قسط: 10
ماموں بولے بیٹا ان کے گھر والے بھی پریشان ہے لیکن وہ خود نہیں جاتے کیوں کہ راستے میں خونی جنگل ہے وہاں تو ہر قدم پر خطرح ہے میں احمد سے ملنا چھتا تھا کہ شاید اس سے ہی کچھ پتہ چل سکے میں احمد کے گھر گیا اور اس کی ماما سے ملا جو احمد کے گم میں بستر پر پڑی تھی اور اس کو ہی یاد کرتی رہتی میں گیا تو اس کی ماما نے مجھے نہیں پہچانا میں نے جب اپنا تعارف کروایا
تو تو وہ بولی تماری حویلی کی وجہ سے میرا بیٹا ہم سے جدا ہوا اور مجھے بہت دکھ ہوا میں نے احمد کی ماما سے وعدہ کیا کہ میں احمد اور ارسلان کو اس اسیب سے آزاد کرواؤ گا وہ بولنے لگی کہ بیٹا یہ اسیب کوئی معمولی سا نہیں ہے ہم نے بہت کوشش کی ہے لیکن دوسرے قصبے میں مولانا صاحب ہیں ان سے ہی اب امید ہے وہاں جانے کے لیے کسی کی ہمت نہیں ہے
لیکن میں اب اس جنگل کی طرف جانے کے لیے تیار ہونا چاہتا تھا میں جب واپس ا رہا تھا تو مجھے راستے میں احمد ملا عجیب بات تھی کہ احمد کو کچھ بھی رات کی بات یاد نہیں تھی میں نے احمد سے کہا کہاں تھے رات وہ بولا یار میں تو گھر تھا میں نے کہا تم حویلی میں نہیں گئے وہ بولا نہیں میں گھر سویا پڑا تھا میں نے احمد کو لیا اور اپنے ماموں کے گھر جانے لگا ماموں نے احمد کو دیکھا تو وہ مجھے غصے سے غورنے لگے
میں نے ماموں کو اشارہ کیا اور احمد کو لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا میں نے احمد سے پوچھا احمد ایک بات بتاؤ وہ بولا جی بولو میں بولا کہ کیا تم حویلی میں جاتے ہو بولا ہاں یار میں کبھی کبھار چلا جاتا ہوں ورنہ زیادہ تر میں نہیں جاتا
میں نے کہا تمہاری انکھوں کا راز کیا ہے وہ بولا کیسی انکھیں میں نے کہا تمہاری انکھیں نیلی کیسے ہوئی کیا پلیز تم مجھے بتا سکتے ہو جس پر احمد نے بس یہ کہا کہ مجھے اتنا یاد ہے کہ میں اور ارسلان حویلی میں بیٹھے تھے کے اوپر والے کمرے سے ہمیں ایک اواز ائی ہمیں ایسے لگا جیسے تمہارے ماموں نے ہمیں اوپر بلایا ہو
ہم اس کمرے میں گئے اور کمرے کا دروازہ اچانک سے بند ہو گیا ہم ڈر گئے تھے اور ہم دونوں نے بھاگنے کی کافی کوشش کی ہم نے کھڑکی کو کھولا بھاگنے ہی لگے تھے کہ ایک ہاتھ ہماری طرف بڑھتا ہوا ایا اور ہمیں کھینچتا ہوا ساتھ لگی الماری میں لے گیا اس کے بعد ہمیں کچھ یاد نہیں کہ وہاں پر کیا ہوا اور کافی دن کے بعد ہم حویلی کے ساتھ کھیتوں میں پڑے ملے
جس پر لوگوں نے ہمیں دیکھا اور ہماری انکھیں ہیں بدل چکی تھی مجھے کچھ سمجھ نہیں ا رہا تھا کہ حویلی کا اخر یہ اسیب کا راز کیا ہے یہ کیسے ایا مجھے اچانک ایک خیال ایا کہ ماموں نے بولا تھا یہ کمرہ تمہاری ماما کا تھا ماما کو اس کے بارے میں اندازہ ہوگا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا
میں نے اسے کہا کہ دوست تمہیں میں کچھ بتانے لگا ہوں اور میں نے سارے واقعات احمد کو بتا دیے کہ کس طرح رات کو وہ لڑکا علی ان کے جال میں پھنس گیا تھا اور فیضان کے ساتھ انہوں نے کیا کیا وہ بولا یار مجھے سچ میں کچھ یاد نہیں ہوتا میں نے کہا اب کی باتیں تو یاد ہیں جو ہم کر رہے ہیں اور ہنسنے لگا وہ بولا ہاں یار اب ایسے بھی بات نہیں ہے
مجھے سب پتہ ہے کہ تم کیا بول رہے ہو میں نے احمد سے پوچھا کہ کیا کوئی چیز جو چینج تم کو خود میں نظر ائی ہو وہ بولا کہ یار شام کے وقت میں اپنے اپ پر قابو نہیں رکھ سکتا میں نے کہا کیسا کا وہ بولا کہ اگر مجھے کوئی گاؤں کا شخص ملے اور میں اس کو گلے لگاتا ہوں تو اس کی گردن کے پاس سے مجھے ایک عجیب سی بو محسوس ہوتی ہے
جس سے بس میرا دل کرتا ہے کہ میں اس کا خون پی جاؤں میں احمد کو بولنے لگا ایسے تو تم نے میری گردن کو بھی سونگنے کی کوشش کی تھی وہ بولا نہیں یار تم میرے دوست ہو بچپن کے دوست خیر مجھے احمد کا کچھ راز تو پتہ چلا کہ اخر یہ راز کیا ہے میں نے احمد سے کہا اچھا میرا ایک کام کرو گے وہ بولا کیا بتاؤ میں نے بولا چلو حویلی میں چلتے ہیں اور اس الماری کو اوپن کرتے ہیں وہ بولا یار ابھی موڈ نہیں ہے
میں نے کہا نہیں چلتے ہیں یار کچھ نہیں ہوتا خیر احمد میرے ساتھ جانے کے لیے تیار ہو گیا اس نے کہا کہ ارسلان کو بھی لے لیتے ہیں میں نے کہا نہیں فلحال ہم دونوں ہی چلتے ہیں ہم دونوں چلنے لگے ماموں نے پوچھا کہاں جا رہے ہو میں نے ماموں کو بتایا کہ ہم حویلی تک جا رہے ہیں مامو نے مجھے منع کیا کہ نہیں جانا وہاں پر لیکن میں نے ضد کی اور جانے کی خواہش کرنے لگا
اخر کار مامو نے مجھے کہا ٹھیک ہے جاؤ لیکن میں تمہارے ساتھ چلوں گا میں نے کہا جی ماموں اپ بھی چلیں ہم جیسے ہی حویلی کے اندر گئے احمد کے جسم میں حرکت سی پیدا ہونے لگی میں نے احمد کو پکڑا اور اس کو جھنجوڑنے لگا میں نے کہا کچھ حرکت نہیں کرنی بس خاموشی سے میرا ساتھ دو وہ بولا ہاں یار مجھے کچھ عجیب سی چیز محسوس ہو رہی ہے میں نے کہا کیا محسوس ہو رہا ہے
وہ بولا کہ ہم تینوں کے علاوہ یہاں پر کچھ اور بھی لوگ ہیں میں نے کہا ہاں مجھے پتہ ہے یہاں پر کچھ اور بھی لوگ ہیں لیکن ہم نے اپنا کام کرنا ہے ہم سیڑھیاں چڑھنے لگے ماموں نے پوچھا عمران کیا پلاننگ کی ہے تم نے میں نے کہا ماموں میں نے احمد سے پوچھا ہے اس نے ایک الماری کا ذکر کیا ہے میں بس اسے ماری تک جانا چاہتا ہوں شاید ماموں کو کچھ الماری کے بارے میں پتہ تھا
جس پر انہوں نے مجھے منع کیا لیکن میں اور احمد ہم دونوں اس کمرے میں گئے عجیب تھی کہ اج ہم نے کمرے کو ہلکا سا کھولنے کی کوشش کی اور وہ کھل گیا ہے میں اندر داخل ہوا اور سامنے ہی ایک الماری کی طرف نگاہ پڑی میں نے احمد سے کہا یار وہ الماری اوپن کرو وہ سامنے گیا اور اس نے الماری کو جیسے ہی دروازہ کھولا
اس کے اندر ایک چھوٹا سا پتلا پڑا تھا ماموں نے دیکھا تو بولنے لگے کہ یہ جو گڑیا کا پتلا تم دیکھ رہے ہو یہ تمہاری ماما ہی لائی تھی میں نے کہا ماما کہاں سے لائی تھی تو وہ بولے پتہ نہیں بس جب سے یہ ایا ہے تب سے یہاں پہ کچھ ایسب کی حرکت شروع ہوئی ہے