آتشِ قلب

post cover

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط: 19

مما اپ کہاں گئی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل جو ڈنر تیار کر رہی تھی سندس کو گھر میں داخل ہوتے دیکھ پوچھا
بیٹا میں کچھ ضروری کام تھا ادھر گئی ہوئی تھی سندس نے سرسری سا جواب دیتے ہوئے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے پھر پلٹ کر کہا
تم ڈائننگ ٹیبل پر کھانا لگاؤ میں فریش ہو کے اتی ہوں مجھے تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے
مما کیسی ضروری بات قندیل نے سندس سے استفسار کیا
تم کھانا لگاؤ کھانا کھانے کے بعد میں بتاتی ہوں اتنا کہنے کے بعد سندس کمرے میں چلی گئی جبکہ قندیل کھانا سرو کرنے لگی
سندس کھانا کھانے کے بعد اپنے کمرے میں نماز پڑھنے چلی گئی جب کہ قندیل اپنا کھانا مکمل کرنے کے بعد برتن اٹھاتے کچن میں رکھنے کے بعد وہ بھی نماز پڑھنے چلی گئی
قندیل نے جب نماز مکمل کر لی تو اسے یاد ایا کہ سندس نے اسے اس سے کوئی ضروری بات کرنی تھی اسی لیے وہ ویسے ہی نیچے اس کے کمرے میں چلی گئی جب دیکھا تو سندس کبیر شاہ کی تصویر کو دل سے لگائے بیٹھی تھی
اس کے دل کو کچھ ہوا اپنی ماں کو یوں بکھرا ہوا دیکھ کر
خیر اپنے اپ کو مضبوط کرتی وہ کمرے میں داخل ہوئی تو اس کی آہٹ محسوس کرتے سندس نے اپنی نظروں کا رخ اس کی طرف کیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے پاس بلایا
قندیل سندس کے ہاتھ کا اشارہ سمجھتے ہوئے اس کے پاس ا کر بیٹھی
بیٹا میں جو بات کرنے لگی ہوں دیکھو مجھے غلط نہیں سمجھنا پر میں مجبور ہوں میں تم کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتی تم میری بات سمجھ رہی ہو نہ
جی امی میں سمجھ رہی ہوں اپ کو تمہید باندھنے کی ضرورت نہیں ہے اپ سیدھی طرح بات کریں بلکہ بات نہیں حکم کریں
بیٹا میں اج کسی اور سے نہیں تمہارے پروفیسر قلب سے ملنے گئی تھی
سندس کی بات سننے کے بعد قندیل حیران ہو گئی اس کی مما اور پروفیسر قلب سے کیوں ملنے گئی تھی
پر مما اپ کون سی کیوں ملنے گئی تھی اور اتنا کچھ ہو جانے کے بعد بھی
میرے خیال سے بیٹا انہوں نے جو کہا وہ ٹھیک کہا مجھے بھی ان کا فیصلہ ٹھیک لگتا ہے بس اپ میری بات مان جائیں
پر مما بات ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل کو سندس کے لہجے سے کچھ عجیب لگا کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا
قندیل کی بات سننے کے بعد سندس کے دماغ میں قلب سکی ہوئی باتیں گردش کرنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب قلب کی سینڈ کی گئی لوکیشن پر پہنچی تو قلب پہلے ہی اس ریسٹورنٹ میں ایک ٹیبل پر بیٹھا تھا
سندس کو دیکھتے ہی اپنی طرف انے کا اشارہ کیا اور اپنی کرسی سے احتراماً اٹھ کھڑا ہوا
بیٹا ایسی کون سی ضروری بات تھی جو اپ فون پہ نہیں کر سکتے تھے اور مجھے یوں ریسٹورنٹ میں بلایا
سلام دعا اور حال چال پوچھنے کے بعد سندس نے بات کا اغاز کیا
انٹی بات ہی کچھ ایسی ہے کہ فون پہ کی ہی نہیں جا سکتی تھی اسی لیے میں نے اپ کو ریسٹورنٹ آنے کا کہا
وہ بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب نے بات ادھوری چھوڑ کر سندس کی طرف التجائی نظروں سے دیکھا جبکہ سندس نے اسے انکھوں کے اشارے سے بات جاری رکھنے کا کہا
انٹی اپ کو پتہ تو ہے کہ قندیل میرے بارے میں کیا سوچتی ہے وہ سمجھتی ہے کہ میں نے اس کی عزت پر ہاتھ ڈالا وہ سمجھتی ہے کہ میں لٹیرا ہوں اس کی عزت کا پر ایسا نہیں ہے درحقیقت ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا وہ سمجھ رہی ہے
