قسط: 23
قندیل جب شاور لے کر واش روم سے باہر نکلی تو قلب ابھی بھی بیڈ پر اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا قندیل نے اس پر غور دیے بغیر اپنے قدم ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھائے اور وہاں موجود اپنا لوشن لگایا جو ماہین اس کے سامان کے ساتھ ادھر سیٹ کر کے گئی تھی
لوشن لگانے کے بعد وہ سیدھا بیڈ پر ایک سائیڈ پر جا کر لیٹ گئی جبکہ قلب بخوبی سمجھ رہا تھا اس کی نظر اندازی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب اٹھا اور ڈریسنگ روم میں سے اپنا سادہ سا بلو کلر کا ٹراؤزر اور وائٹ کلر کی شرٹ لیتا فریش ہونے کے لیے واش روم چلا گیا جبکہ قندیل نے اسے زیادہ نوٹس نہیں لیا تھا کمفرٹ گردن تک اوڑتے وہ سونے کی تیاری میں تھی پر اسے نیند کہاں انی تھی
اج وہ ایک کمرے میں اکیلی نہیں اس کے ساتھ ایک اور وجود بھی تھا جس کی کشش سے نیند تو اسے نہیں انے والی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیر کچھ دیر بعد قلب واش روم سے فریش ہو کر نکلا تو قندیل کو انکھیں بند کیے پایا وہ سمجھ رہا تھا سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سو نہیں رہی تھی مگر سونے کا ناٹک ضرور کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے بھی کچھ کہے بغیر اپنے سائیڈ والی جگہ سنبھالی اور لیٹ گیا ان کے درمیان یہ خاموشی صرف سکون تھی یا کسی انے والے بڑے طوفان کی اطلاع یہ تو اب وقت یہ بتا سکتا تھا
حارث اور ماہین جب گھر پہنچے تو ارم بیگم اور کرن بیگم تو اتے ساتھ ہی اپنے کمرے میں جا کر ارام کرنے لگی کیونکہ کرن بیگم کی طبیعت کچھ ناساز تھی جبکہ غازم شاہ کسی ضروری کام کی وجہ سے انہیں گیٹ پر چھوڑتے گاڑی لے کر کہیں واپس چلے گئے
ماہین جو گاڑی سے اترنے کے بعد خوشی خوشی اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی اسے اس بات کی بے حد خوشی تھی قندیل اس کی بیسٹ فرینڈ ہی اس کے سر کی بیوی بن گئی ہے جب وہ اپنے کمرے کے پاس پہنچی تو کمرے کے اندر سے کسی نے اس کا بازو کھینچ کر اندر کی طرف کھنچا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا کمرے میں اندھیرا ہونے کی وجہ سے وہ کچھ خاص دیکھ نہیں سکے مگر ہاتھ کے لمس سے وہ اتنا ضرور سمجھ گئی کہ یہ انسان کون ہے جس نے یہ حرکت کی ہے
حارث یہ کیا حرکت ہے تمہیں پتہ ہے میں کتنا ڈر گئی تھی بندہ ارام سے بھی تو بات کر سکتا ہے نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اپنا رخ حارث کی طرف کرتے ہوئے کہا جبکہ وہ دروازے سے ٹیک لگائے کھڑا دلکشی سے مسکراتا ہوئے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے ہاتھ بھرا کر لائٹ ان کی تو پورا کمرہ روشنی سے نہا گیا اور پھر چلتا ہوا اس کی طرف آیا تھا جبکہ ماہین اپنے قدم اہستہ اہستہ پیچھے لے جا رہی تھی اسے حارث کی کل کی حرکت بولی نہیں تھی
حارث جو بھی بات کرنی ہے دور جا کے کرو نہیں تو کمرے سے باہر نکل جاؤ مجھے کوئی بات نہیں تم سے اور تم اگے کیوں ا رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین کو حارث کا یوں اپنی طرف انا خوف میں مبتلا کر گیا تھا وہ لڑکی جس نے اپنے دو سالہ کیریئر میں 10 سے زیادہ مشن سیکسفلی حل کیے تھے وہ اج اپنے ہی شوہر کے قریب انے سے ڈر رہی تھی
اج تم بہت سے بھی زیادہ خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے اس کی اتنی لمبی چوڑی بات کا صرف ایک فقرے میں جواب دیا جبکہ ماہین اپنی تعریف سننے کے بعد خوش ہونے کی بجائے اسے اپنے ارد گرد خطرے کی گھنٹیاں بجتی سنائی دی
مجھے پتہ ہے کہ میں بہت خوبصورت لگ رہی ہوں تمہیں میری خوبصورتی کو نہارنے کی ضرورت نہیں ہے تم کمرے سے باہر جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اس کی تعریف کو کسی کھاتے میں لائے بغیر کڑک اواز میں کہا شاید وہ اس کی اواز کی کڑک سے ڈر کے دور ہو جائے مگر وہ حارث تھا ابھی اتنا اس کا کہنا تھا کہ
حارث نے اس کی کلائی پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا ماہین کھنجاؤ کی وجہ سے اس کے سینے سے آ لگی
اگر تم کو پتہ ہے کہ تم خوبصورت ہو تو مجھے بھی تھوڑا نہارنے دو تھوڑی تعریف کرنے دو تم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد حارث نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر جبکہ دوسرے ہاتھ سے اس کے چہرے سے بال پیچھے ہٹائے
دیکھو حارث کل والی حرکت دہرانا نہیں۔۔۔
نہیں تو میں تمہارا ناک پھوڑ دوں گی ماہین نے اپنی طرف سے دھمکی دینے کی کوشش کی جبکہ وہ اس کی بات سننے کے بعد مسکرایا دیا گہری مسکراہٹ تھی
تم میرا ناک توڑو گی میرا سیریسلی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے انگلی سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا جسے یہ کوئی ناممکن سی بات ہو
تمہیں نہیں پتا کہ اسلام میں شوہر پر ہاتھ اٹھانے کی کتنی سخت سزا ہے کیا تم گناہ لینا چاہتی ہو اللہ سے۔ چہ چہ چہ ۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سے اس چیز کی امید نہیں تھی ماہین۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے اس کی سوچ پر افسوس کرتے ہوئے کہا جیسے یہ کوئی بہت ہی دکھ کی بات ہو
نہیں حارث میرا مطلب وہ نہیں تھا جب تم میرے قریب اتے ہو نا تو مجھے کچھ کچھ ہوتا ہے کچھ عجیب لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ حارث کی بات سی گھبراتے ہوئے اپنی صفائی دینے لگی جبکہ حارث اس کی معصوم سی بات سنتے اپنی مسکراہٹ چھپانے لگا
کیا ہوتا ہے میری جان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے اسے مزید کریدنا چاہا
پتہ نہیں دل میں گدگدی سی ہوتی ہے ماہین نے اس کے سوال کے جواب میں بہت معصومیت سے کہا
کہاں ہوتی ہے گدگدی میری جان کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حارث نے اس کی بات سے استفسار کرتے ہوئے کہا
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد ماہی نے اپنی شہادت کی انگلی اپنے دل کے مقام پر رکھی جیسے اسے بتانا چاہتی ہوں کہ یہاں گدگدی ہوتی ہے دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔
میری جان کو دل میں گدگدی ہوتی ہے حارث نے لاڈ سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ ماہین اس کی بات سننے کے بعد زور و شورو سے چہرہ ہاں میں ہلانے لگی وہ ابھی بھی حارث کی پکڑ میں تھی۔
اس کے بعد سنے کے بعد حارث اس کے دل کی مقام پر جھکا اور اپنے بے تاب لب اس کے دل کے مقام پر رکھے۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ اس کا لمس اپنے دل کی قوم پر محسوس کرتی تڑپ گئی تھی اس نے دونوں ہاتھوں سے اس کی کندھوں کو کس کے پکڑ لیا تھا
جبکہ حارث اپنے لب کچھ دیر وہاں رکھنے کے بعد جب پیچھے ہوا تو اس کا چہرہ دیکھ حیران رہ گیا جو سرخ ٹماٹر ہو رہا تھا
