قسط: 15
قندیل اور اس کی مما جب صبا کے گھر پہنچے تو ان کا استقبال بڑی گرم جوشی سے کیا گیا
جب کہ صبا یوں اپنے سامنے قندیل کو دیکھ کر بہت خوش تھی
قندیل کو شروع سے رائل بلو کمر سے ایک عجیب سا عشق تھا جبکہ صبا اور اس کی کلاس فیلو کو ہمیشہ یہ کلر عجیب لگتا تھا کہ بھلا کسی لڑکی کا رائل بلو کلر بھی فیورٹ ہو سکتا ہے عام طور پر لڑکیوں کا سکائی بلو بے بی پنک کلر لائٹ یلو کلر فیورٹ کلر ہوتا ہے مگر قندیل کو تو سب سے الگ ہی کوئی شوق تھا بلکہ عشق تھا بلو کلر سے
وہ ہمیشہ اس جگہ پر ہی بلو کلر پہن کر جایا کرتی تھی جہاں جانے سے اس کا دل سب سے زیادہ خوش ہوا کرتا تھا وہ ہمیشہ اپنے برتھ ڈے پر رائل بلو کلر کا ہی ڈریس پہنتی تھی
مگر کبیر شاہ کی جانے کے بعد اس میں اپنی برتھ ڈے منانا چھوڑ دی
سب نے بہت اچھی طرح سے پارٹی کو انجوائے کیا اس کی کچھ کلاس فیلوز اور اس کی کزنز اور قندیل تھی انہوں نے گانے بھی گائے کیک کٹنگ کے بعد قندیل نے چلنے کی ضد کی کیونکہ وہ بہت زیادہ تھک گئی تھی
جبکہ اس کی تھکن ذرا چہرے کو دیکھتے صبح نے بھی زیادہ اسے روکنے کی کوشش نہ کی رات کے تقریباً 11 بجے کا ٹائم تھا جب قندیل صبا کے گھر سے روانہ ہوئی تھی
وہ ابھی ادھے راستے میں ہی پہنچے تھے جب کچھ نقاب پوش نے ان کی گاڑی پر حملہ کر دیا
قندیل نے ان نقاب پوشوں کو دیکھتے ہوئے جلدی سے گاڑی کے شیشے بند کرنے کی کوشش کی جب ایک نکاب پوش نے اپنی گن شیشے کے درمیان اٹکا دے جس کی وجہ سے اس شیشہ مکمل طور پر بند نہ ہو سکا
قندیل نے خوفزدہ نظروں سے سندس کو دیکھا جس کا حال اس سے کچھ مختلف نہ تھا
وہ کچھ کرتی اس سے پہلے ایک نقاب پوس نے سندس کی طرف کا دروازہ کھولتے اسے کھینچ کر باہر نکلا جس کی وجہ سے ڈر کے قندیل نے بھی جلدی سے قدم گاڈی سے باہر کی طرف بڑھائے تاکہ وہ اپنی ماں کو ان سے بچا سکے
قندیل نے جب قدم گاڑی سے باہر رکھے تو جس شخص نے سندس کو گاڑی سے باہر نکالا تھا اپنے گن کے بیک سائیڈ سندس کے سر پہ پوری شدت سے ماری جس کی وجہ سے ایک خون کا فوارہ سندس کہ سر سے پھوٹتا اس کی پیشانی خون سے بھگو گیا جبکہ قندیل اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھ کر حواس باختہ ہونے لگی
سندس کو غنودگی میں جاتا دیکھ کر نقاب پورشن جو چار افراد پر مشتمل تھے قندیل کو گھسیٹتے ہوئے اپنی گاڑی کے پاس لے کے ائے اور گاڑی میں بٹھاتے ہی ایک کلوروفم سے بھیگا رومال اس کے ناک سے لگایا جس کو سوگھتے ہی قندیل غنودگی میں جانے لگی
وہ نقاب پوش قندیل کو سیدھا اس مقام پر لے کے ائے جہاں ان کو لانے کا حکم دیا گیا تھا یعنی کہ کلب
وہ شخص جس نے بری نیت سے قندیل کو اپنے پاس لانے کا حکم دیا تھا وہ اپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہوتا ہے اس سے پہلے قلب نے اس کے ارادوں پر پانی پھیرتے ہوئے قندیل کو اپنے ساتھ لے گیا
قندیل نے اپنے بھاری ہوتے سر کے ساتھ موندی موندی سی انکھیں کھولی
ایسے محسوس ہوا جیسے وہ کسی نرم و ملائم بستر پر لیٹی ہو
اسے جیسے جیسے حوش انے لگا تو اسے کل کے گزرے واقعات یاد انے لگے
کیسے وہ اپنی ماں کے ساتھ ہنسی خوشی صبا کی برتھ ڈے پارٹی میں گئی اور واپسی پر ان پر کچھ نقاب پوشوں نے حملہ کر دیا اس کی ماں کو زخمی کرتے ہوئے اسے گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئے
اسے جو اخری بات یاد ائی وہ یہ تھی کہ قلب اس کے اوپر جھکا ہوا تھا
یہ خیال اتے ہی وہ ایک جھٹکے سے بستر سے اٹھ کھڑی ہوئی
جب اس کی نظر بے ساختہ سامنے صوفے پر گئی جہاں قلب ٹانگ پر ٹانگ رکھے بڑی ہی فرصت سے اس کے ہر ایکشن کو دیکھ رہا تھا
قندیل جس کے منہ پر کلورفوم سے بھیگار رومال رکھنے کے بعد وہ اپنے ہوش و حواس کھو چکی تھی
پھر اسے کچھ دیر بعد محسوس ہوا جیسے کوئی اس کے بدن کو نوچنے کی کوشش کرتے اپنا وحشت زیادہ لمس اس پر چھوڑ رہا ہے
بہت کشش کرنے کے باوجود وہ اپنی انکھیں نہیں کھول پا رہی تھی یہ شاید کلوروفام کی ہیوی ڈوز ہونے کی وجہ سے ہو رہا تھا
کچھ دیر بعد اسے وہ لمس محسوس ہونا بند ہو گیا پھر اسے محسوس ہوا جیسے کوئی اسے جگانے کی کوشش کر رہا ہوں اس کے چہرے کو تھپتھپا رہا ہوں تب جا کر اس نے بڑی مشکل سے اپنی موندی موندی سی آنکھیں کھول کر سامنے کی طرف دیکھا تو اپنے اوپر قلب کو جھکے وہ پھر سے بے ہوش ہو گئ
اس کے دماغ میں سب سے پہلا خیال یہی ایا کہ قلب نے ہی اسے اغوا کروایا ہے کیونکہ جب قندیل نے اپنی انکھیں کھولی تھی تو قلب کو اپنے اوپر جھکا ہوا پایا تھا اور وہ پہلے بھی تو دو دفعہ اس کے قریب انے کی کوشش کر چکا تھا شاید وہ اس کے ساتھ کچھ برا کرنا چاہتا ہو اسی لیے اس نے اسے اغوا کروایا ہو
یہ خیال اتے ہی قندیل کو اپنے جسم میں غصے کی ایک لہر سرایت کرتی محسوس ہوئی
اس نے اؤ دکھانا تاؤ دکھا سیدھا ک
قلب کے اوپر لپک پڑی اور اس کا گریبان پکڑتے ہوئے جھنجھوڑ کر بولی
تمہاری ہمت کیسے ہوئی مجھے اغوا کروانے کی تم اس قدر گرے ہوئے انسان ہو سکتے ہو میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا اور پروفیسر قلب آپ کو شرم نہیں اتی میں اپ کی سٹوڈنٹ ہوں اپ نے میرے ساتھ ایسی حرکت کرنے کی کوشش کی اپ نے میری عزت لوٹنے کی کوشش کی میری نہیں تو اپنے عہدے کا ہی پاس رکھ لیتے ٹیچر سٹوڈنٹ کا باپ ہوتا ہے اپ نے میرے ساتھ ایسی حرکت کرنے کی کوشش کی اپ کو تو ڈوب مرنا چاہیے
قلب اس کے سامنے حیران و پریشان کھڑا ہے سچویشن کو سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا شاید قندیل اس کو غلط سمجھ رہی تھی اس کے دماغ میں سب سے پہلے یہ خیال ایا مگر قندیل کے الفاظ سننے کے بعد اسے اپنے رگ و پہ میں غصے کی شدید لہر دوڑتی محسوس ہوئی
اس نے قندیل کے دونوں کندھوں کو پکڑ کر اسے زور سے جھنجھوڑا جیسے اسے ہوش میں لانا چاہتا ہو
کیا بکواس کیے جا رہی ہو اپنے ہوش میں تو ہو میں نے کچھ نہیں کیا تمہارے ساتھ دیکھو قندیل تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں ہے
قلب نے پہلے شدید غصے سے جبکہ بعد میں کچھ نرمی سے کہا
جھوٹ بول رہے آپ میں نے خود بے ہوش ہونے سے پہلے اپ کو خود جھکے ہوئے دیکھا تھا
قندیل کو اس کی وضاحت پر مزید غصہ ایا اور وہ مزید غصے سے چیخی تھی
کوئی جھوٹ نہیں بول رہا میں میں نے کہا نا میں نے نہیں کیا تو نہیں کیا
اچھا تو اپ نے نہیں کیا کیا ثبوت ہے اپ کے پاس کے اپ نے یہ نہیں کیا جبکہ میرے پاس یہ ثبوت ہے کہ میں نے اپ کو خود پر جھکے ہوئے دیکھا تھا اور اگر ایسا بھی نہیں ہے تو اپ اس کلب میں کیا کر رہے تھے
بولے اب کیا ثبوت ہے اپ کے پاس اپنی بے گناہی کا. نہیں ہے نا
مجھے پہلے ہی پتہ تھا اپ کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوگا کیونکہ اپ شکل سے تو انتہائی خوبصورت ہے مگر دل سے بے انتہا کالے ہیں اپ شیطان ہیں شیطان وہ اس کے سینے پر دونوں ہاتھ رکھتے سے پیچھے کی طرف دھکا دیتے ہوئے چلائی
جبکہ قلب کے پاس اس کی بات کا کوئی جواب نہیں تھا وہ اسے کیا جواب دیتا کہ وہ کلب میں ثبوت لینے ایا تھا یا یہ بتاتا کہ وہ ایک سیکرٹ ایجنٹ ہے اس کے پاس اپنی بےگنائی کا کوئی ثبوت نہیں تھا اس لیے اس نے فی الوقت خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا
جب کہ قندیل اس کی خاموشی کو اس کا اعتراف سمجھتے ہوئے نیچے بیٹھتی چلی گئی اور گھٹنوں میں سر دیتے ہوئے زور و شور سے رونا شروع ہو گئی
جبکہ قلب اس کو پتھریلی نظروں سے دیکھ رہا تھا جب اسے محسوس ہوا کہ قندیل کے بازو بے لباس ہیں کیونکہ اس کے بازو جگہ جگہ سے پھٹ جانے کی وجہ سے اس کا جسم نمایاں ہو رہا تھا
قلب نے بیڈ کے اوپر سے اس کا دوپٹہ اٹھاتے ہوئے اس کے ارد گرد اچھی طرح سے لپیٹا جبکہ قندیل بھی اپنی حالت کو سمجھتے ہوئے اپنے دوپٹے کو کس کے پکڑ کر پھر سے رونا شروع ہو گئی
مجھے گھر جانا ہے کچھ دیر ہونے کے بعد قندیل نے کہا
جبکہ قلب اس کی بات سننے کے بعد اپنی کبرڈ کی طرف بڑھا اور وہاں سے ایک لونگ کوٹ نکال کر قندیل کی طرف بڑھایا
یہ پہن لو اور میرے ساتھ چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ اتا ہوں اتنا کہنے کے بعد قلب نے ڈریسنگ ٹیبل سے گاڑی کی چابی اٹھاتے ہوئے بغیر اسے دیکھیں باہر کی طرف قدم بڑھائے جبکہ قندیل نے اس کے دیے گئے کورٹ کو اچھی طرح سے پہن کر قدم اس کے پیچھے بڑھائے جبکہ آنسو ابھی بھی تواتر سے بہہ رہے تھے
گاڑی میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا بس ہر ایک منٹ کے بعد قندیل کی سسکی اس گاڑی میں گونجتی تھی
قلب نے اسے اپنی طرف سے کوئی صفائی نہیں دینا چاہیے تھی اس نے اج تک کسی کو صفائی دی ہی نہیں تھی اور نہ ہی اس کی صفائ دینے کی عادت تھی
قندیل کو ہوش تو تب ایا جب گاڑی ایک جھٹکے سے رکی اس نے دیکھا تو گاڑی اس کے گھر کے سامنے رکی تھی اس نے ایک نگاہِ غلط قلب پر ڈالے بغیر قدم گاڑی سے باہر نکالے اور اپنے گھر کی طرف چل دی
جبکہ قلب نے بھی اسے روکنے کی کوشش نہ کی
اس نے ایک جھٹکے سے اپنے گاڑی پیچھے کی طرف موڑی اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہوا
سندس نقاب پوش کی لگائی گئ ضرب کی وجہ سے بے ہوش ہو گئی تھی
جب اس کے پاس سے ایک گاڑی گزری
گاڑی سے ایک نوجوان نکلا جس نے سندس کو جلدی سے گاڑی کے اندر ڈالتے ہوئے گاڑی ہاسپٹل کی طرف دوڑائی