آتشِ قلب

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 14

نیلم نے جب سامنے کا منظر دیکھا تو اس کو اپنے حواس گم ہوتے معلوم ہوئے وہ بھاگ کے اپنے بیٹے کے پاس گئی جو اس کے شوہر کی جھولتی لاش کو اپنے کندھوں پہ اٹھائے کھڑا تھا
ح ح ح حیدر یہ کیا ہوا
نیلم نے حقلاتے ہوئے حیدر کو پکارا
جب کہ قلب اپنی سرخ انگار انکھیں لیے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا جو کبھی دائیں تو کبھی بائیں چکر کاٹ رہی تھی جیسے اس سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں
قلب نے بڑے احتیاط سے حیدر کو نیچے اتارا
نیلم بھاگ کر حیدر کی لاش کے پاس ائی اور اسے جھنجوڑنے لگی جیسے چاہتی ہو کہ وہ بھی اٹھ جائے اور کہے یہ صرف ایک مذاق تھا
جبکہ قلب حیدر کی سانس اور نبض اچھے طریقے سے چیک کر چکا تھا جو ہم مکمل طور پر جامد ہو چکی تھی
قلب بولو نا اپنے بابا کو اٹھ جائیں انہوں نے کیا کر لیا یہ کیوں کیا یہ
قلب نے ایک نظر اپنے باپ اور ایک نظر اپنی ماں کو دیکھنے کے بعد مکمل نظر پورے کمرے میں دوڑائ جب اسے سٹڈی ٹیبل پر ایک چٹ نظر آئ جس کے اوپر پیپر ویٹ کو رکھا گیا تھا
قلب اہستہ اہستہ چلتا اس سٹڈی ٹیبل کے پاس ایا اور اس چٹ کو اٹھا کر پڑھنا لگا جس پر شاید اس کے باپ نے مرنے سے پہلے کوئی بات لکھی تھی
قلب جیسے جیسے اس کو پڑھ رہا تھا ویسے ویسے غصے سے اس کے ماتھے اور گردن کی رگیں پھولنے لگی تھی جبکہ انکھیں سرخ انار ہو گئی تھی
نیلم نے پلٹ کر کے قلب کی طرف دیکھا تو اس کی غصے سے سرخ ہوتی انکھوں کو دیکھ کر اس کی طرف بڑی اور اس کے ہاتھ سے وہ پیپر لے لیا جس کی وجہ سے وہ اتنا غصہ کر رہا تھا
میں اس داغ کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا کے میری وجہ سے ایک بے گناہ کی جان گئ اس لیے میں جینا نہیں چاہتا میری موت کا زمہ دار میں خود ہو میری موت کا کوئ اور زمہ دار نہیں .
اس پر لیکھی تحریر پڑنے کے بعد نیلم کے ہاتھ سے وہ پیپر زمین پر گر گیا جب کہ وہ سکتے کی حالت میں کبھی کبیر شاہ کی لاش کو دیکھتی اور کبھی قلب کو دیکھتی جو انہی کی طرف دیکھ رہا تھا
قلب نے نیلم کی غیر ہوتی حالت کو دیکھ کر نیلم کو اپنی حصار میں لیا جبکہ وہ قلب کے حصار میں اتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
قلب ان کو اپنے حصار میں ہی لیا کھڑا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ نیلم کا سارا وزن اس پر ہے اس نے نیلم کے سر کی طرف دیکھا تو وہ اپنے ہوش و حواس سے بگانا اس کے باہوں میں لٹک رہی تھی
قلب نے نیلم کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر ایک گہرا ٹھنڈا سانس لیا جیسے اپنے اپ کو انے والے حالات کے لیے تیار کر رہا ہوں
……………………………………………………..
حیدر کو گزرے پورے دو سال ہو چکے تھے حیدر کی پوزیشن اب غازم کو مل گئی تھی کیونکہ حیدر جس سکیل پہ تھا اس سے ایک سکیل نیچے تھا غازم اور حیدر کے جانے کے بعد غازم کو حیدر کی جگہ پوسٹ کر دیا گیا تھا
قلب نے کرنل اقبال کے کہنے پر اپنی سٹڈیز مکمل کرنے کے بعد ارمی جوائن کرنے کا فیصلہ لیا تھا
قلب نے 23 سال کی عمر میں ارمی جوائن کی اس کی اچھی پڑھائی اور اچھے سکلز کو دیکھتے ہوئے اسے سگرٹ ایجنٹ بنا دیا گیا
جبکہ نیلم اپنے شوہر کے گزرنے کے غم میں خود میں سمٹ کر رہ گئی تھی وہ زیادہ تر اللہ کی عبادت میں رہتی یا پھر کبھی اپنے بیٹے کے لیے اس کی من پسند چیزیں بناتے کچن میں ملتی
پانچ سال ارمی میں اپنی قابلیت منوانے کے بعد قلب اپ واپس اپنے باپ کو انصاف دلانے ایا تھا وہ اس قدر مضبوط ہو چکا تھا کہ اب وہ اپنے اپ کو اس لائق سمجھتا تھا کہ وہ اپنے باپ حیدر شاہ کو انصاف دلا سکے
حارث نے بھی اپنے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد قلب کے پیچھے اس فیلڈ کو جوائن کیا تھا جو اس سے چھوٹے سکیل پر مگر اس کے ساتھ ہی کام کرتا تھا
قلب نے اپنے باپ کو انصاف دلانے کی شروعات اسی یونیورسٹی سے کی جہاں سے یہ قصہ شروع ہوا تھا اور یہاں پہ اس کی ملاقات قندیل سے ہوئی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
قندیل کے باپ کو گزرے ہوئے اج پارے چالیس دن گزر گئے تھے
قندیل اپنے باپ کی گزرنے کے غم میں نہ جانے کتنے دن غائب دماغی کی حالت میں رہی مگر سندس نے خود کو جلد ہی سنبھال لیا شاید وہ جانتی تھی کہ اب اس کی بیٹی کا اخری سہارہ وہ خود ہے کیونکہ سلطان شاہ کا یہ کہنا تھا کہ جب سے سندس کبیر کی زندگی میں ائی تھی اس کے بیٹے کو خوشیاں نصیب ہوئی ہی نہیں تھی وہ یہی بات کرتے سندس سے لڑائی کرنے کے بعد اپنے گھر اپنے حویلی واپس چلے گئے تھے جبکہ سلمہ بیگم کے دل میں ابھی بھی ایک نرم گوشہ سندس کے لیے باقی تھا مگر وہ اپنے شوہر کے سامنے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن کبیر شاہ کے بڑے بھائی صغیر شاہ نے اپنا شفقت بھرا ہاتھ ہمیشہ سندس کے سر پر رکھا تھا
سندس نے جلد ہی اپنے اپ کو اور اپنی بیٹی کو سنبھال لیا مگر گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ابھی بھی وہ صغیر شاہ پر انحصار کرتی تھی کیونکہ وہ اپنی بیٹی کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر کام پہ نہیں جا سکتی تھی جبکہ کبیر شاہ کی اپنے نام بھی اپنی دولت تھی کہ سندس ساری زندگی ارام سے بیٹھ کر بھی گزار دیتی تو اسے کوئی مشکل نہ ہوتی جب کیا وہ دولت صغیر شاہ سنبھال رہا تھا
سندس نے قندیل کو ایک سال کے اندر اندر سنبھالتے اسے دوبارہ اس کے سکول کی طرف اس کا رجحان بڑھا دیا تاکہ وہ اپنے خیالات سے نکل کر اپنی پڑھائی پر فوکس کریں اپنی زندگی میں اگے بڑھے
قندیل نے اپنی سکول لائف میں صرف ایک لڑکی کو ہی اپنا دوست بنایا تھا صبا جو اس کے گھر سے کچھ فاصلے پر رہتی تھی انہوں نے سکول اور کالج اکٹھا کیا تھا جبکہ جب قندیل نے یونیورسٹی جوائن کی تو صبا کو اگے یونیورسٹی جوائن کرنے کی پرمیشن ملی شاید ان کے گھر کے لوگ اتنے ازاد خیالات نہیں تھے کہ لڑکیوں کو یونیورسٹی بڑھایا جائے
قندیل نے جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو اس نے اسی یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں اس کا باپ بڑھاتا تھا کیونکہ وہ چاہتی تھی کہ وہ اسی یونیورسٹی میں پڑے جہاں پہ اسکے بابا نے کام کیا تھا
اور وہاں اس کی ملاقات قلب سے ہوئی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
حال……..
اج سنڈے تھا جب صبح صبح قندیل کو صبح کا فون ایا کہ دل تو مکمل طور پر بھول ہی چکی تھی کہ صبا کی برتھ ڈے ہے مگر صبا کے فون کرنے پر ایسےیاد آیا صبا نے قندیل کو رات کو اپنی برتھ ڈے پارٹی پہ انوائٹ کیا تھا قندیل نے پہلے تو منع کرنے کی کوشش کی کیونکہ وہ کل ٹیسٹ ہونے کی وجہ سے رات کو سو نہیں سکی تھی
مگر پھر صبا کے انسسٹ کرنے پر وہ مان گئی تھی
قندیل نے جب سندس کو بتایا کہ صبا نے اسے برتھ ڈے پارٹی پر نوائڈ کیا ہے تو وہ خوش ہوئی کیونکہ وہ چاہتی تھی قندیل گھلے ملے سب کے ساتھ ہنسی خوشی رہا کرے تو وہ مان گئی پر قندیل نے شرط رکھی تھی کہ سندس بھی اس کے ساتھ جائے گی
جس پر سندس نے پہلے تو یہ کہہ کے ڈال دیا کہ وہ بچوں کی پارٹی میں بڑی کیا کریں گی مگر قندیل کے بار بار کہنے پر وہ مان گئی
شام کے وقت قندیل جب مکمل تیار ہو گئی تو اس نے ایک نظر اپنی تیاری کو دیکھا قندیل نے رائل بلو کلر کی لانگ فراک پہنی تھی جو اس کے پاؤں کو چھو رہی تھی ساتھ میں چوڑی پجامہ اور ایک لمبا دوپٹہ ساتھ لیا ہوا ہے جو بلؤ حجاب کے ساتھ اس نے اپنے کندھے پہ اور یہ اوڑ رکھا تھا
قندیل نیچے گئی تو سندس نے سادہ سا بیبی پنک کلر کا عام سا سوٹ پہنا ہوا تھا
مما اپ اتنے سادہ کوئی تیار ہیں تھوڑا سا شوخ کلر پہن لیں کوئی ریڈ یا کوئی ڈارک پنک کلر
بیٹا میں اس عمر میں ڈارک پنک کلر پہن کر کیا کروں گی چلو جلدی چلو پہلے ہم لیٹ ہو گئے ہیں صبا کا کتنی دفعہ فون ا چکا ہے مجھے
قندیل نے ان کی بات سننے کے بعد مسکراتے ہوئے سر ہاں میں ہلایا اور نکلتی باہر گاڑی ڈرائیو کرنے کے لیے فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئی قندیل نے 18 سال کی ہوتے ہی گاڑی کی ٹریننگ لے کر اپنا لائسنس بنوا لیا تھا تاکہ ان کو جانے میں اسانی ہو سکے
دونوں ماں بیٹی گاڑی میں بیٹھ کے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو چکی تھی
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥
قلب اج اسی کلب میں موجود تھا جس کی انفارمیشن حارث نے اسے دی تھی
قلب ایک ٹیبل پہ بیٹھا اپنی طرف پیٹ کیے بیٹھے پرنسپل کو دیکھ رہا تھا جو مسلسل شراب پہ شراب پیے جا رہا تھا
قلب نے اس کی طرف ایک افسوس بھری نظر ڈالی جو شخص لاکھوں بچوں کا مستقبل بنانے کے لیے کام کر رہا تھا وہ یوں شراب پی رہا تھا اسے افسوس ہوا تھا یہ جان کر
قلب کو جب یہ محسوس ہونے لگا کہ اب وہ مکمل بے ہوشی کی حالت میں جا رہا ہے تو اٹھ کر اس کے ٹیبل پر اس کے سامنے جا بیٹھا
پرنسپل پہلے اس کی طرف دیکھ کر چونکا اور پھر مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ میں پکڑا گلاس اس کی طرف بڑھایا جسے چاہتا ہو کہ یہ شخص بھی اس کے ساتھ شراب نوشی کریں جبکہ قلب نے اس کا بڑھایا ہوا گلاس لے کر اپنے سامنے رکھا اور اس کی طرف سرخ انگار انکھوں سے دیکھنے لگا
پرنسپل نے ایسے دیکھا اور پھر اپنا سر ٹیبل پہ رکھ دیا جیسے اب اپنے سر کا بوجھ بھی اسے اٹھانا مشکل لگ رہا ہو اور اہستہ اہستہ نیند میں چلا گیا
قلب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پاکٹ میں سے نکالا گیا کیپیڈ ٹیبل پر رکھا اور اس کا ہاتھ اس پیڈ کے اوپر رکھ کر اس کے فنگپرینٹر سکین کیے
اس ہاتھ کے فنگر پرینٹ کو مکمل سکین کرنے کے بعد پیڈ نے گرین سگنل دیا تو قلب مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ کو چھٹکتا کیپیڈ دوبارہ پاکٹ میں رکھ کے پلٹ کر ابھی باہر کی طرف جا رہا تھا جب اسے کلب میں تھوڑی ہلچل محسوس ہوئ اس نے پلٹ کر دیکھا تو تین چار ادمی ایک لڑکی کو کھینچتے ہوئے ایک روم میں لے کے جا رہے تھے
قلب نے اپنے قدم باہر لے جانے کے بجائے اس کمرے کی طرف لے جانا شروع کیے جہاں وہ اس لڑکی کو لے کے گئے تھے
وہ جب اس کمرے میں داخل ہوا تو کوئی شخص اس لڑکی پر جھکا ہوا تھا
جب کہ وہ لڑکی بے سد اس کے سامنے بے ہوش پڑی ہوئی تھی
قلب نے جلدی سے قدم اس لڑکی کی طرف بڑھائے مگر اس کے پہنچنے تک وہ شخص اس کے بازو سے اس کے کپڑے پھاڑ چکا تھا
اس نے جاتے ہی اس شخص کے منہ پر ایک زوردار مکہ مارا اور پلٹ کر اس لڑکی کی طرف دیکھا مگر اس لڑکی کو دیکھنے کے بعد وہ گہرے سکتے میں چلا گیا
جبکہ اس کے پیچھے کھڑے شخص نے جلدی سے رومال کے ساتھ اپنے چہرے کو ڈھکا جیسے وہ اس سے اپنی پہچان چھپانا چاہتا ہوں
قلب نے پلٹ کر اس شخص کو دیکھنا چاہا مگر وہ شاید اس کے ڈر سے اس کمرے سے بھاگ چکا تھا
اس نے نظروں کا ارتقاء دوبارہ اس وجود کی طرف کیا جو ہوش و حوس سے بیگانہ بیڈ پر بے سد پڑا تھا
وہ کوئ اور نہیں قندیل تھی جس میں اب قلب شاہ کے سانسیں بستی ہے
اس نے اپنا ایک پاؤں بیڈ کے پیندے پر رکھتے تھوڑا سا جھک کر قندیل کے چہرے پر ہاتھ رکھ کے اسی جگانا چاہا
ک
قلب کے جب ہلانے پر بھی قندیل نہ اٹھی تو قلب نے اسے باہوں میں اٹھاتے قدم باہر کی طرف بڑھائے
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial