خونی حویلی

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 18

میں نے کہا مامو کوئی اور راستہ نہیں ہے یہاں سے گزرنے کا مامو بولا نہیں بیٹا یہی ایک راستہ ہے سب سے پہلے ایک ادمی نے پھٹے پر پاؤں رکھا اور پل کیا تھا کہ اس کے دونوں سائیڈوں پہ پکڑنے کے لیے رسیوں کی سپورٹ تھی لیکن نیچے سے پھٹوں کی بہت ہی ٹینشن لگی رہتی ہے کہ کہیں گرے تو سیدھا ہم موٹ کے منہ میں چلے جائیں گے
ہم میں سے ایک نہیں ہمت کی اور پھٹے کے اوپر پاؤں رکھ کر اگے گزرنے لگا وہ ابھی زیادہ دور ہی نہیں گیا ہوگا کہ اس کے سامنے ایک سفید لباس پہننے کوئی چڑیل کھڑی تھی جو اس کو ڈرا رہی تھی لیکن مامو نے کہا کہ اپ ارام سے چلتے رہو وہ زیادہ دیر چل نہ سکا اور وہیں پر بے ہوش ہو کر گر گیا
مامو اس کو کیا ہوا جلدی سے چلا ورنہ یہ مارا جائے گا مامو نے کہا کہ یہ چڑیل ہے تو ہم ایسا کرتے ہیں کہ اگ ہی جلا لیتے ہیں شاید یہ ڈر کر بھاگ جائے ہم نے تھوڑی سی لکڑیاں اکٹھی کی اور اس کے اوپر ایک کپڑا باند کر اس کو اگ لگائی جیسے ہی ہم نے اگ لگائی ہم اگے بڑھنے لگے تو وہ چڑیل دور ہٹنے لگی ہم اپنے بہوش ساتھی کے پاس گئے
اور اس کو جا کر ہلایا ہمارے پاس پانی موجود تھا ہم نے پانی نکالا اور اس کے منہ پر ہلکے ہلکے پانی کے چھٹے مارے وہ ہلکا سا ہوش میں ایا اور اس نے ہوش میں اتے ہی چیخیں مارنے لگ گیا میں نے کہا کچھ نہیں ہوا تم ٹھیک ہو نارمل رہو ہم ہیں وہ اپنے سارے اوسان خطا کر چکا تھا اور اپنی ہوش میں بھی نہیں تھا
ماموں نے کہا اس کو پکڑو اور ارام ارام سے چلو پیچھے سے دو دو ادمی نے کہا کہ نہیں ہم سب ایک ساتھ اس پل کے اوپر سے نہیں گزر سکتا یہ بسیدہ پر ہے اور گر گیا تو سب کے سب ہی مارے جائیں گے اس لیے ہمیں ایک ایک کر کے گزرنا ہوگا اب میں اور مامو ہم دونوں نے سوچا کہ ہم ایک ساتھ چلیں گے
بکایا دو ایک ایک کر کے ائیں گے اب ہم نے دو دو کی جوڑیاں بنا لی اور ہم گزرنے لگے سب سے اگے ہم تھے ہم نے سب سے اگے اور سب سے پیچھے والوں نے اگ جلا کر پکڑ لی کہ اگر پیچھے سے کوئی حملہ کرے تو وہ محفوظ رہے اب ہم گزرتے رہے اور ہم ادھے پل کے پاس ہی پہنچے ہوں گے کہ میرا پاؤں ایک پھٹے پر ایا وہ پھٹا ٹوٹ کر نیچے نکل گیا
شکر ہے دوسرا پاؤں بھی میں نے نہیں اٹھایا تھا جس کی وجہ سے میں گرتا گرتا بچ گیا مامو نے بولا بیٹا دیکھ کر چلو یہاں پر بہت زیادہ احتیاط کرنی ہوگی دیکھنا ہے میں تو پل چھوٹا لگ رہا تھا لیکن جب ہم نے کراس کرنے کا سوچا تو وہ اتنا بڑا پل تھا کہ ہمیں 25 منٹ پار کرنے میں لگے
میں نے کہا مامو یہ پول تو بہت اسانی سے پار ہو گیا ہے اور ہم سب خیریت سے پہنچ گئے ہیں مامو نے کہا شکر ہے کہ اج ہم خیریت سے پہنچ چکے ہیں ورنہ سننے میں تو یہی ایا تھا کہ یہ پل خود بخود ہلنے لگتا ہے اور یہ اسیب اوپر سے دھکہ دے کر گرا دیتے ہیں
میں نے کہا مامو اگلی دفعہ ہم جلدی نکلیں گے اور مامو بولے واپسی پر تو بیٹا یہ ہمیں دن میں ہی سفر کرنا ہوگا اور دن میں امید ہے کہ ہم بچتے بچاتے نکل ہی جائیں گے میں نے کہا مامو ندی ہے تو پانی نہ پی لیں مامو نے بولا بیٹا یہ ندی کا پانی پینے والا نہیں ہے یہ اسیبی ندی ہے یہاں پر جنات کا اثر ہوتا ہے
تو یہاں سے پانی پینا تو بے وقوفی ہوگی اب ہم جنگل بھی پار کر چکے تھے اور ندی بھی اب ہمارا مقصد صرف اگے قصبے کے اندر داخل ہونا تھا ہم تھوڑی سی اگے گئے ہمیں ایک جھونپڑی نظر ائی جس کی لائٹ اون تھی ہم جھونپڑی کے پاس گئے اور ہم نے جا کر پوچھا کہ کوئی ہے تو اندر سے ایک بڑھیا باہر ائی بڑھیا کی عمر تقریبا کوئی 50 60 سال ہوگی جو ہلکی سی جھکی ہوئی باہر ائی
اور ہمیں دیکھ کر بولنے لگی بیٹا کیا ہوا اور تم لوگ کون ہو اتنی رات کو کیا کر رہے ہو ہم نے کہا ماں جی ہمیں تھوڑی سی پناہ چاہیے اس نے کہا بیٹا اندر ا جاؤ باہر تو جنات پھرتے رہتے ہیں اور تم یہاں پر لگتا ہے نئے ائے ہو ہم اندر داخل ہوئے لیکن ہم میں سے ایک جو ساتھ تھا وہ ڈر رہا تھا وہ بولا مجھے اس میں کچھ گڑبڑ لگتی ہے اس لیے ہمیں نہیں جانا چاہیے
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial