قسط: 16
قندیل جب صبح گھر پہنچی تو اسے گھر پہ کوئی نظر نہ ایا ملازم تو اٹھ بجے کے بعد ہی اتے تھے مگر سندس بھی گھر موجود نہیں تھی تب اسے یاد ایا کہ جب اسے گھسیٹا جا رہا تھا تو اس کی ماں بے ہوش ہو کر وہیں گر گئی تھی
اس کا دل کسی انہونی کے تحت زور سے دھڑکا
اس نے جلدی سے اپنا فون تلاش کرنا چاہا جب اسے ایک دفعہ پھر سے خیال ایا کہ فون تو گاڑی میں رہ گیا تھا اور گاڑی اسی جگہ پہ جہاں اسے اغوا کیا گیا تھا
یہ خیال اتے ہی اس کی انکھوں سے انسو بہنے لگے کہ وہ بالکل بے بس تھی اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کی ماں کہاں ہے اسے کسی نے ہاسپٹل پہنچایا بھی ہے یہ ابھی بھی سڑک پر بے سد پڑی ہے
اس نے جلدی سے لین لائن سے اپنی ماں کے نمبر پر فون کیا جو مسلسل بن جا رہا تھا جب اس کی نظر دائیں طرف موجود شیشے پر پڑی تو اس نے اپنی حالت دیکھی پھٹے ہوئے بازو گریبان سے پھٹی ہوئی فراک پہنے وہ لوٹی ہوئی محسوس ہو رہی تھی اس نے فون وہی پھینکتے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے اور کپڑے بدلنے کے بعد واپس نیچے ائی اور دوبارہ فون کرنے کی کوشش کرنے لگی
ابھی وہ اپنی بے بسی پہ رو ہی رہی تھی جب گھر کا مین دروازہ کھلتا ہوا محسوس ہوا اس نے پلٹ کر دیکھا تو اس کی ماں سر پر پٹی لپیٹے کسی کا ہاتھ پکڑتے گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی
وہ بھاگ کر اپنی ماں سے لپٹ گئی اور شدت سے رونا شروع ہو گئی جیسے اپنے سارے غم اپنی ماں کا انچل کو پاتے ہی بھلا دینا چاہتی ہو
کچھ دیر بعد جب اس نے اپنے ہوش سنبھالے تو اس سے محسوس ہوا صرف اس کی ماں ہی نہیں اس کے ساتھ بھی کوئی کھڑا تھا
اس نے اپنی ماں کے سینے سے سر اٹھا کر بائیں طرف دیکھا تو حارث احترام سے نظریں جھکائے کھڑا تھا
حارث بھائی اپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل بیٹا یہ وہی لڑکا ہے جس نے مجھے بے ہوشی کی حالت میں ہاسپٹل پہنچایا تھا قندیل کو حیران و پریشان کھڑا دیکھ کر سندس نے اس کی پریشانی دور کرتے ہوئے کہا جبکہ قندیل نے ان کی بات سننے کے بعد شکر گزار نظروں سے حارث کی طرف دیکھا
حارث بھائی اپ کا بہت شکریہ
ویسے قندیل اپ ان کو پہلے بھی جانتی ہیں اپ کی باتوں سے تو یہی لگ رہا ہے سندس نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جی مما حارث بھائی میرا کلاس فیلو ہے
اووووو سہی سہی
سندس نے اس کی بات پر خوشی اور حیرانی سے اتفاق کیا
ہے کوئی بات نہیں بھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہن اس میں شکریہ والی کیا بات ہے اپ مجھے بہن بُلاتی ہیں تو بھائی ہونے کا فرض ہی سمجھے جو میں نے ادا کر دیا
حارث پہلے اپنی بے خیالی میں کیے جانے والی بات کو درست کرتا ہے دھیما سا مسکراتے ہوئے جواب دیا
قندیل کیا اپنے بھائی سے ساری باتیں دروازے پر ہی کرنی ہے یہ اندر بھی لے کے جانا اسے محور گفتگو ہوئے دیکھا سندس نے کہا جبکہ ان کا خود کا چہرہ زرد ہو رہا تھا
او سوری بھائی ا اندر ائیں قندیل نے اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لیے سندس کو اپنے حصار میں لیتے ہوئے حارث سے کہا
نہیں میری پیاری سی بہن اب میں چلتا ہوں یہ تو انٹی تھی جنہوں نے صبح صبح ضد کر دی کہ ان کی بیٹی پریشان ہو رہی ہوں گی مجھے گھر واپس جانا ہے تو میں نے پھر زبردستی چارج لے کر انہیں گھر چھوڑنےایا باقی یہ کچھ دوائیاں ہیں ٹائمنگ اوپر لکھی ہوئی ہے تو اپ نے ٹائم سے لے لی اللہ حافظ
حارث نے بڑے پیار سے اپنا ہاتھ قندیل کے سر پر رکھتے ہوئے جواب دیا اور قدم باہر کی طرف بڑھائے حارث کے جانے کے بعد قندیل نے بھی اپنی ماں کو سہارا دیتے ہوئے ان کے کمرے میں چھوڑتی دوائیاں دے کر اپنے کمرے میں چلی گئی اس نے اپنے دل کا بوجھ بھی تو ہلکا کرنا تھا جو اج اس پہ اتنا بڑا خلاسہ ہوا تھا کہ اس کا پروفیسر ہی اس کی عزت کا دشمن بنا ہوا ہے یہ تو خدا کا کوئی کرم تھا جو وہ بچ گئی ورنہ ہونے کو تو کچھ بھی ہو سکتا تھا
اج قندیل تین دن بعد یونیورسٹی ائی تھی جبکہ اس دوران قلب بھی یونیورسٹی نہیں ایا تھا اسے کچھ ضروری کام تھا اس وجہ سے وہ یونیورسٹی نہ آ سکا
قندیل جب مسلسل تین دن یونیورسٹی نہ گئی تو سندس نے اس سے پوچھا کہ وہ یونیورسٹی کیوں نہیں جا رہی مگر قندیل اسے کیا وجہ بتاتی ہے کہ وہ پروفیسر قلب سے بچنے کے لیے یونیورسٹی نہیں جا رہی ماں کے سوالوں سے بچنے کے لیے وہ اج یونیورسٹی ا گئی تھی
جب وہ کلاس روم میں داخل ہوئی تو سیدھا اپنے ٹیکس کو جا کے بیٹھی اسے محسوس ہو رہا تھا کہ یونیورسٹی میں ہر شخص اس کو ہی عجیب و غریب نظروں سے دیکھ رہا تھا اس کو ان کی نظروں سے چڑ ہونے لگی تھی وہ جب بیٹھی تو کچھ ہی دیر میں ماہی اگئی ماہی اس کے ساتھ ا کے بیٹھی مگر کچھ بولی نہیں
السلام علیکم کیا حال ہے قندیل نے ہی بات کا اغاز کیا وہ سمجھی شاید وہ تین دن یونیورسٹی نہیں ائی اس لیے وہ اس سے ناراض ہوگی
وعلیکم السلام میں ٹھیک ہوں تم بتاؤ تم کیسی ہو دیکھو قندیل تم اس بات کا زیادہ سٹریس نہ لینا مجھے معلوم ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے مگر پھر بھی تم اس بات کو زیادہ دل پر مت لینا ماہین نے اس سے اپنی طرف سے تسلی دینے کی کوشش کی تھی
اچھا ٹھیک ہے مگر میں کس بات کی پریشانی نہ لوں قندیل نے حیرانی سے اس سے پوچھا وہ اس کی باتوں کو سمجھ نہیں پا رہی تھی
کیا تم نے اپنی پکچرز نہیں دیکھی ماہی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا
کیسی پکچر ماہی تم مجھے کھل کے بتاؤ کہ بات کیا ہے مجھے پریشانی ہو رہی ہے اب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی وہ بات کر ہی رہی تھی جب پیچھے سے لیزا نے ایک دم زور سے اپنا ہاتھ اس کے ڈیکس کے اوپر مارا اور اسے اپنی طرف متوجہ کروایا یہ دیکھو کیسے اپنا منہ کالا کرنے کے بعد اب منہ اٹھا کر یونیورسٹی اگئی ہے تم کو شرم نہیں اتی قندیل ایسی حرکت کرتے ہوئے لیزا تو اتے قندیل پر چڑھ دوڑی تھی
تم اپنی حد میں رہو لیزا تمہارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے تو تم اپنی جگہ پہ جاؤ زیادہ ب**** کرنے کی ضرورت نہیں ہے ماہی بھی اس کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے اسے کڑک جواب دیا جب ان دونوں کی بات سننے کے بعد قندیل مزید پریشان ہوئی تھی
اصل بات کیا ہے کوئی مجھے اصل بات بتائے گا اور تم مجھ سے اس لینگویج میں بات نہیں کر سکتے لیزا قندیل نے پریشان ہوتے ہوئے پوچھا اسے دل ہی دل میں کسی انہونی کا احساس ہو رہا تھا جیسے کچھ بہت برا ہوگا
ذرا سن لو اتنا بڑا کانڈ کرنے کے بعد اب یہ محترمہ کہہ رہی ہیں کہ انہیں پتہ ہی نہیں ہے انہوں نے کیا کیا ہے ہمارے سامنے تو بڑے حجاب لیے ہوئے مومن بننے کی کوشش کرتی ہوں یہ ہے تمہارا سچ لیزا نے اس پہ تنزینہ وار کیا
لیزا تم کہنا کیا چاہتے ہو کھل کے کہہ سکتے ہو تاکہ میں بھی سمجھ سکوں کہ تم بات کس بارے میں کر رہی ہو قندیل کو اس کی باتوں پر غصہ آنے لگا تھا شدید غصہ
میرے سامنے اب تم کو اونچی اواز میں بات کرنے کا حق نہیں ہے قندیل اور یہ رہا وہ کام جو تم نے کیا ہے لیزا نے اپنا موبائل اس کی انکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا
قندیل نے کانپتے ہاتھوں سے اس کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اس نے موبائل کو اوپن کر کے دیکھا تو اس میں ایسے تصویریں تھیں جن کو دیکھ کر اس کے 14 طبق روشن ہو گئے ان تصویروں میں کہیں قلب قندیل کے اوپر جھکا ہوا ہے اور قندیل ابتر حالت میں لیٹی ہوئی ہے کہیں وہ اسے باہوں میں اٹھائے چل رہا ہے اور کہیں وہ اس کے گال کو تھپتھپا رہا ہے قندیل کی حالت اور دیکھنے والا کو یہی لگ رہا تھا جیسے وہ ایک دوسرے میں مگن ہے
قندیل کے ہاتھ سے موبائل نیچے زمین پر گر گیا جبکہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ پرکھتے ہوئے اپنے سسکیوں اور چیخوں کا گلا گھونٹا تھا جبکہ لیزا اور بھی بہت کچھ بول رہی تھی اور ماہی اس کا جواب بھی دے رہی تھی مگر اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا اس نے ایک جھٹکے میں پلٹ کر اپنا بیگ اٹھایا اور کلاس سے باہر کی طرف بھاگتی چلی گئی انسو اس کی انکھوں سے تواتر سے بہہ رہے ہوتے ہیں
قندیل کو ان تصویروں کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا کیونکہ اس کا موبائل اس گاڑی میں ہی رہ گیا تھا اور گاڑی اس وقت گیراج میں تھی ان نقاب پوشوں نے جاتے ہوئے اس کی گاڑی کے چاروں ٹائر پینچر کر دیے تھے
وہ بھاگتے ہوئے سیدھا یونیورسٹی سے باہر نکلی اور رکشے میں بیٹھے ہوئے گھر کی راہ لیں اس کا دماغ مال طور پر معوف ہو چکا تھا سوچنے سمجھنے کہ صلاحیت کھو چکا تھا مگر انسو اب بھی اس کی انکھوں سے بہہ رہے تھے
قلب جو اج بھی یونیورسٹی نہیں ایا تھا وہ بھی اس واقعہ سے انجان تھا نہیں تو وہ لیزا کو منہ توڑ جواب دیتا مگر قلب کی غیر موجودگی میں ماہی نے قندیل کا مکمل ساتھ دیا تھا بجکہ حارث بھی قلب کے ساتھ ہی اس ضروری کام میں مصروف تھا
وہ جب گھر پہنچی تو سندس نے اسے بڑی حیرانی سے دیکھا جسے پوچھنا چاہتی ہو کہ اج اتنی جلدی یونیورسٹی سے واپس انے کی وجہ جب کہ وہ ان کی نظروں کو نظر انداز کرتی ہوئی سیدھا اپنے کمرے میں جا کر بند ہو گئی اور دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر زور و شور سے رونے لگی جب کہ سندس جو موبائل فون یوز نہیں کرتی اگر اسے فون کرنا ہوتا تھا تو لینڈ لائن ہی استعمال کرتی تھی اسے بھی ان تمام تصاویر کے بارے میں کوئ نہ علم تھی
کافی دیر رونے کے بعد جب اس ہوش ایا تو سب سے پہلا خیال اس کے دماغ میں یہی ایا کہ جس یونیورسٹی میں وہ بڑھتی ہے وہ کوئی چھوٹی یونیورسٹی نہیں ہے اور اس یونیورسٹی کا پروفیسر اگر کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ فوری میڈیا میں ا کی طرح پھیلے گی یہ خیال اس کے دماغ میں اتے ہی اس کی روح فنا ہونے لگی اس نے جلدی سے اٹھ کر قبرڈ سے اپنا موبائل نکالا جو اج ہی علی اس کے ڈرائیور کا بیٹا اسے صبح صبح دے کے گیا تھا
اس نے جب فون واپس سے ان کیا تو ہزاروں کی تعداد میں میسج اس کے فون پر انا شروع ہو گئے
جب اس نے سوشل میڈیا ایپ ان کیا تو ہر طرف ان کی ہی خبر اگ کی طرح پھیلی ہوئی تھی یہ دیکھتے ہی موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا اور وہ نیچے بیٹھی چلی گئی
وہ ساکت بیٹھی تھی اب اس کی انکھ سے ایک انسو بھی نہیں گرا تھا جیسے وہ مکمل طور پر بے حس ہو چکی ہو
اس نے کانپتے ہاتھوں سے قلب کا نمبر ملایا
رنگ جا رہی تھی مگر اگے سے کوئی رسپانس نہیں کیا جا رہا تھا
اس نے دوسری دفعہ فون ملایا کچھ دیر بعد دوسری طرف سے فون اٹھا لیا گیا
ہیلو قلب حیدر سپیکنگ………….
قلب جس نے اس کلب میں سے وہ فنگر پرنٹ لیے تھے انہیں اس لوکر میں سے ایک پین ڈرائیو ملی تھی جس کو پاسورڈ لگا ہوا تھا اٹھ الفاظ پر مشتمل وہ پاسورڈ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا قلب نے اسے بڑی دفعہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ پاسودڈ نہیں کھل رہا تھا وہ لوکر تب سے ہی لوک تھا جب پرانے والا پرنسپل موجود تھا تو قلب کو لگتا تھا ہو سکتا ہے اس پین ڈرائیو میں پرانے والے پرنسپل کی طرف سے کوئی انفارمیشن موجود ہو اس لیے وہ اتنی کوشش کر رہے تھے
اس لوکر کو کھولنے میں ان کے تین دن گزر چکے تھے اور چوتھے دن وہ کوشش کر رہا تھا جب اسے قندیل کا فون ایا قلب نے فون اٹھاتے کان سے لگایا اور اپنا تعارف کروایا جب اسے قندیل کی اگے سے سسکتی ہوئی اواز سنائی دی
اج تو تم بہت خوش ہو گے نا مجھے برباد کر کے
کیوں پروفیسر قلب میں ٹھیک کہہ رہی ہوں نا
کیونکہ تم جو کرنا چاہتے تھے اس میں کامیاب ہو گئے ختم کر دیا تم نے قندیل کو تو اب جو تم کرنا چاہتے ہو کر لو اپنی ہوس پوری کرنے کے لیے مجھے اگواہ کیا تھا نا
تب کچھ کر نہ سکے تو تم نے یہ راستہ اپنایا تو سن لو اج قندیل مر گئی ہے اب اس کی مردہ جسم پہ تم نے جو اپنی حواست پوری کرنی ہے ا جاؤ کر لو کیونکہ ہو سکتا ہے اس کے بعد میں زندہ نہ رہوں
اتنا کہنے کے بعد قندیل نے فون رکھ دیا اور چیخے مار مار کے رونا شروع ہو گئی وہ جو اپنے باپ کے مرنے پہ اتنا روئی تھی اج خود کی بربادی پر اس سے دوگنا رو رہی تھی
یہ خیال اسے ہر سسکی کے ساتھ اتا اگر اس کا باپ زندہ ہوتا تو ہو سکتا تھا وہ یوں برباد نہ ہوتی
کچھ دیر رونے کے بعد وہ ایک جھٹکے سے کھڑی ہوئی اس کے انداز سے جنون جھلک رہا تھا جیسے وہ سب کچھ تباہ کر دے گی اس نے قدم بیڈ کی سائیڈ ٹیبل پر موجود فروٹ والی ٹوکری کی طرف بڑھائے جس میں ایک تیز دھار چھری موجود تھی اس نے وہ چھری اٹھاتے ایک نظر خود کو اور ایک نظر دروازے کو دیکھا جہاں پہ سندس دروازہ پیٹ پیٹ کر اسے باہر نکلنے کا کہہ رہی تھی اس نے پلٹ کر اپنی کلائی کی طرف دیکھا اور چھری کلائی پر رکھتے خود میں موجود مکمل زور سے چھری اپنی کلائی پہ پھیر دی خوب دھاری کی صورت میں اس کے بازو سے پھوٹتا نیچے کالین میں جذب ہونے لگا کچھ دیر وہ اپنے بہتے خون کو دیکھتی رہی پھر انکھوں میں غنودگی چھانے کی وجہ سے وہ بے ہوش ہوتی اسی کالین پر گر گئی
جبکہ قلب جو اپنا کام کر رہا تھا کال اٹھانے کے بعد قندیل کی گئی تیزاب سے لپٹی باتوں کو سنتے غصے سے اس کی شریانے پھول گئی تھی ابھی وہ کچھ کہتا ہے اس سے پہلے ہی قندیل نے اپنی بات مکمل کرتے فون کاٹ دیا جبکہ وہ اس کی اخری بات سنتا جس میں قندیل نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ زندہ نہ رہے اپنا تمام کام چھوڑتا ایک جھٹکے میں وہاں سے اٹھا اور باہر کی طرف دوڑ لگائ جبکہ اس کے ساتھ بیٹھا حارث بھی اس کے پیچھے دوڑا وہ اس کا پریشان اور غصے سے بھرا چہرہ تو پہلے ہی دیکھ چکا تھا
رش ڈرائیو کرنے کے بعد جب وہ قندیل کے گھر کے سامنے پہنچا تو گارڈ نے اسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ گارڈ کو پیچھے کی طرف دھکا دیتا اندر کی طرف بڑھا جب اسے اوپر والے فلور سے کسی کے زور سے دروازہ کھٹکانے کی اواز ائی وہ سیڑھیاں چڑھتا اس کے پیچھے گیا جب سندس کو قندیل کے کمرے کا دروازہ زور و شور سے پیٹتے دیکھا اس نے جاتے ہی سندس کو پیچھے کرتے ایک زوردار لات دروازے پہ ماری جس کی وجہ سے دروازے کی کونڈی ٹوٹ گئ اور دروازہ کھل گیا جب اس کی نظر سامنے پڑی تو اسے ایک دفعہ پھر وہ منظر یاد ایا جب اس نے یوں ہی اپنے باپ کو پنکھے لٹکا دیکھا تھا اور اج اپنے دل عزیز کو یوں فرش پر بے ہوشی کی حالت میں دیکھا گہرے کٹ کی وجہ سے تیزی سے نکلتے خون نے اب سفید کالین کو مکمل طور پر سرخ کر دیا تھا
وہ تیزی سے قندیل کی طرف بڑھا اور اس کے چہرے کو تھپتھپاتے ہوئے اسے اٹھانے کی کوشش کرنے لگا قلب کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی وہ ویسا غم دوبارہ برداشت نہیں کرنا چاہتا تھا جیسا اس نے اپنے باپ کے مرنے پر برداشت کیا تھا
اس کی انکھیں سرخ ہو چکی تھی اور انسو انکھوں میں بھر آئے تھے وہ نہیں جانتا تھا کہ قندیل نے ایسی باتیں کیوں کی مگر وہ قندیل کو اس حال میں نہیں دیکھ پا رہا تھا
اس کے پیچھے اتے حارث نے قلب کو یوں ساکت بیٹھے دیکھ کر قلب کو پیچھے کر کے جلدی سے قندیل کو اپنی باہوں میں اٹھایا اور باہر کی طرف دوڑ لگائی جبکہ اس کے پیچھے بیٹھا قلب ساکت تھا وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا قندیل میں تو اب اس کی جان بستی تھی قندیل کو کچھ ہو جانے کا خیال ہی اس کے لیے سحانے روح تھا
جب کہ سندس حیران سی ان دو افراد کو دیکھ رہی تھی جنہوں نے اتے ہی ہلچل مچا دی تھی حارث تو قندیل کو لے کر نکل چکا تھا جبکہ قلب ابھی بھی وہیں بیٹھا تھا سندس نے اپنے قدم قلب کی طرف بڑھائے سندس نے اپنا دائنہ ہاتھ قلب کے کندھے پر رکھا وہ جو گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا تھا اپنے کندھے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ساکت نظروں سے اوپر کی طرف دیکھا تو اسے ایک معتبر سی عورت نظر ائی اسے یہ جاننے میں دیر نہیں لگی کہ یہ سندس کی ماں ہے اپنے کندھے سے سندس کا ہاتھ پکڑتے اس ہاتھ پر اپنا ماتھا ٹکایا
ماں جی میں نے قندیل کے ساتھ کچھ نہیں کیا اس کو کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے وہ کہتی ہے کہ میں ہوس پرست ہوں اسے میری محبت ہوس لگتی ہے میں ایسا نہیں ہوں
اتنا کہنے کے بعد قلب کی انکھوں سے دو انسو ٹوٹ کر گرے تھے شاید وہ ہوش و حواس میں نہیں تھا جو یوں اپنے دل کا راز سب پہ افشا کر رہا تھا جبکہ سندس اس کی بات سننے کے بعد ساکت سی ہو گئی تھی اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ لڑکا کون ہے مگر پھر بھی اس کے دل نے اس کی محبت کی صداقت پر ایمان لایا تھا
اس نے اپنا کانپتا ہاتھ قلب کے سر پر رکھا اور کمپنی اواز میں کہا
تم پریشان نہ ہو بیٹا قندیل کو کچھ نہیں ہوگا
چلے ہم بھی ان کے پیچھے ہاسپٹل چلتے ہیں قلب نے سندس سے کہا شاید وہ اپنے ہوش و حواس میں واپس اگیا تھا قلب نے قدم باہر کی طرف بڑھائے جبکہ سندس بھی اس کے پیچھے پیچھے تھی