محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 11 حصہ 2

“اپنی ماں کو غلط مت سمجھنا۔۔۔۔۔۔۔
میں صرف تیرا اچھا سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔”
“کاش کے آپ میرا برا ہی سوچ لیتی۔۔۔۔۔۔”
“دیکھنا زندگی میں ایک دن آئیگا جب تجھے احساس ہوگا کے میری بات کتنی صحیح تھی اور اُس دِن تو خود مجھ سے کہے گی کے امی واقعی آپ نے مجھے غلطی کرنے سے روک کر بہت اچھا کیا تھا۔۔۔۔۔”
“ہو سکتا ہے امی—- مگر یہ حقیقت کبھی نہیں بدلے گی نہ… کے جب مجھے ضرورت تھی تب میرے اپنوں نے میرا ساتھ نہیں دیا۔۔۔۔۔۔”
مگرمیں اس چیز کو پوزیٹو ہی لوں گی امی۔۔۔۔۔اچھا ہوا جو آپ نے مجھ پر واضح کر دیاکہ صورتِ حال کوئی بھی ہو میرے پاس یہاں واپس آنے کا آپشن نہیں ہے۔۔۔۔۔آج کے بعد کوئی بھی فیصلہ لینے میں مجھے زیادہ دقت نہیں ہوگی ۔۔”۔
دورانِ سفر گھر سے الوداع لیتے وقت اپنی ماں سے ہوئی گفتگو اُس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔۔اُس وقت اُس نے بہت بے حس بن کر کر اُنہیں شرمندہ کیا تھا۔۔۔مگر اب وہ اپنے آنسُو روک نہیں پا رہی تھی کیوں کے اُسے یقین تھا اُس کے جانے کے بعد اس کی ماں بھی بہت روئی ہوگی ۔۔۔۔
اپنے ہی رویے پر خود کو ملامت کی ہوگی۔۔۔۔
اُس کا دل دکھا کر خود بھی پر سکون نہیں ہوں گی ۔۔۔۔اور اُس نے بھی تو کوئی لحاظ نہیں رکھا تھا۔۔۔۔جاتے جاتے بھی اُنہیں دکھ دے کر آئی تھی ۔۔۔۔شرمسار کرکے آئی تھی۔۔۔۔۔
کیوں کے جب غیر چوٹ پہنچائے تو برا لگتا ہے غصّہ آتا ہے مگر اپنوں سے ملی چوٹ دل توڑ دیتی ہے ۔۔تبھی شکوے زبان پر آگئے تھے ۔۔۔۔
مگر اب وہ اپنی ہی باتوں پر پچھتاتی شہیر سے منہ پھیر کر کھڑکی کی جانب رخ کیے بیٹھی کب سے رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔۔اور وہ سخت متذبذب تھا ۔۔۔۔اُس کی مدھم مدھم سسکیاں اور اپنے قدموں میں پڑے ڈھیروں ٹشو پیپر کو دیکھ دیکھ کر بے چین اور بیزار سا ہوگیا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کچھ کچھ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ ابھی اپنی نئی نئی دلہن کو رخصت کرکے لایا ہے جو بدائی کے رنج میں رویے جا رہی ہے ۔۔
Are you ok۔۔۔۔۔۔
اور بلآخر اُس کی برداشت ختم ہوئی تو نرمی سے پوچھ بیٹھا۔۔۔مگر نور نے بھی بڑی بے دردی سے نظر انداز کردیا اور اپنے کام کو جاری رکھا ۔۔۔۔سوں سوں تھوڑی اور تیز ہو گئی۔۔۔۔۔
شہیر نے جھنجھلا کر اُسے دیکھا ۔۔۔
“کیا پرابلم ہے “
مگر پھر بھی اپنے لہجے کو حتیٰ الامکان دھیما رکھتے پوچھا۔۔۔۔اور نور نے ایکدم سے پلٹ کر اُسے غصے سے گھورا۔۔۔۔
“آپ کو اس سے مطلب۔۔۔۔۔۔۔مجھے میرے حال پر چھوڑ دیجئے مہربانی کرکے۔۔۔۔اور جا کر اپنا کام کیجئے “
وہ آگ بگولا ہوگئی ۔۔۔جگہ کا خیال کرکے دھیمی آواز میں مگر طیش سے بولی تو شہیر کے تاثرات بدل کر سرد ہوئے۔۔۔۔۔
“اپنی ٹون کنٹرول میں کرو۔۔۔۔۔میں ذبردستی پکڑ کر نہیں لایا تم کو ۔۔۔۔۔تمہارا اپنا ڈیسیجن ہے یہ۔۔۔۔۔اور چاہو تو ابھی واپس چلی جاؤ۔۔۔۔۔آۓ ڈونٹ کئیر ۔۔۔۔مگر میرے ساتھ اس طرح بات مت کرنا۔۔۔۔۔۔”
وہ بظاھر دھیمے سپاٹ لہجے میں بولا مگر انداز کیسا آتش آمیز تھا کے نور کو شدت سے اپنی بے اختیاری کا احساس ہوا ۔۔۔۔اور اپنی بے بسی پر دِل مزید بھر آیا۔۔۔۔
“میرا کونسا خود پر اتنا حق ہے کے اپنے لیئے کوئی ڈسیجن لے سکوں ۔۔۔۔ اختیار ہے تو بس اتنا کہ میں اپنی مرضی سے رو سکتی ہوں بس۔۔۔مجھے وہ تو کرنے دیجئے۔۔۔۔۔۔”
تھکے تھکے انداز میں کہتی ٹشو سے آنسو رگڑنے لگی تو وہ لا پرواہی سے نظروں کا رخ موڑ گیا۔۔۔۔۔
****
****
بنا خبر دیے دونوں کا اچانک اور سب سے بڑھ کر ایک ساتھ واپس آنا تمام گھر والوں کے لیے کسی شاک سے کم نہیں تھا۔۔۔۔دو دن سے جو ہوکا عالم تھا اب مانو بہار میں بدل گیا تھا۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم خوشی کے مارے آنسو نہیں روک پا رہیں تھی ۔۔۔شہیر کے گلے لگ کر بہت روئی تھی۔۔۔
حقیقت میں کچھ نہیں بدلا تھا مگر گھر والوں کی نظر میں اب اُن کا رشتہ الگ تھا اور بند کمرے میں الگ۔۔۔۔۔اب رنجشیں سب سے مخفی تھی اور لا تعلقی ایک راز ۔۔۔
اصل مجبوری تھی اور جو ظاہر تھا وہ بس ایک جھوٹ تھا۔۔۔جسے دونوں نے بخوبی نبھایا تھا۔۔۔۔۔
مگر اپنے جھوٹ کو استوار رکھنے کی غرض سے جب دونوں نے بہت محنت اور ذبردستی سے مسکرا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا اُس لمحے رئیسہ بیگم نے جیسے وہ بناوٹی کوشش پکڑ لی تھی ۔۔۔۔
اُنہیں محسوس ہوا تھا کے بات اتنی بڑی نہیں جتنی وہ خوشی منا رہیں ہے۔۔۔۔مگر فلہال کے لیے اپنے احساس کو درگزر کرکے جو دکھ رہا تھا اُسے ہی حقیقت ماننے کی کوشش میں لگی تھی۔۔۔۔
“یہ یہاں کے ٹاپ کالجز کی لسٹ ہے اور سب پندرہ کلومیڑ کی رینج میں ہے تم دیکھ لو اور سیلیکٹ کرلو کل وہاں جا کر ایڈمشن کرلیں گے ۔۔۔۔”
وہ سونے کے لیے اسٹڈی روم کے دروازے کی طرف بڑھی ہی تھی کے شہیر کی آواز پر رک کر پلٹی تو وہ ٹیب اُس کی طرف بڑھا کر کھڑا تھا۔۔۔۔۔
اپنے وعدے کی مطابق اُس کی مانگ پوری کر رہا تھا ۔۔
آپ کو جو صحیح لگے وہ دیکھ لیجئے۔۔۔۔مجھے سمجھ نہیں آئے گا۔۔۔۔۔
نور نے ذرا رک کر بالوں کو کان کے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔شہیر نے ایک نظر اُس کی جانب دیکھا اور اُسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کرکے خود بھی ذرا فاصلھ رکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
یقیناً وہ پہلے ہی اُس لسٹ میں سے ایک آپشن چن چکا تھا۔۔۔تبھی اُس کالج کی ویبسائٹ اوپن کرکے اپلائی کر رہا تھا۔۔۔
” تمہارا پورا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔’
مصروف سے انداز میں پوچھا تو نور سکرین سے نظریں ہٹا کر ضبط سے اُسے دیکھنے لگی کے کتنا عظیم انسان ہےجو شادی کے تین مہینے بعد تک اپنی بیوی کے نام سے بے خبر تھا۔۔۔۔
“_یہاں نام فل کرنا ہے۔۔۔۔”
وہ اُس کی نظریں خود پر پا کر اپنی اس عظمت کا احساس کرکے صفائی پیش کرنے لگا۔۔۔
“میں خود کرلیتی ہوں۔۔۔۔۔یہاں اور بھی بہت کچھ بتانا ہوگا ۔۔۔۔جو یقیناً آپ نہیں جانتے ہوں گے۔۔۔۔۔اسلئے بار بار پوچھنے کی زحمت اٹھانے سے اچھا۔۔۔ مجھے دے دیجئے ۔۔۔۔”
اُس نے بظاھر نارمل مگر جتاتے انداز میں کہا ۔۔۔طنز تلخئ سب تھا کے شہیر نے ابرو اٹھا کر اُسے دیکھا ۔۔۔۔۔
“پورا نام کیا ہے ۔۔۔۔۔۔”
اور بجائے کوئی جواب دینے کے اپنی بات کو سختی سے دوہرایا جس کا مطلب تھا کے نور کی بکوآس کا سامنے کوئی اثر نہیں۔۔۔۔
“ماہ نور حیدر”
نور نے غصے سے نظریں پھیر کر جواب دیا ۔۔۔۔
“ماہ نور شہیر “
اُس نے با آواز اُس کے جواب کی درستگی کرتے ہوئے ٹائپ کیا ۔۔۔نور نے گھور کر اُسے دیکھا۔۔۔جیسے کتنا کی فریفتہ مزاج شوہر ہو ۔ ۔ ۔جو نام سے تو نا واقف تھا مگر اپنا نام اُس کے آگے لازمی سمجھتا تھا۔۔۔۔
وہ صرف افسوس ہی کر سکتی تھی۔۔۔۔اور اُس کی اُمید کے مطابق شہیر نے ایک ایک سوال اُس سے پوچھ کر لکھا۔۔۔۔سوائے کچھ اضافی سوالوں کے۔۔۔۔۔
اور وہ جب خود سے جواب دے رہا تھا تب اُس کی نظر بلیک اسکرین میں پڑتے نور کے عکس پر بھٹکی جس میں وہ سنجیدگی سے سکرین کی طرف متوجہ تھی اور بے دھیانی میں نچلے لب کو دانتوں میں جکڑ رکھا تھا۔ ۔۔شہیر نے نظریں ہٹا کر نظر انداز کرنے کی کوشش کی مگر اُسے سخت الجھن محسوس ہوئی کے جواب بھی لکھنا نہیں سوجھا۔۔۔۔۔
نور نا سمجھی سے اُسے اور سکرین دونوں کو دیکھ رہی تھی کہ اتنے آسان سوال کا جواب وہ کیوں بیچ میں چھوڑ کر رکا ہوا ہے ۔۔۔جب کے وہ عجیب کش مکش میں تھا۔۔۔۔۔نظر انداز کرنے کو کوشش ناکام تھی۔۔۔۔ نازک ہونٹوں پر اتنا ظلم اُس سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اور وہ اپنے ان خیالات کا اظہار بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
“یہ لو خود ہی کرو آگے۔۔۔۔”
