قسط: 17
قلب اور سندس جب ہاسپٹل پہنچے تو حارث کو پہلے ہی ایمرجنسی روم کے سامنے چکر کاٹتے ہوئے دیکھا
قلب نے اپنے قدموں میں تیزی لاتے ہوئے حارث کی طرف بڑھا اور پوچھنے لگا
کیسی ہے قندیل ………..
پتہ نہیں ابھی تک ڈاکٹر روم سے باہر نہیں ائے ابھی وہ بات کر ہی رہے تھے جب ڈاکٹر ایمرجنسی روم سے باہر نکلا قلب ڈاکٹر کو دیکھتے ہی اس کی طرف بڑھا
ڈاکٹر کیسی ہے قندیل اس نے گھبرائی ہوئی اواز میں پوچھا جبکہ ڈاکٹر اس کو دیکھتے ہوئے پیچھے کھڑی عورت کو دیکھنے لگا آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں ڈکٹر کے سوال پر قلب کچھ دیر تک بالکل خاموش رہ گیا اور سوچنے لگا وہ قندیل کا کیا لگتا ہے کچھ بھی تو نہیں
میں قندیل کی ماں ہوں سندس نےاگے بڑھتے ہوئے ڈاکٹر کو اپنا تعارف کروایا جب کہ قلب ابھی بھی خاموش کھڑا تھا اپ افس میں آئے اپ سے بات کرنی ہے
ڈاکٹر اتنا کہنے کے بعد اپنے کیبن کی طرف چلا گیا جبکہ سندس اس کے پیچھے تھی ڈاکٹر کے بیٹھنے کے بعد سندس ابھی بیٹھی ہی تھی جب قلب کیبن میں داخل ہوا اور سندس کے ساتھ رکھی کرسی پر براجمان ہو گیا
ہاں تو ڈاکٹر اپ نے ایسی کیا بات کرنی ہے جو اپ کو ہمیں کیبن میں بولانا پڑا
سندس اور ڈاکٹر اسے ہونکوں کی طرح دیکھ رہے تھے جب اس نے بڑی فرصت سے اپنی بات کا اغاز کیا
سر آپ پیشنٹ کے کیا لگتے ہیں میں ایسے ان کی انفارمیشن کسی کو بھی نہیں دے سکتا
میرا اور قندیل کا بہت گہرا رشتہ ہے تمہیں بتانے کی ضرورت نہیں ہے تم وہ بولو جس کے لیے تم ہو کیا ہوا ہے قندیل کو
قلب نے ڈاکٹر کو ڈپٹتے ہوئے کہا
ڈاکٹر قلب کی بات سننے کے بعد دوبارہ سندس کی طرف متوجہ ہوا
ماں جی میں اپ سے جو جو پوچھ رہا ہوں ویسا ویسا بتاتے جائیے گا کیا پیشنٹ کا پہلے کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہے
ڈاکٹر کی بات سننے کے بعد قلب نے بھی اپنی دائیں طرف سندس کو دیکھا
ڈاکٹر کو بات سننے کے بعد اس کو وہ واقعہ یاد ایا جب قندیل 12 سال کی تھی اور ان کی گاڑی پر حملہ ہوا تھا نس میں کبیر شاہ اور سندس کو تو کم مگر قندیل کو بہت چوٹیں ائی تھی اس ایکسیڈنٹ کی وجہ سے ہی تو اس کی بچی کو اتنا درد ملا تھا یہ بات سوچتے ہی اس کی انکھیں بھر ائی
اس نے ڈاکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے بے خیالی میں سر ہاں میں ہلایا کا ہوا تھا
کب ہوا تھا ایکسیڈنٹ …………
ڈاکٹر کی طرف سے ایک اور سوال پوچھا گیا
جب قندیل 12سال کی تھی
کیا اس ایکسیڈنٹ کے بعد انہیں کوئی صدمہ ملا تھا
ہاں اس ایکسیڈنٹ کے تین مہینے بعد اس کا بابا یہ دنیا چھوڑ کر چلا گیا تھا یہ بات کرتے ہوئے اس کی انکھوں سے انسو جھلک پڑے
سندس کی بات سننے کے بعد قلب نے حیرانی سے مڑ کر سندس کی طرف سے دیکھا
آپ سیدھی طرح کیوں نہیں بتا رہے کہ قندیل کو کیا ہوا سوال پہ سوال کیے جا رہے ہیں
قلب نے ایک دم دہاڑتے ہوئے ڈاکٹر سے کہا
کیونکہ مسٹر پیشنٹ کو میجر بریک ڈاؤن ہوا ہے
ڈاکٹر کی بات سننے کے بعد قلب اور سندس اپنی جگہ پہ ساکت ہو گئے سندس کے دماغ میں سب سے پہلے یہی خیال ایا کہ ایسا کیا ہو گیا ہے جو قندیل نے اتنی زیادہ ٹینشن لے لی کہ اسے میجر بریک ڈاؤن ہو گیا جبکہ قلب کے کانوں میں ابھی ایک ہی فقرہ گونج رہا تھا
جو کرنا ہے ا کے کر لو کیونکہ ہو سکتا ہے اس کے بعد میں زندہ نہ رہوں……….
قندیل کی طرف سے بولا گیا یہ زہریلا جملہ اس کے کانوں میں بعض گشت کر رہا تھا
کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے سوسائڈ کیوں کیا ایسی کون سی وجہ تھی جو انہوں نے ایسا قدم اٹھایا
ڈاکٹر نے ایک اور سوال کیا تو قلب اور سندس دونوں اس کی طرف متوجہ ہوئے
دونوں نے نا میں سر ہلایا کیونکہ وہ حقیقت ناواقف تھے کہ قندیل نے اتنا بڑا قدم کیوں اٹھایا
ان کا اشارہ سمجھنے کے بعد ڈاکٹر نے اپنی نظریں جھکا لی جیسے وہ کچھ بولنا تو چاہتا ہو مگر کہہ نہ پا رہا ہو
ڈاکٹر اپ کچھ کہنا چاہتے ہیں قلب نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا وہ ایک سکرٹ ایجنٹ تھا اسے لوگوں کے لہجے اور چہرے پڑنا بہت اچھے طریقے سے اتے تھے
دیکھیں مجھے لگتا ہے ان کی وائرل ہوئی پکچر کی وجہ سے انہوں نے ایسا قدم اٹھایا ہے ڈاکٹر کی بات سننے کے بعد سندس اور قلب دونوں حیران ہوئے کون سی پکچر کیسی پکچر قلب کے منہ سے بے سختہ نکلا ہے
یہ پکچر اج سے تین دن پہلے سے سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہو رہی ہیں یہ دیکھیں اپ
ڈاکٹر نے اپنا موبائل نکالتے ان کے سامنے لہرایا جس میں قندیل کے اوپر قلب جھکا ہوا ہے
قلب نے ایک جھٹکے میں اس کے ہاتھ سے فون کھینچا اور تصویریں دیکھنے لگا وہ تصویریں ویسی نہیں تھی جیسے سچویشن تھی ان تصویروں کو ایڈٹ کیا گیا تھا بہت ہی مہارت سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ ایک دوسرے میں گم ہو قلب کو یہ دیکھتے شدید غصہ ایا
ڈاکٹر نے قلب کو غصے میں دیکھتے ہی اس کے ہاتھ سے اپنا موبائل لے لیا کہیں وہ اس کا فون ہی غصے میں نہ توڑ دے جب سندس نے ڈاکٹر کے ہاتھ سے موبائل پکڑا اور تصویریں دیکھنے لگی جیسے جیسے وہ تصویریں دیکھ رہی تھی ویسے ویسے اس کی انکھیں کھلتی گئی اور رونگٹے کھڑے ہونے لگے
اللہ……….
سندس کے منہ سے یہ الفاظ بے ساختہ نکلا
اس کے ہاتھ سے فون چھوٹ کر ٹیبل پر گرا
قندیل کو ہوش کب تک ائے گی سوال قلب کی طرف سے کیا گیا تھا
پیشنٹ بالکل ٹھیک ہے زیادہ گہرا کٹ نہیں تھا ایک دو گھنٹے تک انہیں ہوش ا جائے گی
قلب نےاس کی بات سننے کے بعد بغیر کچھ کہے ایک جھٹکے سے اٹھا اور باہر کی طرف قدم بڑھائے جبکہ سندس ابھی وہیں بیٹھے اپنے انسو بہا رہی تھی
وہ باہر نکلا تو حارث اسی کا ہی منتظر تھا اس سے اپنی طرف تو دیکھ سوال کیا
کیا کہا ڈاکٹر نے حارث نے گھبرائے دل کے ساتھ کہا کیو کہ وہ قندیل کا بہت سارا بہتا ہوا خون دیکھ چکا تھا
فون کہاں ہے تمہارا قلب نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے پوچھا
یہ رہا حارث نے اپنی پاکٹ میں سے فون نکال کر قلب کو پکڑایا
ک
قلب نے سوشل میڈیا ایپ اوپن کرتے ہوئے وہ تصویر حارث کی طرف بڑھائی یہ وجہ ہے جس کی وجہ سے اس پاگل لڑکی نے سوسائڈ کرنے کی کوشش کی
یہ کیا ہے قلب حارث نے حیرانگی سے قلب سے پوچھا
سے جو
تصویریں ہیں قلب نے بیزاریت سے اس کے فضول سوال کا جواب دیا
وہ تو مجھے بھی نظر ا رہا ہے پر یہ کب کی ہے
یہ چار دن پہلے جب میں کلب گیا تھا تو قندیل کو بے ہوشی کی حالت میں وہاں ایک کمرے میں دیکھا تو میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی مگر قندیل کو ہوش نہ آیا تو میں انہیں اپنی باہوں میں اٹھاتے اپنے گھر لے ایا اور صبح اس کے گھر ڈراپ کر دیا یہ اسے دوران لے گئی تصویریں ہیں
ان کو ایڈٹ کیا گیا ہے
حارث نے دوبارہ تصویروں کو دیکھا سچ میں ان تصویروں کو کچھ اور ہی رنگ دیا گیا تھا
مگر وہ وہاں پہنچی کیسے حارث نے ایک اور سوال کیا
جبکہ اس کے سوال پر قلب نے اسے غصہ بھری نظروں سے دیکھا تو حارث وہی چپ کر گیا
مجھے دو گھنٹے کے اندر تمام انفارمیشن چاہیے کہ یہ کس انسان نے سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی
قلب نے غصے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
جبکہ اس کے بعد سننے کے بعد حارث نے ہاں میں سر ہلاتے ہوئے اپنی قدم ہاسپٹل کے باہر کی طرف بڑھائے کیونکہ وہ اپنے سیکرٹ روم میں جا کر ہی تمام انفارمیشن حاصل کر سکتا تھا
ابھی وہ حارث کو جاتا دیکھ رہا تھا جب کسی نے اس کے بازو کو پیچھے کی طرف کھینچتے ایک زوردار تھپڑ اس کے منہ پہ مارا
قلب نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے گال پر رکھتے ہوئے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سندس انسو بھری آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی
کیوں کیا تم نے میری بیٹی کے ساتھ ایسا پچھلے تین دن سے وہ شدید بخار میں تپ رہی تھی سو دفعہ پوچھنے کے باوجود اس نے مجھے صرف اتنا ہی بتایا کہ ابہوں کسی اور لڑکی کو اٹھانا تھا اور غلطی سے وہ اسے اٹھا لے گئے تھے اور صبح وقت رہتے ہی اسے گھر پہنچا دیا حقیقت کیا ہے اس نے مجھے نہیں بتایا
تم نے اسے اغوا کروایا تھا شکل و صورت سے تو کسی شریف گھرانے کے لگتے ہو مگر تم اندر سے کیا ہو وہ میں اب سمجھی سے سندس نے انسو پہنچتے ہوئے قلب سے کہا
ماں جی میں نے کچھ نہیں کیا قندیل کو آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے قلب نے احترام سے مگر سرد لہجے میں کہا
قلب کا سرد لہجہ محسوس کرتے ہوئے سندس بالکل خاموش ہو گئی
قلب کی بات سننے کے بعد اس نے اپنے قدم قندیل کے کمرے کی طرف بڑھائے
جبکہ قلب کو بھی اپنی غلطی محسوس ہو رہی تھی اس لیے وہ بھی ان کے پیچھے پیچھے چلنا شروع ہوا
کیا میں اپنی بیٹی کے ساتھ کچھ دیر اکیلا رہ بھی نہیں سکتی سندس نے پیچھے مڑتے ہوئے اس کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے کہا کیونکہ وہ شکل و صورت سے جتنا بھی معصوم لگتا ہو ان تصویروں میں وہ بالکل نہیں لگ رہا تھا اور اسے اپنی بیٹی سے بڑھ کر کوئی نہیں تھا
ان کی غصہ بھری اواز سننے کے بعد قلب کچھ شرمندہ ہوتے ہوئے پیچھے رکھی کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھ گیا
جبکہ سندس اس کو بیٹھا دیکھتے ہوئے قندیل کے کمرے میں داخل ہو گئی
قندیل میری بچی کیسی ہو تم سندس کو اس کے پاس بیٹھے ہوئے ادھے گھنٹے سے اوپر گزر گیا تھا جب قندیل ہوش میں انا شروع ہوئی
کیوں کیا تم نے قندیل اپنے ساتھ ایسا تمہیں یہ پتہ نہیں کہ میں صرف تمہارے اسرے زندہ ہوں اگر تمہیں کچھ ہو جاتا تو میں کہاں جاتی سندس نے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے روتے ہوئے کہا جب کہ اپنی ماں کو یوں روتا دیکھ قندیل کو بہت زیادہ شرمندگی نے ان گھیرا وہ اتنی سیلفش ہو گئی تھی کہ اس نے صرف اپنے بارے میں سوچا یہ سوچا ہے نہیں کہ اس کے بعد اس کی ماں کا کیا ہوگا
امی اپ پلیز نہ روئیں قندیل نہیں ان کو روتا تڑپ کر کہا
تو اگر روتا نہیں دیکھ سکتی تو کیوں کیا ایسا
اس کی بات سننے کے بعد سندس نے دکھ سے کہا
مجھے برباد کر دیا اس شخص نے میں تو اسے جانتی بھی نہیں اس کی وجہ سے اب میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہی
نہیں میری بچی ایسا نہیں کہتے سندس نے اس کی بات سننے کے بعد تڑپ کر کہا وہ اپنی بچی کو کیسے اس حال میں دیکھتی جس نے اس کے باپ کے سائے کو اس کے سر سے دور جانے کے بعد ماں باپ دونوں کا پیار دیا تھا
امی کیسے نہ کہوں میں ایسا باپ کے جانے کے بعد جو میں نہیں مری تھی اس واقعے نے مجھے مار دیا ہے ختم ہو گئی ہے قندیل کو میں جب یونیورسٹی میں گئی تو وہ لڑکی جس کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ میرے سامنے مجھے کچھ کہہ جائے اس نے میرے اوپر انگلی اٹھائی میرے حجاب پر انگلی اٹھائی کہتی کہ میں بڑی مومن بنتی ہوں اور یہ میرے کالے کارنامے ہیں جو اج سب کے سامنے ائے ہیں امی مجھے برباد کر دی ہے اس انسان نے میں زندہ نہیں رہنا چاہتی کیوں اپ لوگوں نے مجھے بچایا
وہ تڑپ تڑپ کر اپنی ماں کو اپنے دکھڑے سنا رہی تھی
جبکہ سندس جو کمرے میں داخل ہوئے پیچھے سے دروازہ بند کرنا بھول گئی تھی باہر بیٹھے قلب نے اس کا ایک ایک حرف سنا تھا اور اپنے دل پر لکھا تھا جبکہ وہ اس لڑکی کے ذکر پر حیران ہوا تھا کہ کون ہے وہ جس نے اس کی دل عزیز کو اتنے تلخ الفاظ بولے تھے وہ اس کو سبق سکھانے کا پورا ارادہ کر چکا تھا
کچھ سوچتے ہوئے اس نے اپنے قدم اپنے گھر کی طرف بڑھائے
ایسی سوچ جس نے قندیل کی دنیا ہلا کے رکھ دینی تھی