محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 10 حصہ 3

شہیر نے اوپر ٹیرس پر آکر اُس کا ہاتھ چھوڑا اور کھلی فضا میں گہری سانس لےکر اپنا سکون بحال کرنا چاہا ۔۔۔
غصے کے باعث ماتھے کی رگیں ابھی تک تنی ہوئی تھی۔۔۔۔۔سانسیں کچھ تیز تھیں۔۔۔۔۔کپڑے شکن آلود تھے۔۔۔۔۔چہرے پر پسینے کی نمی تھی اور نم بال ماتھے سے چپکے ہوۓ تھے ۔۔۔۔
نور کو ڈر تھا کہ وہ اُسے اب خوب سنائے گا مگر اگلے کچھ سیکنڈ اُس کی خاموشی پر اطمینان ہوا اور یہ بھی اندازہ ہوا کہ وہ اُسے اپنے ساتھ اسلئے لایا تھا کہ پھر اُس کی غیر موجودگی میں پھپھو یا انس اُس پر غصّہ نہ نکالے ۔۔۔۔۔
حالانکہ اب بھی اُس کے تاثرات اندرونی اشتعال اور ضبط کے گواہ تھے۔۔۔۔مگر وہ غصّہ۔۔۔وہ اشتعال ۔۔۔۔۔وہ سختی اُس کے لیے نہیں بلکہ اُس کی خاطر تھی ۔۔۔۔
اور یہ احساس۔۔۔۔نور کے شکستہ دل کے لئے کس قدر پُر زور تھا یہ صرف وہی جانتی تھی ۔۔۔
۔دماغ اُسی ایک جملے کے زیرِسحر تھا۔۔۔
وہ خود سے بے اختیار حقیقت سے بےنیاز۔۔۔۔بس اُسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔شاید پہلی دفعہ اُسے اتنے قریب سے اتنے غور سے اتنے دل سے دیکھ رہی تھی جیسے اس کی صورت آج کے آج ہی حفظ کرنا ضروری ہو۔۔۔
دونوں کے درمیان ہمیشہ سی خموشی ضرور حائل تھی مگر آج نور کے دل میں بے تحاشا شور تھا ۔۔۔۔بے حد ہنگامے تھے ۔۔۔
حالانکہ وہ دل کو اُس کی جانب بڑھنے سے روک رہی تھی کہ نہیں ۔۔۔۔اس طرف نہیں۔۔۔۔۔اس انسان کی جانب نہیں۔۔۔۔اس سراب کی چاہ میں نہیں۔۔۔۔مگر دل جیسے ہاتھ آنے کو راضی ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔بس چلا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
“آپ کو اتنا غصّہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔۔”
اُس نے اپنی دھوپ چھاؤں سی کیفیت سے نکلنے کی کوشش کرتے جھجھکتے ہوئے اُسے مخاطب کیا مگر نظریں مسلسل اُس کے چہرے پر ٹکی ہوئیں تھی۔۔دھڑکنیں ایک سر میں بول رہی تھی۔۔۔
“چپ ۔۔۔۔”
وہ ایکدم سے اُس کی طرف پلٹ کے غصے سے بولا۔۔۔۔تو وہ اس اچانک افتاد پر سہم گئی۔۔۔پھر انگلی اُس کے لبوں سے ایک اِنچ دوری پر آکر روکی ہوئی تھی۔۔۔
“جب تم سے کہا تھا کہ اُنہیں معافی مانگنے کے لیے بولو ۔۔۔۔تب تم نے منہ نہیں کھولا نہ۔۔۔۔تو اب میرے سامنے بھی منہ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔اوکے_”
وہ نہایت خطرناک تیور لیے اُسے گھورتا غصے سے وارن کرنے والے انداز میں بولا۔۔اور پھر منہ موڑ کر سگریٹ نکال کر لبوں میں دبائی ۔۔۔۔۔
_لیکِن میں اُنہیں ایسا کیسے کہہ سکتی تھی۔۔۔۔وہ میری پھوپھو ہے۔۔۔۔”
نور نے بے تاثر لہجے میں کہا دل ہی جانتا تھا کہ اس وقت کیسے ہر بات فضول اور ہر چیز بے گانی لگ رہی تھی ۔۔اور وہ اور اُس کا یہ غصّہ کتنا اپنا لگ رہا تھا۔۔۔۔
“_چاہے جو بھی ہو ۔۔۔۔اس کا یہ مطلب نہیں کے اُسے تم پر چلانے کا یا تم پر ہاتھ اٹھانے کا رائٹ مل گیا۔۔۔
۔۔کسی کو بھی کوئی حق نہیں ہے کہ تمہیں ڈس رسپیکٹ کرے ۔۔۔۔”
وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنی رو میں بول رہا تھا کہ نور کے خود کو دیکھنے کے بدلے انداز پر غور کر کے سنبھلا۔۔۔۔۔
“مطلب کسی بھی لڑکی کو ڈس ریسپکٹ کرے ۔۔۔۔۔”
اپنی بات کی درستگی کی اور نظروں کا رخ بدل کر سگریٹ کا کش لگایا ۔۔۔۔
نور کی نظریں دھواں دھواں ہو گئیں۔۔۔۔۔جیسے پھر ہر صاف منظر بوجھل ہوگیا۔۔۔۔جیسے پھر وہ غیر ہوگیا۔۔۔ وہ اپنے چند پل کے خوش فہم خیالوں پر خود پر ہی افسوس کرکے رہ گئی۔۔۔۔
اور تلخ سا مسکرائی۔۔۔۔۔
“پھر بھی آپکو میری وجہ سے اُس سے نہیں الجھنا چاہئے تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اچھا انسان نہیں ہے۔۔۔۔اور اب مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں وہ آپ سے بدلہ لینے کے لیے آپکو پریشان نا کریں۔۔۔۔۔”
چند لمحے میں اپنی بکھری حالت کو سمیٹا اور ہر احساس سے خالی ہو کر فکرمندی سے بولی ۔۔۔۔
“وہ میرے سامنے تو آئے تب۔۔۔۔۔”
شہیر ضبط سے دانت بھینچے بولتے بولتے رک کر اُسے دیکھنے لگا جو ماتھے پر بل لیے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔اس کے تیور اور ارادوں پر حیران تھی کہ اتنی بری حالت کرنے کے بعد بھی اُس کو تسلی نہیں تھی جو وہ اب بھی بھرا ہوا تھا ۔۔۔
“آپ کو واپس گھر جانا چاہیے ۔۔۔۔سمجھ نہیں آرہا آپ کیوں اب تک یہاں رکےہے۔۔۔۔۔”۔
وہ پریشانی سے بولی اور اس دفعہ اپنی خاطر نہیں بلکہ اُس کا یہ غصّہ دیکھ کر کے مزید کوئی مصیبت نہ کھڑی کردے۔۔۔۔۔حالانکہ جانتی تھی وہ پھر جواب نہیں دیگا تبھی جھنجھلا کر بڑبڑا ئی ۔۔مگر۔۔۔۔۔
“_کیوں کہ میں اکیلے نہیں جانا چاہتا۔۔۔”
اُس نے اس بار جواب دیا۔۔۔۔۔بنا اُس کی جانب دیکھے ۔۔۔۔ہمیشہ سے ٹھہرے لہجے میں۔۔۔۔۔۔یوں کے نور کی دھڑکنیں پھر زیر و زبر ہوگئیں ۔۔۔اُس نے توقف سے نظریں نور کی طرف اٹھائی۔۔۔۔جب کے وہ ساکت سی کھڑی اپنے کانوں پر یقین کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
“میں تم سے کوئی موقع نہیں مانگ رہا ہوں۔۔۔۔
کیوں کہ موقع تو تب مانگا جا سکتا ہے جب ہمیں اُمید ہو کہ ہم کوشش کر سکتے ہیں۔۔۔۔۔مگر میرے لیے یہ نا ممکن ہے ۔۔۔۔میں نے اس رشتے کو و مقام دیا ہوا ہے کہ اب میں چاہ کر بھی تمہارے ساتھ انصاف نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔”
وہ اُسے دیکھتے ہوئے دھیمے تھکے لہجے میں بولا ۔۔۔۔نور کے دل میں اٹھنے آنے والا درد آنسوؤں کی صورت آنکھوں میں بھرنے لگا مگر اُس نے بھی ضبط نہیں ٹوٹنے دیا اُنہیں روک کر رکھا۔۔۔۔۔
“میں بس اپنے لیے یہ فيور چاہتا ہوں کہ تم میرے ساتھ واپس چلو کیوں کہ ۔۔۔۔۔۔”
کیوں کہ ۔۔۔۔۔۔
وہ بول ہی رہا تھا اور نور کے دل کی صدا بے اختیار لبوں پر آگئی تھی۔۔۔۔کے شاید اُس وجہ میں کہیں اُس کا ذکر شامل ہو۔۔۔۔۔
اور آج اس وقت دل جس راہ پر چل رہا تھا اگر وہ اتنا بھی کہہ دیتا کہ میں چاہتا ہوں تم مجھے تھوڑا وقت دو ۔۔۔
یا میں چاہتا ہوں تم میری وہ بات بھول جاؤ جس نے تمہارا دل دکھایا۔۔۔۔۔۔
یا میں چاہتا ہوں بھلے تم مجھے معاف نہ کرو مگر میرے ساتھ واپس چلو ۔۔۔۔کیوں کہ میری زندگی میں تمہاری ضرورت ہے۔۔۔۔۔
تو آج نور انکار نہیں کرتی ۔۔۔۔۔اُس کے ساتھ چل دیتی بھلے پھر ساری زندگی اُسے اپنی ادھُوری حیثیت کی تکمیل کا انتظار کرنا پڑتا ۔۔۔۔
“میں اپنی ماں کو اور تکلیف نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔”
مگر وہ بھی بے حسی میں اپنی مثال آپ تھا۔۔۔۔۔
اُس وجہ میں اُس کی اپنی مرضی یا چاہت کا کوئی دخل نہیں بس اور بس مجبوری تھی۔۔۔۔
“مجھ میں اکیلے واپس جانے کی ہمت نہیں ہے کیوں کے میں جیسے اُنہیں چھوڑ کر آیا ہوں واپس جا کر ویسے ہی نہیں دیکھنا چاہتا۔۔۔۔۔۔”
اُس نے اپنی مشکل بیان کی۔۔۔۔۔نور کے رکے آنسو بے ربط ہوگئے تو اُس نے نظریں جھکا کر اُس کے جوتوں پرجمادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔دل بوجھل ہوگیا۔۔۔۔۔
شہیر نے شدت سے اُس کے درد کو محسوس کرکے خود پر افسوس کیا۔ ۔۔۔۔
“میں نے تم سے شادی بھی صرف اسلئے کی تھی کیوں کے مجھ سے اپنے گھروالوں کی شکایتوں کا بوجھ نہیں اٹھایا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔ورنہ میرا دل کبھی اس حق میں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔اور اب دوبارہ میں اسی کٹگھر ے میں نہیں کھڑا ہونا چاہتا ۔۔۔اسلئے ۔۔۔۔۔”
اُس نے بات ادھُوری چھوڑ دی ۔۔۔۔۔
وہ جان بوجھ کر اُس پر واضح کر رہا تھا یا اپنی صفائی پیش کر رہا تھا مگر نور روتے روتے مسکرانے لگی تھی کہ ابھی تو وہ نیچے ہوئے کرشمے پر ڈھنگ سے خوش بھی نہیں ہو پائی تھی اور خواب ٹوٹ بھی گیا۔۔۔۔۔کتنی سی عمر تھی اُس خواب کی۔۔۔
“اور اس کے بدلے میں تمہارے لیے کچھ بھی کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔تم جو مانگو دے سکتا ہوں ۔۔۔تم جو کہو کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔کوئی بھی قیمت ادا کر سکتا ہوں۔۔۔۔”
شہیر نے اپنی بات اُس کے سامنے ایک سودے کی صورت رکھی تو نور نے ہتھیلی سے گال رگڑ کر آنسو جذب کرتے ہوئے نظریں اٹھائیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔اُس لمحے اُسکی چوڑیوں نے خوبصورت ارتعاش پیدا کیا کہ شہیر کی نگاہیں بے ارادہ کلائی پر گئی۔۔۔۔۔
پھر چہرے پر آتے بالوں پر اور پھر بھیگی آنکھوں پر ۔۔۔۔
“وعدہ ۔۔۔۔۔”
اُس نے شہیر کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ اُس کی پہل پر چونکا بھی اور خوش بھی ہوا۔۔۔۔
“میرے الفاظ ہی میرا وعدہ ہے۔۔۔۔”
اُس نے یقین دلایا ۔۔۔اور اُس کی بات کا انتظار کرنے لگا ۔۔
“آپ یہ تو مانتے ہے نہ کہ آپ کو مجھے اس رشتے میں باندھنے سے پہلے اپنے خیالات کا اظہار کرلینا چاہئے تھا ۔۔۔”
نور کا لہجہ اور دل ہر احساس سے خالی تھا۔۔۔
“مجھے اس بات کا ہمیشہ افسوس رہیگا ۔۔۔۔۔۔”
اُس نے اقرار کیا
“تو کیا آپ ابھی۔۔۔۔۔۔میرے ساتھ نیچے چل کر سب کے سامنے۔۔۔۔میرے پیروں میں جھک کے مجھ سے معافی مانگ سکتے ہیں۔۔۔۔”
نور نے ایک ایک لفظ پر زور دے کے کہا تاکہ اُسے سمجھنے میں مشکل پیش نہ آئے ۔۔۔
شہیر کے تاثرات پہلے حیرت پھر غصے اور پھر ضبط میں بدلے ۔۔۔دونوں آئبرو کے درمیان شکن پڑی۔۔۔لب سختی سے آپس میں جڑے ۔۔۔
“نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔کوئی مرد نہیں کر سکتا۔۔۔۔کیونکہ ایسا کرنے کے لیے اُسے اپنی عزتِ نفس کو قربان کرنا ہوگا۔۔۔۔۔جس کی ضمیر کبھی اجازت نہیں دیتا۔۔۔۔”
نور نے اُس کی آتش زدہ خاموشی کو دیکھ جتا کر کہا ۔۔۔۔
“اور آپ مجھ سے چاہتے ہے کہ میں ہر روز یہ قربانی دوں۔۔۔۔۔۔ہر صبح جاگوں تو خود کو اُس جگہ پاؤں جہاں میری کوئی ضرورت ہی نہیں ہے ۔۔۔۔۔ہر روز اپنے ضمیر کو مار کے جیو۔۔۔۔۔”
اُس نے پہلی دفعہ غصے سے پوچھا تو شہیر کو بھی مزید غصّہ آیا کے وہ کونسا اُس کے ساتھ ذبردستی کر رہا تھا بلکہ اپنے مزاج کے برعکس اتنی نرمی سے ریکویسٹ کر رہا تھا…اپنی غلطی مان رہا تھا۔۔۔۔اپنی بے بسی بیان کر رہا تھا۔۔۔۔۔بجائے جھوٹ یہ دھوکہ کے صاف گوئی سے کام لے رہا تھا۔۔۔۔اور بدلے میں وہ اس طرح کی فضول مثال دے کر اُسے سنا رہی تھی۔۔۔
“اب آپ بتائیے ۔۔۔۔۔کیا یہ سودا فائدہ مند ہے۔۔۔۔۔۔”
“میں تمہیں فورس نہیں کر رہا ہوں ۔۔۔۔فیصلے کا اختیار تمہارے پاس ہے اور اگر تم نہیں چاہتی تو مجھے منظور ہے۔۔۔۔مجھے کوئی شوق نہیں آرگومنٹ کرنے کا۔۔۔۔کل میں یہاں سے چلا جاؤں گا۔۔۔۔آل رائٹ”
وہ بول ہی رہی کہ خود قریب ہو کر ایکدم سے بول پڑا۔۔جھنجھلائے طیش زدہ درشت لہجے میں کے ایک پل کو وہ گھبرا کر سہم گئی جب کے وہ اپنی بات کہہ کر اندر چلا گیا اور نور اُس کی پشت کو دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔اور جب وہ بند دروازے کے پیچھے غائب ہوا تو با آواز روتے ہوئے وہیں نیچے بیٹھ گئی ۔۔۔
“وہ میرے حال دل سے اس قدر بھی بے خبر ہوگا
خبر کیا تھی کہ یوں بے حس وہ میرا ہم سفر ہوگا”
“کہ ہم تو عمر بھر لڑنے کی خواہش لے کے آئے تھے
خبر کیا تھی کہ وقت فیصلہ یوں مختصر ہوگا”
“چراغ غم جلایا تھا اجالوں کی امیدوں میں
خبر کیا تھی مری کوشش کا الٹا ہی اثر ہوگا”
“دبے شعلوں کو بھڑکایا کہ ان کا آشیاں سلگے
خبر کیا تھی جلے گا جو مرا اپنا ہی گھر ہوگا”
“وہ جب رخصت ہوا اس کو پکارا بھی نہیں ہم نے
خبر کیا تھی کی پچھتاوا ہمیں پھر عمر بھر ہوگا”
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial