قسط 14 حصہ 1
شبِ بے خوابی کی نظر ہوئی تھی اور صبح کچھ بوجھل بوجھل سی تھی۔۔۔ دل برہم تھا مگر زود پشیماں بھی تھا۔۔۔تبھی اپنی غلطی کا احساس کرکے وہ خود بھی بے چین بے چین رہا۔۔۔۔۔
رات جب کچھ دیر بعد واپس نیچے آیا تھا تو ٹیبل پر رکھی کھانے کی پلیٹ دیکھ کر ندامت بڑھ گئی تھی۔۔ویسے تو کئی بار دل دکھا کر بھی اُس نے معافی ضروری نہیں سمجھی تھی مگر آج دل مجبور کر رہا تھا۔۔۔۔
کیوں کے کبھی کبھی معافی مانگنا دوسروں سے زیادہ خود کے لیے ضروری ہوتا ہے۔۔۔۔۔
اُس کے دروازے پر دستک دی تھی مگر جواب نا ملنے پر خالی لوٹ گیا تھا۔۔۔
اور اب جب تیار ہو کے نیچے آیا تو دن الگ تھا۔۔۔
روز جیسا شاداب نہیں تھا ۔۔نہ آج اُس کے لیے ڈائننگ ٹیبل پر ناشتا لگا تھا۔۔۔نا وہ وہاں موجود تھی۔۔۔۔۔
نا کاؤنٹر پر کوئی کام کرتے ہوئے ۔۔۔نہ دور صوفہ پر کوئی کتاب پڑھتے ہوئے۔۔۔نہ فون پر کِسی سے بات کرتے ہوئے۔۔۔
ايذارساں ویرانی تھی۔۔۔۔۔دلسوز خاموشی تھی۔۔
مطلب رات کے اُس کے کارنامے کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا گیا تھا ۔۔۔
یہ دیکھ کر وہ اب اپنا معافی مانگنے کا ارادہ ترک کرچکا تھا افسوس بہر حال تھا مگر اب معافی مانگنے اور صلح کرنے کا مطلب ہوتا کے اُسے نور کی ضرورت ہے اور اُس کی غیر توجہی سے شہیر کو فرق پڑتا ہے۔۔۔
یہ حقیقت تھی مگر وہ خود ماننے کو راضی نہیں تھا تو اُسے پر آشکار کیسے ہونے دیتا ۔۔۔۔۔
سر جھٹک کر باہر کی جانب بڑھا ۔۔۔گھر سے نکل جانے کا ارادہ تھا مگر اتنی خود سری بھی اچھی نہیں لگی کے جانتے بوجھتے اُس کا دل دکھایا اور ایک دفعہ دیکھا تک نہیں کے کس حال میں ہے ۔۔۔۔
دل نے ملامت کی تو واپس پلٹ کر اُس کے روم کی طرف بڑھا آج یقیناً وہ اُس کے جانے تک باہر نہیں آنے کا قصد کرکے بیٹھی تھی۔۔۔۔
دروازے پر دھیرے سے دستک دی اور زیادہ انتظار کیے بغیر دروازہ کھول دیا کیوں کے اندر سے کھولےجانےکی اُمیدنہیں تھی۔۔۔۔۔وہ حقیقت میں دروازہ نہ کھولنے کا طے کیے سکون سے بیٹھی تھی کے ایکدم سے اُس کے آنے پر گڑبڑا کر اپنی جگہ سے اٹھی ۔۔۔ہاں مگر اُس کی طرف نظر ڈالنا گوارا نہیں کیا۔۔۔۔
‘میں جا رہا ہوں دروازہ بند کرلینا ۔۔۔۔”
اُس نے آہستہ سے کہا نور نے نہ جواب دیا نہ حامی بھری ۔۔۔نہ سر ہلا کر اشارہ بھی دینے کی زحمت کی ۔۔لا تعلق سی کھڑکی کے باہر دیکھنے لگی ۔۔۔ناراضگی کا یہ انداز قابلِ دید تھا ۔۔۔حالانکہ باتیں تو کبھی نارملی کی بھی نہیں تھی ۔۔۔۔خاموشی تو ہمیشہ سے وہاں موجود تھی ۔۔۔۔مگر اُس خاموشی میں بھی یہ دست کشی کتنی واضح محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
وہ چند سیکنڈ اُسے دیکھتا رہا پھر باہر آگیا ۔۔۔
نور نے اپنی سانسیں بحال کی دروازہ بند ہونے سے پہلے ایک نظر اُسے جاتے ہوئے دیکھا اور دوبارہ بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
حالانکہ اس بات کا برا لگ رہا تھا کہ وہ پہلی دفعہ کچھ کھائے بنا گھر سے جا رہا ہے اور کوئی مخصوص رگ بری طرح جھٹپٹا رہی تھی کہ جا کر اُسے روک لے اور ناشتا کرنے کو کہے۔۔لیکِن وہ اُسے اپنی انسلٹ کرنے کا ایک اور موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔۔
اچھا تھا کے وہ کسی کیئر ٹیکر کے ہی ذمے لگ جائے ۔۔۔کم سے کم اُس کے ساتھ ایسا سلوک تو نہیں کر پائے گا ۔۔۔
••••••
۔۔۔آفس میں وہ دن کافی بھاری گزرا تھا۔۔۔۔کِسی کام میں من لگائے نہیں لگ رہا تھا۔۔ کیا واقعی کِسی کی اس طرح بھی عادت لگ جاتی ہے ۔۔۔۔کیا واقعی معمول میں ذرا سا بدلاؤ اس قدر اثر انداز ہوتا ہے۔۔۔۔۔کیا واقعی اہمیت ملنے سے اُس کے چھین لیۓ جانے کا احساس زیادہ روح فرسا ہوتا ہے۔۔۔۔
۔۔سوچیں مزید اُلجھتی رہیں۔۔۔اور اُن الجھنوں کی گرہیں باوجود کوشش کے سلجھنے میں ناکام رہیں ۔۔۔۔
انور سے معلوم ہوا کہ گھر سے آرڈر آیا ہے جلد سے جلد ملازمہ کا انتظام کردیا جائے۔۔۔۔ یعنی وہ اپنی ہی ضد سے بلاخر پیچھے ہٹ گئی تھی ۔۔۔۔۔اُس نے انور کو ٹال دیا ۔۔۔۔اور اُس کے از حد ضروری کام گنوا کر اُسے بعض رہنے کا اشارہ کردیا ۔۔۔۔
کم سے کم ابھی کی صورتِ حال میں تو وہ ایسا ہرگز نہیں چاہتا تھا ۔۔ابھی تو دماغ جتن کر رہا تھا کے کیسے اپنی کی گئی غلطی سدھاری جائے اور معمول کم سے درست ہوجائے ۔۔۔۔کچھ تو دل کو اطمینان ملے ۔۔۔۔
اُس دِن کی رات بھی ویسی ہی صبر آزما تھی ۔۔
رات کو وہ گھر لوٹا تو ایسا لگا جیسے اپنے نہیں کسی اور کے گھر میں آگیا ہو ۔۔۔۔۔جہاں صدیوں سے کوئی ذی روح نہ رہتا ہو۔۔۔۔
گزيبو کے اطراف لگی پھولوں کی کیاریاں جو سب سے خوبصورت اور پر بہار تھیں۔۔۔۔وہ بھی سونی سونی لگ رہی تھی۔۔۔۔
۔۔اندر قدم رکھنے کا دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔صبر بس ایک دن میں جواب دے چکا تھا۔۔۔۔
#######
اگلے دن بھی موسم ویسا کا ویسا ہی تھا۔۔۔ہاں آج ٹیبل پر نہ سہی کچن کاؤنٹر پر باہر کی جانب فریش جوس کا گلاس اور پلیٹ میں کچھ سینویچیز رکھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔یعنی کل اُس کے بھوکے چلے جانے کا جو افسوس تھا آج ان ڈائریکٹلی اُس کا مداوا کرنے کی کوشش کی تھی مگر اُسے اس سب سے غرض نہیں تھی ۔۔۔وہ بس اُس کی موجودگی چاہتا تھا ہر روز گھر سے نکلتے ہوئے اُسے آس پاس اور ہر شام اُسے اپنا اِنتظار کرتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا وہ بھی بنا اس حقیقت کا اعتراف کیے۔۔۔۔
لیکن نور نے اس دفعہ اُس کی بے رخی کو بہت سیریسلی لیا تھا۔۔۔۔اور شاید قصد کرکے بیٹھی تھی کہ اُس کے سامنے نہیں جانا ہے۔۔۔۔
وہ گہری سانس لے کر اُس کے کمرے کے بند دروازے کو گھورتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔آج ویسے بھی وہ معمول سے کافی لیٹ تھا۔۔۔گاڑی تک پہنچا تو اُسے موبائل کی غیر موجودگی کا علم ہوا ۔۔۔۔وہ اپنی غائب دماغی پر چڑ سا گیا اور گاڑی کے ڈور کو واپس دھکیل کے دوبارہ اندر آیا۔۔۔۔
قسمت اُس پر مہربان تھی ۔۔۔۔
اُس کا اندر آنا اور نور کا روم سے باہر نکلنا بیک وقت تھا۔۔۔وہ اُسے دیکھ کر اپنی جگہ رک گیا تھا۔۔۔۔۔جب کے نور اُس کی آمد سے بے خبر بیگ میں کچھ ڈھونڈتی ہوئی جلدبازی میں باہر آئی تھی مگر کچھ قدم آگے بڑھتے ہی اُس کی موجودگی کو محسوس کرکے تھم گئی تھی۔۔۔مگر نظر اٹھا کر اُس کے جوتوں سے اوپر نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔نہ اپنی جگہ سے آگے پیچھے ایک بھی انچ ہٹی تھی۔۔۔۔دل زوروں سے دھڑک رہا تھا اور اپنی جلد بازی پر اُسے خوب ملامت کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اُس پر ایک مکمل نظر ڈال کر پھر اپنا موبائیل تلاشنے لگا تھا جب کے نور کافی تزبز میں کھڑی تھی۔۔۔
اُسے کالج کے لیے نکلنا تھا ۔۔۔۔۔وہ جو ہمیشہ وقت پر تیار ہو کر گھر سے نکل جاتا تھا آج پتہ نہیں کیوں اتنی دیر تک سوتا رہا ۔۔۔۔۔۔وہ تو طے کر چکی تھی کہ اُس کے سامنے ہی نہیں جانا بلکہ اب اُس کی طرف دیکھنا بھی نہیں ہے۔۔۔۔حالانکہ کل اُس کے بھوکے چلے جانے کا اُسے دن بھر افسوس رہا تھا اسلئے آج اُس نے اپنے آپ سے مجبور ہو کر اُس کے لیے سینویچ اور فریش جوس تیار کرکے کچن کاؤنٹر پر رکھ دیا تھا۔ بہت دیر تک اُس کے نیچے آنے کا انتظار کرتی رہی تھی اور اُس کی آہٹ محسوس کرتے ہی وہاں سے غائب ہوگئی تھی۔۔۔۔
اُس کی کلاس میٹس کے میسیج آرہے تھے۔۔۔۔سب اُس کے آنے کا پوچھ رہے تھے اور اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کرے۔۔۔۔جب آخر وہ گھر سے باہر نکلا تو اُس نے سکون کی سانس لی اور جلدی سے بیگ لے کر باہر آئی تاکہ اس کے گھر سے جانے تک دروازے وغیرہ بند کرلے اور اُس کے نکلتے ہی خود بھی کالج کے لیے نکل سکے مگر اب اُس کا واپس آنا سب کیے کرائے پر پانی پھیر گیا۔ ۔۔
اُسے اپنا موبائل ڈائننگ ٹیبل پر ملا مگر پتہ نہیں دماغ میں کیا آئی کے اُس نے فون اٹھایا نہیں بلکہ تلاش جاری رکھتے ہوئے چند سیکنڈ بعد اُسے دیکھا ۔۔۔
“فون نہیں مل رہا ہے دیکھا تم نے کہیں۔۔۔۔”
وہ اُسے بولنے پر اکسا رہا تھا ۔۔
صرف تھوڑی سی توجہ کی طلب تھی۔۔۔
کسی بھی قیمت ۔۔۔۔کسی بھی صورت۔۔۔
اور اُس کوشش میں خود کو بھی حیران کردیا۔۔
نور نے اُس کے مخاطب کرنے پر بیزاری سے سانس لیتے ہوئے لا تعلقی سے نظریں آس پاس دوڑائیں ۔۔۔۔اور اُسے فون ٹیبل پر نظر آگیا مگر وہ اُسے جواب نہیں دینا چاہتی تھی۔۔۔
دل تو کہہ رہا تھا کے فون اٹھا کر اس کے ہاتھ میں رکھ دے مگر اُس نے خود کو بعض ہی رکھا ۔۔۔۔
اور جب نظر کاؤنٹر پر بھرے جوس کے گلاس اور سنڈویچ کی پلیٹ پر گئی تو غصے سے ارادہ اور مضبوط ہوگیا۔۔۔
اوپر سے شہیر کی قسمت اتنی بھی مہربان نہیں تھی ابھی۔۔وہ جو بہانے سے اُس کا راستہ روکے کھڑا تھا اُس کا فون خود ہی بج کے اعلان کرگیا کہ میں یہاں ہوں ۔۔۔۔اور اُس کے کیے کرائے پر پانی پھیر گیا۔۔۔۔
اس نے فون کو ایسے گھورا جیسے وہ نور کے ساتھ ملا ہوا ہو۔۔۔۔جانے کیوں طبیعت سخت بے چین ہوگئی تھی اور ذہن بے حد مشتعل ہو گیا تھا۔۔۔۔وہ اپنے آپ سے ہی بھاگ بھی رہا تھا اور دوسری طرف سب ٹھیک کرنے کی جی جان سے چاہ بھی تھی ۔۔۔۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے ہر چیز اُس کے خلاف جا رہی ہو خود اپنا آپ
بھی کنٹرول میں نہ ہو۔۔۔اور اس سب کی وجہ پرسکون اُس کے سامنے کھڑی تھی جیسے اُسے بے بس کرکے اُس پر ہنس رہی ہو۔۔۔۔۔
وہ فون چھوڑ کر نور کو غصے سے دیکھتا اُس کی طرف بڑھا اور اُس کا بازو پکڑ کر جھٹکے سے اُس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔۔انداز کافی جارحانہ تھا کہ وہ اس ایکدم حملے پرگھبرا گئی۔۔۔۔
“کیا ہے یہ سب ہاں۔۔۔۔۔کیا کرنے کے کوشش کر رہی ہوتم “۔
وہ نہایت طیش میں آکر اُس پر بھڑکا ۔۔۔۔نور کا دل مارے خوف کے پورے وجود پر حاوی ہونے لگا ۔۔۔۔
“کیا کروانا چاہ رہی ہو مجھ سے۔۔۔۔۔جھکانا چاہ رہی ہو مجھے اپنے آگے۔۔۔۔۔کس بات کا اٹیٹیوڈ ہے یہ ۔۔۔اگر تمہیں لگ رہا ہے نہ کے اس سب کا مجھ پر کوئی اثر ہوگا تو بیوقوفی ہے تمہاری۔۔۔۔۔کوئی فرق نہیں پڑتا مجھے اس سب سے۔۔۔۔انڈرسٹینڈ۔۔۔۔۔۔”
وہ اتنی سختی سے جو کہہ رہا تھا اُس میں کتنی سچائی تھی خود اُس کا انداز ظاہر کر رہا تھا۔۔۔۔نور کو اُس پر افسوس کے ساتھ غصّہ بھی آیا۔۔۔کہ وہ بجائے اپنی حرکت پر شرمندہ ہونے کے اُس پر ہی دھونس جما رہا تھا۔ ۔۔
لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ وہ اپنے آپ میں ہی چل رہی ایک مُسلسل جنگ سے تھک چکا تھا ۔۔ ۔۔۔
وہ اسی شعلہ زن انداز میں اس کا بازو جھٹکتا لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔
نور نے پہلی دفعہ اُس کی خاطر ایک آنسو نہیں بہایا۔۔۔۔۔بس خود کو سمجھا کر اُسے ذہن سے جھٹکنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔جو کے نا ممکن تھا
+++++++
دو دن مزید ایسے ہی گزر گئے تھے ۔۔۔۔
رنجشیں تو ہمیشہ سے ہی تھی مگر اب معاملہ کچھ الگ تھا۔۔۔۔۔۔۔اب سرد مہری اور غصے کی ایک جنگ چل رہی تھی اور دونوں طرف سے کافی زوردار حملے ہو رہے تھے ۔۔۔۔دونوں طرف ہی چوٹ برابر تھی۔۔۔دونوں اندر ہی اندر بے چین بھی تھے۔۔۔مگر جنگ تھمنے کے آثار کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔
نا نور پیچھے ہٹنے کو تیار تھی نہ وہ آگے بڑھ کر صلح کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔بھلے منتظر ایک دوسرے کی جانب سے دونوں ہی تھے کے کوئی پہل کریگا۔۔۔۔
حلانکہ نور کو اُس سے کوئی خاص اُمید نہیں تھی ۔۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی شہیر کے نزدیک اُس کی کوئی خاص حیثیت ہے ہی نہیں ۔۔۔۔وہ تو ہمیشہ سے اُس کی زندگی میں ایک ذبردستی کا اضافہ ہی رہی ہے۔۔۔۔اُس کے بات کرنے نہ کرنے سے لا تعلقی برتنے سے شہیر کو کیا ہی فرق پڑ جائیگا۔۔۔ اور اسی حقیقت کو مدِ نظر رکھ کر اُس نے آج تک ہر معاملہ درگزر کیا تھا۔ ۔۔۔۔اُس کی ہر بات ہر حرکت کو کچھ وقت رو کر ذہن سے جھٹک دیا تھا ۔۔۔لیکن اب سب بدل گیا تھا۔۔۔۔۔۔جیسے اُس کا ہونا نہ ہونا شدت سے محسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔جیسے دل خود سے زیادہ اُس کی فکروں میں مشغول رہتا تھا۔۔۔۔۔۔ویسے ہی اُس کے کٹھور انداز بھی پوری قوت سے دل پر ضرب دیتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
انہیں سوچوں کہ زیرِ اثر وہ دلبرشتہ ۔۔۔گم سم سی چوپنگ بورڈ پر کاندا رکھے چاقو چلا رہی تھی جب سیڑھیوں پر بھاری قدموں کی آواز سن کر بے خیالی میں نظریں اوپر اٹھاکر اُس کی جانب دیکھا۔۔۔دھیان بھٹکتے ہی س کی انگلی چاقو کے نیچے آگئی ۔۔۔اور گہرا کٹ لگ گیا ۔۔۔۔اُس نے سسک کر لب بھینچے ۔۔۔اور درد کے احساس پر آنکھیں سختی سے میچ لیں۔۔۔۔۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں اتر کے پاس آیا اور اُس کا ہاتھ تھاما ۔۔۔۔نور نے آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا اور ہاتھ فوراً واپس کھینچ لیا ۔۔۔شہیر نے اُسے غصے سے گھور کر دوبارہ ہاتھ پکڑ کر اپنے سامنے کیا ۔۔۔۔وہ آنسو بھری آنکھوں سے اُسے دیکھتی ہاتھ کھنچنے کی مسلسل کوشش کر رہی تھی لیکن اس دفعہ پکڑ مضبوط تھی۔۔۔۔۔وہ کاؤنٹر سے ٹشو وائپس اٹھا کر پہلی اُنگلی سے بہتے خون کو اُس میں جذب کر رہا تھا اور وہ خفگی سے اُسے دیکھتی بے آواز رو رہی تھی احتجاج بے زور ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔اشکوں میں اور روانی آرہی تھی ۔ ۔۔۔چہرے پر درد کے نمایاں تاثرات تھے ۔۔۔۔۔
اس چوٹ کا درد تو شامل تھا ہی ساتھ مسیحائی کا یہ مرہم بھی کافی پُر اثر تھا۔۔۔
لیکن اس کے بعد کیا ہونا تھا۔۔۔وہی جو ہمیشہ ہوتا تھا ۔۔۔دو پل کی عنایت پھر لا تعلقی ۔۔۔۔ پھر بے رخی۔۔۔وہ اس سلسلے سے اُوب چکی تھی
اس نے پلکیں جھپکیں۔۔۔۔۔ سانس نگلی اور پوری قوت سے ہاتھ کھینچ کر چھڑالیا۔۔۔اُس کی گرفت کمزور تھی اسلئے با آسانی چھوٹ گئی ۔ ۔۔۔۔شہیر نے سرد سپاٹ نظروں سے گھورا مگر آگے کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔
“اتنی سی چوٹ سے نہیں مرتی میں ۔۔۔۔آپ فکر مت کیجئے کوئی مصیبت نہیں آئےگی آپ پر۔۔۔۔۔”
وہ اُس کی آنکھیں میں دیکھ کر تیکھے۔۔۔۔ جتاتے انداز میں بولی اور بیسنگ کے قریب آکر نل کھولے ہاتھ دھونے لگی۔۔۔۔۔شہیر کو اُس کے طنز نے پوری جان سے سلگا دیا۔۔۔۔
نور نے اُسے اور اس کے پُرضبط تاثرات کو مکمل اگنور کرکے گیس فلیم آن کرتے ہوئے اُس پر فرائے پین رکھا ۔۔۔لیکن اگلے ہی سیکنڈ شہیر نے ہاتھ بڑھا کر فلیم واپس بند کیا اور پین کا ہینڈل پکڑ کر اُسے زمین پر دے مارا۔۔نور کے پیروں سے تھوڑی سی دوری پر کہ وہ گھبرا کر دور ہٹی ۔۔۔۔دل سہم کر سکڑ گیا ۔۔۔
حیرت اور صدمے سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔
وہ دانت غصے سے بھینچے اُس کی کلائی درشتگی سے تھام کر اُسے لیے کچن سے نکلا اور ڈائیننگ چیئر کا رخ پیر سے موڑ کر اُس پر بٹھایا۔۔۔ایسے غضب ناک تیور تھے کے وہ فرسٹ ایڈ باکس لینے کو اُس سے دور گیا تو بھی وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں پائی۔۔۔
اُسی لٹھ مار انداز میں پٹی کی گئی تب تک ۔نور خاموش ضبط کرکے بیٹھی رہی ورنہ دل میں تو آرہا تھا کے اُسے خوب سنائے جو کبھی سیدھے منہ بات نہیں کرتا تھا اور کبھی اتنے رعب سے اپنا حق جتاتا تھا۔۔۔
“جو کھانا ہے باہر سے آرڈر کرلو۔۔۔۔کچن میں اینٹر کرنے کی کوشش بھی مت کرنا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔
وہ باہر نکلنے سے پہلے اُسے جتانا نہیں بھولا ۔۔۔
نور نے اُس کے پلٹتے ہی اُسے خشم آلود نظروں سے گھورتے ہوئے سوچا کے کہہ دے “تم سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔”۔۔مگر ابھی اُس کے غصے کا تھوڑا تھوڑا خوف قائم تھا اس لیے نہ کہنے میں عافیت جانی۔۔
وہ جاتے جاتے دروازے سے تھوڑے فاصلے پر رک گیا۔۔۔۔تو نور کی آنکھوں میں حیرت اُبھری کہ کہیں اُس کی سوچ پڑھ تو نہیں لی۔۔۔۔۔اور چند سیکنڈز کے توقف سے وہ پلٹا تو اُس نے گڑبڑا کر نظروں کا رخ بدلا ۔۔۔۔۔
وہ سنجیدہ اور پرسوچ نظروں سے اُسے دیکھتا اُس کی طرف بڑھنے لگا اور جانے کیوں اُس کے بڑھتے قدموں سے نور کو گھبراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔۔۔آس پاس خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگی۔۔۔۔۔اور تو اور اُسے اپنے ڈوپٹے کی غیر موجودگی کا بھی اب علم ہوا۔۔۔جو وہ ایپرن باندھنے کے لیے جانے کہاں فراموش کر چکی تھی ۔۔۔
لیکن وہ جاتے جاتے واپس کیوں آرہا تھا۔۔۔۔پھر کوئی دھمکی یا آرڈر دینے۔۔۔۔یا اُسے کِسی غلطی پر سنانے ۔۔۔۔۔یا اپنی سختی کا افسوس کرنے ۔۔۔۔یہ کوئی چیز بھول گئی تھی وہ لینے۔۔
بیس قدم کا فاصلے عبور کرکے جب تک وہ اُس کے نزدیک پہنچا تب تک وہ کم سے کم پچاس قیاس لگا چکی تھی اور جب اُس کے سر پر آن پہنچا تو آنکھیں پھیلائے حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ کھوئے کھوئے سے انداز میں۔۔۔کسی بے خودی کے زیرِ اثر اُس کی پھٹی پھٹی آنکھوں میں دیکھتا ٹیبل پر ہاتھ رکھے اُس کی جانب جھکا اور پیشانی پر آہستہ سے لب رکھتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کی۔۔۔۔۔
وہ جو اُسے اپنی طرف جھکتے دیکھ صدمے سے بوکھلا ئی ہوئی تھی۔۔۔۔اُس کی خوشبو کے احساس پر سانس روک چکی تھی ۔۔۔اور جسم خوف سے لرز رہا تھا۔۔
اُس کے لبوں کا دہکتا ہوا لمس اپنے وجود پر محسوس کرتے ہی سر سے پیر تک سن ہو گئی ۔۔۔۔دھڑکنیں تھم گئیں اور نظر ہنٹر گرین شرٹ کے گریبان پر لگے بلیک بٹن پر رکی رہ گئی۔۔۔۔۔۔
وہ پیچھے ہوا اور جلتی آنکھیں کھول کر اُسے دیکھا۔۔۔جس طریقے سے وہ اپنے دیئے دکھ کا ازالہ کرنا چاہتا تھا۔۔۔اُس انداز نے کتنا اثر دکھایا ہے ڈھونڈھنے کی کوشش کی مگر اُسے کوئی تاثر نظر نہیں آیا۔۔۔۔
ٹیک کیئر ۔۔۔۔۔
وہ مدھم سا کہتا پیچھے ہو کر پلٹ گیا اور اُس کے دور ہونے پر نور نے میکانیکی انداز میں نظریں اٹھا کر اُسے جاتے ہوئے دیکھا ۔۔۔۔اور بس دیکھتی رہی ۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ وہ اُس کی نظروں سے اوجھل بھی ہو چکا تھا۔۔۔۔۔مگر نور کو اُس کی موجودگی اپنے بہت پاس کہیں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
اندر جیسے ایک آتش فشاں جل اٹھا تھا ۔۔۔۔۔اور جسم سے سینکڑوں چنگاریاں پھوٹ رہی تھی۔۔۔۔
دل نے کئیں راز فاش کردیئے تھے ۔۔۔۔
اب تک جو بس ایک احساس بن کر پنہاں تھا اُس کو نام دے کر اجاگر کر دیا تھا ۔۔۔۔۔