آتشِ قلب

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 22

تمام مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد قلب سیدھا نیلم بیگم کے روم میں گیا کیونکہ نیلم بیگم نے اپنے روم میں جانے سے پہلے اسے اپنے پیچھے انے کا اشارہ کیا تھا
جی امی اپ نے مجھے بلایا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے کمرے کا دروازہ ناک کرنے کے بعد کہا
بیگم جو اپنے قبرڈ میں سے کچھ جولری باکس نکال کر بیڈ پر بیٹھے انہیں دیکھ رہی تھی قلب کی اواز پر اس کی طرف متوجہ ہوئی
جی بیٹا میں نے بلایا تھا مجھے کچھ ضروری کام تھا تم سے
اؤ بیٹھو نیلم بیگم نے اپنے سامنے بیڈ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
قلب ان کے بات سننے کے بعد سر ہاں میں ہلاتا ہے ان کے سامنے ا کر بیٹھا تو نیلم بیگم نے اپنی بات کا اغاز کیا
دیکھو بیٹا یہ شادی جن بھی حالات میں ہوئی ہے پر اب وہ تمہاری بیوی ہے تمہیں اسے سمجھنے کا اسے اس ماحول میں سروائیو کرنے کا ٹائم دینا ہوگا سمجھ رہے ہو نا میری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل میری بہو نہیں میری بیٹی جیسی ہے ابھی وہ تمام چیزیں نہیں سمجھ رہی جو تم اور ہم سمجھ رہے ہیں وہ کچے ذہن کی لڑکی ہے 19 سال کی تو ابھی اس کی عمر ہے تم اس کے معاملے میں نرمی برتنا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انہوں نے آرام سے قلب کو سمجھانا شروع کیا جبکہ قلب ان کی بات سننے کے بعد سر ہاں میں ہی لاتا نظر جھکا گیا
اور ہاں یہ کچھ جیلری ہے جو تمہارے بابا نے اور میں نے مل کر لی تھی اپنی بہو کے لیے تو تم یہ جا کر قندیل کو دے دینا
میرے خیال سے منہ دکھائی کے لیے تم نے کوئی نہ کوئی تحفہ لے ہی لیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم بیگم کی بات سننے کے بعد قلب نے مسکراتے سر ہان میں ہلایا نیلم بیگم نے جیلری باکس اس کے حوالے کیے اب تم جا سکتے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے مما ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد قلب نے وہ تین جیولری باکس اٹھائے اور اوپر والے فلور اپنے کمرے کی طرف چلا گیا
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
اس نے بیڈ روم کا دروازہ کھولا تو تمام صورتحال حسب توقع اس کے سامنے تھی
بیڈ کی چادر ادھی زمین پر ادھی بیڈ پر لٹک رہی تھی جب کہ قبدیل کا وہ دوپٹہ جو وہ سر پر اڑ کے ائی تھی وہ زمین پر بکھرا پڑا تھا اس نے ڈریسنگ ٹیبل کی طرف دیکھا تو اس کی تمام جولری پڑی تھی کچھ نیچے زمین پر اور کچھ ڈریسنگ ٹیبل کے اوپر
اس نے ایک بھرپور نظر کمرے کی طرف دوڑائی تو قندیل سے کہیں نظر نہ ائی
وہ چلتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کے پاس پہنچا اور وہ جیلری باکس جو وہ اپنے ساتھ لے کر ایا تھا وہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیے
جب اس کی نظر ٹیبل پر پڑی چوڑیوں پر پڑی اس نے غور کیا تو کچھ کانچ کی چوڑیاں ٹوٹی ہوئی تھی جن کے ٹوٹے ہوئے سرو پر ہلکا سا خون لگا ہوا تھا
