قسط: 18
جب وہ گھر پہنچا تو نماز مغرب کا ٹائم ہو چکا تھا
وہ گھر میں جب داخل ہوا تو سیدھا چلتا ہوا اپنی ماں کے کمرے میں گیا
اس نے ہلکے ہاتھ سے دروازہ کھولا تو سامنے ہی اس کی نظر پڑی جہاں اس کی ماں نماز کے سٹائل میں دوپٹہ لپیٹے نماز پڑھتے تسبیح کر رہے تھی
وہ چلتا ہوا اپنی ماں کے پاس گھٹنوں کے بل کالین پر بیٹھا
امی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے بڑی اہستہ اواز میں ان کو پکارا وہ جو انکھیں بند کیے خدا کی عبادت میں مصروف تھی مگر اس کے انے کو محسوس کر چکی تھی انکھیں کھولتی اس کی طرف دیکھا
نیلم بیگم نے ہاتھ بڑھا کر قلب کا سر اپنی گود میں رکھا
قلب سر ان کی گود میں رکھتے ٹانگے لمبی کرتا لیٹ گیا
کچھ دیر بعد نیلم بیگم نے دعا کرتے اس پر پھونک ماری
اپنے چہرے پر نرم گرم ہوا محسوس کرتے قلب نے آنکھیں کھولی
نیلم بیگم نے جب اس کی طرف دیکھا تو قلب کی آنکھیں شدتِ ضبط سے سرخ اناری ہو چکی تھی
قلب کیا ہوا میرے بچے کوئی بات ہے جو تم کو پریشان کر رہی ہے
نیلم نے ماں کی ممتا سے لبریز میں استفسار کیا
امی وہ مجھے ہوس پرست کہتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی وہ کہتی ہے میں اس سے اپنی ہوس پوری کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی اسے میری محبت پر یقین نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی وہ کہتی ہے کہ میں نے اسے زمانے میں رسوہ کر دیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی وہ میرا قلب شاہ کا جنون ہے میری محبت ہے میں اسے کیسے رسوہ کر سکتا ہوں
امی آج اس نے اپنی نہیں میری جا۔۔۔۔۔۔۔۔جان لینے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخری بات کرتے ہوئے قلب کے آنسو نے اسے دغا دے دی اور دو آنسو اس کی انکھوں سے کرے
جب کہ اپنے بیٹے کو یوں تڑپتا دیکھ کر نیلم کے دل کو کچھ ہوا تھا ان کے دل میں یہ شدت سے خیال ایا کہ وہ لڑکی کتنی خوش نصیب ہوگی جس کے لیے ان کا بیٹے رو رہا ہے جو اپنے باپ کے جانے کے بعد ایک سرد مہر خول میں چھپ کر رہ گیا تھا اس کی وجہ سے اج اس کی انکھوں میں انسو آیائے ہے
جبکہ قلب کی پوری بات سمجھنے کے بعد وہ ایک دم سے بولی
قلب کیا ہوا ہے اور تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے کہ اس نے اپنی نہیں تمہاری جان لینے کی کوشش کی کیا کیا ہے اس نے مجھے ساری بات بتاؤں
جبکہ ان کی بات سننے کی بات سننے کے بعد قلب ان کی گود سے سر اٹھاتے سیدھا بیٹھتے ہوئے سرد نظروں سے نیلم بیگم کو دیکھا
ان کی بات سننے کے بعد قلب نے ان کو اپنی اس سے ملاقات سے لے کر اس کلب میں ہوئے حادثے اور اج قندیل کی گئی بے وقوفی کے بارے میں بتایا
قلب کی بات سننے کے بعد نیلم حیران و پریشان اس کی طرف دیکھا اور پھر سوال کیا
بیٹا اگر تم کہو تو میں اس کے والدین سے اس کا ہاتھ مانگ لوں
جبکہ اس کے بعد سن کے بعد قلب استہسائیہ مسکرایا
امی اپ کو پتہ ہے وہ کس کی بیٹی ہے خیر اپ کو کیسے پتہ ہو گا میں ہی بتاتا ہوں اس کے لہجے سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ خود کا ہی مذاق بنا رہا ہو
وہ اس انسان کی بیٹی ہے جس کا قتل اپ کے شوہر کے سر پر الزام کی صورت لگایا گیا ہے وہ کبھی کبیر شاہ کی بیٹی ہے اور ویسے بھی یہ جو حادثہ ہو چکا ہے اس کے بعد وہ کبھی مر کے بھی میرے پاس نہیں ائے گی
اسے لگتا ہے کہ میں اس کے جسم کا بھوکا ہوں اسے لگتا ہے کہ میں ہوس پرست ہوں مگر اسے انا تو میرے پاس ہی پڑے گا کیونکہ ان تصاویروں کے بعد یہ زمانہ اسے جینے نہ دے گا اور میں اسے مرتا ہوا نہیں دیکھ سکتا اسی لیے میں ایک دو تین کے اندر ہی اس سے نکاح کر کے یہاں لے کر اؤں گا
اپ کہیں نہیں جائیں گی میں نہیں چاہتا کہ وہ اس صدمے میں اپ سے بدتمیزی کرے وہ سلجھی ہوئی لڑکی ہے مگر جیسا اسے شاک ملا ہے وہ کچھ بھی کر سکتی ہے
اپ بس دعا کرنا کہ وہ اپنی نادانی میں کچھ بہت برا نہ کرتے اتنا کہنے کے بعد قلب ان کے پاس اٹھتا باہر کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے جب اسے پیچھے سے نیلم کی اواز ائی
بیٹا جو بھی کرنا سوچ سمجھ کے کرنا عورت بہت نازک اور بہت نادان ہوتی ہے اسے اپنی سختی اور غصے سے توڑ نہیں دینا ان کی بات سننے کے بعد وہ سر ہلاتا باہر کو چلا گیا
جبکہ پیچھے نیلم اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے دعا کرنے لگی
قلب جب اپنے روم میں پہنچا تو اس نے سب سے پہلے شاور لیا تاکہ وہ پرسکون ہو سکے وہ شاور لے کے باہر نکلا تو اسے اپنا فون بچتا سنائی دیا اس نے اپنے قدم فون کی طرف بڑھائے تو حارث کولنگ لکھا دیکھ کر فون اٹھاتے کان سے لگایا جب اسے دوسری طرف سے حارث کی اواز ائی
قلب مجھے تمام انفارمیشن مل گئی ہے کہ یہ تصویریں کس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی ہے پر شاید تم کو یہ سن کے اچھا نہ لگے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ہم مل کر بات کرتے ہیں
ہممممم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سننے کے بعد قلب نے ہنگارا بھرتے کال کٹ گئی
قندیل تم نے اچھا نہیں کیا بغیر سچائی جانے مجھ پہ الزام لگا کر اور میری امانت جو تم تمہارے پاس ہی موجود ہو خود کو نقصان پہنچا کر ایک ایک چیز کا حساب لوں گا ایک ایک چیز کا
قندیل کو اپنے خیالوں میں ہی مخاطب کرتے ہوئے قلب نے سرسراتی اواز میں کہا
تیار ہونے کے بعد وہ حارث سے ملنے کے لیے سیکرٹ روم کے لیے نکلا
اس وقت ماہین حارث اور قلب تینوں سگرٹ روم میں موجود تھے جبکہ حارث اپنی لائ گئی انفارمیشن قلب اور ماہین کو بتا رہا تھا
کیا تمہیں یقین ہے یہ سب کام اس نے ہی کیا ہے قلب نے ایک دفعہ اور حارث سے استفسار کیا
ہاں مجھے یقین ہے اس بات کا کہ میری انفارمیشن غلط نہیں حارث نے قلب کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
اور میں نے خود کلب کے سی سی ٹی وی فٹیج دیکھی ہیں قندیل کو جو لوگ لے کے ائے تھے انہوں نے چہرے پر نقاب اوڑ رکھا تھا جبکہ جس نے قندیل کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میرا مطلب ہے جس کے ارڈر پر قندیل کو لایا گیا تھا
(حارث نے قلب کی غصے بھری نظر اپنی طرف دیکھتے ہوئے بات کو بدلہ )
اس نے بھی اپنا چہرہ رومال سے ڈھک رکھا تھا مگر جس انسان نے یہ تصویریں لی وہ کیمرے میں کیپچر ہو گیا کیونکہ نہ تو اس نے نقاب اوڑ رکھا تھا اور نہ ہی اس نے رمال پہن رکھا تھا
و اس کی بات سننے کے بعد ماہین کے جسم سے غصے کی لہر گزری کیونکہ وہ اس انسان سے پہلے ہی شدید نفرت کرتی تھی اور اب ایک اور موقع مل گیا تھا اسے اپنے نفرت بڑھانے کا
تو کیا ہم اب اسے جا کے پکڑ لیں ماہیں نے بات کا اغاز کیا
نہیں ابھی نہیں یہ انسان جس نے یہ تصویریں لیک کی ہیں اس کا کوئی نہ کوئی تو مقصد ہوگا بلا وجہ تو کوئی اپنی نفرت یوں کسی سے نکالتا نہیں اس کے پیچھے کی وجہ ہوگی نا وہ وہ وجہ معلوم کرو کلک نے ماہین کو دیکھتے ہوئے کہا اور یہ کام ماہین تم کرو گی
یس سر نو پرابلم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر اور اس معاملے پہ بات کرنے کے بعد وہ تینوں سیکرٹ روم سے نکلتے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوئے
قندیل کو گھر واپس آئے تین دن گزر چکے تھے
وہ اب کافی حد تک سنبھل گئی تھی پر اس نے یونی جانا شروع نہیں کیا تھا
سندس نے اسے بہت سمجھایا تھا کہ وہ اس واقع کی وجہ سے اپنا فیوچر خلاب نہ کرے مگر
اس کا کہنا تھا کہ اب وہ یونی نہیں جایا کرے گی وہ کس منہ سے لوگوں سے ملا کرے گی کس منہ سے بات کیا کرے گی وہ کیسی طور سندس کی بات ماننے کو تیار نہیں تھی
جبکہ قلب اور حارث تین دن سے نہ جانا کہ تھے اور ماہین کو قلب نے جو کام دیا تھا وہ اس کو پورا کرنے میں لگی ہوئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندس ابھی قندیل کو بخار کی دوائی دے کے ائی تھی کیونکہ قندیل کو اج بہت تیز بخار تھا
جب سندس اپنے کمرے میں واپس ائی تو ڈریسنگ ٹیبل پر رکھا فون زور و شور سے بج رہا تھا جب اس نے فون اٹھا کر دیکھا تو اننون نمبر تھا اس نے پہلے سوچا کہ وہ فون نہیں اٹھاتی مگر پھر کال اٹینڈ کرتے اپنے کان سے لگایا جب اسے دوسری طرف سے قلب کی اواز ائی
سید قلب حیدر شاہ سپیکنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب کی اواز سننے کے بعد سندس کو کچھ عجیب لگا وہ اسے کیوں فون کر رہا تھا سب سے پہلے اس کے دماغ میں یہی خیال ایا اسے پتہ نہیں کیوں لگتا تھا کہ قلب کو قندیل جیسا کہ رہی وہ ویسا نہیں ہے اس دن قندیل کے لیے قلب کی تڑپ دیکھ کر اسے اس کے جذبات میں سچائی معلوم ہو رہی تھی
جی میں سندس بات کر رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
جی انٹی میں قندیل کا پروفیسر بات کر رہا ہوں کیا اپ مجھ سے مل سکتی ہے مجھے اپ سے اور کچھ ضروری بات بتانی ہے قلب سیدھا مدے کی بات پر ایا
بیٹا وہ تو ٹھیک ہے پر مجھے نہیں لگتا کہ قندیل میرا اپ سے ملنا پسند کرے گی سندس نے اپنے پریشانی بتائی
اپ بس چند گھنٹوں کے لیے ا جائیں اسے چاہے نہ بتائیں پلیز انٹی بہت ضروری بات ہے
ٹھیک ہے میں دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب کی بات سننے کے بعد سندس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
انٹی کل دوپہر تین بجے اپ میرے سینڈ کیے گئے ایڈریس پر پہنچ جائیے گا میں اپ کو وہیں ملوں گا ہماری ملاقات زیادہ لمبی نہیں ہوگی بس کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں
قلب نے ان کی پریشانی کو مزید اسان کرنا چاہا
ٹھیک ہے اپ مجھے لوکیشن سینڈ کر دیجئے گا اتنا کہنے کے بعد سندس نے کال کٹ کر دی اور سوچنے لگی ایسی کون سی ضروری بات ہے جو فون پر نہیں ہو سکتی تھی