اس کو اس کی معصومیت پر ترس اور پیار بیک وقت ائی وہ انکھیں بند کیے ہی کھڑی تھی جب حارث نے اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا
تو وہ بیڈ پر کمر کے بل گری
گرتے ہی اس نے اپنی انکھیں چھٹ سے کھول لی
ابھی وہ کچھ سمجھتی اس سے پہلے حارث اس کے اوپر جھکا اور اس کی گردن سے بال پیچھے کرتے وہاں اپنا لمس چھوڑنے لگا
جبکہ وہ اس کی شدت کو برداشت کرتے اسے پیچھے کرنے کی جدوجہد کر رہی تھی حارث پیچھے ہونے کی بجائے اسے مزید اپنی شکنجے میں جکڑ لیا
جبکہ ان دونوں کے پاؤں بیڈ سے نیچے لٹک رہے تھے حارث اس پر جھکا اپنی محبت اس پر نچھاور کر رہا تھا ماہین کو اپنی گردن پر شدید جلن محسوس ہونے لگی تو اس کے منہ سے بے ساختہ سسکی نکلی اس کی انکھیں انسوؤں سے بھر گئی جب وہ اسے روک نہ سکی تو اپنے ہاتھوں سے بیڈ شیٹ کو کس کے پکڑ لیا اور انکھیں بند کر لی
حارث کو جب اپنی گال پر اس کے گرتے ہوئے انسو محسوس ہوئے تو اس نے نظر اٹھا کر اوپر ماہین کی طرف دیکھا تو وہ بیڈ شیٹ کو ہاتھوں میں کس کے پکڑے انکھیں بند کیے سسکنے اور رونے کا کام سر انجام دے رہی تھی
حارث کو بے ساختہ اپنی بے خودی پر شرمندگی محسوس ہوئی وہ ایسا تو نہیں چاہتا تھا کہ وہ اس کی شدت پر رو پڑے وہ تو محبت سے ایسے چننا چاہتا تھا
اور شاید وہ بھی اس چیز کے لیے تیار ہوگی
وہ محض 22 سال کی لڑکی تھی 19 سال کی عمر میں اپنا انٹر کمپلیٹ کرنے کے بعد اس نے ایجنسی جوائن کی تھی دو سال اسے سروس کرتے ہوئے ہو گئے تھے حارث اور اس نے سکریٹ ایجنسی ایک ساتھ جوائن کی تھی
کیونکہ حارث کا پہلے تو کوئی ارادہ نہیں تھا سیکرٹ ایجنسی جوائن کرنے کا مگر قلب کے پیچھے اور پھر ماہین کو بھی ایک الگ سا شوق سر جڑا ہوا تھا کہ اس نے ارمی ایجنسی میں ہی جانا ہے جس کے چلتے حارث نے بھی ایجنسی میں اپنا قدم رکھا
حارث ماہین سے پیچھے ہوتے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بیڈ پر بٹھا چکا تھا جبکہ خود اس کے سامنے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا تھا جب کہ وہ ابھی بھی رونے میں مصروف تھی
کیا ہوا میری جان ایسے کیوں رو رہی ہو ائی ایم سوری مجھے اتنا بے خود نہیں ہونا چاہیے تھا مگر تم اج لگ ہی اتنی خوبصورت رہی میں کیا کروں حارس نے اسے اپنی بے بسی سے اگاہ کرنا چاہا جب کہ وہ اس کی بات سننے کے بعد غصہ انکھوں میں بھرے اسے دیکھ رہی تھی
حارث تمہیں پتہ ہے اپ مجھے کتنی جلن ہو رہی ہے مجھے رونا ارہا ہے تم اتنے بے خود کیسے ہو سکتے ہو تھوڑا تو میرا خیال کرو اپنے جذباتوں پر بند باندھو نہیں تو جاؤ بڑی مما سے بات کرو اور شادی کرو
یوں شادی سے پہلے میں تمہیں اپنے قریب نہیں انے دے سکتی مانا کہ ہمارا نکاح ہو گیا ہے مگر پھر بھی ایک جھجک ہوتی ہے تم سمجھ رہے ہو نا میری بات۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اسے ارام سے سمجھانے کی کوشش کی
جبکہ وہ اس کی بات سمجھتا سر ہاں میں لاتا اس کے سامنے کھڑا ہوا
جی میری جان میں سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد حارث نے اس کے ماتھے پر اپنا محبت بھرا لمس چھوڑا اور اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھائے جب اسے پیچھے سے ماہین کی اواز ائی
حارث تم بھی اج بہت ہینڈسم لگ رہے ہو حارث نے جب پلٹ کر دیکھا تو ماہین انکھوں میں انسو لیے مسکرا کر اسے دیکھ رہی تھی
حارث کو یہ منظر دنیا کا سب سے خوبصورت منظر لگا وہ اسے مسکرا کر ایک نظر دیکھتا کمرے سے باہر نکل گیا کیونکہ ہو سکتا تھا اگر کچھ دیر وہ وہاں اور رکتا تو اپنے جذبات پر بند نہ باندھ پاتا
جبکہ حارث کے جانے کے بعد ماہین نے اپنے چہرے سے انسو صاف کیے اور سامنے ڈریسنگ مرر میں اپنی گردن کو دیکھا جو سرخ نشانات سے بھر چکی تھی
ماہین نے اپنے ہونٹوں کا کنارہ اپنے دانتوں تلے دباتے اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے اپنے گردن پر موجود زخموں کو چھوا تو اس کی جلن مزید بڑی اس کے منہ سے بے ساختہ سسکی نکلی
حارث تم بہت برے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے دل ہی دل میں سوچا اور پھر کبرڈ سے اپنے کپڑے لیتی واش روم میں گھس گئی
صبح جب قلب فجر کی نماز کے لیے اٹھا تو اس نے اپنی بائیں طرف دیکھا جہاں قندیل موجود نہیں ہوتی اس نے بے ساختہ ایک نظر مکمل کمرے پہ ڈالی قندیل سے کہیں نظر نہ ائی
ابھی وہ قندیل کو نظروں ہی نظروں میں تلاش کر رہا تھا جب واش روم کا دروازہ کھلا اور قندیل ٹاول سے بالوں کو رگڑتے ہوئے باہر نکلی قلب نے ایک بھرپور نظر قندیل کے بھیگے ساراپے پر ڈالی جو ہلکے نیلے کلر کے کرتا کیپری میں کمال لگ رہی تھی
جبکہ قندیل نے اسے مکمل طور پر نظر انداز کرتے اپنے قدم ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھائے اور ہیئر ڈرائر سے اپنے بال ڈرائی کرنے لگی
قلب نے بیڈ سے ٹیک لگاتے اپنے سر کے نیچے دونوں بازو جمائے اسے ہی دیکھ رہا تھا قلب نے اج پہلی دفعہ اس کے بالوں کو غور سے دیکھا تھا رات کو سچویشن ایسی نہیں تھی کہ وہ کسی چیز پر غور کر پاتا جبکہ یونیورسٹی ٹائم میں وہ حجاب کیے رکھتی تھی ہلکے بورے کلر کے سلکی لمبے کمر سے نیچے جھولتے بال اسے بے حد پسند ائے تھے اس نے ایک نظر ٹائم کی طرف دیکھا تو صبح کی چار بج رہے تھے اتنی صبح وہ نہائ کیو تھی قلب کو اس کی دماغی حالت پر اندیشہ ہوا
قلب بیڈ سے اٹھتے ہوئے اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور اس کے بالوں کو ہاتھ پر لیٹ کر ہلکا سا اپنی طرف کھینچا تو قندیل نے اس کے ہاتھ سے اپنے بال لیتے ہوئے اس کی طرف دیکھا پھر ہیر ڈرائی دوبارہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا ہیں
کیا مسئلہ ہے کیوں تنگ کر رہے ہیں صبح صبح ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہی تو میں کہہ رہا ہوں اتنی صبح صبح تمہیں نہانے کی کیا ضرورت ہے وہ بھی اتنی سردی میں قلب نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنا سوال کیا
جبکہ وہ اس کی بات سننے کے بعد کچھ نروس سے ادھر ادھر دیکھنے لگی م۔م۔م۔مجھے بس گ۔گ۔گ۔گھٹن ہو رہی تھی اس لیے میں نے ن۔ن۔نہا لی مجھے دیر ہو رہی ہے میں نے نماز پڑھنی ہے اتنا کہنے کے بعد وہ اس کے دائیں طرف سے گزرتی ڈریسنگ چلی گئی جبکہ پیچھے قلب اس کے اٹکتے لہجے سے حیران ہوا مگر پھر اپنا وہم سمجھتے وضو بنانے کے لیے واش روم چلانا
قلب جب وضو بنا کر دوبارہ ڈرائنگ روم میں واپس ایا تو قندیل دو جائے نمازیں بیچھائے ایک نماز پر خود کھڑی تھی جبکہ دوسری نماز اس سے تھوڑی فاصلے پر اگے کی طرف بچھائے ہوئے شاید وہ اس کا انتظار کرے رہی تھی
قلب نے مسکراتے ہوئے اگے والی جائےنماز پر اپنی جگہ سنبھالی اور نماز شروع کی جبکہ قندیل نے اپنی ایک نئی زندگی کی پہلی فجر کی نماز اپنے ہمسفر کی امامت میں شروع کی نماز پڑھنے کے بعد دونوں نے جب دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا تو قندیل نے اپنے خدا سے اپنے لیے محض صبر کے علاوہ کچھ نہ مانگا جبکہ قلب نے اپنے خدا سے قمدیل کے لیے ٹھیرو خوشیاں اور اس کے نصیب میں خوشیاں مانگی
قندیل نے نماز پہلے ختم کر لی اس لیے وہ اپنی جائے نماز کور کرتی بیڈ روم کی طرف بڑی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر رات میں قلب جو نیچے سے جولری باکس لے کے ایا تھا انہیں اوپن کر کے دیکھنے لگی جس میں دو باکسز میں تو ڈائمنڈ سیٹ جبکہ ایک میں گولڈ سیٹ تھا ان باکسز کے کچھ فاصلے پر ایک مخملی ڈبی پڑی ہوئی تھی جس میں پائل کی ایک جوڑی تھی اسے سب سے زیادہ خوبصورت وہ پائلیں لگی کیونکہ اسے جیلری میں نتھ اور پائل بہت زیادہ پسند تھی
وہ ابھی کھڑی ان چیزوں کو دیکھ رہی تھی جب اسے اپنی گردن پر کسی کی سانسوں کا لمس محسوس ہوا اس نے مڑنے کی کوشش نہ کی کیونکہ اگر وہ پلٹتی تو قلب کے ہونٹ اس کی گال سے مس ہو جاتے
کیسا لگا تمہیں گفٹ یہ جو جیلری باکس ہیں یہ مما نے دیے ہیں تمہیں دینے کے لیے مگر یہ جو پائل ہے میں لے کے ایا ہوں تمہارے لیے منہ دکھائی کے طور پر کیسی لگی تمہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا جبکہ قندیل جس نے ہاتھ میں وہ پائلیں پکڑی ہوئی تھی اس نے پائلیں واپس ڈبے میں رکھ کر ڈبی ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دی
مجھے پائل کچھ خاص پسند نہیں ہیں قندیل نے پائلوں کے ڈبی کو دیکھتے ہوئے ہی کہا
ہممم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے محض ہنگارہ برا کیونکہ وہ حقیقت جانتا تھا کہ قندیل کو نتھ اور پائل ہی پسند تھی کیونکہ قندیل سے شادی کرنے سے پہلے قلب نے اس کی ہر بات جانی تھی اس کی پسند نہ پسند سب کچھ
ٹھیک ہے تم مجھے وہ بتا دو جو تم کو پسند ہے میں وہ تم کو گفٹ کر دوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے کچھ نہیں پسند اتنا کہنے کے بعد قندیل نے اپنے قدم بیٹھ کی طرف بڑھئے
میں نیچے جا رہی ہوں اگر ہم نے ایک ہیپی کپل کی طرح ظاہر کرنا ہے تو مجھے لگتا ہے ہمیں اکٹھا نیچے جانا چاہیے ۔۔۔۔۔
قندیل نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد قلب نے محض سر ہلاتے اپنے قدم دروازے کی طرف بڑھائے
قندیل اس کے پیچھے پیچھے تھی جب وہ نیچے پہنچے تو نیلم بیگم پہلے سے ہی ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگوا رہی تھی
قندیل نے اتے ہی نیلم بیگم کے سامنے اپنا سر جھکاتے سلام کیا تو نیلم بیگم نے بھی خوشی سے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سر پر رکھے ڈھیروں دعائیں دی
قلب قندیل کے اس انداز پر سرشار ہوتا مسکرا دیا اسے اب اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ کمرے کے اندر وہ جیسے بھی ہوں مگر کمرے کے باہر وہ ایک ہیپی کپل ہی ظاہر ہوں گے اور اسے اس بات کا بھی یقین ہو گیا تھا ایک قندیل جو وعدہ کرتی ہے وہ پورا کرتی ہے
ڈائننگ ٹیبل پر سربراہی کرسی پر نیلم بیگم جب کے ان کے دائیں طرف قلب اور قلب کے ساتھ قندیل بیٹھی ناشتہ شروع کر چکے تھے مکمل خاموشی میں ناشتہ کیا گیا ناشتہ مکمل کرنے کے بعد قندیل کو اپنے پیچھے انے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنے قلب نے اپنے قدم کمرے کی طرف بڑھائے