قسط: 12
میری یہ کوشش زیادہ دیر تک نہ رہ سکی مجھے پتہ ہی نہ چلا احمد نے کب اپنے اپ کو ازاد کروایا اور وہاں سے بھاگ گیا میں بس دیکھتا ہی رہ گیا اور احمد مجھے نظر ہی نہ ایا مجھے پتہ تھا یہ حویلی کے علاوہ اور کہیں نہیں جا سکتا میں نے سوچا کیوں نہ ان دونوں کو حویلی کے اندر ہی دیکھا جائے
مامو بولنے لگے بیٹا یہ تم کیا کر رہے ہو ان کو نہ چھیڑو تو تمہارے لیے خطرہ بن سکتے ہیں میں نے کہا ماموں چلیں ماموں بولا کہاں میں نے بولا حویلی میں چلتے ہیں ماموں بولا نہیں چھوڑو دفع کرو اب نہیں جانا وہاں پر میں نے کہا نہیں آپ چلے گے ورنہ میں جا رہا ہوں بادل نا خواصتہماموں کو میرے ساتھ چلنا پڑا اور ہم دونوں حویلی کی طرف چل دیے
کھیتوں کے پاس پہنچے تو ہمیں کچھ اندازہ ہوا کہ کچھ زیادہ ہی گڑبڑ لگ رہی ہے حویلی کے اندر لیکن میں پھر بھی چلتا رہا انسان کو زندگی میں تب ہی حوصلہ ہوتا ہے اگر ساتھ کوئی مضبوط قدم والا ہو ماموں میرے مضبوط اعصاب کے مالک تھے اس لیے مجھے ٹینشن نہیں تھی کیونکہ ماموں نے مجھے سنبھال لینا تھا اگر کچھ ہوتا ہم حویلی کے اندر داخل ہوئے
ابھی اندھیرا ہونے میں تھوڑی دیر ہی تھی کہ ہم حویلی کے اندر چلے گئے ٹارچ تو ہم لانا ساتھ بھولے نہیں تھے کیونکہ مجھے پتہ تھا وہاں دیر بھی ہو سکتی ہے اس لیے ہم ٹارچ ساتھ لے ائے میں نے ماموں سے کہا ماموں وہ اوپر کمرے میں ہوں گے مجھے یقین ہے ماموں بولا چلو پھر کمرے میں ہی چلتے ہیں
ہم کمرے کی طرف گئے دروازے کو کھولا دروازہ نہیں کھلا میں نے کہا ماموں وہ کمرے میں ہی ہے میں نے اواز لگائی احمد ارسلان باہر اؤ اندر سے ہمیں عجیب عجیب سی اوازیں انے لگی ماموں سے کہا ابھی یہ دروازہ نہیں کھولیں گے چلو چلتے ہیں میں نے کہا ماموں وہاں پر کھڑکی ہے وہاں پر ائے ہم کھڑکی کی طرف گئے
اور ہم نے اندر جا کر دیکھا کہ اب تو ہمیں کچھ زیادہ ہی لوگ وہاں پر نظر انے لگے تقریبا وہاں پہ چھ لوگ تھے ماموں نے کہا یہ باقی کون ہے اور یہ کہاں سے ائے جیسے ان سب کی ہماری طرف نظر پڑی احمد اور ارسلان ایک جانور کی طرح بیہیو کرنے لگے لیکن مجھے ان دونوں کی پرواہ نہیں تھی میرا یہ ذہن تھا کہ میں پہلے احمد کو قابو میں کروں کیونکہ ارسلان اور احمد دونوں ایک ساتھ ہیں
تو ان دونوں میں سے اگر ایک بھی پکڑا گیا تو دوسرا خود بخود قابو میں ا جائے گا میں نے کہا ماموں ہم اندر جاتے ہیں اور الماری کا دروازہ کھول دیتے ہیں اور ہو سکے تو وہ جو گڑیا کا پتلا ہے اس کو ہم اٹھا لیتے ہیں مامو بولا نہیں بیٹا اس کو مت ہاتھ لگانا میں نے کہا نہیں ماموں اج ہم اس کو ہاتھ لگائیں گے
اور پکڑیں گے مامو بولا یہ خطرناک ہے میں نے کہا ماموں ایت الکرسی پڑھ لیتے ہیں یہ خود بخود ہم سے دور ہو جائیں گے ہم نے ایت الکرسی پڑھی اور کھڑکی کے ذریعے اندر داخل ہو گئے جیسے ہی میں الماری کی طرف گیا ہے وہاں سے زور و شور کی چیخیں ہوں کی اوازیں انے لگی اور حویلی ہلنے لگی ایسا لگ رہا تھا جیسے حویلی ابھی گر جائے گی
لیکن میں نے بنا ڈرے دروازہ کھولا تو میں دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس کے اندر گڑیا نہیں تھی میں نے ماموں سے کہا گڑیا کہاں گئی ماموں اندر ہی تھی میں نے کہا دیکھو نہیں ہے یہ سایا گڑیا کا ہے ہم ایسا کرتے ہیں دن میں ا کے اس گڑیا کے ساتھ ہی پہلے دیکھ لیں گے
میں نے بولا ٹھیک ہے لیکن ہم پہلے احمد کو پکڑتے ہیں ماموں بولا احمد کو ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم پکڑ کر رکھ سکتے ہیں میں نے کہا وہ کیا ماموں بولا اس کو لوہے کی کسی چیز کے ساتھ باندھ دیتے ہیں یہ نارمل ہو جائے گا کیونکہ یہ ایسب لوہے سے بہت ڈرتے ہیں
ہم نے پہلے لوہے کی ایک زنجیر ڈھونڈی اور پھر احمد کی تلاش میں نکل پڑے ہم ٹارچ لے کر کبھی ادھر جاتے کبھی ادھر جاتے لیکن ہمیں یہ کہیں نہ نظر اتے میرے بھائی کی کال ائی کہ جلدی گھر اؤ کھڑکی کے اندر کچھ لوگ ارہے ہیں ہم جلدی سے بھاگتے ہوئے گھر کی طرف ائے احمد وہاں پر بھی موجود تھا
میں نے کہا شکر ہے یہ تو یہاں پر پکڑا جائے گا میں نے بھائی سے کہا یہ تمہیں کچھ نہیں کہیں گے تم احمد کو بس کسی طرح سے اپنے پاس پکڑ کر رکھو ہم ا رہے ہیں جیسے ہی ہم چھت پر پہنچے اور کمرے میں داخل ہوئے سب بھاگنے لگے میں نے جلدی سے احمد کو پکڑ لیا ماموں نے جلدی سے زنجیر کو احمد کے ساتھ باندھ دیا احمد تڑپنے لگا
جیسے مچھلی تڑپتی ہو لیکن ہم نے اس کی فکر نہ کی اور احمد کو قابو اور مضبوط کر کے باندھ دیا اب احمد ہمارے قبضے میں تھا اور احمد کو ہم چھوڑ نہیں سکتے تھے ماموں نے بولا یہ زیادہ دیر تک نہیں ٹک سکتا تو جو کرنا ہے جلدی کرو
میں نے کہا ماموں میں نے کیا کرنا ہے میں نے کہا بس ایت الکرسی پڑھ کے اس کے اوپر پھونک مار سکتا ہوں ماموں نے کہا نہیں اگر یہ اس کے ساتھ کچھ غلط ہو گیا تو سارا الزام ہمارے اوپر ائے گا میں نے کہا ماموں اب یہ ہی حل ہے ہم اس دوسرے قصبے میں جاتے ہیں اور قاری صاحب سے مشورہ کرتے ہیں جا کر ماموں نے بولا چلو ٹھیک ہے صبح ہم چلتے ہیں اور گاؤں کے کچھ لوگوں کو اپنے ساتھ کر لیتے ہے تاکہ ہمیں بھی حوصلہ رہے اور ہمیں گاؤں والوں کا سہارا بھی رہے میں نے کہا ٹھیک ہے