٹھانے کے لیے ائے تو اس قیامت ذدا گھر میں اک قہرام سا مچ گیا
سندس جو کب سے اپنے اپ پر ضبط کر کے بیٹھی تھی جنازہ اٹھانے کے لیے ائے لوگوں کو دیکھ کر چیخیں مار مار کے رونے لگی وہ اس قدر روئی کہ اس کو غش انے لگے جبکہ جنازہ اٹھانے کے لیے انے والے لوگ جنازہ اٹھا کر کلمے کی صدا لگاتے ہوئے اس کی اخری ارام گاہ کی طرف چلے گئے
سندس کی چیخیں سنتے قندیل جو کب سے اپنے ہوش و حواس سے بگانا تھی اپنے کمرے سے دوڑ کر باہر حال میں ائی جہاں اس کی ماں کی چیخوں کی وجہ سے اک قیامت خیز منظر بنا ہوا تھا
قندیل بڑے ارام سے اپنی ماں کے سامنے ا کر بیٹھی جو اس کو اپنے سامنے دیکھ کر ایک دم خاموش ہو گئی تھی جیسے ان دونوں کے اندر ہی ایک عجیب سا سکوت چھایا ہو ویرانی ہو اکیلا پن ہو
مما اپ ایسے کیوں رو رہی ہیں قندیل نے اپنے ماں کے رخسار پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا قندیل کو سکون میں دیکھتے ہوئے سندس اور اس کے پاس بیٹھی عورتوں کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا تھا جیسے وہ ابھی بھی اپنے ہوش و حواس میں نہیں ہے
اپ ایسے نہ روئیں اپ کو پتہ ہے نا بابا اپ سے کتنی محبت کرتے ہیں وہ اپ کی انکھوں میں ایک انسو نہیں برداشت کر سکتے اور اپ یہاں کتنا رو رہی ہیں اگر وہ اگئے تو اپ کو کتنا ڈانٹیں گے اپ کے رونے پر اور اپ روک کیوں رہی ہیں اور بابا کہا ہے
اووووو ہوسکتا ہے وہ میری برتھ ڈے پارٹی کی ارینجمنٹس کرنے گئے ہو اج میری برتھ ڈے پارٹی ہے نا بابا کل کہہ رہے تھے کہ ہم بڑی اچھی طرح سیلیبریٹ کریں گے مجھے لگتا ہے وہ وہیں گئے ہیں اپ روئے نہ مما جب وہ ائیں گے تو پھر اپ پر بہت زیادہ غصہ کریں گے
قندیل نے اپنے سوال کے بعد کچھ دیر اپنی ماں کو دیکھا جب انہوں نے جواب نہ دیا تو اس نے اپنے اپ سے ہی شاید اپنے اپ کو ہی مطمئن کرنے کے لیے ایک چھوٹا سا بہانہ گھڑا کہ شاید اس کا باپ اس کی برتھ ڈے پارٹی کا انتظام کرنے گیا ہو
جبکہ قندیل کی بات سونے کے بعد سندس کےجسم میں تھوڑی حرکت ہوئ تھی
قندیل تمہارے بابا اب اس دنیا میں نہیں رہے وہ اللہ تعالی کے پاس چلے گئے ہیں اور اج کوئی سیلیبریشن نہیں ہوگی بیٹا
سندس نے قندیل کو اپنے باہوں کے حصار میں بھرتے ہوئے اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے کہا جبکہ یہ بات کرتے ہوئے اس کا اپنا دل درد سے پھٹ رہا تھا
کیا کہہ رہی ہے مما پاگل ہو گئی ہیں بابا ابھی تو تھے میرے سامنے میں سونے گئی تو وہ مجھے تھپک کر سلا رہے تھے ابھی میں اٹھ کے ائی ہوں تو اپ روئی جا رہی ہے مجھے لکھتے ہیں وہ باہر گئے ہیں اپ کیوں نہیں سمجھ رہی میری بات
قندیل نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جسے وہ سندس سے زیادہ خود کو مطمئن کرنا چاہتی ہوں کہ اس کا باپ مرا نہیں ہے زندہ ہے
نہیں ہے زندہ تمہارا باپ مر گیا ہے وہ چھوڑ گیا ہے ہمیں چلا گیا ہے ابدی نیند سونے اب کبھی نہیں ائے گا وہ واپس
تم بھی میری بات سمجھ لو
سندس نے اس کے باہوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوئے کہا جیسے وہ اس کو اس کے ہوش میں لانا چاہتی ہو
کیا کہہ رہی ہے مما اپ اپنے حوش و حواس میں ہیں پاگل تو نہیں ہوگی میرا باپ زندہ ہے اور ابھی دیکھیے گا وہ ابھی میرا برتھ ڈے کیک لے کے ائیں گے ہم سیلیبریشن کریں گے اپ کو میں کہہ رہی ہوں اپ ایسے الفاظ یوز نہیں کرنے ورنہ قبدیل مر جائے گی مما قندیل مر جائے گی اپ کیوں نہیں سمجھ رہے
سندس کی بات پر قندیل نے ہزیانی طور پر چیختے ہوئے کہا جیسے وہ یہاں موجود ہر شخص کو یہ بتا دینا چاہتی ہوں کہ اس کا باپ زندہ ہے مرا نہیں ہے
مر گیا ہے قندیل مر گیا ہے تمہارا باپ مان لو اس بات کو سندس نے روتے ہوئے کہا
قندیل سندس کی بات سننے کے بعد اپنے دادا یعنی سلطان شاہ کی طرف بڑی
دادا ابو آپ مما کو سمجھاؤ نہ کے وہ ایسا نہ کہے نہیں تو میں مر جاؤ گی دادا ابو قندیل مر جائے گی
قندیل نے اپنے دادا کے ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا اس کی آنکھیں آنسوں سے بھری ہوئ تھی وہ ایسے ضد کر رہی تھی جیسے کوئ معصوم بچہ اپنی من پسند چیز کو کھونے سے ڈر رہا ہوں
وہ بھی تو ایک معصوم بچی تھی جو اپنے باپ کو کھونے سے ڈر رہی تھی
جیسے چاہتی ہو کہ یہ سب ایک خواب ہو اور خواب ابھی ٹوٹ جائے
قندیل کی آس بھری آنکھوں کو دیکھ کر سلطان شاہ کو اپنا دل کٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
بیٹا آپ کی مما جو کہ رہی ہے وہ سہی کہ رہی ہے
دادا ابو آپ بھی نہیں نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا بابا نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ آج وہ جلدی گھر واپس آئے گے
مما آپ فون کرے نہ بابا کو پلیز مما
قندیل نے اپنی مما کی طرف پلٹ کر دیکھتے ہوئے کہا
قندیل بیٹا رو لو پلیز مما کی جان تھوڑا سا رو لو سندس نے اس کو گلے لگاتے ہوئے کہا
نہیں رونا مجھے نہیں رونا میں کہ رہی ہو نہ
چٹاخ…………..
ابھی قندیل بول ہی رہی تھی جب سندس نے اس کو ایک زور دار تھپڑ مارا
قندیل نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر سندس کو حیرانی سے دکھا
تم میری بات سمجھنے کی کوشش کرو قندیل روؤں قندیل روؤں جتنا ہو سکے اتنی اونچی چیخ چیخ کر روؤں
سندس نے قندیل کے بازوں سے پکڑ کر اسے کہا کہ وہ اپنے دل کا غبار باہر نکلے یوں دل میں دبا کے رکھے گی تو وہ اپنی دماغی حالت کھو سکتی ہے اسے کچھ ہو سکتا ہے
اللہ آاااااااااااا
آااااااااااااااااا
آاااااااااااااااااااااااا بابا
میرے بابا چلے گئے ےےےےےےے. بابااااااااااااا
سندس کی بات سننے کے بعد قندیل نے زور زور سے چیخیں مارنا شروع کر دی اتنی زور سے کہ اس گھر کی در و دیوار ہلتی محسوس ہوئی
وہ روتے ہوئے اپنے باپ کو پکار رہی تھی شاید وہ اس کی درد بھری پکاریں سن کر ہی واپس ا جائے پر وہ جا چکا تھا ہمیشہ کے لیے کبھی نہ لوٹ کے انے کے لیے
اور یہ غم بھی وقت کے ساتھ بھر جانا تھا 12 سال کی بچی کو اس کے برتھ ڈے والے دن سب سے بڑا صدمہ ملا تھا جو ہو سکتا ہے زندگی میں وہ اگے کبھی نہ بھولے پر وقت ہر چیز پر مرہم ہوتا ہے اس پر بھی مرہم بن جائے گا
حیدر کی پوسٹنگ اسلام اباد میں ہی ہوئی تھی پوسٹنگ ہونے کے کچھ دن بعد ہی اس نے جوائن کر لیا تھا اور اپنا فرض سر انجام دینا شروع کر دیا تھا
اسے کام کرتے تقریبا مہینہ گزر گیا تو حسن شاہ نے ایک دفعہ پھر اسے شادی کی بات کی کیونکہ حسن شاہ کی طبیعت ناساز رہنا شروع ہو گئی تھی شاید یہ ان کی عمر کا ہی تقاضا تھا وہ چاہتے تھے کہ ان کے مرنے سے پہلے ان کی بیٹی محفوظ ہاتھوں میں چلی جائے
حسن شاہ کے کہنے پر حیدر نے اسی مہینے کی آخری تاریخ دی تھی
وہ بھی اب اپنی زندگی کو بڑھانا چاہتا تھا نیلم کو اپنی زندگی میں لا کر
حیدر کے ڈیٹ دینے کے بعد حسن شاہ نے ہسی خوشی اپنی بیٹی کو رخصت کرنے کی تیاریاں شروع کر دی جبکہ اس دوران حیدر کے گھر میں غازی حیدر کی مدد کر رہا تھا اس کے تیاریاں مکمل کرنے میں
غازم کا نکاح ٹریننگ پر جانے سے پہلے اس کی چچا زاد سے ہو چکا تھا جب کہ ان کی شادی حیدر کی شادی کے تقریبا تین مہینے بعد تھی
دیکھتے ہی دیکھتے شادی کے دن قریب اگئے اج نیلم کی بارات تھی جہاں سٹیج پر حیدر اور نیلم بیٹھے ان خوشگوار لمحات کو جی رہے تھے
لوگ رفتہ رفتہ ان کے پاس اتے اور انہیں ڈھیروں دعاؤں سے نوازتے نئی زندگی کی شروعات کی دعائیں دیتے اور دوبارہ پیچھے ہٹ جاتے ہیں جبکہ وہ ان کی ہر دعا پر امین کہتے دل سے خوش تھے اپنے خدا کی رضا میں جس نے ان کو ایک خوبصورت رشتے میں باندھا تھا
وہ سٹیج پہ بیٹھے سب کی دعا لے رہے تھے جب حسن شاہ نے آ کر رخصتی کا کہا اور اس رخصت نیلم رخصت ہو کر حیدر کے نئے گھر آ گئ تھی جو ارمی نے اسے دیا تھا
وقت گزرتا گیا اور ان کی شادی کو 10 سال گزر گئے غازم کی بھی شادی ہو گئی تھی اللہ تعالی نے حیدر اور نیلم کو شادی کے پہلے سال ہی ایک نہایت ہی خوبصورت بیٹے سے نوازا جس کا نام انہوں نے بڑی محبت سے قلب رکھا حیدر کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا ان کا دل ہے اسی لیے انہوں نے اس کا نام قلب رکھا ہے
غازم کی شادی کے دو سال گزرنے کے بعد اللہ تعالی نے انہوں کو بھی اپنی نعمت سے نوازا تھا جنس کا نام حارث رکھا تھا
حیدر اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا جبکہ اس کا بیٹا قلب حیدر وہ لندن میں اپنی پڑھائی مکمل کرنے گیا اور اس کے ساتھ حارث بھی تھا قلب کے جانے کے دو سال بعد حارث اس کے پیچھے لندن گیا تھا اپنی پڑھائی کے لیے
قلب 21 سال میں اپنے تھرڈ سمسٹر میں ہاورڈ یونیورسٹی اف لندن پڑھ رہا تھا جب کہ حارث 19 سال کی عمر میں اپنے فرسٹ سمسٹر میں اسی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا جب ایک دن قلب کو فون ایا کہ اس کے بابا کے ہاتھ سے ایک بے قصور کا قتل ہو گیا جس کی وجہ سے انہیں ارمی نے اریسٹ کر لیا ہے
وہ اپنی پڑھائ بیچ میں چھوڑتے حارث کو لے کر واپس پاکستان ا گیا
حیدر شاہ کو اریسٹ ہوئے اج تیسرا دن تھا اس کے ساتھ باقی قیدیوں جیسا رویہ نہیں رکھا جا رہا تھا شاید اس کی پوسٹ کی وجہ سے
وہ سیل میں بیٹھا تھا جب جیلر نے آ کے سیل کھولا اور کہا کہ تمہیں رہائی دی جاتی ہے
حیدر شاہ اس کے بات سننے کے بعد حیران ہوتا اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا
حیدر جب جیل سے باہر ایا تو اس کے سامنے غازم کھڑا تھا اس نے جاتے ہی غازم کو گلے لگا لیا
جوان ذرا ہماری طرف غور فرماؤ گے
وہ ابھی ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے تھے جب انہیں پیچھے سے کرنل کی اواز ائی
دونوں کونل کے سامنے بالکل سیدھے کھڑے ہو گئے
کیا میں میجر حیدر سے تھوڑی دیر اکیلے میں بات کر سکتا ہوں کرنل نے غازم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جیسے چاہتے ہوں کہ وہ باہر چلا جائے جبکہ اس کی بات سننے کے بعد غازم نے سلیوٹ کرتے ہوئے باہر کی طرف قدم بڑھائے
جب کرنل کو اس بات کی تصدیق ہوگی کہ غازم باہر چلا گیا تو انہوں نے حیدر کو بیٹھنے کا اشارہ کیا
جوان تمہاری رہائی ابھی مکمل طور پر نہیں ہوئی صرف تم پر ابھی گناہ ثابت نہیں ہوا اس لیے تمہیں چھوڑا جا رہا ہے ابھی کیس ختم نہیں ہوا اس کیس کے ختم ہونے تک تم اس ملک سے کیا اس شہر سے بھی باہر نہیں جا سکتے میری بات سمجھ رہے ہو
یس سر
بعد اس کمرے میں کافی ٹائم خاموشی چھائی رہی
حیدر نے محسوس کیا جیسے کرنل ابھی بھی کچھ کہنا چاہتے ہو
سر اپ کچھ کہنا چاہتے ہیں حیدر نے بات میں پہل کی جبکہ اس کی بات سننے کے بعد کرنل نے کچھ چونکتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر ہاں میں سر ہلایا
دیکھو جوان جو بات میں بتانے لگا ہوں ہو سکتا ہے وہ تمہیں بری لگے لیکن یہ تمہارے لیے اور تمہارے مستقبل کے لیے بہت اچھی ہے
یہ سر میں سن رہا ہوں اپ بولیں
اس کے بات سننا کے بعد حیدر نے حیرانگی سے کرنل کی طرف دیکھا جیسے کہنا چاہتا ہو کہ یہ سچ نہیں ہے اپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے
نہیں سر ایسا نہیں ہو سکتا اپ کا کوئی غلط فہمی بھی تو ہو سکتی ہے
ہو سکتا ہے یہ میری غلط فہمی ہو میں صرف تمہیں اس سے اگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ تم اپنی اگلی زندگی میں اس چیز سے محتاط رہو
اوکے سر
حیدر نے ان کی بات کے جواب میں صرف اتنا کہنے پر ہی عافیت جانی
حیدر جب گھر واپس ایا تو قلب پہلے سے ہی گھر موجود تھا اس کو دیکھتے ہی وہ اس کے سینے سے لپٹ گیا
ان دونوں ٹاپ بیٹے نے گھنٹو بیٹھ کر ایک دوسرے سے باتیں کی ایک دوسرے کے دل کا حال بتایا
جبکہ نیلم بیگم کی ان دنوں طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ دوائی لے کر سو چکی تھی وہ تو حیدر کی گرفتاری والے دنوں میں بھی بالکل پریشان نہیں ہوتی کیونکہ ان کو پتہ تھا ان کا شوہر بے قصور ہے اور جس کا کوئی قصور نہ ہو خدا اس کے ساتھ برا نہیں ہونے دیتے
رات کا کھانا کھانے کے بعد جب قلب اپنے روم میں چلا گیا حیدر سٹڈی روم میں چلے آیا اور اپنی ڈائری لکھنے لگا
قلب جب عشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو اس کے دل نے کہا کہ جا کے وہ ایک دفعہ اپنے باپ کو ہی دیکھ لے
وہ جب حیدر کے کمرے میں گیا تو وہ اپنے روم میں نہ تھے سٹڈی روم کا دروازہ کھلا تھا اس نے جب اندر دیکھا تو حیدر اپنی ڈائری لکھ رہا تھا اس نے بھی تنگ کیے بغیر واپس اپنے کمرے کی طرف قدم بڑھایا
……………………………………………….
صبح جب قلب کی انکھ کھلی تو اسے اپنے اندر عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی فجر کی نماز پڑھنے کے بعد وہ اپنے کمرے سے باہر نکلا تو دیکھا اس کی مما ناشتہ بنا رہی ہیں
مما بابا کہاں ہے کلر نے نیلم سے سوال کیا
بیٹا وہ سٹڈی روم میں ہے رات کو جب میں ان کو روم میں واپس لانے کے لیے گئی تو انہوں نے کہا ان کو کچھ کام ہے اس کے بعد روم میں ا جائیں گے بٹ وہ نہیں ائے شاید سٹڈی روم میں ہی سو گئے ہوں تم جا کے دیکھ لو ذرا
قلب نیلم کی بات سننے کے بعد سر ہلاتا سٹڈی روم کی طرف گیا جب اس نے دروازے کھولا تو دروازہ کھلتا چلا گیا اس کی سب سے پہلی نظر سامنے پڑی جہاں اس کا باپ پنکھے سے لٹک رہا تھا قلب کے منہ سے صرف ایک ہی صدا نکلی اللہ وہ جلدی سے اگے بڑھا اور اپنے باپ کے پاؤں کو کس کے پکڑ کے اس کا وزن اپنے کندھوں پہ کر لیا اور نیلم کو آواز دینے لگا جبکہ اس کی اواز سننے کے بعد نیلم بھاگتے ہوئے سٹڈی روم میں اگے کا منظر دیکھ کر اس کے تو اوسان ہی خطا ہو گئے تھے