اور نتھ کے اوپر بھی خون جمع ہوا تھا جیسے اسے پہننے والی نے کھینچ کر اپنے ناک سے جدا کیا ہو اسے دیکھ کر تشویش ہوئی
اس نے اپنے قدم ڈریسنگ روم کی طرف بڑھائی ڈریسنگ روم کا دروازہ کھلا ہوا تھا اس نے دیکھا تو ڈریسنگ روم میں کوئی نہیں تھا
وہ چلتا ہوا جب واش روم کی طرف ایا تو واش روم کو اندر کی طرف سے لاک کیا گیا تھا
اس نے بے چینی سے ڈوبتے دل کے ساتھ واش روم کا دروازہ ناک کیا
مگر اگے سے کوئی جواب نہ ایا اس کی بے چینی مزید بڑی تھی
قندیل میں کہہ رہا ہوں جواب دو باہر نکلو واش روم سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جواب نادا تھا
قدیل اگر تم اگلے دو منٹ میں واش روم سے باہر نہ نکلی تو میں واش روم کے اندر ا جاؤں گا اور مجھے اندر انے میں کوئی شرم نہیں ائے گی اتنا کہنے کے بعد جب دو منٹ بعد بھی قندیل واش روم سے نہ نکلی تو وہ ڈریسنگ روم سے واش روم کی ،،کی ،، لانے چلا گیا
،،کی،، لانےکے بعد اس نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی
جبکہ قندیل جو باتھ ٹب کے ساتھ نیچے زمین پر بیٹھی اپنی سسکیاں روکنے کی کوشش کر رہی تھی وہ جب سے کمرے میں ائی تھی روئی جا رہی تھی اب باہر سے قلب کی پکار سن کر بھی خاموش نہ ہوئی تھی جب اسے محسوس ہوا کہ کوئی لاک کھولنے کی کوشش کر رہا ہے اسی اپنے جسم میں ایک سرد لہر دوڑتی ہوئی محسوس ہوئی
کچھ دیر بعد قلب واش روم کا دروازہ کھولنے کے بعد جب اندر داخل ہوا تو سامنے کا منظر دیکھ کر حیران رہ گیا دوپٹے سے بے نیاز وہ باتھ ٹب کے ساتھ نیچے زمین پر بیٹھی تھی
بال کھلے ہوئے لپسٹک ہلکی سی پھیلی ہوئی اور ہاتھ سے رستا ہوا خون اور سرخ انکھیں وہ کہیں سے بھی ایک دن کی دلہن نہیں لگ رہی تھی
قلب بے ساختہ تڑپ کر اس کی طرف بڑھا قندیل تم نے کیا کر لیا چوڑیاں ٹوٹ گئی تمہاری بازو میں تو تم ڈریسنگ کرتی یا مجھے بلا لیتی کتنا خون بہہ رہا ہے تمہارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا
جبکہ وہ بے تاثر انکھوں سے اسے دیکھ رہے تھی قلب نے اس کی نظروں کے سر پن کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ اسے کھینچ کر واش روم سے باہر لایا اور بیڈ پر بٹھانے کے بعد ڈریسنگ روم سے فرسٹ ایڈ باکس لا کر اس کی پٹی کرنے لگا
جبکہ وہ کچھ بھی بولے بغیر بے سدھ سی بیٹھی تھی قلب نے جب اس کی پٹی کر لی تو اس کے پٹی والے ہاتھوں بوسہ دیا کیونکہ زخم دونوں ہاتھوں پر تھے اس لیے دونوں ہاتھوں کی پٹی کی گئی تھی
جبکہ قلب کا یوں اسے چھونا اس کے اندر ایک کرنٹ سا گزار گیا تھا اس نے غصے کی شدت سے اپنے ہاتھ قلب کے ہاتھوں سے نکال کے قلب کو پیچھے کی طرف دھکا دیا وہ جو پاؤں کے بل بیٹھا ہوا تھا کمر کی بل زمین پر گرا
تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی مجھے چھونے کی
مجھے ناپاک کرنے کی دور رہو مجھ سے نہیں تو میں مار دوں گی تمہیں اگر میں تمہیں نہ مار سکی تو خود کو تو مار ہی دوں گی
قندیل بپھری ہوئی شیرنی کی طرح قلب کے اوپر چڑھ دوڑی
جبکہ قلب حیران نظروں سے دیکھ رہا تھا قندیل کیا ہو گیا میں نے بس تمہاری پٹی ہی کی ہے اتنا غصہ کیوں کر رہی ہو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب کو اس کے اتنی شدید غصے کی سمجھ نہ ائی تھی
کیونکہ سندس بیگم نے اس سے یہی کہا تھا کہ قندیل خود اس رشتے کے لیے مان گئی ہے پھر اتنا غصہ کس بات کا
تم تو بہت معصوم ہو نہ جیسے تمہیں پتہ ہی نہیں ہے تم نے کیا کیا ہے
تم نے وہ سب کچھ کیا ہے جس سے قندیل مر گئی جس سے قندیل ختم ہو گئی قندیل نے یہ الفاظ بڑی مشکل سے ادا کیے تھے کیونکہ انسوں کا گولا اس کے گلے میں اٹک رہا تھا
یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو کیا کیا ہے میں نے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب تڑپ کر اس کی طرف بڑھا تھا جبکہ وہ اسے ہاتھ کے اشارے سے دور رہنے کہہ رہی تھی
میں نے کہا نا تم میرے قریب نہیں اؤ نہیں تو میں خود کو کچھ کر لوں گی تم سمجھتے کیا ہو خود کو کیا سمجھ رکھا ہے تم نے مجھے جب دل کی استعمال کیا جب دل کیا پھینک دیا
قندیل اپنی حد میں رہ کر بات کرو تم کوئ استعمال کرنے والی چیز نہیں تم میری بیوی ہو
ہاں اب تو تم کہو گے کہ میں تمہاری بیوی ہوں زبردستی کی بیوی ایموشنل بلیک میل کیا گیا ہے مجھے تم سے شادی کرنے کے لیے
میری ماں نے مجھے قسم دی کہ اگر میں شادی نہیں کرو کروں گی تو وہ خود کو کچھ کر لیں گی تم جانتے ہو اس وقت میری بے بسی کا عالم کیا تھا
تم نے یہ شادی صرف اپنی ہوس پوری کرنے کی کی ہے تو اؤ کر لو ہوس پوری نہیں روکو گی میں تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اب تو تم میرے شوہر ہو نا جیسا چاہو کر سکتے ہو۔۔۔۔۔۔۔
اؤ کرو اپنی ہوس پوری میرے بدن سے
جیسے نوچنا ہے نوچ لو میں نہیں روکوں گی تمہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل اس کے سامنے بیڈ سے کھڑی ہوتے ہوئے چلا کر بولی تھی
جبکہ قلب اس کے اس قدر زہریلے اور تیز الفاظ سن کر حیران ہو گیا تھا وہ لڑکی جو کسی سے بھی اونچی اواز میں بات نہیں کرتی تھی اج اتنی زہریلے الفاظ یو چلا چلا کر کہہ رہی تھی
اب اؤ بھی کر لو اپنی ہوس ۔۔۔۔۔
چٹاخ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب عورتوں پر ہاتھ اٹھانے کا قائل نہیں تھا مگر قندیل کی اتنے زہریلے اور بے ادب الفاظ سن کر اس کا ہاتھ بے ساختہ اٹھا اور قندیل کی گال پر نشان چھوڑ گیا جبکہ قندیل اس کے سامنے حیران اپنے گال پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا تمہاری ہمت بھی کیسے ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد قندیل اس کی طرف جھپٹی تھی مگر قلب نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑتے اس کے کمر پر باندھے اور اپنا ماتھا اس کے ماتھے کے ساتھ ٹکایا جبکہ قلب کا چہرہ غصہ ضبط کرنے کے چکر میں سرخ ہو چکا تھا
جب کہ قندیل اس کے اس عمل سے ساکت ہو گئی تھی وہ اس سے امید کر رہی تھی کہ وہ اس پر مزید ہاتھ اٹھائے گا مگر اس کا یہ عمل اسے سن کر گیا تھا
شادی میں نے تم سے اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے نہیں کی قندیل تم سے محبت کرتا ہوں بے حد محبت
میری محبت کو عشق نہ بناؤ میرا عشق تمہاری نازک جان برداشت نہیں کر سکے گی سمجھو نہیں ہوں میں ہوس پرست
تم مجھے پاگل بنانے کی کوشش کر رہے ہو اگر تم ہوس پرست نہیں ہو تو اس دن مجھے اگوا کر کے کلب میں کیوں لے کر گئے تھے کیوں پوری دنیا کے سامنے ان تصاویروں کے ذریعے میرا تماشہ بنایا میں سمجھ رہی ہوں تمہارا پلان
تم جائز طریقے سے اپنی ہوس پوری کرنا چاہتے تھے
پہلے تم نے مجھے اگوا کیا پھر وہ تصویریں بنانے کے بعد سوشل میڈیا پر ڈال دی تاکہ مجبوری میں مجھے تم سے شادی کرنی پڑے
قندیل نے اپنے دماغ میں پلتے زہریلے خیالات سے قلب کو اشناس کروایا جبکہ قلب سن ہوتے دماغ کے ساتھ اس کے الفاظ سن رہا تھا کیا وہ اس کو اس قدر گرا ہوا سمجھ رہی تھی
نہیں کروایا تھا میں نے تمہیں اغوا میں صرف وہاں موجود تھا اور میں نے تمہیں دیکھ لیا اور میں ان سے تمہیں بچا کے لے ایا اور وہ تصویریں میں نے نہیں لی تھی
اگر میں نے تمہارا فائدہ ہی اٹھایا اٹھانا ہوتا تو اسی دن کلب میں تم سے اپنی ضرورت پوری کر لیتا
نہیں تو میں ان تصویروں کے ذریعے تمہیں بلیک میل بھی کر سکتا تھا مگر میں نے ایسا کچھ نہیں کیا یہ تمہارے دماغ کا فتور ہے
قلب نے اپنا ماتھا ابھی بھی قندیل سے قندیل کے ماتھے سے جدا نہیں کیا تھا
میں تمہاری باتوں میں نہیں انے والی تم چاہے جتنی بھی کوشش کر لو اپ کو دیکھا سچ جھٹلایا نہیں جا سکتا
اس دن میں نے خود بے ہوش ہونے سے پہلے تمہیں خود پر جھکا ہوا دیکھا تھا میں کیسے مان لوں کہ تم نے مجھے اگواہ نہیں کیا تھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی جب قلب اپنی تمام تر شدتوں سے اس کے ہونٹوں پر جھکا اور اپنا شدت بھرا لمس اس کے ہونٹوں پر چھوڑنے لگا جبکہ قندیل اپنی رکتی ہوئی سانسوں کے ساتھ اس کا جان لیول لمس برداشت کر رہی تھی
قلب جب اس سے کچھ دیر جدا نہ ہوا تو قندیل کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا اس نے اپنے ہاتھ قلب کی گرفت سے چھڑوانے چاہیے مگر قلب کیے گرفت مضبوط تھی
قلب اس کی مزاحمت کو ناکام کرتا ہے مزید شدت بڑھاتا اس کے ہونٹوں پر جھکا رہا یہاں تک کہ قندیل کو اپنے منہ میں خون کا ذائقہ ملتا ہوا محسوس ہوا جب وہ اس سے پیچھے نہ ہٹا تو قندیل نے اس کی شدت میں اپنی شدت ملاتے ہوئے اس کے ہونٹوں پر کاٹا
قلب اپنی شدت میں اس کی شدت اور بعد میں اپنے ہونٹوں پر اس کے دانتوں کا دباؤ محسوس کرتے مسکراتا ہوا اس سے جدا ہوا کیونکہ اب اسے بھی محسوس ہو رہا تھا کہ اگر وہ کچھ دیر اور اس سے جدا نہ ہوا تو قندیل اپنی سانسیں کھو بیٹھے گی
جبکہ قندیل اس کے پیچھے ہونے پر لمبے لمبے سانس لیتی ہے اپنا سر اس کے سینے سے ٹکا گئی
کیا اب تمہیں میرے لمس میں ہوس محسوس ہوئی ہے کیا تمہیں محسوس ہوا کہ میں نے صرف تمہارا فائدہ اٹھانے کے لیے تم سے شادی کی ہے قلب نے اس سے سوال کیا
جبکہ قندیل سن ہوتے دماغ کے ساتھ اپنا اس کے سینے سے ٹکائے کھڑی تھی کیونکہ اسے اس کے لمس میں محبت شدت جنون اور احترام کے سوا کچھ محسوس نہیں ہوا تھا حتی کہ یہ لمس اس لمس سے بہت جدا تھا جو اس دن اس نے اپنے سن ہوتے دماغ کے ساتھ اپنے بدن پر محسوس کیا تھا وہ کھردری انگلیاں جو اسے نوچنے کی کوشش کر رہی تھی
جبکہ اج یہ لمس اسے احترام میں ڈوبا ہوا محبت سے لبریز محسوس ہوا تھا اسے شک ہوا جیسے یہ وہ نہیں جو وہ سمجھ رہی ہے مگر وہ اپنی انکھوں دیکھا کیسے جھٹلاتی جس نے اپنے سن ہوتے دماغ کے ساتھ اخری جھلک دیکھی بھی تو کس کی صرف اور صرف قلب شاہ کی اور وہ تصاویر بھی تو اس بات کی گواہ تھی کہ اس دن کلب میں اس کے ساتھ قلب تھا
قلب نے جب اسے یوں ہی سن کھڑا محسوس کیا تو اپنے لب اس کے خون الودہ ناک سے مس کیے
کس قدر ظالم لڑکی تھی خود پر بھی رحم نہیں کر رہی تھی نتھ اتارتے وقت شاید اس نے کھولی نہیں بلکہ کھینچ کر اتاری تھی جس کی وجہ سے ناک زخمی ہو گیا تھا
جبکہ قندیل اس کا لمس اپنے ہونٹوں کے بعد اپنے ناک پر محسوس کرتی اندر تک لرز گئی تھی اس نے ایک دفعہ اور اپنے ہاتھ چھڑانے کی کوشش کی مگر پکڑ ابھی بھی کمزور نہیں ہوئی تھی اور شاید یہ پکڑ زندگی میں کبھی کمزور نہیں ہوں گی تھی یہ قلب شاہ کا ہاتھ تھا جس نے پوری شدت ،، محبت و احترام سے قندیل شاہ کا تھاما تھا کبھی نہ چھوڑنے کے لیے
قلب پلیز میرا ہاتھ چھوڑیں اگر اپ اتنے ہی سعادت مند ہیں تو مجھے کوئی ثبوت کیوں نہیں دیتے کہ اپ اس دن نہیں تھے کوئی اور تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل نے اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتے یہ سوال کیا تھا کیونکہ قلب وہ نہیں لگ رہا تھا جو وہ سوچ رہی تھی اسے اس کے لمس میں رتی برابر بھی ہوس محسوس نہیں ہوئ تھی وہ یہ سوچنے پر مجبور تھی کہ اگر اس دن یہ نہیں تھے تو کون تھا اور اگر اس دن یہ نہیں تھے تو کوئی ثبوت تو دے
ہاں ہے میرے پاس ثبوت مگر اسے پیش کرنے کے لیے مجھے کچھ وقت چاہیے قندیل پلیز پلیز مجھے کچھ وقت دو میں اپنی بے گناہی ثابت کروں گا ضرور کروں گا تب تک یوں خود کو اور مجھ کو اذیت نہ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے اپنا ماتھا دوبارہ اس کے ماتھے سے ٹکاتے ہوئے التجا کی تھی
تمہیں اپنا ثبوت پیش کرنے کے لیے کتنا وقت چاہیے قلب شاہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل کچھ حد تک اپنے دل کو مطمئن کرتی ہوئی بولی
مجھے کم سے کم بھی تین مہینہ چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے کچھ سوچتے ہوا کہا کیونکہ وہ رابیہ نامی لڑکی جس نے یہ تمام واقعہ ہوتے اپنی انکھوں سے دیکھا تھا اس نے اس مہینے کی اخر میں واپس انا تھا مگر شاید دشمنوں کو ان کی خبر ہو گئی تھی اس لیے وہ اس مہینے نہیں اگلے مہینے کی اخر میں ا رہی تھی وہ بہت ضروری تھی
اس سے ثبوت حاصل کرنے کے بعد تقریبا مہینہ تو انہیں کاروائی میں بھی لگ جانا تھا
قلب نے اس کے سوال کے جواب میں کہا .۔۔۔۔۔۔.
ٹھیک ہے قلب حیدر اج سیدہ قندیل شاہ تم کو ایک موقع دیتی ہے اگر ان تین مہینوں میں تم نے اپنی بے گنائی کا کوئی ثبوت نہ دیا تو یہ میرا وعدہ ہے تم سے اور خود سے میں تم سے طلاق لے کر چلی جاؤں گی ہمیشہ کے لیے تمہاری زندگی سے دور
اور اس سے پہلے میں تم سے تمہارا کوئی حق نہیں لوں گی میں تمہاری بیوی ہوں تم اپنی مکمل حقوق مجھ سے حاصل کر سکتے ہو میں تمہیں نہیں روکوں گی کیونکہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ
اس عورت پر خدا کی لعنت ہوتی ہے جو اپنے شوہر کو اس کا مکمل جائز حق نہیں دیتی تو میں اس گناہ کبیرہ کی حقدار نہیں بننا چاہتی
قندیل کی بات سننے کے بعد قلب نے سر ہاں میں ہلاتے اپنی بات کا اغاز کیا.۔۔۔۔۔۔۔۔
پر تم نے ان تین مہینوں میں امی کو ہمارے رشتے کی نوعیت بارے میں پتہ نہیں چلنے دو گی ان کو اس بات کی بھنک بھی نہیں ہونی چاہیے کہ ہماری شادی ایک کانٹریکٹ پر قائم ہے ہم ان کے سامنے ایک ہیپی کپل بن کے رہنا ہے
اس کی بات سننے کے بعد قندیل نے سر ہاں میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل کا ہاں میں اشارہ ملنے کے بعد قلب اس سے دو قدم کے فاصلے پر ہوا تم چینج کر کے سو جاؤ تھک گئی ہوگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب اتنا کہنے کے بعد اپنے قدم ڈریسنگ روم کی طرف بڑھائے اور ادھر سے ایک گلابی رنگ کا سوٹ نکال کر قندیل کی طرف بڑھایا
یہ پہن لو اس سوٹ میں تم کمفرٹیبل فیل کرو گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل نے بغیر کچھ بھی کہے اس کے ہاتھ سے سوٹ لیتے ہوئے قدم واش روم کی طرف بڑھائے تاکہ وہ نہا کر اپنے کپڑے بدل سکے
جبکہ اس کے واش روم میں جانے کے بعد قلب بیڈ پر بیٹھا اس کے الفاظ اور اپنی باتیں سوچ رہا تھا ایک ہی دن میں کیا سے کیا ہو گیا تھا اسے لگا تھا کہ قندیل نے اپنی مکمل رضامندی سے نکاح کا فیصلہ لیا ہے مگر اسے یہ ہرگز معلوم نہ تھا کہ اسے ایموشنل بلیک میل کیا گیا ہے وہ اندر سے کس قدر اذیت میں ہوگی اس کا اندازہ قلب کو بہت اچھی طرح سے تھا
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial