قسط 12 حصہ 2
ایک دن درمیان میں اور گزر گیا تھا اور اگلے دن وہ دونوں دہلی جانے کے لیے نکل رہے تھے۔۔۔۔۔گھر میں صبح صبح ہی کافی چہل پہل تھی۔۔۔۔سب ایک ایک کرکے نور کو اُس کے تو کبھی شہیر کے حوالے سے نصیحتیں دے رہے تھے۔۔۔۔اُس کا دل اس حقیقت پر سرشار تھا کے اُس گھر میں شہیر کی جتنی اہمیت ہے اتنی ہی محبت اور قدر اُس کی بھی تھی۔۔۔۔۔
رئیسہ بیگم اور وحیدہ بیگم نے اُسے بھر بھر کر دعاؤں کے ساتھ ڈھیروں کھانے پینے کا سامان بھی پیک کر دیا تھا ۔۔۔۔اُس سے ایک ایک چیز کا پوچھا۔۔۔یاد کر کر کے ضرورت کی چیزیں گنوائی۔۔۔اور جب اُن سب کو پوری طرح سے تسلی ہوگئی تو وہ باہر آئی جہاں شہیر منتظر کھڑا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنے کپڑوں کا ایک بیگ ساتھ لے کر باہر نکلی تو وہ دروازے کے سامنے ہی گاڑی پارک کیے۔۔۔ بونٹ سے ٹیک لگائے کھڑا اپنے پسندیدہ کام میں مصروف تھا۔۔۔۔اور نظریں دور اُس بڑے سے درخت پر ٹھہری ہوئی تھی ۔۔۔
وہ اس قدر کھویا ہوا تھا کے بیگ کے پہیے گھسیٹنے کی آواز بھی اُسے محسوس نہیں ہوئی۔۔۔نور کی نظر اُس کے ہاتھ پر پڑی جہاں کلائی اور ہتھیلی کے جوڑ پر اب تک اُس کے دانتوں کے ہلکے سے نشان تھے ۔۔۔۔۔۔اُسے اپنے اتنے جارحانہ رویے پر شرمندگی تھی مگر وہ اُس سے معافی مانگنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی۔۔۔وہ بھی تو اُسے کتنا آزما کر بھی کبھی تلافی نہیں کرتا تھا۔۔۔
وہ اُسے پکار تو نہیں سکتی تھی مگر دھیرے سے مصنوعی کھانس کر اپنی موجودگی کا احساس دلایا تب بھی وہ اُس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔۔۔۔۔نور نے پرسوچ نظروں سے اُسے دیکھا اور پھر اُس کی توجہ کا مرکز دریافت کرنے کے لیے گردن موڈ کر اُس سمت ۔۔۔۔۔۔جہاں دور سے بھی اُس بڑے سے تنے میں کھدا دل اور وہاں لکھے نام دکھائی دیتے تھے۔۔۔۔
اور کوئی اجنبی بھی شہیر کو دیکھتا تو سمجھ جاتا کے اس انسان کا کتنا گہرا تعلق ہے اُس جگہ سے ۔۔۔پھر وہ تو پہلے ہی کچھ حد تک واقف بھی تھی ۔۔۔
وہ اُس رات کی اپنی بے ساختگی پر شرمندہ ضرور تھی مگر وہ اُس کے لیے ایک جذباتی عمل سے بڑھ کر کچھ نہیں تھا جب وہ بنا سوچے اُس کے سینے سے لگ گئی تھی۔۔۔۔۔۔ اور وہ جانتی تھی شہیر کی پرواہ اُس کی فکر اُس کا اپنا پن بس اُس کی اچھائی ہے ۔۔۔۔کوئی جذبہ دل نہیں۔۔۔۔وہ کبھی بھی اُس کے دل تک رسائی نہیں پا سکتی ۔۔۔۔اسلئے خود کو اس خوش فہمی سے دور ہی رکھا ۔۔مگر جانے کیوں دل اس لمحے۔۔۔۔۔ اپنی موجودگی میں اُس کی بے خبری پر شدت سے تڑپا ۔۔۔
آنکھوں میں وہ منظر چبھتا ہوا محسوس ہوا ۔۔
اور شہیر کا دھوئیں کے اثر سے بوجھل چہرہ مزید بوجھل ہونے لگا۔۔۔۔
رئیسہ بیگم باہر آئی تو اُس نے آہٹ محسوس کرکے جلدی سے خود کو سنبھالا اور دو چار بار پلکیں جھپکیں۔۔۔۔اور اُنہیں دیکھ کر مسکرائی۔۔۔
رئیسہ بیگم پھر بھی کچھ اجنبی تاثر محسوس کر گئی اور اُنہوں نے شہیر کی جانب دیکھا تو اُن کا دماغ گھوم گیا۔۔۔۔
“شہیر۔۔۔”
اُنہوں نے جب اسے پُکارا تو آواز میں کچھ حیرت۔۔۔۔کچھ تاسف۔۔۔۔کچھ سختی شامل تھی ۔۔۔اُس نے چونک کر اُن کی جانب دیکھا اور جلدی سے سگریٹ پھینک کر اُن کی طرف بڑھا۔۔۔اُن کی گھورتی نظروں کی نظر انداز کیے سامان لے کر گاڑی میں رکھنے لگا۔۔۔تب تک باقی سب بھی باہر آگئے تھے۔۔۔
“اگر اس نے تمہیں ذرا بھی تنگ کیا تو بس ایک فون کرنا مجھے آکر دیکھ لوں گی اسے۔۔۔۔”
اُنہوں نے نور کو جتانے سے زیادہ شہیر کو سنایا وہ بنا کوئی ری ایکشن دیا اُنہیں گلے لگا گیا۔۔۔۔
‘خیال رکھنا ایک دوسرے کا”
اُنہوں نے کچھ اُداسی سے کہا تو وہ سر ہلا کر حامی بھرتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اُس نے اتنی جدوجھد کی تھی سب نارمل دکھانے کے لیے مگر اُس کی ایک کوتاہی اُنہیں پھر سے پریشان کر چکی تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ایک اور سفر کے ہم سفر بنے نئی راہ پر بڑھتے جا رہے تھے اب یہاں زندگی کونسا رخ بدلنے والی ہے اس سے بے خبر۔۔۔۔ہمیشہ کی طرح درمیان میں ایک خاموشی کی اونچی دیوار تھی ۔۔
نُور کا ذہن اب بھی اُس منظر میں اُلجھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔شہیر کا اتنا بے اختیار ہو کر اُس درخت کو دیکھنا ۔۔۔۔اُس کی وہ بے خبری ۔۔۔۔۔وہ پُر الم نگاہیں۔۔
کیسا سوزش زدہ احساس تھا کے دل حسد میں سلگتا جا رہا تھا۔۔۔
دماغ ایک ہی سوال کر رہا تھا کہ کیسے کوئی ایسی دیوانگی کو ٹھکرا سکتا ہے ۔۔۔
جو آنکھیں چینخ چینخ کر اپنے دل کے احوال بتا دیتی ہے اُنہیں پڑھنے سے کیسے کوئی چوک سکتا ہے ۔۔۔۔۔
ایک سوال پوچھوں آپ سے۔۔۔۔”
وہ بھاری ذہن اور خالی نظروں کے ساتھ اُس کی طرف دیکھتی پوچھنے لگی تو شہیر نے اُس کی جانب دیکھا
بنا ا جازت لیے بھی پوچھ سکتی ہو ۔۔۔۔”
ہمیشہ کی طرح ٹھہرے دھیمے لہجے میں جواب دیا ۔۔
اجازت اس لیے کیوں کہ سوال پرسنل ہے۔۔۔۔”
وہ کچھ جھجھک کر بولی اُس کے تاثرات جانچتے ہوئے ایک ڈر بھی تھا کے کہیں سختی سے منع نہ کردے۔۔۔۔
شہیر نے سڑک پر نظریں جمائے اُسے بغور سنا کچھ کچھ اندازہ ہوگیا کے سوال کس حوالے سے ہے ۔۔۔اُس نے اطمینان سے ہممم کے ساتھ سر کو جنبش دے کر حامی بھری ۔۔۔۔۔
“اگر آپ کو ……آپکو اُس سے اس قدر محبت تھی تو آپ نے اُسے کیوں جانے دیا” ۔۔۔”
اُس نے تمام ہمت جمع کرکے پوچھا۔۔۔۔خود سے اُن سوالوں کا بوجھ اتارنا چاہا۔۔۔۔۔وہ نہ حیران ہوا… نا چونکا۔۔بس اسٹیئرنگ پر پکڑ مضبوط ہوگئی۔۔۔۔
آپ نے اُسے روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی۔۔۔۔اپنی” محبت کا واسطہ کیوں نہیں دیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جن سے محبت کی جاتی ہے اُن کی خاطر تو تاحیات لڑنا پڑتا ہے نہ۔۔۔۔ اتنی جلدی ہار تو نہیں مانی جاتی۔۔۔پھر آپ کیوں پیچھے ہٹ گئے۔۔۔۔۔_
اُس نے اُس کے نارمل ری ایکشن پر ہمت کرکے ایک ساتھ کئیں سوال کر ڈالے”
کیوں کہ دل کو ہر آزمائش منظور تھی لیکِن میرے پہلو میں میری بیوی کسی اور کو سوچے یہ گوارا نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ اُس کی طرف دیکھ کر نہایت سرد سنجیدہ لہجے میں بولا اور پھر اسی اطمینان سے نظر سامنے کی جانب کرلیں
لیکن اُس کی حقیقت جان کر تو آپکو اُس سے نفرت ہوجانی چاہیے پھر آپ اُس سے ایک طرفہ وفا کیوں نبھا رہے ہیں۔۔۔۔”
نور کو لگا آج شاید وہ اُسے ہر سوال کا جواب دے دیگا تبھی وہ حیرت ظاہر کرنے لگی جو بلکل عام تھی۔۔۔۔شاید سب کو ہی ہوتی تھی کہ۔۔۔جس سماج میں مرد عزت اور غیرت کے نام پر عورت کی تذلیل کا ایک موقع نہیں چھوڑتے وہاں وہ ایک بے وفا عورت کو بھی اب تک اپنے دل سے لگائے گھوم رہا تھا۔۔۔۔
اُس کے سوال پر وہ کچھ پل خاموش رہا ۔۔۔پُر سوچ نگاہیں ونڈ سکرین ٹہری رہی۔۔۔۔۔اور گاڑی کی رفتار بلکل دھیمی ہو گئی ۔۔۔
تم سے کس نے کہا کہ میں اُس سے وفا نبھا رہا ہوں۔۔۔۔۔میں بس اپنی محبت سے وفا نبھا رہا ہوں۔۔
اور رہی بات نفرت کی تو کیوں کروں میں نفرت۔۔۔۔اُس نے تو نہیں کہا تھا نا کے میری محبت میں مبتلا ہو کر خود کو برباد کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔یہ راہ تو میں نے خود ہی چنی تھی۔۔۔۔۔
بلکہ میں نے بھی کہاں جان کر کچھ کیا۔۔۔۔یہ دل خود ہی چل پڑا تھا ۔۔۔۔کیوں کہ محبت پر كسی کا اختیار جو نہیں ہوتا ….کب کس سے اور کتنی ہونی ہے۔۔۔۔یہ سب دل خود ہی طے کرلیتا ہے۔۔ ۔۔۔۔
اور اگر بدنصیبی عروج پر ہو تو شاید قسمت کسی غلط انسان کی جانب موڈ دیتی ہے۔۔۔۔
اُس نے کبھی میری محبت کا جواب محبت سے نہیں دیا۔۔۔اُس نے کبھی نہیں کہا کہ شہیر میرے پیچھے پاگل ہوجاؤ۔۔۔۔۔
پھر اُس سے شکایت کس حق سے کروں ۔۔۔۔””
شاید آج پہلی دفعہ تھا جب وہ اُس کے سامنے اتنی تفصیل سے کوئی بات کر رہا تھا۔۔۔۔۔اور اس طرح جیسے نور کو نہیں خود کو جواب دے رہا ہو ۔۔۔وہ اُس کے مدھم لب و لہجے میں پوری طرح مدغم ہو کر اُس کے لفظ لفظ پر غور کرتی گئی ۔۔۔۔ہر جملے کے ساتھ بدلتے تاثرات پڑھتی گئی۔ ۔۔۔پتہ نہیں اُس کا وہم تھا یا حقیقت مگر اُسے ہر لفظ میں ایک آواز سنائی دی۔۔۔۔
“وہ دور کرکے بھی اُس سے دور نہیں ہوا تھا”
اور یہ صدا نور کو اچھی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔بلکل اچھی نہیں لگی
پھر بھی جو ہمارے جذبات کی بے قدری کرے اُس سے” تو نفرت ہو ہی جاتی ہے نہ اور اُس نے صرف بے قدری نہیں تذلیل کی ہے آپ کی محبت کی۔۔۔پھر بھی آپ اب تک۔۔۔۔۔۔”
وہ کھوئے کھوئے انداز میں اُسے دیکھتی بول رہی تھی کے اُس کا آخری جملہ مکمل ہونے سے پہلے شہیر نے گاڑی کو بریک لگا دیا اور ایکدم سے اُسے دیکھا تو وہ چپ ہو گئی۔۔۔دل کچھ اُس کی نظروں سے خائف ہوا۔ ۔۔۔
نہ اُس کے لیے محبت ہے نہ نفرت۔۔۔۔کیوں کے میں کسی بھی طرح اُسے اب اپنے دل میں جگہ نہیں دینا چاہتا۔۔۔۔۔
وہ لفظوں پر زور دیتے ہوئے جتا کر بولا مگر کیا یہ بات قابلِ یقین تھی؟
پھر وہ کیا ہے جو سب کو نظر آتا ہے ۔۔۔۔””
وہ اُس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی تو وہ نظریں پھیر گیا ۔۔۔ نور کو محسوس ہوا جیسے وہ اس سوال کا جواب نہیں دینا چاہتا یا کوئی مطمئین جواب ہے ہی نہیں۔۔۔۔
شاید میری سزا۔۔۔۔ایک طرفہ چاہت کا ایک طرفہ” درد۔۔۔۔۔ویسے تم نے بس ایک سوال کی اجازت لی تھی۔۔۔۔۔”
اور وہ کچھ کوفت سے جواب دے کر اُسے جتا بھی گیا کے واقعی اب وہ جواب نہیں دینا چاہتا۔۔۔
اے ایم سوری ۔۔۔مجھے احساس ہی نہیں ہوا ۔۔۔
نور نے دھیرے سے کہہ کر بات ختم کردی تو اُس نے بھی خاموشی سے گاڑی دوبارہ اسٹارٹ کرکے آگے بڑھا لی۔۔۔۔۔وہ کھڑکی کے باہر دیکھنے لگی دل بھاری بھاری سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔چاہے یہ انکشاف کوئی انوکھے نہیں تھے مگر پھر بھی مایوسی سوا ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
ایک آخری سوال کروں ۔۔۔۔۔
نور نے چند منٹ خاموش رہ کر کچھ بوجھل لہجے میں پوچھا تو شہیر نے کوئی رسپانس نہیں دیا جیسے بچنا چاہتا ہو اب ۔۔۔۔یا محسوس کر رہا تھا اُس کے بجھتے انداز کو ۔۔۔۔۔
اس سزا کی حد کہاں جا کر ختم ہوتی ہے۔۔۔
وہ اُس کے چہرے میں کچھ تلاشتے ہوئے بنا اجازت بھی پوچھنے سے بعض نہیں آئی۔۔دل نے اُسے اس سوال کے لیے اُکسایا تھا اور اب شدّت سے منتظر بھی تھا کسی خاطر خواہ جواب کے۔۔۔
موت تک۔۔۔۔۔۔۔
وہ اُس کی جانب دیکھ کر سرد سپاٹ لہجے میں دیے اپنے دو لفظی جواب سے اُسے وحشت زدہ کرکے خود بے نیازی سے نظریں موڑ گیا۔۔۔۔
#####
کم آبادی والے ایریا میں بنا خوبصورت سا کاٹیج تھا۔۔۔۔۔آس پاس بس چند ہی مکان تھے۔۔۔۔۔جن میں سب سے علیحدہ اور خوبصورت طرز پر بنے آف وہائٹ میں تھوڑا چارکول گرے ٹچ لیے کاٹیج کا باہری ویو کافی اٹریکٹو تھا ۔۔۔۔۔۔ہوا میں تازگی اور خوشبو گھلی ہوئی تھی جو کِسی بھی تھکن زدہ وجود کو پل میں پرسکون کر سکتی تھی ۔۔۔۔
تقریباً پانچ فیٹ اونچی باؤنڈری والز تھی جن پر فاصلے فاصلے سے سبز بیلیں لپٹی ہوئی تھی۔۔۔اور درمیان میں بڑا سا لوہے کا گیٹ تھا جس میں سے اندر کا منظر صاف نظر آتا تھا۔۔۔گھر کی دائیں جانب کار پارکنگ پورچ تھا۔۔۔
۔لیوینڈر اور سرخ گلابوں سے مہکتا بڑا سا گارڈن ایریا جس کی سبز زمین کے درمیان میں بنی پتلی سی پختہ روش گھر کے دروازے کے سامنے چار سیڑھیوں تک جا کر ختم ہوتی تھی ۔۔۔۔جس پر پھولوں کی پتیاں چادر کی طرح بچھی ہوئی تھی یقیناً اُس کے ویلکم کے لیے یہ سجاوٹ کرکے اُس جگہ کو اور خوبصورت بنا دیا گیا تھا ۔۔۔
گارڈن میں بائیں طرف چوکور گزیبو جو اس وقت سفید پردوں اور سرخ گلابوں سے کافی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا۔۔۔۔اپنے آپ میں ایک مکمل منظر رکھتا تھا ۔۔۔
وہ پورے اشتیاق سے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔۔۔اور منتظر تھی کے کب وہ اُسے اندر چلنے کو کہے ۔۔۔چند منٹ کی مکمل خموشی پر جب شہیر کی جانب دیکھا تو وہ بھی اُس گھر کو ایسے دیکھ رہا تھا جیسے آج پہلی دفعہ دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔لیکن کیوں۔۔۔یہ جگہ اُس کے لیے تو نئی نہیں تھی پھر وہ کیوں اتنی سنجیدگی سے اُسے ابزورو کر رہا تھا۔۔۔۔نور حیرت سے اُسے دیکھنے لگی تو شہیر نے اُس کی نظروں کو محسوس کرکے اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔
” ۔۔۔۔یہ سب شاید مام نے کروایا ہے۔۔ “
اُس کی حیرت بھانپ کر وجہ بتائی تو نور کو سمجھ آیا کے وہ اُس اوپری سجاوٹ پر حیران ہے ۔۔جو اُس کی بے خبری میں کی گئی تھی۔۔۔۔اُسی وقت وہاں ایک گاڑی آکر رکی ۔۔۔۔۔
“ویلکم سر ۔۔۔۔۔ویلکم میم ۔۔۔۔”
باہر آنے والا شخص نہایت مودبانہ لہجے میں کہتا ہوا اُن دونوں تک آیا ۔۔۔۔
” میرے مینیجر مسٹر انور”
اُس نے نور کی سوالیہ شکل دیکھ کنجوسی سے تعارف کروایا ۔۔۔انور اتنے میں ہی فخر سے مسکرایا۔۔۔۔
“بڑے صاحب نے مجھے آپ لوگوں کے ویلکم کی زمیداری دی تھی اپنی طرف سے میں نے پوری کوشش کی ہے اُمید ہے آپ کو پسند آۓ گی ۔۔۔آئیے نہ میم ۔۔۔پلیز کم۔۔۔۔”
وہ خوش دلی سے باتیں کرتے کرتے گیٹ کھولتا ہوا خود جا کر اندر کھڑا ہو گیا اور موبائل آن کرکے اُن کے ویلکم کا ویڈیو بنانے لگا۔۔۔۔
وہ فورملی مسکرائی ۔۔ جب شہیر نے اُس کی جانب ہاتھ بڑھایا تو دوبارہ سیریس ہو کر نا سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔
۔
۔”یہ پکچرز مام تک جائیں گی ۔۔۔۔۔۔”
شہیر نے اُسے صفائی دے کر ہاتھ تھامنے کا اشارہ کیا مگر وہ اسی طرح کھڑی اُسے دیکھتی بلکہ گھورتی رہی۔۔۔۔
“تو میں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔”
پہلی دفعہ دونوں ہاتھ باندھ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بیگانے پن اور لا پرواہی کا اظہار کرکے اُس نے شہیر کو چونکا یا ۔۔۔
“جسٹ الاؤ می تو ہولڈ یور ہینڈ۔۔۔۔”
وہ ضبط سے بھینچے لہجے میں بولا۔۔۔۔نور نے تاسف سے سر ہلایا کہ اپنی ماں کی خاطر پھر ایک ڈراما ۔۔۔۔
“ضروری نہیں ہے کہ نارمل ریلیشن شپ دکھانے کے لیے ہر بار کوئی ایسا سوانگ ہی کیا جائے ۔۔۔آپ میرے ساتھ کھڑے ہو کر مسکرائے گے نا تو اُنہیں تسلی ہوجائے گی ۔۔۔۔کے اُن کا بیٹا اپنی بیوی کے ساتھ خوش ہے۔۔۔”
پہلی دفعہ اُس کے تیور ایسے انوکھے تھے کے شہیر بس دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔وہ اُسے بڑے اطمینان اور دلیری سے صلاح دے رہی تھی۔۔۔۔
“مجھ سے فیور مانگنے کی بجائے اپنے آپ کو اتنی زحمت تو دے ہی سکتے ہے نہ آپ۔۔۔۔۔”
اُس کے خاموشی سے دیکھنے پر وہ مسکرا کر بولی اور اور وہ مسکراہٹ بڑی ہی جان لیوا تھی شہیر ائبرو اٹھائے اُسے دیکھ رہا تھا مگر اُس کے دیکھنے کا بھی آج کوئی اثر نہیں تھا۔ ۔۔۔
جب کے انور اُن دونوں کے اندر آنے ک انتظار میں کب سے کیمرا آن کرکے کھڑا تھا ۔۔۔
“کوشش کیجئے۔۔۔۔۔آپ کر سکتے ہیں۔۔۔۔اتنا بھی مشکل نہیں ہے۔۔۔۔”
وہ دورانِ سفر اُس کے جوابوں سے جتنی دکھی ہوئی تھی۔۔۔شہیر کو بھی تپانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔و ضبط سے دانت بھینچے اُسے دیکھنے لگا
“یہ زیادہ ہو رہا ہے۔۔”
سرد سنجیدہ وارن کرتے لہجے میں اُسے جتایا نور کی مسکراہٹ غصے میں بدلی۔۔۔۔۔
“زیادہ نہیں بہت زیادہ ۔۔مگر آپ کی جانب سے۔۔۔۔۔میں کوئی کٹھ پُتلی نہیں ہوں جو آپ کے اشاروں پر ناچوں ۔۔۔آپ کو اپنی اصلیت اپنی مام سے چھپانی ہے ۔۔۔۔اُن پر یہ ثابت کرنا ہے کے آپ اپنی بیوی کے عشق میں پوری طرح ڈوب چکے ہیں۔۔۔۔۔۔یہ آپ کا مسلہ ہے اسے اکیلے ہی حل کیجئے۔۔۔۔میں کسی کو جواب دہ نہیں ہُوں ۔۔۔۔”
وہ آواز حد از ممکن دھیمی رکھے غصے سے بولی۔۔ ایک دن پہلے اُس کا جو ایک کیرنگ اور اپنائیت بھرا روپ دیکھ کر دل پسیج گیا تھا آج اُس کے جوابات نے اتنا ہی سخت کر دیا تھا ۔۔
“انور “
وہ چند سیکنڈ اُسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور بنا نظریں ہٹائے انور کو پُکارا وہ دوڑ کر اُس تک پہنچا ۔۔۔
“یس سر ۔۔”
“گاڑی سے سامان نکال کر اندر رکھو ۔۔۔۔”
وہ بول انور کو رہا تھا مگر نظریں نور پر تھیں۔۔۔نور سمجھ گئی کے وہ اُسے کام سے لگا رہا ہے۔۔۔
“مسٹر انور ۔۔۔۔آپ ہماری ویلکم ویڈیو بنا رہے ہیں نہ۔۔۔۔پہلے آپ وہ بنائیے۔۔۔۔”
انور آگے بڑھے اس سے پہلے ہی مسکرا کر بول پڑی۔۔
یس میم۔۔۔۔
انور نے فرما برداری دکھائی اور اُسے وقت شہیر نے نظریں نور سے ہٹا کر اُسے دیکھا ایسے کے وہ ایکدم سے سیدھا کھڑا ہوگیا ۔۔۔
سیلری کون دیتا ہے تمہیں۔۔۔۔۔
وہ غصے سے ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگا ۔۔
“آپ دیتے ہے سر۔۔۔۔”
انور نے سر جھکایا ۔۔۔۔
“آرڈر کس کے ماننے ہے ۔۔۔۔”
وہ دانت پیس کر پوچھنے لگا۔۔۔نور نے آنکھیں چھوٹی کرکے اُسے گھورا جو کسی پر بھی رعب ڈالنے کا ایک موقع نہیں چھوڑتا تھا ۔۔۔۔
آپ کے ۔۔۔
انور نے فوراً کہا
“سو گو اینڈ گیٹ دا لگیج ناؤ ۔۔۔۔۔”
اب کے وہ نور کی جانب دیکھ کر بولا۔۔۔
“مسٹر انور۔۔۔۔۔یہ سب آپ کس کے کہنے پر کر رہے ہیں۔۔۔”
وہ بھی انور سے بات کرتے ہوئے شہیر کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔غصے سے ۔۔۔
“جی وہ بڑے صاحب اور میڈم کے۔۔۔۔”
دونوں کے درمیان پس کر اب انور کافی پریشان تھا۔۔۔
“اور میڈم آپ کے سر کی کیا لگتی ہے۔۔۔”
شہیر اُس کے نئے تیور بڑے غور سے ملاحظہ کر رہا تھا ۔
“مام۔۔۔۔۔۔”
انور نے ایک لفظی جواب دیا
” رتبے میں ماں بڑی ہوتی ہے یا بیٹا۔۔۔۔۔۔”
اُس اب کے انور کی طرف دیکھا۔۔
“ماں بڑی ہوتی ہے ۔۔۔”
وہ مسکرا کر بولا ۔۔۔
تو آپ کو کس کی بات ماننی چاہیے۔۔۔۔”
اُس نے جیسے کسی چھوٹے بچے سے سوال کیا ہوا شہیر نے کھاجانے والے انداز میں اُسے دیکھا جو آج اگلے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
چلیئے آپ جلدی سے ویڈیو بنائیے میں بہت تھک گئی ہوں۔۔۔۔مجھے اندر جانا ہے ۔۔۔۔۔۔”
وہ معاملہ نپٹاتے ہوئے بولی تو انور نے کن انکھیوں سے اپنے لاجواب کھڑے باس کو دیکھا اور مسکرا کر سر ہلاتا پیچھے ہو گیا۔۔۔۔۔
“چلیں “
نور نے اُس کی طرف دیکھ کر وہی دل جلاتی مسکراہٹ اچھالی ۔۔۔وہ ایکدم سے آگے بڑھا انور سے موبائیل چھینا اور پوری طاقت سے اچھال کر گھر کی دیوار پر دے مارا ۔۔۔جانے کتنے ٹکڑے کہاں کہاں اچھل کر بکھرتے گئے۔۔۔۔انور اور نور دونوں صدمے میں تھے ۔۔۔
“میرے اکاؤنٹ سے ڈبل چارجز کلیکٹ کرلینا ۔۔۔۔۔۔”
وہ انور کا فق چہرہ دیکھ کر کہتا نور کی جانب ایک جتاتی نظر ڈال کر اکیلا ہی اندر بڑھ گیا ۔۔