محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 9 حصہ 1

اُس کی امی نے دروازہ کھولا تھا اور حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی نور جانتی تھی یہ حیرت اگلے کچھ ہی سیکنڈ میں پریشانی میں بدل جائیگی جب وہ اُس کے اکیلے ہونے کا نوٹس لیں گی ۔۔۔۔
لیکِن ایسا نہیں ہوا تھا بلکہ اگلے تین سیکنڈ میں اُس کی ماں۔۔۔۔ نظریں اُس کے چہرے سے ہٹا کر اُس کے پیچھے دیکھنے لگی تھی۔۔۔۔
اور آنکھوں کی حیرت بدلی ضرور تھی مگر تبسم میں۔۔۔۔۔۔
نور نے نا سمجھی سے اُنہیں دیکھا اور اُن کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے تھوڑا سا پلٹی تو اُس کا دل جہاں کا وہیں رک گیا۔۔۔۔لب خود بخود وا ہوۓ ۔۔۔
جس کو اب کبھی نہ دیکھنے کا یقین تھا وہ انسان اُس کے سامنے اُس سے ایک سیڑھی نیچے کھڑا تھا۔۔۔۔
چہرے پر ماندگی تھی۔۔۔پسینے کی ہلکی سی نمی تھی۔۔۔شاید وہ اُس کے اندر جانے سے پہلے وہاں پہنچنے کی خاطر بھاگ کر وہاں پہنچا تھا۔۔۔۔
بال صبیح پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے اور سانسیں کچھ حد تک تیز تھی جنہیں متعدل ظاہر کرنے کی کوشش میں نچلا لب بھینچا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ بے یقینی کی کیفیت میں بنا پلکیں جھپکے مسلسل اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔اور اُس کی نظریں خود پر محسوس کرکے بھی شہیر کی بے نیازی۔۔۔۔۔دیدنی تھی۔۔۔
“نور”
اپنی ماں کی کچھ اونچی پکار پر اُس کا ذہن جاگا ۔۔۔ اُسی لمحے شہیر نے بھی اُس کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔۔۔اور اُس کی بے تاثر نظروں کی چمک بھی ایسی تھی کہ وہ نظریں جھکا گئی ۔۔۔۔۔دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور ماتھے پر شکنیں پڑتی جا رہی تھی۔۔۔الجھن چہرے پر صاف واضح تھی۔۔۔۔۔مگر نظریں نیچے ہی تھی۔۔۔۔
“کیا سوچ رہی ہو نور۔۔۔۔ایسے کیوں کھڑی ہو۔۔۔اندر آؤ نا۔۔۔۔”
اُس کی ماں کے خوشی اور حیرت میں ڈوبے جملے سے اُسے اندازہ ہوا کہ وہ اپنی بے توجہی میں اُن کو سن ہی نہیں پائی تھی کہ وہ کب سے اُسے پکار رہی ہے۔۔۔
اور اس دفعہ بھی اُن کی جانب دیکھا تو مسکرا تک نہ سکی ۔۔۔بس خاموشی سے اندر آگئی۔۔۔۔
میں تو اتنی خوش ہوں آپ دونوں کو یہاں دیکھ کر کہ بتا نہیں سکتی۔۔۔۔نور۔۔۔تونے بتایا کیوں نہیں آنے سے پہلے ۔۔۔بتاتی تو میں کچھ تیاری کرتی نہ تیرےویلکم کی۔۔۔۔۔۔۔ارے ہاں رک میں تیرے بابا کو جگا کر آتی ہوں۔۔۔۔
اُس کی امی جتنا اُنہیں اچانک دیکھ کر خوشی سے نہال تھیں اتنی ہی بوکھلائی ہوئی بھی تھی۔۔۔کبھی شہیر کو تو کبھی نور کو دیکھتے ہوئے بول رہی تھی ساتھ ہی صوفے پر ترتیب سے رکھے کشنز کو بھی مزید صحیح کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور آخر میں جلدی سے سیدھی ہوتی سامنے والے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی کہ نور نے اُنہیں روکا۔۔۔۔
امی ۔۔بابا کو اتنی رات کو پریشان مت کرو۔۔۔۔میں اُن سے صبح مل لوں گی۔۔۔۔
وہ وقت کا خیال کرکے اُنہیں منع کرتے ہوئے بولی کہ رات کے دو بج رہے تھے ۔۔۔۔ اُنہوں نے شہیر کی طرف دیکھا اور پھر نور کو گھورا۔۔۔
کیسی باتیں کر رہی ہے۔۔۔داماد جی کیا سوچیں گے ۔۔۔
وہ آہستہ آواز میں بڑبڑا ئیں جو شہیر کو اُس رات کی خاموشی میں واضح سنائی دیا۔۔۔۔
اٹس اوکے آنٹی ۔۔۔۔۔۔نور صحیح کہہ رہی ہے ۔۔اتنی رات کو اُنہیں مت جگائیے ۔۔۔ہم صبح اُن سے مل لیں گے ۔۔۔۔۔
اُس نے بلآخر خاموشی توڑتے بہت ہی نارمل انداز میں کہا جبکہ نور تو اُسے حیرت سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔جو ایک تو اُس کا پہلی دفعہ نام لے کر اس طرح بول رہا تھا جیسے بہت ہی کوئی اچھے تعلقات چل رہے ہو اُن کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکِن اُس سے بڑ کر حیرت تھی اُس کے” ہم اُن سے صبح مل لیں گے “بولنے پر ۔۔۔۔مطلب وہ وہاں رکنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔
ٹھیک ہے بیٹا۔۔۔۔اگر آپ کہہ رہے ہیں تو۔۔۔۔۔۔ویسے بھی آپ بہت تھک گئے ہوں گے نہ ۔۔۔۔نور داماد جی کب سے کھڑے ہیں ۔۔۔اُنہیں بیٹھنے کو تو بول۔۔۔۔۔۔معاف کرنا بیٹا میں نے بھی دھیان نہیں دیا۔۔۔۔
فاطمہ نے الگ اپنی بیٹی کو حیران کیا جو اُس کی بات کو تو خاطر میں نا لا کر اُسے گھور چکی تھی اور “داماد جی” کے بولتے ہی مان گئی تھی۔۔۔۔۔اوپر سے اُسے پھٹکار بھی لگا چکی تھی جیسے وہ تو جادو سے یہاں پہنچی تھی سفر تو صرف اُن کے داماد جی نے طے کیا تھا ۔۔۔۔
اُن کے شرمندہ ہو کر کہنے پر وہ نور کی حیران شکل دیکھتے ہوئے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔جب کے نور اُس کے اتنے پرسکون انداز پر جل اٹھی تھی ۔۔۔وہ بلا وجہ اُس کی مشکلیں بڑھا رہا تھا ۔۔۔۔
امی میری بات سنو۔۔۔۔۔۔
آخر اُس نے طے کیا کہ سب سے پہلے اصل بات اُنھیں بتائیں کہ سچویشن آخر کیا ہے ۔۔۔تاکہ وہ اپنی خاطر تواضح چھوڑ کر سنجیدہ ہو جائیں۔۔۔۔
باتیں کرنے کا ابھی وقت نہیں ہے نور۔۔۔۔۔تو پہلے جا کر علی کو جگا اور بول کے اپنے بابا کے پاس جا کر سو جائے۔۔۔۔اور کمرے کو تھوڑا ٹھیک کردے ۔۔۔تاکہ داماد جی آرام کر سکے ۔۔۔۔۔۔
مگر وہ بھی کونسا اُسے سیریس لینے کے موڈ میں تھی۔۔۔فوراً انکار کرکے اسے کام سے لگا دیا تھا۔۔۔۔۔
نیچے دو کمرے اور ایک کچن تھا جس میں ایک امی بابا کا اور دوسرا اُس کا اور ردا کا ہوا کرتا تھا جب کہ اوپر دو کمرے تھے ایک علی کا اور دوسرا سٹور روم باقی بڑا سا کھلا ٹیرس تھا۔۔۔۔
پرانے طرز پر بنا وہ بڑا سا پشتینی مکان اُن کی کُل جائیداد تھا۔۔۔۔۔
اگر آپ میری بات سن لوگی تو اِس سب کی ضرورت نہیں پڑےگی امی۔۔۔۔
اُس نے جھنجھلا کر کہا اور دل اُس لمحے شدّت سے دکھا۔۔۔۔۔ اُنہوں نے حیرت سے دیکھا اور شہیر نے سنجیدگی سے نور بس بولنے کو تھی کہ وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھا اور ۔۔۔۔
پانی۔۔۔۔۔۔۔
درمیاں میں ہی بول پڑا کہ نور کی بات منہ سے بھی نہیں نکلی تھی اور وہ کاٹ گیا ۔۔۔۔دونوں نے ایکدم سے بولنے پر ایک ساتھ اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔
ایک گلاس پانی ملےگا ۔۔۔۔۔۔
وہ براہ راست نور کو دیکھتے ہوئے بولا اور وہ بے یقینی سے اُسے دیکھ رہی تھی کیوں کے اُسے سمجھ آرہا تھا کہ اُس نے کس طرح بات کاٹ کر اُسے اپنی ماں کو سچ بتانے سے روکا ہے ۔۔۔مگر کیوں۔۔۔۔یہ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
میں ابھی لاتی ہوں۔۔۔۔۔
نور کو سٹل کھڑی دیکھ فاطمہ نے ایک دفعہ پھر اُسے گھوری سے نوازا اور خود کچن میں پانی لینے چلی گئی۔۔۔۔۔۔
جب کے اُن کے جاتے ہی وہ نور کی چبھتی نظروں سے بچنے کی خاطر پہلو بدل گیا اور بے نیازی سے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے سفید رنگ کی دیوار کا جائزہ لینے لگا ۔۔۔۔اور تاثرات ایسے تھے جو نور نے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے ۔۔۔جن میں لا پرواہی بھی تھی ۔۔۔۔بے نیازی بھی تھی اور اُس کی جانب سے چوکنا بھی نظر آرہا تھا ۔۔۔۔نور اُس سمجھ سے پرے انسان کو غصے سے گھورتی اُس کی طرف بڑھی ۔۔۔
کیوں آئے آپ یہاں۔۔۔۔۔
لہجے میں حیرت جھنجھلاہٹ ماتھے پر ڈھیروں بل ڈالے پوچھنے لگی۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔مجھے یہاں آنا الاؤڈ نہیں ہے ۔۔
اُس نے اپنے ہمیشہ کے سے ٹھہرے لہجے میں بہت اطمنان سے پوچھا تو نور کو اُس کے اس قدر بے تکے جواب پر مزید غصّہ آیا۔۔۔۔۔
میں نے آپ سے کہا تھا نا کہ آپ یہاں مت آئیے گا۔۔
وہ جھنجھلا کر دھیمی آواز میں چینخی ۔۔۔۔
تو۔۔۔۔تمہاری ہر بات ماننا لازمی ہے میرے لیے۔۔۔
وہ اُس کی آنکھوں میں اتنی گہرائی سے دیکھتے ہوئے بولا کے نور ایکدم سے پلکیں جھکا گئی ۔۔۔۔عجیب سے احساس نے اُسے نروس کیا ۔۔۔ پھر بھی و ہ مزید کچھ پوچھنے کی کوشش کرتی کہ فاطمہ آگئی۔۔۔۔
اُسے پانی دیا اور نور کو پھر ایک دفعہ گھورا۔۔۔۔
