خونی حویلی

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 3

ہم دونوں بھائی باتیں کرنے لگے میرا بستر کھڑکی کے سامنے تھا اور حویلی مجھے نظر انے لگی میں نے حویلی میں دیکھا کہ وہاں پہ لائٹس اون تھی میں نے بھائی سے کہا وہاں کوئی رہتا ہوگا لازما بھائی بولا کہاں میں نے بولا حویلی میں وہ بولا نہیں یار حویلی میں نہیں کوئی رہتا
تم سو جاؤ خاموشی سے میں نے بولا پھر وہ لائٹ کیوں اون ہے اس نے کہا مامو نے بولا ہے نا وہاں کوئی نہیں رہتا اور ماما نے بھی یہی کہا تھا میں نے بولا اچھا دیکھو وہ لائٹ اون ہے یا نہیں اس نے دیکھا تو وہاں سچ میں لائٹ اون تھی
اس نے بولا تم ایسے نہیں باز آؤ گے وہ اٹھا اور کھڑکی کی طرف پردہ کرنے لگا کہ اچانک اس کی بھی نظر اسی درخت کے پاس گئی اور وہ چیخ مارتا ہوا میرے پاس ایا میں نے پوچھا کیا ہوا وہ بولا وہ وہ درخت کے پاس کچھ کھڑا ہے میں اٹھا اور جلدی سے درخت کی طرف دیکھنے گیا
تو میں نے دیکھا کہ ایک عجیب سی شکل لال انکھیں اور لمبے بکھرے ہوئے بال بنائے کوئی سامنے کھڑا تھا مجھ پہ کپکپاہٹ طاری ہو گئی اور جلدی سے پردا گرایا اور کیا ہم نے ایت الکرسی پڑھی
اور ایک دوسرے کی طرف منہ کر کے سو گئے ہمیں اس کے بعد کچھ پتہ نہ چلا صبح جب مامو نے آ کر اٹھایا تو میرے بھائی کو بخار ہو چکا تھا مامو بولے کیا ہوا بخارہ ہو گیا تو ہم نے سارا رات والا واقعہ بتایا تو ماموں نے بولا اس وجہ سے تمہاری ماما یہاں نہیں آنے دیتی
اور تم بھی زیادہ باہر مت نکلنا اگر کہیں جانے کا دل کرے تو مجھے بتانا ہم ساتھ چلیں گے میں نے ماموں سے پوچھ لیا کہ حویلی میں لائٹس کیوں اون تھی مامو بولا وہاں کوئی نہیں رہتا اور لائٹ اف ہی ہوتی ہے وہاں پہ تو بجلی کا میٹر ہی نہیں لگا ہوا تو لائٹ کہاں سے آن ہوگی میرا بھائی بولا نہیں مامو وہاں پر لائٹ ان تھی رات ہم نے خود دیکھا ہے
مامو بولا اپ کو ویسے ہی شک ہوگا وہاں پہ کبھی لائٹ نہیں آن ہوتی اور پھر میں تو خیر ناشتہ کرنے لگا بھائی نے چائے اور بسکٹ کھائے اور ماموں اس کو اپنے ساتھ شہر کی طرف لے کر جانے لگے کہتے ہیں میڈیسن دلوا کر لاتا ہوں میں نے احمد کو کال کی اور کہا بھائی کہاں ہو اس نے بولا یار میں بھی سو کر اٹھا ہوں اتا ہوں
تمہاری طرف میں نے جب باقی دوستوں کا پوچھا تو وہ بولا ابھی اتا ہوں پھر بتاؤں گا تمہیں میں دروازے کے پاس گیا ابھی میں باہر نکلا ہی تھا کہ مجھے ایک لڑکا نظر ایا میں نے اس کو دیکھا تو وہ میری طرف انے لگا اور بولا کیا حال ہے دوست میں نے بولا میں ٹھیک ہوں اپ کیسے ہو وہ بولا پہچانا میں نے کہا نہیں بولا یار فیضان ہوں میں بولا ارے فیضان کیا کر رہے ہو میں نے احمد کا بولا کہ وہ بھی آرہا ہے تو فیضان حیران ہوا اور بولا کہ یار احمد سے تو ہم نہیں ملتے
میں نے کہا کیوں کہتا تم بھی نہ ملنا میں نے کہا یار ایسا کیا ہے کہ اپ احمد سے نہیں ملنے دے رہے وہ بولا اگر وہ ائے تو خود ہی تمہیں پتہ چل جائے گا اتنے میں دور سے ہمیں احمد اتا نظر ایا وہ بولا ارے یہ اگیا میں بولا رکو تو صحیح وہ بولا نہیں میں جاتا ہوں میں نہیں یہاں پہ رک سکتا
تم اس سے مل لو میں نے کہا اچھا تم اندر گھر میں بیٹھو میں اسے مل کر آہتا ہوں اس نے بولا اکیلے مت جاؤ اس کے پاس مجھے کچھ گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی ایسا کیا ہے احمد میں جب احمد پاس ایا تو میرے بھی ایک دفعہ انکھیں پھٹی رہ گئی احمد کی انکھیں نیلی اور بال تھوڑے سے بڑے تھے
اچانک میرے زہن میں رات والی شکل ائی کیا یہ احمد تھا نہیں احمد ایسا نہیں ہو سکتا احمد ایا اور مجھ سے گلے ملنے لگا جب میں احمد سے گلے ملا تو احمد نے اپنی ناک میری گردن کے پاس رکھی اور لمبی سی سانس لینے لگا میں ڈر گیا اور بولا ارے احمد کیا کر رہے ہو وہ بولا کچھ نہیں یار ویسے ہی دیکھ رہا تھا کہ اج بھی ہمارا دوست ایسا ہی ہے یا بدل گیا ہے میں ہنسنے لگا
اور بولا ارے بھائی ویسا ہی ہوں نہیں بدلا تم بدل کے ہو دیکھو کیا حال کیا ہوا ہے اور یہ تمہاری انکھوں کو کیا ہوا وہ بولا کچھ نہیں یار بس وہ لینز لگائے ہیں میں بولا اچھا احمد پوچھنے لگا بھی تمہارے پاس کون کھڑا تھا میں بتانے لگا تو میں نے کہا کوئی بھی نہیں وہ کزن تھا میرا وہ اندر چلا گیا وہ بولا اچھا احمد نے مجھے بولا کہ حویلی میں چل کے بیٹھتے ہیں
نا میں بولا نہیں یار ابھی ماموں ائیں گے وہ بھائی کو لے کر گئے ہیں اس کی طبیعت خراب ہے اس کے بعد میں تم کو بلاؤں گا تو پھر حویلی میں بیٹھتے ہیں سب دوست وہ بولا سب تو نہیں یار بس اب میں ہوں اور ارسلان ہم دونوں ہی بس حویلی میں چلے جاتے ہیں
مجھے احمد پہ کچھ شک ہونے لگا کہ حویلی تو بند رہتی ہے تو پھر یہ اندر کیسے جاتے ہیں خیر کیسے بھی کر کے میں نے احمد سے جان چھڑوائی اور وہ چلا گیا میں اندر ایا اور فیضان سے پوچھنے لگا کیا معاملات ہیں بتاؤ ذرا مجھے بھی تو اس نے بولا کہ یار اس حویلی میں تم نے کبھی نہیں جانا میں بولا احمد مجھے بول رہا تھا کہ حویلی میں چلتے ہیں لیکن میں نے منع کر دیا وہ بولا یہ حویلی کسی وقت میں اباد تھی لیکن اب اس کو خونی حویلی بولا جاتا ہے
میں بولا خونی وہ کیوں وہ بولا تم نہیں سمجھو گے یہاں پر سونا ہے کہ کچھ چیزوں کا سایہ ہے اور ہم نے احمد اور ارسلان دونوں میں ایک عجیب سی چیزیں محسوس کی ہیں میں نے پھر رات والی بات فیضان کو بتائی وہ بولا احمد سے دور ہی رہو تو زیادہ اچھا ہے
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial