قسط 10 حصہ 1
“یہ کپڑے تمہارے لیے لائی تھی ۔۔۔آج کہ فنكشن میں پہنے کے لیے ۔۔۔۔۔اگر دل کرے تو پہن لینا۔۔۔۔”
اُس کی ماں نے اُس کی طرف بیگ بڑھاتے ہوئے جس بے رخی سے کہا اُس کی آنکھوں میں بے ساختہ آنسو آگئے ۔۔۔۔۔اُس نے بیگ کی بجائے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
“امی آپ مجھ سے ناراض ہیں_”
بھاری دل اور لہجے سے بولی تو اُنہوں نے نظریں دوسری طرف کرلیں۔۔۔۔۔
“پلیز مجھ سے بات کریں۔۔۔۔ایسے کیوں کر رہی ہیں”
وہ تھکے تھکے انداز میں رودی ۔۔۔
“میری باتیں اب تمہیں غلط ہی لگنی ہے ۔۔۔خود جو اتنی سمجھدار ہوگئی ہو۔۔۔۔۔۔
اُنہوں نے خفگی اور روکھے پن سے کہا ۔۔۔
“امی آپکو اُس انسان کی غلطی نظر کیوں نہیں آرہی ۔۔”
اُس نے بیچارگی اور بے بسی سے کہا تو اُنہوں نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
“مجھے سب نظر آرہا ہے نور۔۔۔۔۔۔کہ وہ کیسا برتاو کر رہا ہے ہم سب کے ساتھ……. اور تم کس طرح اُس سے بات کر رہی ہو۔۔۔۔۔سب دکھائی دے رہا ہے مجھے ۔۔۔”
اُنہوں نے تاسف سے جتا کر کہا اور وہ اُنہیں دکھ سے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔کہ اُس کی ماں اُسے سمجھنے کی کوشش تک نہیں کر رہی تھی۔۔۔۔۔اُس کا کہا اُنہیں غلط اور شہیر کا جھوٹا رویہ صحیح لگ رہا تھا۔۔۔۔
تیار ہو کر نیچے آجانا۔۔۔۔مہمان آتے ہی ہوں گے “
اُنہوں نے اُس کا ہاتھ پکڑ کر بیگ دیتے ہوئے کہا اور خود باہر نکل آئی۔۔۔۔۔وہ وہیں کمرے میں موجود بیڈ پر گرنے والے انداز میں بیٹھ گئی اور کتنی ہی ڈرائیو تک بے جان مورتی کی طرح بیٹھی رہی ۔۔۔۔
اُس کے دماغ میں ڈھیروں منفی خیال آرہے تھے۔۔۔۔کبھی دل کرتا کے اٹھ کر کہیں دور بھاگ جائے کبھی سوچتی کہ خود کو ختم کرکے ہر مشکل سے نجات حاصل کرلے۔۔۔۔
جن سے سب سے زیادہ نزدیک کا تعلق ہو جو حقیقی اپنے ہو اگر وہ ساتھ نہ دے تو انسان بھیڑ میں بھی اکیلا ہی ہوتا ہے۔۔۔پھر کسی کے ساتھ کی اُمید بھی نہیں رہتی۔۔۔۔
ردا روم میں آئی اور اُسے پُکارا تو وہ اپنی سوچوں سے نکل پائی اور اُس کے احساس دلانے پر اٹھ کر چینج کرنے گئی۔۔۔۔
حالانکہ دل نہ اب تیار ہونے کو نہ باہر نکلنے کو مان رہا تھا۔۔۔۔بس اندھیرے میں کہیں گم ہوجانے کو چاہتا تھا ۔۔۔
مگر رسمِ دنیا بھی نبھانی تھی۔۔۔۔
ردا کی ہیلپ سے اُس نے ساڑھی باندھی اور پھر ردا نے ہی اُسے اپنے حساب سے تیار کیا۔۔۔۔۔۔
اور اس دوران بھی اُس کا ذہن مسلسل مصروف تھا کے زندگی کی اس بھٹکتی روش پر کیسے قدم آگے بڑھائے ۔۔۔۔۔
امی کے الفاظ اُس کے کانوں میں گونج رہے تھے جنہوں نے اُسے مجرم قرار دیا تھا اور جو اصل ذمےدار تھا وہ مظلوم بن گیا تھا۔۔۔۔۔
“”شہیر ۔۔۔۔۔ہرمصیبت کی اصل جڑ ۔۔۔۔'”
اُس کے کانوں میں اُس کے نام کی گونج ڈنکے کی طرح بج رہی تھی ۔۔۔۔دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھی۔۔۔۔۔۔خون کا دوران تیز تر ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اور پھر وہ ایک دم سے اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔۔۔۔
ردا جو میک اپ کے بعد اُس کے بال سلجھا رہی تھی حیرت سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔۔
“میں ابھی آئی۔۔۔۔۔”
وہ بمشکل نارمل لہجے میں بولتی روم سے باہر نکلی اور اوپر کے کمرے کی طرف بڑھی جہاں اُن کا مقام تھا اور اس وقت شہیر کی موجودگی ممکن تھی ۔۔۔۔
پوری قوت سے دروازہ دھکیلا اور وہ اُس کی اُمید کے مطابق وہاں موجود تھا۔۔۔۔شیشے کے سامنے کھڑا گرے شرٹ کی کالر درست کر رہا تھا کہ دروازے کے اچانک اور زور سے آواز کرنے پر پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔
اُس کے چہرے پر نظر پڑتے ہی نور کے تاثرات مزید سخت ہوگئے تھے
وہ بنا رکے آگے بڑھی اور اُس کے ٹھیک سامنے آکر اُس کا گریبان دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر کھینچا کہ اس افتاد پر پہلی بٹن ٹوٹ کر گرگئی۔۔۔۔۔۔
وہ بس ایک پل کو حیران ہوا اور پھر وہی ازلی بے نیازی ۔۔
“کیا سمجھتے ہیں آپ اپنے آپ کو ۔۔۔کیا چاہتے ہیں مجھ سے ۔۔۔۔کیوں پاگل کر رہے ہیں مجھے۔۔۔۔۔”
وہ بنا پاس لحاظ کے بنا کسی کے سن لینے کے خوف کے چینخی ۔۔۔۔۔شہیر نے بغور اُس کے چہرے کو دیکھا۔۔۔۔جہاں وہ مصنوعی رنگوں سے خود کو مزید جاں ستاں بنا کر اُس کے سامنے آئی تھی۔۔۔۔
گہرے کاجل سے سجی آنکھوں میں بے پناہ غصّہ تھا۔۔۔۔گھنی پلکوں میں آنسو جذب تھے۔۔۔۔۔بال ایک طرف سے آنکھ سے ایک انچ دور تک بکھرے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔سرخ رنگ سے سجے لبوں میں لرزش تھی۔۔۔
“جب میں آپ کی مشکل آسان کرنے کے لیے آپ کی زندگی سے خاموشی سے نکل آئی ہوں تو اب آپ میرے پیچھے کیا لینے آئے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ شرٹ پر اپنی گرفت سخت کرتی بے حد ضبط اور بھڑاس بھرے لہجے میں بولی۔۔۔۔سانسیں تیز ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔۔ آنسو رواں تھے ۔۔۔اور وہ سکون سے کھڑا تھا۔۔۔
“یہ نیک اور معصوم بننے کا ڈراما کرکے مجھے میرے ہی اپنوں کی نظروں سے گرانے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔۔”
اُس کا اطمینان ۔۔۔۔اُس کی خاموشی آگ پر گھی جیسا کام کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔نور کی آواز زیادہ اونچی اور لہجہ مزید ترش ہوگیا تھا ۔۔
“آواز نیچے رکھو۔۔۔۔۔اور ہاتھ یہاں سے ہٹاؤ۔۔۔۔”
بالآخر وہ بولا۔۔۔۔۔مگر بے حد لاپرواہی سے۔۔۔۔کافی دھیمی آواز میں۔۔۔۔بے تاثر لہجے اور چہرے سے۔۔۔۔ایک نظر اُس کے ہاتھ کو دیکھ کر۔۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے۔۔۔۔
“پہلے آپ مجھے میرے سوالوں کا جواب دیجیے ۔۔۔۔
میں آپ کی کوئی خریدی ہوئی غلام نہیں ہوں ۔۔۔۔جس پر آپ راب جمائے۔۔۔۔جسے آنکھیں دکھائے ۔۔۔۔ اور جب میں کوئی سوال کروں تو جواب تک دینے کی زحمت نہ کریں۔۔۔۔۔”
وہ اُس کے ٹھنڈے رسپانس پر جھنجھلا کر رہ گئی اُس کی بات کے مخالف جانے کی ضد میں بجائے چھوڑنے کے اُس کی شرٹ کو جھٹکے سے کھینچ لیا کے وہ بے ساختہ۔۔۔بے ارادہ اُس کی جانب تھوڑا جھک آیا۔۔۔۔۔۔۔اور تب نور کو اُس کے چہرے پر غصّہ نظر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں کے درمیان میں موجود فاصلے کی کمی کا احساسِ ہوا۔۔۔۔
دھڑکنیں پل بھر کو سست ہو گئی۔۔۔اور وہ جو کب سے ڈٹ کر اُس کی آنکھوں میں دیکھ رہی تھی نظریں جھکا کر پیچھے ہٹ گئی۔۔۔
شہیر نے گریبان میں پڑی سلوٹیں درست کرتے ہوئے سنجیدگی سے اُسے دیکھا۔۔۔۔جو مانو برس کر ساری ختم ہوگئی تھی اور اب آسمان صاف تھا۔۔۔۔۔۔مگر نہیں ابھی بہت ابر باقی تھا۔۔۔۔
لائٹ یلو کلر کی سلک کی ساڑھی جس کی بارڈر لائن اور بلاؤز ہاٹ پنک کلر کا تھا۔۔۔۔۔ایک ہاتھ پلّو سے مکمل چھپا ہوا تھا۔۔۔۔۔گلے میں گولڈ کی باریک چین اور کانوں میں گولڈ کے ہی نازک جھمکے تھے۔۔۔سفید کلائیوں میں بھر بھر کر یلو گولڈن اور پنک چوڑیاں ڈالی ہوئی تھی۔۔۔۔جو سادگی میں خوبصورت تھی اُس کا بدلہ روپ تو قابلِ توجہ ہونا ہی تھا۔۔۔۔
تبھی وہ بھی اُس کی جانب بلا ارادہ ہی متوجہ تھا۔۔۔
اور جب نور نے نظریں اٹھا کر اُس کی طرف دیکھا تو کوفت زدہ انداز میں نظریں پھیر لیں دوبارہ آئینے کی سمت رخ کرکےکف کے کھلے بٹن بند کرنے لگا ۔۔۔
” جانتی ہوں کہ ۔۔۔۔میں بد قسمتی سے آپ کی بیوی بنا دی گئی تھی۔۔۔۔۔لیکِن آپ نے مجھ پر میری حیثیت واضح کرنے میں بلکل بھی وقت نہیں لگایا۔۔۔
بہت اچھا کیا کیوں کہ مجھے بھی ذبردستی کسی پر مسلط رہنے کا کوئی شوق نہیں ہے۔۔۔۔۔میں بھی آپ کی شکل نہیں دیکھنا چاہتی۔۔۔۔آپ کا نام بھی نہیں سننا چاہتی۔۔۔۔۔اور مجھے معلوم ہے آپ بھی یہی چاہتےہیں۔۔پھر کیوں آپ یہاں کھڑے ہے میرے سامنے۔۔۔۔چلے کیوں نہیں جاتے یہاں سے۔۔۔۔۔میرا پیچھا کیوں نہیں چھوڑتے۔۔۔۔۔اور کتنا پریشان کریں گے مجھے۔۔۔۔”
وہ آئینے میں اُس کے عکس کو دیکھتی دوبارہ بولی مگر پہلے کی طرح بپھر کر نہیں بلکہ سخت بے بسی اور غصے سے۔ ضبط کے مارے دانت بھینچے۔ ۔۔اور جواب میں وہی دل چیرتی خاموشی ۔۔۔
وہی بے رخی ۔۔۔۔۔
٫نہیں دیں گے نہ آپ جواب۔۔۔۔۔اب بھی کچھ نہیں بولیں گے نہ ۔۔۔۔”
اُس نے تاسف سے بھینچے لہجے میں پوچھا۔۔۔اور عاجزی سے سوچا کے کوئی اس قدر ڈھیٹ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔کیوں کہ میں ضروری نہیں سمجھتا۔۔۔”
شہیر نے اُسے مکمل نظر انداز کیے کلائی میں گھڑی باندھتے۔۔۔۔۔بنا اُس کی جانب دیکھے لا پرواہی سے جواب دیا ۔۔۔
“تو پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔اب میں اپنے تمام سوالوں کا جواب آپکی مام سے لوں گی۔۔۔۔۔اب وہی مجھے سچ بتائیں گی ۔۔۔۔”
اُس نے غصے سے حل بتا کر اپنے موبائل کو وہاں تلاشنا چاہا لیکن یاد آیا کہ اُس کا موبائل شاید نیچے ہے ۔۔تب اسٹڈی ٹیبل پر پڑے اُس کے موبائل کی جانب بڑھی۔۔۔۔
لیکن شہیر نے اُس کا ارادہ بھانپ کر ایک قدم آگے بڑھتے ہی اُس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر پیچھے کھینچ لیا۔۔۔۔۔وہ از خود اُس کے کندھے سے آ لگی۔۔۔
دھڑکنیں ایکدم سے ڈوب گئیں۔۔۔۔
اور سانسوں کا تسلسل رکا۔۔۔
مارے صدمے کے۔۔ ساکت نظریں آئینے میں اُس کے عکس پر آ رکی۔۔۔۔۔۔جو خود بھی آئینے میں ہی اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“تم ایسا نہیں کروگی ۔۔۔۔۔۔”
اُس کے گھنے بالوں سے ڈھکے کان میں سرگوشی نما آواز روح بے چین کردینے والے انداز میں اتری ۔۔۔اُس نے نظریں اُس کے عکس سے ہٹا کر منہ سے سانس لی اور اپنے رکے سسٹم کو بحال کرنا چاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
“چھوڑیئے مجھے۔۔۔۔۔۔”
بہت بے دم۔۔۔بے جان ۔۔۔بے ترتیب آواز میں بولی ۔۔۔دل جیسے جگہ سے بھٹک کر کہیں اور دھڑک رہا تھا۔۔۔۔
اُس جگہ جہاں اُس کی پشت شہیر کے سینے سے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔
یا وہاں جہاں شہیر نے ہتھیلی رکھے اُسے خود سے لگایا ہوا تھا۔۔
مگر نور کے بولنے پر اُسے بھی اپنی غلطی محسوس ہوئی تھی اور وہ بنا تاخیر کے اپنا ہاتھ ہٹا چکا تھا اور نور نے دور ہونے میں بس لمحے کا ہزارواں حصہ لگایا تھا۔۔۔۔
وہ اُس پر امڑتا غصّہ زمین کو گھور کر نکالتی درمیان کا فاصلھ بڑھاتی گئی اور شہیر پر سوچ نظروں سے اُسے دیکھنے لگا جو جان کر یا انجانے میں اُس کی نظریں اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
نور نے فون کرنے کا ارادہ ترک کیا اور غضب ناک نظریں اٹھا کر اُسے دیکھتے ہوئے۔۔۔۔ آخری دھمکی دی۔۔۔۔
“میں آپ سے آخری بار کہہ رہی ہوں۔۔۔۔۔
اب آپ یہ اچھے بننے کا ناٹک نہیں کریں گے
جیسے ہی دعوت ختم ہوگی۔۔۔آپ خود سب کو بتائیں گے کہ میں یہاں اپنی ضد یا شوق سے نہیں آئی ہوں ۔۔۔۔بلکہ آپ کو میری ضرورت نہیں تھی اس لیے مجھے ایسا کرنا پڑا ۔۔۔۔۔۔”
سجایا سجایا روپ اور اُس پر یہ غصّہ کسی جوالا مکھی سے کم نہیں تھا۔۔۔۔جتنا دیدہ دوز اتنا ہی خطرناک ۔۔۔
وہ شعلہ فشاں بن کر درشت لہجے میں اُسے جتا تی دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی جب۔۔۔۔
“سنو ۔۔۔۔۔۔”
شہیر نے اُسے پکارا۔۔۔ نور نے ضبط بھرے انداز میں اُس کی طرف پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔وہ وہیں آئینے کی طرف رخ کیے کھڑا نور کے عکس سے مخاطب تھا ۔۔
“تم ہمیشہ ایسے قیامت بن کر ہی کیوں لڑنے آتی ہو ۔۔۔۔”
اُس نے سر تا پیر اُس کے عکس کو دیکھ کر اتنی سنجیدگی سے کہا کہ نور کی تیز تیز چلتی سانسیں پل بھر کو تھم گئی ۔۔۔مگر اگلے ہی لمحے اُس کی بے تکی بات اور بے نیاز انداز پر وہ پوری جان سے سلگ اٹھی کہ وہ انسان کتنا شانت کتنا لا تعلق تھا اُس کی جانب سے ۔۔۔۔اُس کے غصے کا کوئی مول اس کی بات کی کوئی قدر ہی نہیں تھی اُس کے نزدیک۔۔
وہ اُسے نفرت بھری نگاہوں سے دیکھ کے روم سے باہر نکل آئی مگر اُس کے آخری جملے کی بازگشت دیر تک کانوں میں گونجی رہی اور وہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی کے شہیر نے سوال کیا تھا یا پھر طنز۔۔۔۔۔