جھنجھلا کر ٹیب اُس کی طرف بڑھایا تو وہ گڑبڑا کر اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔اُسے اچانک اتنے بیزار اور پریشان روپ میں دیکھ کر حیرت زدہ بھی ہوئی۔۔۔۔
“لیکِن ابھی تو آپ نے کہا کہ آپ کو کرنا ہے ۔۔۔۔۔”
وہ نہ سمجھی کے عالم میں پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔
“ایسا کہا میں نے ۔۔۔۔ اچھا ٹھیک ہے۔۔۔۔”
شہیر نے نہ محسوس انداز میں اُس کے لبوں کو دیکھا اور سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔اور پھر نارمل ہو کر دوبارہ اس کام میں لگ گیا جب کے نور اُسے سمجھنے کی کوشش میں دماغ پر زور دے دے کر ہار گئی۔۔۔
********
دونوں کالج جانے کے لئے تیار ہو کر ۔۔۔۔۔شاید پہلی دفعہ ہی ایک ساتھ روم سے باہر آئے تھے۔۔۔۔اور دونوں کو ساتھ دیکھ کر رئیسہ بیگم نے دل سے دعا کی کہ کاش اُن کے خدشے اُن کی غلط فہمی ہی ثابت ہو ۔۔۔۔۔اور واقعی جو نظر آرہا ہے وہ سچ ہو۔۔۔۔
“تم دونوں کہیں باہر جا رہے ہو۔۔۔۔”
اُنہوں نے پیار سے دونوں کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“نور کو اپنی اسٹڈی کنٹینیو کرنی ہے مام۔۔۔۔۔
اسلئے۔۔۔۔۔۔۔ کالج میں ایڈمیشن کی کچھ فارمیلیٹس پوری کرنے جا رہے تھے۔۔۔۔”
شہیر نے ہمیشہ کے سے دھیمے انداز میں جواب دیا تو وہ سوچنے کے انداز میں دونوں کو دیکھنے لگیں اور نور کو گھبراہٹ ہوئی کہ کہیں وہ منع نا کردیں۔۔۔کہ اسے اب پڑھنے پڑھانے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔
“نور پڑھنا چاہتی ہے بہت اچھی بات ہے۔۔۔مگر اس کالج میں ایڈمشن کروانے کاکوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔کیوں کے تم تو یہاں رہتے نہیں ہو۔۔۔۔تم نے تو واپس جانا ہی ہے۔۔۔۔اور بے شک نور بھی تمہارے ساتھ ہی جائے گی۔۔۔۔تو بہتر ہے نہ تم وہیں کے کسی کالج میں اُس کا ایڈمشن کرواؤ ۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے سنجیدگی سے کہا تو جہاں وہ اپنا ڈر غلط ثابت ہونے پر پرسکون ہوئی وہیں اُن کی دوسری بات پر دونوں کو ہی ٹینشن ہوئی۔۔۔۔
“مام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
شہیر کوئی بات کوئی جواز دے کر اُنہیں قائل کرے ۔۔۔اُنہوں نے ایسا موقع دیے بنا اُس کی بات کاٹ دی۔۔۔۔
“کوئی بحث نہیں شہیر۔۔۔۔۔۔اگر تم دونوں نے فیصلہ کیا ہے کے تم دونوں اپنے رشتے کو خوش دلی سے نبھانا چاہتے ہو تو بہتر ہے کے ایک دوسرے کو وقت دو ایک دوسرے کا خیال رکھو۔۔۔۔اور اگر تمہیں لگ رہا ہے کہ نور کو یہاں چھوڑ کر مہینہ مہینہ غائب رہنے دوں گی تمہیں تو غلط فہمی ہے تمہاری۔۔۔۔۔اسلئے اپنی بیوی کو اپنے ساتھ لے جاؤ ۔۔خود بھی اکیلے رہ رہ کر دیکھو کیسے ہو گئے ہو۔۔۔۔۔کم سے کم اب تو مجھے اپنی فکر سے آزاد کرو۔۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے کچھ سختی اور سنجیدگی سے واضح کیا تو وہ کچھ ہول نہیں پایا۔۔۔۔خاموشی سے نور کی جانب دیکھا تو اُسے محسوس ہوا جیسے وہ نظروں ہی نظروں میں اُس کی رضا پوچھ رہا ہو تبھی اُس نے نہ
محسوس انداز میں پلکیں جھپکا کر حامی بھردی۔۔۔۔
حالانکہ جب کچھ دن ہی اُس کی موجودگی میں قابلِ ذکر گزرتے تھے تو وہاں صرف اُس کے ساتھ رہنا یقیناََ مشکل تھا ہی مگر ایک آسانی بھی تھی کے جھوٹ بولنے اور ڈراما کرنے سے کچھ وقت بچت رہتی۔۔۔۔۔
جب کے اس خاموشی پر وہ دونوں کو ہی جانچتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کر رہی تھیں ۔۔۔۔
“تم دونوں واقعی ایسا چاہتے ہو نہ ۔۔۔۔۔۔کہیں ہم سب سے کوئی جھوٹ تو نہیں بول رہے۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے بغور دونوں کو دیکھتے ہوئے تشویش زدہ لہجے میں پو چھا۔۔۔۔۔
“ٹھیک ہے مام ۔۔۔۔جیسا آپ کہہ رہی ہے ویسا ہی ہوگا۔۔۔ایڈمشن وہاں کرلیں گے۔۔۔۔”
اُس نے گہری سانس لے کر اُن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ اس کے لیے کسی جبر سے کم نہیں۔۔۔اور اتنا واضح اضطراب دونوں میں سے کون نہ سمجھتا ۔۔۔۔۔
“مجھے یقین تھا میرا بیٹا مجھے مایوس نہیں کریگا۔۔۔
تم دونوں نے ایک نئی شروعات کرنے کا فیصلہ کرکے مجھے اتنی خوشی دی ہے کہ میں بتا نہیں سکتی ۔۔۔۔
میں اپنے مالک سے صبح شام تم دونوں کی خوشیوں کی دعا کرتی رہتی ہوں۔۔۔۔وہ میری اتنی دعائیں رائیگاں کیسے جانے دے سکتا تھا ۔۔۔۔تبھی اپنے کرم سے مجھے یہ دن دکھایا اُس نے ۔۔۔۔۔۔میں بہت خوش ہوں ۔۔”
اُنہوں نے محبت سے مسکرا کر دونوں کو دیکھتے ہوئے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔۔۔۔اور اُن کی یہ بےجا خوشی دونوں کے لیے افسوس کے ایک بھاری بوجھ سے کم نہیں تھی ۔۔۔
“اچھا میں تم دونوں کو یہ بتانے والی تھی کہ میں نے آج رات ناز اور اُس کی فیملی کو ڈنر پر بلایا ہے۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے فضا کی سنجیدگی کو محسوس کرکے خود ہی ٹاپک بدلا۔۔۔۔
,
“, لیکِن۔۔میرا آج نکلنا ضروری تھا ۔۔۔۔۔”
“تم لوگ کل صبح چلے جانا بیٹا ۔۔۔۔اس طرح اچھا نہیں لگتا کے گھر کا بیٹا اور بہو ہی موجود نہ ہو ۔۔۔۔۔ہے نہ۔۔۔۔”
اُس نے تھوڑا پریشان ہو کر کہا تو اُنہوں نے اُسے سمجھایا اور جواب میں اُس نے محض سر ہلا دیا ۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial