قسط 16 حصہ 1
یا اللہ ۔۔۔۔کچھ تو رحم کر مجھ پر ۔۔۔۔
کتنا اور کیسے ڈیل کروں میں اپنے آپ سے۔۔۔۔
اگر طے کرلیا ہے کے اُن کے سامنے کمزور نہیں پڑنا تو مجھے اتنا تو حوصلا دے کے اپنی بات پر قائم رہوں۔۔یہ سب کیا ہو رہا ہے مجھ سے ۔۔۔۔
وہ کلاس میں ہو کر بھی غیر موجود تھی۔۔۔۔چہره ہتھیلی پر ٹکائے۔۔۔۔کھڑکی کی جالی سے باہر پیپل کے درخت پر بنے بایا کے گھونسلے کو دیکھتی افسردہ سی اپنی ہی سوچوں میں مگن تھی ۔۔۔۔۔۔ بس دل ایک ہی دعا کر رہا تھا کہ یا تو وہ رنگ اس کے ذہن سے نکل جائے یا شہیر کے ہاتھ سے۔۔۔۔۔
اس نے کتنا بڑا قدم اٹھایا تھا اُس رنگ کو نکلوانے کے لیے۔۔۔اپنے مزاج کے خلاف ضدی اور بچکانہ پن پر اتر آئی تھی دل کے ہاتھوں۔۔۔۔
۔۔لیکِن تب بھی ناکام رہی تھی ۔۔۔۔۔حالانکہ شہیر نے تو کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔۔۔نہ رنگ نکالنے کے لیے نہ پہننے کے لئے۔۔۔۔اُسے پورا موقع دیا تھا کوشش کا۔۔۔لیکِن تب بھی اُسے بہت غصّہ آرہا تھا کہ کیا اسٹک رنگ نکالنے کے اور طریقے نہیں ہے جو وہ اس بہانے اپنی محبوبہ کی نشانی کو سنبھال کر رکھ رہا ہے ۔۔۔ بلکہ شاید وہ تو خوش تھا کہ اُسے اچھا بہانہ مل گیا۔۔۔۔
اور اس سوچ پر وہ ٹھٹھک کر رکی کے طریقے جب اور بھی ہے تو وہ کیوں ہار مان رہی ہے ۔۔۔۔۔اگر وہ بہانہ بنا کر اپنی پر اڑا رہ سکتا ہے تو وہ بھی بہانے سے اپنی منوا سکتی ہے ۔۔
پھر وہ سیدھی ہو کر وہائٹ بورڈ پر نظریں جمائے اُن طریقوں پر عمل کرنے کا سوچنے لگی جو اس پلان میں کارآمد ثابت ہوسکتے تھے۔۔۔۔
اُسے کِسی بھی طرح شہیر کو جویلری شاپ لےجانا تھا کیوں کہ رنگ نکالنا وہیں مکمن تھا ۔۔لیکن وہ اُسے کیسے کہے گی۔۔۔۔۔ کیسے جانے کے لئے راضی کرے گی ۔۔۔اور اگر اس نے منع کردیا تو ۔۔۔۔اور پھر یہ بھی ثابت نہیں کرنا تھا کہ وہ رنگ والے معاملے کو لے کر اتنی سیریس ہے کے آجکل بس ترکیبیں سوچنے پر ممعمور ہے ۔۔۔۔
سوال پر سوال تھے اور جواب نا معلوم۔۔۔۔۔۔
کلاس ختم ہونے کے بعد باہر نکل آئی اور سست روی سے چلتے ہوئے پارکنگ تک پہنچی۔۔۔اُس کا باقی لیکچرز اٹینڈ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔۔ویسے بھی آجکل وه کالج میں ہو کر بھی پڑھائی میں دھیان نہیں لگا پاتی تھی ۔۔۔۔۔
چابی بیگ سے نکالتے ہوئے اچانک اُس کے ذہن میں ایک خیال آیا اور اُس نے اسکوٹی کے پچھلے ٹائر کو دیکھا۔۔۔۔اُسے شہیر کو بلانے کا ایک راستہ نظر آیا ۔
لیکن ایسا خرافاتی کام کرنا اُس کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔تبھی وہ شش و پنج میں ناخن چباتی خود سے ہی ٹال مٹول کرتی رہی۔۔۔۔۔
کبھی” کونسی بڑی بات ہے “سوچ کر ہاں میں۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کبھی “بچگانہ حرکت ہے”سوچ کر ناں میں سر ہلایا ۔۔۔
اور بلاآخر”” محبت اور جنگ میں سب جائز ہے ” کے جواز پر خود کوحوصلا دے کر ہیئر کلپ بالوں سے نکال کر ٹائر کی ہوا غائب کر دی۔۔۔۔
شاید ہی اپنی زندگی میں کبھی ایسے حربے انجام دیئے تھے ۔۔۔۔پہلی دفعہ تھا وہ کِسی بات کو لے کر اتنی جنونی ہوگئی تھی کہ کچھ بھی کر گزرنے کو تیار تھی۔۔۔۔
اس کے بعد ایک اور فعل انجام دیا تھا۔۔۔۔۔۔شادی ہوئے تقریباً پانچ مہینے گزر چکے تھے اور اس عرصے میں آج پہلی دفعہ اُس نے شہیر کو کال کی تھی۔۔۔۔
وہ بھی کم حیران نہیں تھا ۔۔ ۔۔ایبرو اٹھا کر کچھ سیکنڈ بہت غور سے سکرین کو دیکھتے ہوئے یقین کیا اور تب فون کان سے لگایا۔۔۔لیکن دوسری جانب صرف خاموشی سنائی دی۔۔۔۔۔آس پاس کی مدغم آوازیں تو آرہی تھی مگر کال کرنے والی چپ تھی۔۔۔
اس کی منہ کھولنے کی ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔لفظ زبان پر نہیں آرہے تھے اور آواز حلق سے باہر نہیں نکل رہی تھی ۔۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے۔۔۔ ۔”
وہ فون رکھنے ہی والی تھی کے شہیر نے اُس کی ہچکچاہٹ محسوس کرکے اُسے مخاطب کیا ۔۔۔۔۔۔اس نے گہری سانس لے کر آنکھیں بند کرکے کھولیں اور ہمت جمع کی ۔۔
ہاں وہ ۔۔۔۔ اسکوٹی کا ٹائر پنکچر ہو گیا ہے۔۔۔۔۔اور میں” کب سے دیکھ رہی ہوں لیکِن کوئی ٹیکسی رکشا بھی نہیں مل رہا۔۔۔۔اگر آپ مصروف نہیں ہے تو کیا مجھے لینے آسکتے ہے ۔۔۔۔۔۔”
اس نے سانس روکے اپنی بات مکمل کی۔۔۔۔۔۔کتنا عجیب تھا پہلے کتنی بار اُس کی پیشکش کو ٹھکرانا اور اب خود اُسے بلا کر ہیلپ لینا۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔ پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں ۔۔۔”
شہیر نے مختصر جواب دے کر فون بند کیا اور اُس نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔۔۔ایک محاز جو سر کر لیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔وہ کالج گیٹ کے باہر آکر اُس کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔اس بات سے بے خبر کے دور ایک گاڑی میں بیٹھا کوئی اُس پر مسلسل نظر رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔
موسم خاصا خوش گوار تھا۔۔۔۔۔دن میں سردی کی شدت بہت زیادہ نہیں لیکن بلکل کم بھی نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔۔۔سورج ویسے بھی مشکل سے ہی موسم پر اثر انداز ہوتا تھا ۔۔۔لیکِن آج بادلوں نے آسمان کو گھیر کر دو پہر میں ہی شام سا سماں باندھا ہوا تھا۔۔۔۔۔۔
جیسے ابھی اندھیرا ہوجائےگا۔۔۔۔۔
کیا ہوا نور اس طرح باہر کیوں کھڑی ہو ۔۔۔”
اسے چند منٹ گزرے تھے وہاں کھڑے ۔۔۔۔جب ایک کلاس میٹ اُسے دیکھ کر رک کر سوال کرنے لگا ۔۔۔
گھر جا رہی تھی۔۔۔ لیکن دیکھا تو ٹائر پنکچر ہے ۔۔۔۔”
اس نے سادگی سے جواب دیا۔۔۔
اوہ ۔۔۔کوئی بات نہیں آؤ میں تمہیں گھر ڈراپ کردیتا ہوں۔۔۔۔
اُس نے فراخ دلی سے پیش کش کی ۔۔۔۔
نہیں میں چلی جاؤں گی۔۔۔آپ۔۔۔۔۔۔۔
نور نے مسکراتے نفی کی لیکن اچانک دھیان اپنے سامنے سڑک پر آکر رکنے والی گاڑی پر گیا تو بات ادھُوری چھوڑ کر اُس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔وہ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر باہر نکلا تو دھڑکنوں کی رفتار تیز ہونے لگی ۔۔۔۔۔
کم آن یار۔۔۔۔اتنا فارمل ہونے کی ضرورت نہیں” ہے۔۔۔ویسے بھی میں اسی طرف جا رہا ہوں ۔۔ایک ہی راستہ ہے ہمارا۔۔۔۔۔۔
وہ لڑکا دوستانہ انداز میں بول رہا تھا ۔۔۔۔نور کا دھیان اُس کی طرف نہیں تھا لیکن شہیر آگے بڑھتے ہوئے ترش نظروں سے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔اور اُس کے آخری جملے پر تاثرات مزید سخت ہوئے تھے۔۔۔۔
“چلو “
اس نے نور کی جانب دیکھے بنا ہی اُسے پُکارا ۔۔۔۔۔
ایکسکیوز می ۔۔۔۔آپ کون ہے۔۔۔۔
نور کے قدم بڑھانے سے پہلے ہی اُس لڑکے نے شہیر کو سر تا پیر دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔۔اُس کے ڈرائیور ہونے کا خیال آتےہی جھٹک دیا کیوں کے ایسا سوچنا بھی بیوقوفی تھی۔ ۔۔۔۔۔۔سیاہ بےشکن شرٹ اور ٹراوزر۔۔۔کہنی تک فولڈ کی ہوئی آستین ،کلائی میں بندھی قیمتی گھڑی۔۔۔اور بلیک سن گلاسز۔۔۔۔۔۔ دل پذیر وجاہت۔۔۔۔۔۔۔اُس پر انداز و اطوار ہرگز عامیانہ نہیں تھے۔۔شاید تبھی آس پاس سے گزرتے لوگ بھی نظر بھر کر اُس شان دار شخص کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
“میرے ہسبنڈ”
نور نے دھڑکتے دل سے اُس کی جانب دیکھ کر بہت مدھم سی آواز میں جواب دیا۔۔۔۔شہیر نے اُس کی جانب دیکھا تو گلاسز کے پار سے بھی اُس کی نظریں محسوس کرتی فوراً پلکیں جھکاگئی۔۔۔۔۔۔۔۔جب کے وہ لڑکا جو بس پوچھنے والا تھا کہ کیا تمہارا بھائ ہے ۔۔۔۔نور کے اس انکشاف پر شاک رہ گیا۔
تم شادی شدہ ہو۔۔۔۔۔۔”
بے ساختہ بے یقینی سے سوال کیا تو نور نے ہلکا سا مسکرا کر سر ہاں میں ہلا دیا۔۔۔۔وہ بھی اپنی حیرت سے نکل کر مسکراتے ہوئے شہیر کی جانب متوجہ ہوا جو دونوں ہاتھ ٹراوزر کی پاکٹس میں ڈالے اُسے سنجیدگی سے دیکھ بلکہ گھور رہا تھا۔۔۔۔
سوری سر مجھے معلوم نہیں تھا ۔۔۔نائس ٹو میٹ” یو۔۔۔۔”
اس نے خوش دلی سے ہاتھ ملانے کو آگے بڑھایا ۔۔۔۔شہیر نے ہاتھ جیب سے نکال کر اُس سے ملانے کی بجائے نور کا ہاتھ تھاما اور اُسے پر عتاب نظروں سے گھور کے گاڑی کی طرف بڑھا۔۔۔جب کے وہ شرمندہ سا مُٹھی بند کرکے ہاتھ نیچے کر گیا۔۔۔۔
نور اُس کی بد لحاظی دیکھ کر بھی کچھ کہنے سے قاصر تھی۔۔۔۔ایک تو وہ اتنا سیدھا تھا ہی نہیں کہ اُس کے کچھ کہنے کا اثر لے لے ۔۔دوسرا اس وقت وہ اپنے ہی آپ میں اُلجھی ہوئی تھی ۔۔
اس کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے کچھ انجان اور کچھ شناسا لوگوں کی ستائشی نظروں سے ۔۔۔۔عجیب سا سرور اور سرشاری محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔۔۔ ایک مان سا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔پیٹ میں سیکڑوں تتلیاں اُڑ رہیں تھیں ۔۔۔۔دل کا سائز جیسے دھیرے دھیرے بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔
کبھی وہ اُس کے چہرے کو دیکھتی کبھی اُس کے ہاتھ میں موجود اپنے ہاتھ کو۔۔۔۔۔
شہیر نے اُس کا ہاتھ چھوڑ کر اُس کے لیے فرنٹ ڈور کھولتے ہوئے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ چونک کر سنبھلی اور اندر جا بیٹھی ۔۔۔
شہیر نے اُس سے چابی لے کر اپنے ساتھ آئے ملازم کو تھمائی گاڑی کے متعلق کچھ انسٹرکشن دے کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا۔۔۔۔۔
گاڑی آگے بڑھتی رہی اور دل دھک دھک کرتا رہا۔۔۔۔
وہ مسلسل گاڑی کے باہر دیکھتی آگے کا سوچ کر ہمت جٹا رہی تھی ۔ ۔۔ اس کا مقصد کسی جویلری شاپ پر گاڑی رکوانا تھا لیکن ایک کے بعد ایک دو تین شاپس گزرتی جا رہی تھی لیکن وہ اُسے گاڑی روکنے کا کہہ سکے اتنا حوصلا نا پید تھا۔۔۔۔۔
تب اُس نے دزدیدہ نظروں سے اسٹیئرنگ پر رکھے ہاتھ کی اُنگلی میں چمکتی رنگ دیکھی اور ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔۔اس حقیقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اپنا ارادہ مضبوط کیا ۔۔۔
“سنیے۔گاڑی روک دیں گے ذرا۔۔۔۔۔۔”
اگلی شاپ دور سے دیکھ کر ہی وہ جلدبازی میں بولی تو نا چاہتے ہوئے بھی لہجے میں لرزش تھی ۔۔۔۔
شہیر کو کب سے انتظار تھا کے جو کشمکش اُسے دکھائی دے رہی ہے اُس کا خلاصۃ ہو ۔۔۔اُس نے ایک نظر اُسے دیکھتے بریک لگا دیا اور پھر گلاسز نکال کر سوالیہ نظروں سے اُسے دیکھا ۔۔۔
“وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔”
وہ اُس کے دیکھنے پر نروس ہوئی ۔۔اور بات ادھُوری چھوڑ کر نظریں جھکاتی لب کاٹنے لگی ۔۔۔۔
“بولو سن رہا ہوں ۔۔۔۔”
شہیر نے اُس کی حرکت پر مضطرب ہو کر نظروں کا رخ بدلا۔۔۔
“وہ جویلری شاپ دیکھ کر مجھے یاد آیا کہ وہاں اسٹک رنگ بھی نکال دیتے ہیں وہ۔۔۔۔۔اگر آپ چاہے تو ہم آپ کی رنگ نکلوا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔””
اس نے بہت ڈرتے جھجھکتے۔۔۔۔اُس کے تاثرات کو زیرِ خیال رکھتے نہایت معصومیت سے بات بنائی ۔۔۔۔۔۔
‘تم ایسا چاہتی ۔۔۔”
شہیر نے اُس کی آنکھوں میں جھانک کر بے حد آہستگی سے پوچھا۔۔۔۔
‘نہیں تو۔۔۔وہ تو میں۔۔۔۔۔۔۔”
وہ اُس کے انداز پر بری طرح گڑبڑا گئی۔۔جیسے چور پکڑا گیا ہو۔۔۔۔سانسیں بے ترتیب ہوگئی تھیں ۔۔۔
شہیر نے نظروں کا رخ بدل کر اُس کی مشکل آسان کرنی چاہی۔۔۔۔۔
میں نے کہیں سنا تھا کے۔۔۔۔یہ ۔رنگ۔۔۔۔مطلب۔۔یہ بلیک ڈائمنڈ جو ہے۔۔۔۔۔رنگ فنگر میں پہننا اچھا ہوتا ہے۔۔۔باقی جو آپکو مناسب لگے ۔۔۔۔۔
وہ بے ترتیب جملے بولتی ہوئی۔۔اُس کے چہرے کو دیکھتی سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا فرق نظر آتا ہے۔۔۔لیکن وہ بھی ایسا سل کا پتھر تھا جس کے چہرے سے اُس کا اندر سمجھنا ناممکن تھا۔۔۔۔۔
“۔۔۔۔باہر آجاؤ ۔۔۔۔”
وہ ہمیشہ کی طرح کنجوسی سے جواب دیتا خود باہر نکل گیا۔۔۔۔نور کے لیے تو جیسے جنگ آدھی جیت لینے جیسے تھا ۔۔۔وہ بھی جلدی سے باہر نکلی اور دونوں شاپ کی طرف بڑھے ۔۔
کاٹنی پڑےگی سر ۔۔۔۔۔ویسے نکالنا ممکن نہیں ہے۔ ۔
وہاں موجود ایک با وردی ورکر نے رنگ کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا ۔۔۔
تو جلدی کاٹ دیجئے نہ۔۔۔۔۔
نور نے ایک دم سے جواب دے کر زبان دانتوں میں دبائی ۔۔۔ ۔۔۔اور سر جھکا کر۔۔۔آنکھیں میچ کر اپنی بیوقوفی کو کوسا ۔۔۔۔
جب کے شہیر اُس کی مستعدی پر اُس کی جانب دیکھے بنا غیر محسوس سا مسکرا دیا۔۔۔۔۔اور اُس شخص کو سر سے مثبت اشارہ کیا ۔۔۔
اور بلاآخر اُس نے جنگ فتح کرلی۔۔۔۔۔وہ رنگ ٹوٹ کر کانچ کے کاؤنٹر پر گری تو اُس معمولی سی کھنک میں کتنا سکون تھا یہ صرف ماہ نور شہیر جانتی تھی۔۔۔دل میں ٹھنڈک پڑ گئی تھی۔۔۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا اس فتح پر دو چار خوشی کے آنسو بہا لے کیوں کے اُس کی ہفتوں کی بے سکونی۔۔۔۔۔بے خوابی۔۔۔اور ذہنی انتشار کی وجہ کا اختمام ہو گیا تھا۔۔۔۔لیکِن شہیر کی وجہ سے اُس نے اجتناب کیا ۔۔کہ اُسی کسی خوش فہمی میں مبتلا تھوڑی کرنا تھا۔۔۔۔
شہیر نے اُس کی لائی رنگ اور مطلوبہ ہاتھ دونوں اُس کی طرف بڑھائے۔۔۔۔۔اُس کے مطمئن چہرے کو نظروں کے حصار میں رکھے ۔۔۔۔۔۔
نور نے اُس کے اتنے سنجیدگی سے دیکھنے پر نظریں جھکا کر رنگ ہاتھ میں لے لی ۔۔۔۔
ایک نشان بنا ہوا تھا اُس رنگ کی جگہ ۔۔۔جسے غائب ہونے میں کچھ وقت درکار تھا ۔۔۔
“اس نے تو آپ کے دل تک جانے والے تمام راستے ہی بند کر رکھے تھے ۔۔۔۔۔”
وہ اُس کا ہاتھ تھامے بغیر ہی ۔۔۔۔۔رنگ آہستہ سے تیسری اُنگلی میں ڈالتے ہوئے بے خود ہو کے بول گئی لیکن اپنے جملے کا اندازہ ہوتے ہی جھٹکے سے اُس کی جانب دیکھا۔۔۔۔جو ہنوز اُس کے چہرے پر رقم ایک ایک تحریر کو پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
میرا مطلب ہے۔۔۔۔بب۔بلڈ سرکیولشن ۔۔۔ج ج جام ۔کر رکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔وہ گڑبڑا کر خشک حلق سے اپنی بات کی صفائی پیش کرنے لگی۔۔۔۔اُس نے مانو کوئی اثر ہی نہیں لیا۔۔۔۔جانے کس خیال میں محو تھا۔۔لیکِن جو بھی تھا معمولی ہرگز نہیں تھا۔۔۔۔۔
“لیکن ڈونٹ وری یہ رنگ آپ کو تکلیف نہیں دیگی۔۔۔”
وہ نارمل انداز میں بولتی اُس کی نظروں سے الجھ کر جلدی سے آگے بڑھ گئی ۔۔۔اُس کے دور جاتے ہی شہیر نے تیسری اُنگلی میں آب و تاب سے زیب بخش رنگ کو دیکھا اور مدھم سا مسکرا کے سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔۔
وہ کاؤنٹر کے شیشے پر سجے قیمتی اور خوبصورت نیکلیس سیٹ دیکھ رہی تھی جب اُس ورکر نے رنگ ایک کاغذ میں ریپ کرکے اُس کی طرف بڑھائی ۔۔۔۔ایک پل کو تو اُس کا دل چاہا پوری قوت سے اچھال کر کہیں پاتال تک پھینک دے لیکِن پھر سوچا کہ۔۔۔۔”دی بھلے اُس چڑیل نے ہو لیکن پیسہ تو شہیر کی محنت کا کمایا ہے نہ۔۔۔میں کیوں پھینکوں ۔۔۔۔”
“سنیئے ۔۔۔۔”
وہ جو بل کاؤنٹر پر تھا اُسے ہمیشہ کے طرز سے پکارا وہ فوراً متوجہ ہو کر پلٹا اور سامنے موجود آدمی سے کچھ کہتا اُسکی طرف آیا۔۔۔۔
وہ میں یہ کہہ رہی تھی کہ۔۔۔
وہ جھجھک کر رک گئی مبادا غصّہ نہ کر جائے۔۔۔۔
ایکدم سے اتنا بھی فائدہ اٹھانا اچھا نہیں تھا۔۔۔۔۔
وہ خاموش۔۔۔سوالیہ انداز میں اُسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
“یہ رنگ کسی کام کی تو نہیں ہے ۔۔۔۔تو کیا ہم اسے بیچ دیں ۔۔۔۔”
اس نے ہتھیلی آگے کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
“نہیں ۔۔۔۔”
شہیر نے فوراً اور کافی حتمی لہجے میں جواب دیا تو نور کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔تمام خوشی چھو ہو گئی ۔۔۔۔آنکھیں ایکدم بجھنے لگی۔۔۔۔
“مام نے بہت پیار سے بنوائی تھی میرے لیے۔۔۔۔اسے ٹھیک کروا لیتے ہے۔۔۔۔۔”
لیکن جب اُس نے بات مکمل کی تو حیرت سے اُس کی آنکھیں اور منہ کھلے کے کھلے رہ گئے ۔۔۔
“مام نے ۔۔۔۔۔”
بے یقینی سے اُس کے لب با آواز سرسرائے ۔۔۔۔وہ کافی محظوظ ہوا۔۔۔۔اُس کے فق چہرے کو دیکھتے ہوئے آنکھیں مسکرانے لگی۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔کیوں کیا ہوا۔ ۔”
پوچھا تو لہجہ بھی شاد تھا۔۔۔حیرانی بھی بے مطلب سی تھی ۔۔۔۔
“نہیں وہ مجھے نہیں پتہ تھا کے یہ رنگ مام کی لائی ہوئی ہے ۔۔۔۔”
اس کے دل کو لگا زوردار دھچکا چہرے کی اُڑی ہوائوں سے واضح تھا۔۔۔۔
” تمہیں کیا پتہ تھا۔۔۔۔”
وہ لب بھینچ کر چھوڑتے ہوئے مسکراہٹ روکتا۔۔۔۔لطف اندوز ہوتے بولا۔۔۔۔وہ بوکھلا گئی۔۔۔۔
“کک ۔۔۔کچھ نہیں۔۔۔۔مجھے لگا ایسے ہی ہے۔۔۔۔۔ورنہ میں کبھی نہیں کہتی نکالنے کو۔۔۔۔۔۔”
نظریں چرا کر دھڑکتے دل اور خفت سے بولی۔۔ ۔۔۔۔
اٹس اوکے ۔۔۔۔مجھے پتہ ہے اُنہیں برا نہیں لگیگا۔۔۔۔۔اب چلیں ۔۔۔۔۔
وہ اُس کی کیفیت سمجھتا مزید تنگ نا کرتے ہوئے سنجیدہ ہوا۔۔۔۔۔۔ نور نے روبوٹ کی طرح سر ہلا کر قدم آگے بڑھائے۔۔۔۔
وہ کہنی کھڑکی پر ٹکائے ایک ہاتھ سے ڈرائیو کرتے ہوئے بار بار شیشے میں اُس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔۔۔جو ضبط اور خفگی سے منہ پھلائے بیٹھی بےحد پیاری لگ رہی تھی۔۔۔۔۔۔شنگرفی لب سختی سے آپس میں پیوست تھے ۔۔۔آنکھیں ایک جگہ گڑی ہوئی تھی۔۔۔۔اور دماغ اتنی بری طرح بیوقوف بن جانے پر صدمے میں تھا۔۔۔۔۔۔۔
تمام منظر اُس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے تھے۔۔۔۔
اس رنگ کو دیکھ کر اُس کی بے چینی۔۔۔۔
ایک ایک بات پر چڑ دوڑنا۔۔۔
ساری ساری رات جاگ کر گزارنا ۔۔۔
شہیر سے بلا وجہ کے جھگڑے ۔۔۔۔۔
اس رنگ سے چھٹکارے کے لیے ترکیبیں لڑانا ۔۔۔
ایک تو اپنے تمام مائکے کی پونجی قربان کرنا اور ساتھ ایک بڑا سا قرض بھی سر چڑھا نا۔۔۔
پھر اُس رنگ کو باہر نکالنے کے لیے کیے گئے زور جتن اور بہانے بازی ۔۔۔۔اسکوٹی کے ٹائر کا نقصان ۔۔۔۔۔ اور آخر میں یہ راز افشاں کہ جسے اُس کی ناکام محبت کی نشانی سمجھ کر اتنے پاپڑ بیلے تھے وہ رنگ تو اُس کی ماں کی دی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
ساری واردات یاد کرکے اُس نے اچانک سے ماتھا پیٹ لیا جس پر شہیر نے لحظہ بھر کو چونک کر اُسے دیکھا جو اُس کو یکسر نظر انداز کیے اُسی ہاتھ سے سر تھام کر بیٹھ گئی تھی ۔۔۔۔۔
وہ چہرے کا رخ کھڑکی کی طرف کرتے ہوئے کھل کر مسکرایا ۔۔۔اور سالوں بعد اُس کے لبوں کا حصہ بنی یہ پہلی بشاش مسکراہٹ تھی ۔۔
جو دکھاوا۔۔۔۔نمائش۔۔۔تکلف۔۔۔ذبردستی سے پرے تھی۔۔۔۔۔جس کی دلکشی سے موسم اور سہانا ہوگیا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔
گاڑی گھر کے باہر رکی تو وہ تن پھن کرتی ہوئی گاڑی سے اُتر کر پیر پٹختی ہوئی اندر جانے لگی ۔۔۔
“میں جا رہا ہوں۔۔۔رات کو شاید تھوڑا لیٹ ہوجائے گا۔۔۔۔۔موسم بھی ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔تم انتظار مت کرنا”
وہ گاڑی سے باہر نکل کر اُس کے اندر جانے سے پہلے بولا تو پل بھر کو رکی اور پھر بنا پلٹ کر دیکھے یا کوئی جواب دیے اسی طرح کڑھتے انداز میں اندر گھس گئی ۔۔۔۔۔۔ شہیر کو اندازہ تھا کہ ابھی وہ جس قدر چڑی ہوئی ہے پوری دنیا تحس نحس کردینے کو تیار بیٹھی ہوگی۔۔۔۔اس لیے چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔۔۔اُسے دینے کے کیے خریدا ” ریٹرن گفٹ” بعد پر ٹالتے ہوئے گلاسز آنکھوں پر چڑھا کر واپس گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
وہ کچھ دیر تو رونی صورت بنائے بیٹھی دل ہی دل میں رئیسہ بیگم سے ناراضگی جتاتی رہی۔۔ اور پھر غم ہلکا کرنے کے لئے زائشہ کو فون کرلیا۔۔۔۔۔
زائشہ نے تحمل سے اس کی بات سنی اور پھر جو اُس کے شیطانی قہقہے شروع ہوئے کے رکنے کا نام نہیں لیا ۔۔۔۔وہ آگ بگولا ہو گئی۔۔۔۔۔
“مطلب تمہاری ساس نے تمہارا پوپٹ کردیا “
زائشہ ہنسی کے درمیان بولتی لوٹ پوٹ ہو رہی تھی اور بلآخر نور نے اُسے چند مہذب الفاظ سے نواز کر فون ہی بند کردیا۔۔۔