قسط: 20
وہ جب گھر آیا تو نیلم بیگم ڈینر کی مکمل تیاری کر چکی تھی
سلام دعا کرنے کے بعد وہ کھانا کھانے کے لیے ٹیبل پر بیٹھا تھا تو نیلم نے اسے کچھ متلاتی نظروں سے دیکھا جیسا کچھ پوچھانا چاہتی ہو
امی اپ کچھ پوچھنا چاہتی ہیں مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے ان کی نظروں میں آس کو دیکھتے ہوئے سوال کیا
بیٹا تم تھوڑے غصے میں گھر سے نکلے تھے تو ۔۔۔۔ تم کہا گئے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم بیگم نے اپنے دل میں مچلتے سوال کو الفاظ کی شکل دی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ان کی بات سننے کے بعد قلب نے اپنے ہاتھ کھانے سے روکتے ہوئے فرصت سے ان کی طرف دیکھا اور لمبی سانس لینے کے بعد بات کا اغاز کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی میں اج قندیل (وہ صبح بات کرتے ہوئے قندیل اور اس کی مما کا نام نیلم کو پہلے ہی بتا چکا تھا)کی مما سے ملنے گیا تھا ریسٹورنٹ میں قلب نے ایک ہی سانس میں اپنی بات مکمل کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد نیلم بیگم کچھ حد تک حیران ہوئی تھی وہ اور قندیل کی ماں سے ملنے کیوں گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
جبکہ نیلم بیگم کی نظروں میں چھپا سوال دیکھتے ہوئے قلب نے اپنی بات کو جاری رکھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی میں نے ان کو ساری حقیقت بتائی میں اور میں نے قندیل کے رشتے کی بات کی ہے انہوں نے سوچنے کے لیے وقت مانگا ہے پر مجھے لگتا ہے کہ جواب مثبت میں ہی ائے گا تو اپ کل رشتہ لے جانے کی تیاری کریے گا اتنا کہنے کے بعد اس نے پھر سے کھانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ نیلم بیگم حیران و پریشان بیٹھی اسے دیکھ رہی تھی کیا سچ میں اس کے بیٹے کو اس کی دلی مراد ملنے والی تھی اگر ایسا تھا تو اس سے بڑھ کر اور خوشی کی بات کیا ہو سکتی تھی انہوں نے بھی قلب سے کوئی اور سوال کرنے کی بجائے اب ارام سے اپنے کھانے کی طرف توجہ دی اور کھانا کھانے لگی کیونکہ کھانے کے بعد انہوں نے اپنی دوا لینی تھی
قلب ابھی کھانا کھا ہی رہا تھا جب اسے اپنے پاکٹ میں اپنا موبائل وائبریٹ ہوتا محسوس ہوا اس نے کھانے سے ہاتھ روکتے اپنے موبائل کی طرف دھیان دیا تو سندس بیگم کی کال اتے دیکھ حیران ہوا کیونکہ کچھ گھنٹے پہلے ہی تو وہ ان سے مل کر ایا تھا اپنی حیرانی پر قابو پانے کے بعد اس نے کال اٹینڈ کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام دعا ہوئی تو سندس نے بات کا اغاز کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا میں نے قندیل سے رشتے کے بارے میں بات کی ہے وہ مان گئی ہے تم کل رشتہ لانے کی بجائے نکاح کرنے کے لیے ا جانا ان کی بات سننے کے بعد قلب بے حد حیران ہوا تھا کیونکہ کل تو انہوں نے رشتہ لے کے جانا تھا لیکن اچانک نکاح یہ اس کے لیے ایک حیران کن بات تھی اپنی حیرانی پر قابو پانے کے بعد اس نے سندس بیگم سے سوال کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انٹی کل تو ہم رشتہ لے کے ا رہے تھے لیکن اگر کوئی مسئلہ ہو گیا ہے تو اپ مجھے بتا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں بیٹا بس میں چاہتی ہوں کہ میں بیٹی کے فرض سے جلدی سرخرو ہو جاؤں تو تم کل نکاح خواں کر لے کے سادگی سے نکاح کر کے قندیل کو اپنے ساتھ لے جانا مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے انٹی کل تین بجے میں نکاح خواں کو لے کے ا جاؤں گا کل نکاح ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سنتے ہوئے نیلم بیگم بھی کافی حیران ہو رہے ہو گئی تھی جب انہوں نے قلب کو اخری کلمات کہتے ہوئے سنا اور پھر قلب نے فون رکھ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی قندیل کی ماما کا فون تھا وہ کہہ رہی ہیں کل رشتہ لانے کے بجائے نکاح کرنے کے لیے ا جانا اور کل ہی نکاح ہوگا اور رخصتی بھی کل ہی ہو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے اپنی اور سندس کے درمیان ہوئی بات نیلم بیگم کے گوش گزاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا پر اتنی ایمرجنسی کچھ وجہ تو ہوگی ایسا کرنے کی تم معلوم تو کرو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی مجھے بھی کچھ ایسا لگتا ہے مگر کل نکاح ہو لینے دے اس کے بعد معلوم کروں گا کیونکہ مجھے لگتا نہیں تھا کہ قندیل اتنی جلدی مانے گی کوئی نہ کوئی تو وجہ لگی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلم نے پر سوچ انداز میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کھانا تو وہ مکمل کھا ہی چکے تھے نیلم بیگم نے برتن سمیٹنے کے بعد اپنے قدم اپنے کمرے کی طرف کیے کیونکہ عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تھا جبکہ قلب نے اپنا روح مسجد کی طرف کیا کیونکہ اسے بھی تو خدا کے اگے جھک کر اپنی مراد پوری ہونے کا شکریہ ادا کرنا تھا
کمرے میں انے کے بعد قندیل بیڈ کے ساتھ نیچے بیٹھ کر اتنا روئی کہ اس کی انکھوں کے پپوٹر سوج گئے اس کے دل میں بس ایک ہی بات ا رہی تھی بار بار کہ اب وہ ایک ایسے شخص کے نام لکھی جائے گی جس نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جس نے اسے زمانے میں رسوہ کرنے کی کوشش کی اور وہ کس منہ سے اس کے سامنے جائے گی وہ اس پر ہنسے گا کہ اخر کار تم ای تو میرے پاس ہی نا وہ بار بار خدا سے شکوہ کر رہی تھی کہ اگر نیک مردوں کے لیے نیک عورتیں اور نیک عورتوں کے لیے نیک مرد ہیں تو قلب جیسے مرد کے لیے اسے کیوں چنا گیا
اسے قلب سے ہمیشہ چڑ ہوتی تھی جو وہ بار بار اس کے پاس اتا تھا مگر کبھی اسے اس سے نفرت نہیں ہوئی تھی مگر اس واقعہ کے بعد اگر اسے زندگی میں شدید ترین کسی سے نفرت ہوئی تھی تو وہ تھا سید قلب حیدر شاہ
اگر اس پر ایک قتل حلال ہوتا تو وہ یقینا سید قلب شاہ کا ہوتا
روتے روتتے اسے وقت کا اندازہ ہی نہ ہوا رات کے ایک بجے کے درمیان وہ اپنے خیالوں سے نکلی تو اس نے وقت دیکھا وقت دیکھنے کے بعد اسے خیال ایا کہ اس کی عشاء کی نماز رہ گئی ہے وہ اپنے سوجھے ہوئے موقع کے ساتھ اٹھی اور باتھ روم میں وضو بنانے چلی گئی تاکہ نماز کی قضائی ادا کر سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نماز کی نیت سے کھڑے ہوتے انسو اس کی انکھوں سے ٹپک ٹپک کر برس رہے تھے
نماز مکمل کرنے کے بعد جب اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو خالی نظروں سے ہاتھوں کو دیکھنے لگی اج وہ کیا مانگتی اپنے رب سے اپنے لیے رحم ،صبر ، حوصلہ کیا مانگتی وہ کل اس کی ایک ایسی زندگی کی شروعات ہونے لگی تھی جس میں اس کے لیے سمجھوتے کے علاوہ کچھ نہیں تھا وہ اپنے جسم و جان ، روح کا مالک کسی کو بنانے جا رہی تھی
بہت سوچنے کے بعد اس کے منہ سے صرف چند سطریں ہی برامد ہوئی
اللہ مجھے صبر دے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا صبر دے کہ میں اپنی اگے والی زندگی گزار سکوں۔۔۔۔۔۔۔
انسو بصورت اس کی انکھوں سے گر رہے تھے
یا اللہ مجھے ہمت دے مجھے اتنی طاقت دے کہ میں اپنی ماں کے کیے گئے فیصلے پر ان کو شرمندہ ہوتا نہ دیکھ سکوں چاہے
جلد بازی میں ہی صحیح پر انہوں نے میری زندگی کا فیصلہ کیا ہے اور میں نہیں چاہتی کہ وہ کبھی اپنے فیصلے پر شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد اس نے ہاتھ منہ پر پھیرے اور جائے نماز لپیٹتی بیڈ پر ا کر لیٹ گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیند تو اس کی انکھوں سے کوسوں دور تھی مگر پھر بھی خود کو اور دل کو مطمئن کرنے کے لیے وہ کمفرٹ منہ تک اوڑتی انکھیں مون گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر اس نے جو دعا کی تھی ہو سکتا ہے کہ وہ خدا کے سامنے قبول ہو چکی ہو سکتا ہے کہ خدا نے اس کے مقدر میں دنیا کی تمام خوشیاں لکھ دی ہوں یا ہو سکتا ہے کہ اس کے مقدر پر سیاہی کی قلم پھیر دی گئی ہو ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان تو بس دعا کر سکتا ہے قبول کرنے والی ذات تو خدا تعالی کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بے شک
حارث سن ہوئے سر کے ساتھ فون ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا کیونکہ کچھ دیر پہلے ہی اسے قلب کا فون ایا تھا کہ وہ قلب کے گھر ا جائے تاکہ وہ تین بجے تک تمام تیاریاں مکمل کر کے قندیل کے گھر نکاح کی رسم کے لیے چلے جائیں جبکہ حارث اس کی بات سننے کے بعد مکمل صدمے کی حالت میں بیٹھا تھا جیسے یہ کوئی نکاح نہ ہو گیا عجوبہ ہو گیا وہ سوچے جا رہا تھا کہ ایسی کون سی بات ہو گی کہ قلب شاہ کو اچانک قندیل شاہ سے نکاح کرنا پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ اسی حیرت و صدمے میں بیٹھا تھا جب ماہین بھاگتی ہوئی سیڑھیاں چڑھی ہوئی اس کے پاس آئی شاید اسے بھی قلب کا فون ا چکا تھا
(ماہین حارث کی خالہ کی بیٹی تھی مگر ماہین کے والد کے انتقال کے بعد حارث کی ماں کرن اپنی بہن ارم کو اپنے پاس ہی لے ائی تب سے ہی ماہین اپنی مما کے ساتھ نیچے والے فلور پر جب کہ حارس اپنے مما بابا کے ساتھ اوپر والے فلور پر رہتا تھا)
حارث تم نے سنا میجر قلب میری دوست قندیل کے ساتھ نکاح کر رہے ہیں یار مجھے پہلے ہی شک ہو گیا تھا میجر قلب پر وہ جس انداز میں قندیل کو دیکھتے تھے نا مجھے لگا تھا کہ میجر قلب قندیل کو پسند کرتے ہیں مگر اج نکاح کی خبر پر مجھے پکا یقین ہو گیا حارث میں بہت زیادہ ایکسائٹڈ ہوں
وہ حارث کے بالکل سامنے کھڑے پڑ پڑ بولی جا رہی تھی جبکہ حارث گہری نظروں سے اس کا بے پرواہ سراپہ دیکھ رہا تھا جس نے سکائے بلو کلر کا کرتا سفید دوپٹہ اور سفید کیپری پہنے دوپٹہ جو پروا کنرھے کے ساتھ جھولتا اس کے خد و خیال کو ظاہر کر رہا تھا
حارث کو یوں گہری نظروں سے اپنی طرف دیکھ پا کر ماہین کچھ نروس ہوئی تھی۔ حارث تم میری بات سن بھی رہے ہو کہ نہیں ماہین کا اسے یوں دیکھنا جھنجھلا گیا تھا
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہاں میں سن رہا ہوں بولو اگے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے پرواہی سے اس کی بات کا جواب دیا جب کہ اس نے تو ایک لفظ بھی غور سے نہ سنا تھا وہ تو بس اسے گہری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھا
اچھا اگر تم نے سب سنا ہے تو بتاؤ پھر ابھی میں نے تم سے کیا بات کی ہے ماہین نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے کمر پر ٹکاتے ہوئے لڑاکا عورتوں کی طرح کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ حارث اس کا یہ انداز دیکھتا غش خانے کو تھا کیونکہ وہ زیادہ تر گھر میں اس سے یوں لڑاکا طریقے سے بات نہیں کرتی تھی جبکہ ان ڈیوٹی تو وہ شیرنی بنی ہوئی ہوتی تھی
تم نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں شاید تم نے یہ کہا تھا کہ میجر قلب شادی کرنے والے ہیں کچھ ایسا ہی حارث نے اپنا سر کھجاتے ہوئے کہا کیونکہ اس نے تو غور سے کچھ سنا ہی نہیں تھا
اس سے اگے بھی میں نے کچھ کہا تھا وہ تم نے نہیں سنا ماہین اب کی بار کافی غصے سے بولی تھی کیونکہ ایک تو وہ اس کی نظروں سے کنفیوز ہو رہی تھی اوپر سے اس کا یہ انداز اس کا دل دھڑکانے کو تھا
کہاں ہوگا تم نے کچھ اور بھی پر مجھے بس اتنی سمجھ ائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے دو ٹوک اتنی بات کرنا کرتے جیسے بات ختم کرنی چاہیے تھی۔۔۔
تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ایسے ہی میں اپنا سر کھپانے تمہارے پاس اگئی اتنا کہنے کے بعد ماہین نے ابھی اپنے قدم باہر کی طرف بڑھائے تھے جب حارث نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے واپس اپنی طرف کھینچا وہ کٹی ہوئی ڈال کی طرح لہراتے ہوئے اس کی باہوں میں اگے دی کیونکہ وہ بیڈ پر بیٹھا تھا اس لیے ماہین کہ اس کے اوپر گرنے سے وہ دونوں بیڈ پر ڈھیر ہو گئے ماہین کے بال حارث کے چہرے پر اگئے تھے ماہین نے اپنے ہاتھوں سے حارث کے چہرے سے بال اٹھاتے پیچھے کو ہٹنا چاہا ۔۔۔۔۔۔
جب حارث نے اس کی کمر پر اپنے ہاتھوں سے دباؤ ڈالتے ہوئے خود پر جھکائے رہا ماہین کی انکھیں حیرت سے کھل گئی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ گھر میں ان دونوں کو یوں قریب اس کی مما یا حارث کی مما دیکھ لے کیونکہ یہ ایک شرمنا کھالت ہوتی اگر وہ ان کو اس حالت میں دیکھ لیتے
حارث کیا مسئلہ ہے چھوڑو مجھ کو ماہین نے تپے ہوئے لہجے میں کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں میں کیوں چھوڑوں ابھی تو ہاتھ ائی ہو کتنے دن ہو گئے ہیں لفٹ ہی نہیں کروا رہی حارث نے اتنا کہنے کے بعد اپنے ہاتھ اس کی کمر پر اہستہ اہستہ موو کرنے شروع کر دیا جس کی وجہ سے ماہین کو اپنی کمر پر گدگدی سے ہونے لگیں
حارث میں تمہیں عزت سے کہہ رہی ہوں اپنے ہاتھ اٹھاؤں نہیں تو میں نے تمہاری ناک پر کاٹ لو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اپنی طرف سے اسے معصوم سی دھمکی دینی چاہی تھی ورنہ وہ تو ایک مکہ مار کر بھی اس کا ناپ توڑ سکتی تھی مگر کیا کریں وہ ٹوٹے ہوئے ناک والے شوہر کو قبول نہیں نہ کر سکتی تھی اسی لیے معصوم سی دھمکی دی
نہیں میری جان کاٹنا ہے تو یہاں کاٹو حارث نے اپنے ہونٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جب کہ اس کا اشارہ سمجھتے ہوئے ماہین کا رنگ سرخ انار ہوا تھا کیونکہ وہ اس پوزیشن میں اس سے ایسی بات کی امید نہیں کر رہی تھی