نور تم اب تک یہیں کھڑی ہو ۔۔۔۔داماد جی کو اندر لے جاؤ ۔۔۔۔اُنہیں فریش ہونا ہوگا۔۔میں تب تک اچھی سی چائے بنا کر لاتی ہوں ۔۔۔۔
ضبط سے کہا اندر جا کر وہ علی کو بھی کال کرکے شاید جگا چکی تھی تبھی اُسے کمرے میں جانے کو کہہ رہی تھی۔۔۔
امی۔۔۔۔میں بھی اتنا ہی لمبا سفر طے کرکے یہاں آئی ہوں ۔۔۔۔میرا بھی حال پوچھ لو ذرا سانس لے کر۔۔۔۔
اُسے ایکدم سے طیش آگیا تو سلگ کے بولی کہ ایک تو وہ پہلے ہی شہیر کے آنے سے جھلای ہوئی تھی اور اوپر سے اُس کی ماں اُسے کوئی خاطر میں ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔۔۔
فاطمہ نے شرمندہ ہو کر شہیر کی جانب دیکھا جو یوں تو نارمل دکھ رہا تھا مگر نور کے چڑنے پر اندر ہی اندر محظوظ ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
پاگل ہے بلکل ۔۔۔۔جا جو کہا ہے وہ کر۔۔۔۔۔
وہ ذبردستی مسکراتے ہوئے نور کو حیرت اور غصّے بھری نظروں سے دیکھ کر بولی وہ ایک نظر شہیر کو گھور کر پیر پٹختے ہوئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی اور وہ فاطمہ کے اشارے پر مجبوراً اُس گھوری کو ہی دعوت سمجھ کر اُس کے پیچھے چل دیا۔۔۔۔۔
بڑا سا کمرہ تھا مگر بلکل سادہ۔۔۔۔۔ایک الماری ایک سنگل بیڈ اور ایک اسٹڈی ٹیبل تھا اور کچھ دیگرضروری سامان۔۔۔۔۔دیواروں کا رنگ بھی کچھ اجڑا اجڑا تھا اور کوئی ساج سجاوٹ بھی نہیں تھی مگر صفائی کا پورا خیال رکھا ہوا تھا۔۔۔۔
دونوں کے آتے ہی علی جو نیند کی دھن
میں اپنی ماں کے انسٹركشن پر کمرے کی حالت بہتر کرنے میں لگا تھا بہت گرم جوشی سے دونوں سے ملا۔۔۔
نیند سے لڑتے لڑتے اُن دونوں سے باتیں کرنے لگا اور اُس درمیان فاطمہ بھی چائے لے کر آگئیں ۔۔۔ساتھ دونوں کے لیے کھانے کہ بھی انتظام کیا مگر دونوں نے ہی انکار کردیا ۔۔۔۔۔۔
نور کو تو اپنی ماں کی” داماد جی داماد جی”کی دھن سے شدید چڑ ہو گئی تھی ۔۔۔ایسا سمجھ رہی تھی جیسے راتوں رات کوئی فلم اسٹار اُنکے گھر آرکا ہو۔۔۔۔
اور شہیر۔۔۔۔وہ اُن کی باتوں اور محبت کے جواب میں بس کبھی کبھی مسکرا رہا تھا۔۔۔ویسے بھی وہ کم ہی بات کرتا تھا اور اس وقت تو ذہن بھی اپنی جگہ نہیں تھا ۔۔۔عجیب سی کشمکش گھیرے ہوئے تھی۔۔۔۔
مگر وہ ظاہری طور پر ہمیشہ کی طرح پرسکون تھا ۔۔۔۔
کچھ دیر فاطمہ اُس سے باتیں کرتی رہی اور اس دوران نور بس علی کی باتوں میں مشغول رہی جو اپنے میٹرک کے امتحانات کے متعلق اُسے بتا رہا تھا۔۔
پھر دونوں ہی اُن کے آرام کی غرض سے چلے گئے مگر جاتے جاتے بھی امی اپنے داماد جی کے حوالے سے چار پانچ ہدایتیں دے کر ہی گئیں۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial