قسط 13 حصہ 2
نیو دہلی کا درجہ حرارت اعتدال سے گرتا جا رہا تھا۔۔خون جما دینے والی سردی تھی ۔۔۔۔۔یخ بستہ ہوائیں بدن کے پار ہو رہیں تھیں۔۔۔ کہرے کے باعث گاڑی کے شیشہ بار بار دھندلا رہا تھا۔۔۔۔
جسے وہ وقفے وقفے سے وائپر کے ذریعے صاف کر رہا تھا۔۔۔
گاڑی کا رخ گھر کی جانب تھا۔۔۔۔گھر جو پہلے اُس کے لیے فقط ایک جائے بسر تھی۔۔۔۔۔جہاں پہلے گمنام خاموشیوں کا ڈیرا تھا۔۔۔اور اب اُس مکان کا ایک ایک کونا آباد تھا۔ ۔۔۔۔جہاں وہ پہلے ساری دنیا سے چھپنے کو پناہ لیتا تھا۔۔اب اُس تاریک مقام کو اپنی موجودگی سے روشن کرکے ہر روز کوئی اُس کی راہ تکتا تھا۔۔۔۔
پچھلے ڈیڑھ مہینے میں وہ پہلی دفعہ گھر جاتے ہوئے کافی لیٹ ہوگیا تھا۔۔۔اور اُسے یقین تھا کے نور آج بھی اس کے انتظار میں جاگ رہی ہوگی ۔۔۔یہ یقین اس لیے تھا کیوں کہ نور نے اُسے اس چیز کا عادی بنا دیا تھا ۔۔۔۔۔۔صرف یہی نہیں بلکہ اور بہت کچھ بدل دیا تھا اُس نے۔ ۔۔۔۔۔جیسے شہیر کے خیالوں کی راہ بدل دی تھی۔۔۔۔۔اب وہ اکثر و بیشتر اُس کے مطلق ہی سوچتا تھا ۔۔۔کبھی اُس کے رویے کو کبھی اُس کی باتوں کو ۔۔۔۔اکثر دھیان کِسی ضروری کام سے بھٹک کر اُس کی جانب مڑ جاتا ۔۔۔۔کبھی باتوں باتوں میں تصور کے پردے پر اُس کی تصویر اُبھر آتی۔۔۔۔کبھی تو وہ جھٹک کر جان چھڑا لیتا کبھی اس خوف سے گھنٹوں اضطراب میں گزار دیتا کے کہیں وہ اُس کے دماغ سے دل تک نا پہنچ جائے ۔۔۔۔۔۔
محبت میں دھوکا کھائے انسان کا دوبارہ کِسی پر یقین کرکے اُسے اپنی ذات کے نہاں خانوں تک رسائی دینا تقریباً نا ممکن ہوتا ہے ۔۔۔۔
دل آسانی سے اجازت نہیں دیتا کے ایک اور بار جذبات کی بازی لگائی جائے۔۔۔۔پھر خود کو اُن خاردار راہوں میں خوار کیا جائے۔۔مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلسل ضرب پڑنے سے تو پتھر میں بھی درار پڑ جاتی ہے ۔۔۔۔وہ تو ایک محبت کے ترسے دل کا مالک تھا اگر کوئی چاہت کے خزانے لیے بند دروازے پر بار بار دستک دے رہا تھا تو وہ کب تک نظر انداز کر سکتا تھا۔۔۔۔
وہ اُسے خود کالج پک اینڈ ڈراپ کی آفر دے چکا تھا۔۔۔۔ڈرائیور کے ساتھ آنے جانے کی صلاح دے چکا تھا۔ ۔۔۔ڈرائیونگ سیکھنے اور خود کالج جانے کا آئیڈیا دے چکا تھا مگر نور پر عجیب ضد سوار تھی اُس کی ہر بات کے خلاف جانے کی۔۔۔اُسے رکشا یا ٹیکسی سے کالج جانا منظور تھا مگر اُس کے ساتھ نہیں۔۔۔۔وہ اُس کی آفر کو صاف لفظوں میں منع کر چکی تھی۔۔۔اور تو اور جب شہیر نے اُسے کارڈ دیا تب بھی لینے سے انکار کردیا تھا۔۔۔۔
“میرے پاس پیسے ہے ۔۔۔شادی کے بعد جو نیگ میں ملے تھے وہ بھی اور کچھ۔۔۔۔۔۔۔”
اُس نے جواب میں بے نیازی سے کہا تھا حالانکہ وہ اُن پیسوں کو خرچ نہیں کرنا چاہتی تھی اُس کا ارادہ ایک دن ہر وہ تحفہ لوٹانے کا تھا جو اُسے شہیر کی بیوی کی حیثیت سے ملا تھا ۔۔۔۔مگر وہ شہیر سے بھی کوئی احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔۔۔۔
“بحث مت کرو ۔۔۔صرف تمہارے لیے نہیں بلکہ گھر کی ضروریات کے لیے بھی دے رہا ہوں۔۔۔۔۔وہ پیسے خرچ کرنے کی ضرورت نہیں ہے پکڑو اسے۔۔۔۔۔۔”
وہ اُس کی بات کاٹ کر بیزاری سے بولا تو نور نے کارڈ لے لیا تھا ۔۔۔۔یہ سوچ کر کے ہاں گھر کی ضرورتوں کے لیے وہ لے سکتی ہے ۔۔۔ساتھ ہی اپنے لیے فلحل اُسے ایک آپشن مل گیا۔ ۔۔
“آپ مجھے ایک اور کارڈ دے دیجئے۔۔۔۔۔۔”
اُس نے شہیر کو حیران کیا ۔۔۔حالانکہ کے ایک ہی کارڈ کی لمٹ اتنی تھی کہ وہ کبھی ایک بار میں خرچ نہ کر پاتی مگر اُس نے کوئی سوال جواب نہیں کیا بلکہ خاموشی سے ایک اور کریڈٹ کارڈ نکال کر اُسے تھما دیا ۔۔۔
“یہ میں گھر کے خرچ کے لیے یوز کروں گی اور یہ اپنے لیے ۔۔۔۔مجھے اپنے لئے جب پیسوں کی ضرورت ہوگی تب۔۔۔۔۔آپ اس کارڈ کا حساب الگ رکھئے گا میں سب واپس کردوں گی آپ کو ایک دن۔۔۔۔۔”
اور جب اُس نے وجہ بتائی تو شہیر نے اُس کی ذہنیت پر دانت بھینچے۔۔۔۔۔مگر بولا کچھ نہیں کوفت سے آنکھیں گھما کر وہاں سے چلا گیا۔۔۔۔
لیکِن اُس کا دور تک پیدل جانا ۔۔۔پھر رکشا کا انتظار کرنا ۔۔۔۔۔اچھے برے لوگوں سے سامنا کرنا۔۔۔ شہر کے ماحول کی مناسبت سے اُسے بلکل ٹھیک نہیں لگتا تھا ۔۔اور اُس کا ایک حل نکالتے ہوئے اُس نے ایک ایکٹیوا لا کر اُسے دی اور بنا بولے جتا دیا کہ لو اپنی انا اور ضد پر قائم رہو ۔۔۔۔ خود جاؤ مگر حفاظت سے۔۔۔
اور نور کو بھی یہ آپشن برا نہیں لگا مگر عزت نفس۔۔۔۔
“_تھینکیو میں اس کے پیسے بھی چکا دوں گی آپ کو”
اُس نے پھر وہی انداز اپنایا تھا۔۔۔اور شہیر نے اُسے بلا دریغ گھورنے کے ساتھ اس دفعہ جواب بھی دیا تھا۔۔۔
“ایک لاکھ بیس ہزار”
فوراً سے رقم طلب کرلی تھی جس پر وہ ہونق رہ گئی ایک تو رقم اُس پر اتنی فوراً جواب،،
“ابھی نہیں بعد میں۔۔۔۔”
وہ گڑبڑا گئی تھی۔۔۔
“کب”
بلکل سیریس انداز میں فوراً اگلا سوال حاضر تھا۔۔۔شہیر نے بھی اچھے سے خبر لے لی تھی ۔۔۔
“کچھ دن بعد۔۔۔۔نہیں کچھ مہینوں بعد ۔۔۔۔پکّا “
وہ اپنا مذاق بنتا دیکھ بوکھلاہٹ سے کہہ کر وہاں سے غائب ہوئی تھی اور وہ تاسف سے اُسے جاتے دیکھتا رہ گیا تھا۔۔۔
وہ آفس جانے سے پہلے کمرہ جتنا بکھیر کر جاتا تھا واپسی پر ہر چیز اسی ترتیب سے ملتی۔۔۔۔
اُس کے نیچے آنے تک میز پر ناشتا لگ چکا ہوتا تھا۔۔۔۔
اُسے کیا کھانا تھا کیا نہیں سے پتہ نہیں کہاں سے مگر سب پتہ لگا چکی تھی۔۔۔۔
کبھی وہ رات کو دیر تک جاگ کر کام کر رہا ہوتا تو بنا پوچھے یا کہے ہی کافی کا مگ اُس کی ٹیبل پر آجاتا تھا ۔۔اور اس کے کوئی بھی ری ایکشن دینے سے پہلے ہی وہ پلٹ جاتی تھی ۔۔۔
کبھی جو اُس نے کہہ دیا کہ کیا ضرورت ہے یہ سب کرنے کی میرے لیے۔۔۔۔۔۔ تو آگے سے جواب سر تھامنے والے ملتے۔۔۔
“مجھے کام کرکے اچھا لگتا ہے اسلئے کرتی ہُوں ۔۔۔ٹائم پاس ہوتا ہے میرا۔۔کوئی تکلیف ہے آپکو۔۔۔۔۔۔۔”
“_اگر آپکو میرے ہاتھ کے کھانے یا کاموں سے پرابلم ہے تو صاف کہہ دیجئے نہیں کروں گی۔۔۔۔”
“مام نے کہا تھا کہ آپ کے کھانے پینے کا خیال رکھوں مجھے وعدہ خلافی نہیں کرنی۔۔۔ورنہ مجھے کیا پڑی آپ کے لیے اپنے ہاتھ دکھانے کی۔۔۔۔
وہ خاموشی میں عافیت سمجھ کر چپ چاپ کھانے پر فوکس کرتا ۔۔
کبھی جو وہ آتے ہوۓ لیٹ ہوجاتا اور سوچتا کے شاید آج سو ہی گئی ہوگی مگر اُس کا اندازہ غلط نکلتا یا تو وہ لان میں ہی موجود ہوتی یا اُس کی گاڑی گیٹ کے سامنے آتے ہی اندر سے نازل ہوجاتی ۔۔۔۔
شہیر نے دو تین دفعہ اُسے کہا کے تمہیں میرے لیے یہ تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں ہے تو آگے سے پھر جواب بھی دیتی۔۔۔وہ بڑے سخت قسم کے۔۔۔۔۔
“میں کیوں ویٹ کروں گی آپ کا ۔۔۔۔۔خالی بیٹھی تھی تو آکر گیٹ کھول دیا ۔۔۔۔”
“میں پودوں کو پانی دے رہی تھی آپ کے لیے نہیں کھڑی تھی باہر۔۔۔۔”
“مجھے تو پتہ بھی نہیں تھا کے آج آپ جلدی آئیں گے میں تو یونہی بور ہو رہی تھی تو باہر نکل آئی۔۔۔”
وہ جواب میں انڈائرکٹلی اُس کی انسلٹ کردیتی تھی اسلئے شہیر نے تھک کے کچھ بھی کہنا ہی چھوڑ دیا تھا ۔۔۔
اور وہ یہ سوچتا تھا کے ان سب چیزوں سے اُسے کیا لینا دینا۔۔۔۔۔وہ کرتی ہے کرے نہیں کرتی نہ کرے اُسے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔
اور اب بھی اسی سوچ کے ساتھ اُس نے سر جھٹکا لیکن آج جب گاڑی آکر گیٹ کی پاس رکی اور اگلے دس سیکنڈ خالی گزر گئے تب دل جس وحشت سے دوچار ہوا اُس نے اپنے ہی دعوے کی دھجیاں بکھیر دیں ۔۔۔۔۔۔۔
وہ ساکت وہیں رہ گیا ۔۔۔۔نظریں بند دروازے کو تکتی رہ گئی اور دل انتظار کے ایک ایک لمحہ کے ساتھ مزید گہرائی میں ڈوبنے لگا۔۔۔۔۔۔وہ بند دروازہ۔۔۔۔۔وہ خوبصورت لان ۔۔۔۔۔۔وہ سبز زمین ۔۔۔ مہکتی کیاریاں جیسے اچانک ویران ہوگئے۔۔۔۔۔جیسے وہ گھر پھر مکان بن گیا۔۔۔
حلانکہ تسلی کو تو یہ جواز بھی کافی تھا کہ آج اُس نے آنے میں کافی رات کردی تھی تو وہ سو گئی ہو شاید۔۔
پھر بھی دل کیوں نہیں مان رہا تھا کے ہاتھ بڑھا کر دروازہ کھولے اور باہر نکل کر خود گیٹ وا کرلے ۔۔۔۔
دس منٹ وہ خالی ذہن ساکت نظریں اور بوجھل دل کے ساتھ وہیں رکا رہا۔۔۔۔پورا وجود اچانک ایک بے سکونی کی زد میں آگیا جب احساس ہوا کے وہ اُسے بڑی آسانی سے زیر کر گئی۔۔۔اپنی موجودگی کا عادی بنا گئی اور وہ بے خبر ہی رہ گیا ۔۔۔
سردی کی شدت اچانک سے کم ہوتی گئی اور بند گاڑی میں اُسے گھٹن سی ہونے لگی ۔ ۔وہ اپنی سوچوں پر خود کو ہی سرزنش کرتا باہر نکلا اور گیٹ کی طرف بڑھا لاک اوپر کرکے تھوڑا ہی گیٹ سائیڈ میں کیا تھا کے نظر گزیبو کی جانب گئی اور وہیں ٹھہر گئی۔۔۔
وہ چاہتا تھا کے اُسے غصّہ آئے ۔۔۔۔مگر دل نے جو محسوس کیا اُس احساس کا نام سکون تھا ۔۔۔جیسے زندگی چند لمحوں کے لیے اپنی ڈگرسے بھٹک کر دوبارہ اپنے حقیقی راستوں پرلوٹ آئی ہو۔۔۔۔۔واقعی دماغ پورے جسم کو کنٹرول کر سکتا ہے ۔۔۔سوائے دل کے۔۔۔
اُس کے قدم بے ساختہ اُس جانب بڑھے جہاں وہ بینچ پر بیٹھے بیٹھے سو گئی تھی۔۔۔۔۔شال کو اپنے گرد اچھے سے لپیٹے ۔۔۔۔۔پیروں کو بھی اوپر سمیٹ کر اُس میں چھپایا ہوا تھا ۔۔سر بینچ کے داہنے پر تھا ۔۔۔۔ایک کتاب سینے سے لگائے جب کے دوسری اُس کے نزدیک ہی بینچ پر کھلی پڑی تھی اور ہوا کے اثر سے صفحے وقفے وقفے سے پھڑپھڑا رہے تھے ۔۔۔
وہ اُس کے نزدیک آکر رکا۔۔۔۔۔خاموش۔۔۔از خود رفتہ نگاہوں سےاُسے دیکھتا گیا ۔۔۔چو گرد سے بیگانہ۔۔۔۔خود سے فراموش۔۔۔۔خالی الذہن بس اُسے دیکھتا گیا۔۔۔چہرے پر بکھرتے۔۔ ہٹتے سلکی بالوں کو۔۔۔۔
بند آنکھوں کو۔۔۔۔گھنی پلکوں کو۔۔۔۔۔سرخ عارض کو اور لرزتے لبوں کو جو ظاہر کر رہے تھے کے سردی کی شدت کافی اثر رکھتی تھی۔۔۔۔
اس نے بینچ کے اوپر نور کے سر کے تھوڑا قریب ہاتھ رکھا اور اُس کی طرف جھکا۔۔۔۔۔ہر سوچ ہر احساس ہر خیال سے بے پرواہ بے خبر۔۔۔۔
خود کو ۔۔۔۔اُس کو۔۔۔۔۔ساری حقیقتوں کو فراموش کیے
سرمست سا اُس کے چہرے کے قریب ہوتا ایک ایک نقش کو نظروں سے جذب کرنے لگا ۔۔۔۔
جیسے وہ کوئی خواب ہو۔۔۔۔
بس اُسے دکھائی دے رہی ہو کیوں کے وہ اُسے دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔جیسے یہ بس اُس کے ذہن کی تخلیق ہو۔۔۔۔
اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُس کے چہرے کو چھوا آیبرو سے گزرتی انگلیاں بند آنکھوں کو چُھو کر گالوں تک آئیں ۔۔۔۔غیر ثقیل ہوا کے جیسا لمس تھا مگر اتنی حدت اور سنسناہٹ تھی کے نیند میں بھی نور کا دل بے چین ہوا۔۔۔
اُس نے ماتھے پر بل ڈالے چہرے کا زاویہ بدلا۔۔اور اُس کی یہ حرکت ٹھہرے وقت میں ایک زوردار ارتعاش کی مانند تھی۔۔جیسے پورا وجود ہل گیا۔۔۔وہ بری طرح چونک کر پیچھے ہوا۔۔۔۔ دل جیسے اپنی حد سے باہر دھڑکتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔طبیعت میں بے چینی بھر گئی تپتے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پلٹ کر باہر نکلا۔۔۔
گیٹ کھول کر گاڑی کی طرف بڑھا اور گاڑی اندر لا کر ہارن پریس کیا۔۔۔۔اُس کی جانب دیکھنے کی غلطی نہیں کی ۔۔۔
مسلسل ہارن بجنے پر نور ہڑبڑا کر نیند سے جاگی اور اطراف کا اثر لیا۔۔۔۔چند سیکنڈ لگے حواس بیدار ہونے میں اور پھر اٹھ کر کپڑے اور شال ٹھیک کرتے ہوئے اُس کی طرف بڑھی۔۔۔
وہ اُس کا اپنی طرف آنا محسوس کرتے ہیں گاڑی پارکنگ کی طرف لے گیا۔۔۔
“سوری ۔۔وہ پتہ نہیں کب میری آنکھ لگ گئی۔۔۔۔”
وہ اُس کے باہر آتے ہی بوجھل پلکوں کو بار بار بند کرتی کھولتی نیند سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے کچھ شرمندہ سی بولی۔۔۔
“کیا ضرورت تھی اتنی دیر تک جاگ کر اِنتظار کرنے کی”
وہ اُس کے سامنے ہونے کی وجہ سے رکا مگر اُس کی جانب دیکھنے کی بجائے زمین پر دور کسی نقطے کو گھورتے ہوئے بولا۔۔
“میں آپکا انتظار نہیں کر رہی تھی۔۔۔وہ تو مجھے کچھ امپورٹنٹ ٹاپک ۔۔۔۔۔۔”
ھمیشہ کی طرح وہ پھر وہی جواب دینے لگی جسے پورا سننے سے پہلے ہی شہیر نے ضبط سے دانت بھینچے اور سائیڈ سے نکل کر اندر کی طرف بڑھ گیا وہ چند سیکنڈ دیکھتی رہی پھر گیٹ بند کرکے خود بھی اندر چلی آئی۔۔۔۔
“کھانا نہیں کھاؤں گا ۔۔۔”
وہ سیڑھیوں کی طرف بڑھتے ہوئے سرسری سا بتاتا اپنے روم میں جانے لگا ۔۔۔
“کیوں ۔۔۔۔۔”
نور کے منہ سے بیساختہ فوراً نکلا تو اُس کے قدم تھمے ۔۔۔۔۔دل گزرے لمحوں میں بھٹکا۔۔۔۔اُسے لگا وہ کچھ دیر اور اُس کی موجودگی میں وہاں رہا تو نور پر اپنی جیت واضح ہوجائے گی۔۔۔۔۔
“بھوک نہیں ہے”
وہ آہستہ سے کہتا اپنے روم کی طرف بڑھ گیا نور وہی کھڑی اُس خالی جگہ کو پرسوچ نظروں سے دیکھتی رہی۔۔۔
اُس نے روم میں آکر بند دروازے سے لگتے ہوئے آنکھیں بند کی۔۔۔۔پچھلے کئیں سالوں سے وہ ایک درد ایک اذیت کے زیرِ تسلط تھا مگر آج اپنے خالی پن کا احساس دماغ پر بری طرح حاوی ہو رہا تھا۔۔۔جیسے اُس کے سامنے سمندر ہے اور وہ تشنہ لب کھڑا ہے۔۔۔۔جیسے وہ جس جانب پلٹ کر دیکھتا ہے وہاں ایک مسکراتا معصوم چہرہ ہے ۔۔۔نگہ التفات ہے۔۔۔۔۔۔ کھلی باہیں ہے۔۔۔بہار موسم ہے ۔۔۔۔سکون کا جہان ہے
مگر وہ اُسے اپنی منزل مان کر اُس میں پناہ لے بھی لے تو بدلے میں اُس کے پاس دینے کے لئے کیا تھا۔۔۔۔کیوں کے دل تو تہی محبت تھا۔۔۔۔۔۔جذبات تو تمام دفن کیے ہوۓ تھے۔۔۔۔۔اور بنا جذبات کے کسی سے جوڑنے والا احساس وقتی کشش یا ضرورت سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔
اور پچھلے کئی سالوں سے جو کبھی بے بس نہیں ہوا تھا آج اگر خود پر کنٹرول کھوتے ہوئے محسوس کر رہا تھا تو اُس کی ذمےدار اُسے صرف نور لگ رہی تھی۔۔۔۔
اُس نے جلتی سرخ آنکھیں کھولیں اور انگلیاں بالوں میں پھنسائے گہرا سانس فضا کے سپرد کیا جس کے ساتھ اندر کی کتنی ہی سوزش بھی شامل تھی۔۔۔۔
مگر اتنا کافی نہیں تھا اندر بھڑکتے الاؤ کو بجھانے کے لیے اُس میں تو جانے کب تک جلنا تھا۔۔۔۔۔
وہ شرٹ اُتار کر بیڈ پر پھینکتے ہوئے وہیں لیٹ گیا ۔۔۔۔
•••••
نور نے بجھے دل سے ہاتھ دھو کر بنا گرم کیے ہی اپنے لیے پلیٹ میں تھوڑا سا کھانا نکالا۔۔۔۔سوچیں مکمل طور پر شہیر کی جانب تھیں ۔۔اُسے وہ کچھ مضطرب۔۔۔۔کافی الجھا اُلجھا سا لگا۔۔۔اُس نے سوچا شاید کوئی کام کو لے کر ٹینشن ہو یا دیر ہونے کی وجہ سے بھوک نا ہو ۔۔یا سردی سے طبیعت نہ خراب ہوگئی ہو۔۔۔۔
غرض ایسے ڈھیروں خیالوں نے اُسے چین نہیں لینے دیا۔۔۔۔روٹی کا پہلا نوالہ بنا کے منہ تک تو لائی مگر پھر واپس پلیٹ میں رکھ دیا۔۔۔۔۔
اٹھ کر اُس کے لیے دودھ گرم کیا اور کچھ میڈیسنز کے ساتھ لے کر اس کے روم کی طرف بڑھی۔۔۔وہ پہلے کبھی اُس کی موجودگی میں اس کے روم میں نہیں آئی تھی پہلی دفعہ تھا ۔۔۔۔اُسے ناک کرنے کا سرے سے خیال ہی نہیں آیا ایک ہاتھ میں ٹرے لیے دوسرے سے دروازہ دھکیل کر اندر آگئی۔۔۔۔
مگر پھر اپنی بیوقوفی کا احساس ہوا ۔۔۔۔
وہ نیم اندھیرے میں بیڈ پر بنا شرٹ کے سیدھا لیٹا ہوا تھا آدھے پیر بیڈ سے نیچے تھے جوتے ابھی بھی پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔سموکنگ جاری تھی اور اطراف میں دھواں بکھرا ہوا تھا۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر بوکھلا گئی اور ٹرے میں گلاس لرز کر گرتے گرتے بچا۔۔۔۔
وہ اٹھ کر سرد نگاہوں سے یوں دیکھنے لگا جیسے وہ بنا اجازت اُس کے کمرے میں نہیں اُس کی دل و دماغ میں داخل ہوگئی ہو ۔۔۔اپنی اندرونی کیفیت کا اثر پھر الگ تھا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کر اُس کی طرف بڑھا ۔۔نور اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پا کر اُسے کچھ بولنے کے لیے لفظ ہی ڈھونڈھ رہی تھی کے اُس نے کلائی پکڑ کر نرمی سے اُسے کھینچتے ہوئے روم سے باہر کیا۔۔۔۔
وہ حیرت اور گھبراہٹ سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔
دل خوف سے تیز تر دھڑکنے لگا۔۔۔۔۔۔۔
دروازے کے باہر لا کر اُس کا ہاتھ چھوڑا۔۔۔
“میں آپ کے لیے یہ۔۔۔۔”
وہ جلدی سے بولی ۔۔۔۔حالانکہ گھبراہٹ ہو رہی تھی مگر اس سے پہلے کے وہ اُسے کچھ بھی کہے غصے کرے اُسے صفائی دے کر اپنے آنے کی وجہ بتا دینا چاہتی تھی مگر اُس کی بات مکمل ہونے اسے پہلے ہی شہیر نے گلاس اٹھا لیا اور اُس کی نظروں کے سامنے بھرا گلاس دھیرے دھیرے زمین پر انڈیل دیا۔۔۔۔
وہ حیرت زدہ سی اُس کے چہرے کو اور پھر خالی ہوتے گلاس کو دیکھنے لگی۔۔جب کہ شہیر کی نظریں اُس کے چہرے پر ٹکی تھی۔۔۔جیسے وہ اُسے بھی مضطرب کرکے اپنا بدلہ لینا چاہتا ہو۔۔۔۔۔
۔۔حالانکہ وہ اچھا اُس کے ساتھ کبھی بھی نہیں تھا مگر ایسا برتاؤ بھی نہیں کرتا تھا۔۔۔۔اُس کی آنکھیں جلنے لگی آنسو بے قابو ہونے لگے ۔۔جنہیں اُس نے بمشکل روک رکھا۔۔۔دودھ ختم ہونے کے ساتھ ہی اُس نے گلاس چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔۔وہ گر کے ٹوٹا نہیں مگر نور کے دل کے سیکڑوں ٹکڑے ہو گئے۔۔۔اُس کی نظریں وہیں خالی جگہ رکی رہ گئی ۔۔
“تھینک یو “
وہ آہستہ آواز اور سلگتے انداز میں بولتا واپس گیا اور دروازہ اتنی زور سے دھکیلا کے نور نے بے ساختہ آنکھیں میچ کر دِل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔آنسو بے ربط ہوتے گئے۔۔۔۔اُس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر سسکیوں کو اندر روکا اور ٹرے کنسول ٹیبل پر رکھ کر تیزی سے سیڑھیاں اُتر کر اپنے کمرے میں آئی اور پھر دل کھول کر روئی۔۔۔۔۔