حارث دیکھو مما یا بڑی مما میں سے کوئی اگیا نا تو اچھی خاصی بےعزتی ہوگی تم پلیز مجھے اٹھنے دو
ماہین نے اب ریکویسٹ کرتے ہوئے کہا
اتا ہے تو انے دو بیوی ہو تم میری اس میں کیا برائی ہے ویسے بھی اب تو میجر قلب بھی شادی کر رہے ہیں کیوں نہ میں بھی رخصتی کا انتظام کروں حارث نے اس کی ناک کے ساتھ اپنی ناک مس کرتے ہوئے کہا
اچھا جو کرنا ہے کر لینا پر ابھی مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے بے بسی سے اس کی بات پر حامی بھرتی ہوئے کہا
جبکہ حارث کو اس کی بے بسی سے مزہ ا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
نہیں میں تو اب بھی نہیں چھوڑوں گا
اگر تم نہیں چھوڑو گے تو میں سچ میں کاٹ لوں گی ماہین نے اپنی دھمکی دہرائی تھی
تو کاٹ لو حارث نے لاپرواہی سے کہا اتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہنا تھا کہ ماہین نے اپنی دانت اس کی ناک پر گاڑ دیے دانتوں کا دباؤ اتنا زیادہ نہ تھا مگر پھر بھی حارث ایک دفعہ بلبلا اٹھا۔
جنگلی بلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے اسے پیچھے کھڑا کرتے ہوئے چلا کر کہا
میں نے تو تمہیں پہلے کہ دیا تھا کہ مجھے چھوڑ دو تم نے ہی مجھے لائٹلی لے لیا اب بھگتو
تمہیں تو میں بتاتا ہوں اتنا کہنے کے بعد حارث نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور ایک ہاتھ اس کی کمر پر جبکہ دوسرا ہاتھ اس کے بالوں میں اٹکاتے اس کا چہرہ اپنے چہرے کے قریب کرتے اپنے ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ کر اپنی شدت نچھاور کرنے لگا جبکہ ماہین تو اس اچانک ہونے والے حملے پر ہی حیران و پریشان کھڑی تھی
سمجھ انے پر ماہین نے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھ کر اسے پیچھے کی طرف دھکیلنے کی کوشش کی مگر حارث کی پکڑ اس کے لبوں پر سخت سے سخت ہوتے جا رہی تھی
ماہین سے اب اس کی شدت برداشت کرنا مشکل ہو گیا تو اپنے بازو اس کی گردن میں لپیٹتے اپنے اپ کو گرنے سے بچنے کے لیے ایک سہارا دیا تھا جبکہ ماہین کی باہیں اپنے گلے پر محسوس کرتے حارث نے اپنی شدت کو مزید بڑھا دیا تھا
حارث کو جب محسوس ہوا کہ اب ماہین کے لیے سانس لینا مشکل ہو گیا ہے تو اس نے اپنے لب بہت نرمی سے اس کے ہونٹوں سے جدا کیے ماہین تیز تیز سانسیں لیتی اپنا اس کے سینے سے ٹکا گئی
اپنے سینے پر ماہین کا سر دیکھتے حارث سرشاری سے مسکرایا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ سے جانتا تھا کہ ماہین کے لیے اس کی شدت برداشت کرنا مشکل ہے مگر پھر بھی وہ ہر دفعہ اسی نئے امتحان میں ڈال دیا کرتا تھا
حارث تم بہت برے ہو ماہین نے اپنی سانس ہموار کرنے کے بعد شکوہ کرتے ہوئے کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں میری جان مجھے پتہ ہے کہ میں بہت برا ہوں مگر صرف تمہارے معاملے میں مسکراتے ہوئے حارث نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے نہیں بات کرنی تم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے روٹھے پن سے کہتے ہوئے باہر چلی گئی جبکہ حارث بیڈ پر دوبارہ سے لیٹتا ابھی کچھ پل پہلے کیے اپنے کارنامے کے بارے میں سوچتا مسکرانے لگا