اصل میں اس دن کلب میں اپنے ایک دوست سے ملنے ایا تھا جہاں میں نے ایک کمرے میں تھوڑی ہلچل محسوس کی تو میں اس کے اندر داخل ہوا جب دیکھا تو کوئی آدمی اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہا تھا یہ مکمل بے ہوشی کی حالت میں تھی میں نے اس آدمی کو اس سے پیچھے کرتے ہوئے اسے جگانے کی کوشش کی مگر یہ اٹھی نہیں بس ایک دفعہ انکھیں کھول کر بند کر لی
اس نے جب انکھیں کھلی تو مجھے اپنے اوپر جھکا ہوا پایا اس لیے اسے غلط فہمی ہوئی کہ اسے اس کلب میں لانے والا میں ہوں جب کہ اس دوران جب میں اسے جگانے کی کوشش کر رہا تھا تب وہاں کسی نے ہماری فیک تصویریں بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی جس کو ایڈٹ کرنے کے بعد کچھ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد اس نے بات اچھوری چھوڑ دی جبکہ سندس کی انکھیں انسوں سے بھر گئی تھی
اچھا ٹھیک ہے تم نے بس یہ حقیقت بتانے کے لیے مجھے ادھر بلایا تھا اپنے انسو پر قابو پانے کے بعد سندس نے قلب سے استفسار کیا
جی انٹی ایک یہ بھی بات ہے اور میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں قندیل سے شادی کرنا چاہتا ہوں
قلب نے جلدی سے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد التجائے نظروں سے سندس کی طرف دیکھا
جبکہ وہ اس کی بات سننے کے بعد حیران و پریشان اسے دیکھ رہی تھی
دیکھیں انٹی اپ مجھے غلط نہیں سمجھے گا میں قندیل کو شروع سے ہی بہت پسند کرتا ہوں اور اس کے بعد حالات بھی کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ یہی فیصلہ ہم دونوں کے لیے ٹھیک رہے گا ہو سکتا ہے کہ وہ اپ سے ناراض ہو جائے مگر یہ فیصلہ اس کی زندگی کے لیے ایک بہترین فیصلہ ہوگا اپ یقین کریں میں اس کی انکھوں میں کبھی انسو نہیں انے دوں گا
بیٹا تمہاری بات تو ٹھیک ہے مگر میں ایسے کیسے قندیل کا ہاتھ تمہیں دے دوں نہ مجھے تمہارا صحیح سے بتانا تمہاری خاندان کا بتانا تمہارے ماں باپ کا پتہ مجھے کچھ بھی معلوم نہیں ہے تمہارا تمہیں تو میں کیسے اپنی بیٹی تم کو دے دو سندس نے اپنی پریشانی کی وجہ بتائی جب کہ ان کی بات سننے کے بعد کچھ حد تک قلب بھی پریشان ہو گیا تھا
وہ ان کو کیا بتاتا ہے کہ وہ اس شخص کا بیٹا ہے جس پر یہ الزام لگا ہے کہ وہ ان کے شوہر کا قاتل ہے قندیل کے باپ کا قاتل ہے
انٹی میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس پر اپ کے شوہر کے قتل کا الزام لگا ہوا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سید حیدر عباس شاہ کا بیٹا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارمی افیسر حیدر عباس شاہ کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب کی بات سننے کے بعد سندس کی انکھوں میں تیزی سی انسو بھرے آئے
انسو بھرائی انکھوں سے اس نے قلب کی طرف دیکھا جیسے کہنا چاہتی ہو ابھی بھی تم کو لگتا ہے کہ میں اپنی بیٹی تم کو دے دوں گی
انٹی دیکھیں وہ محض ایک الزام ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں اپ میری بات کا یقین کریں
اگر وہ ایک الزام تھا تو اپ کے بابا نے اس الزام کے چلتے خودکشی کیوں کی سندس کو پر غصہ انے لگا تھا
انٹی وہ کوئی خودکشی نہیں ایک پریپلین مڈر تھا اپ سمجھ کیوں نہیں رہی میری بات
دیکھیں اصل میں تو میرے بابا نے کوئی قتل کیا ہی نہیں اور دوسرا میرے بابا نے کوئی خودکشی نہیں کی ان کا مڈر کیا گیا ہے اور یہ بات انشاء اللہ جلد سب کے سامنے ا جائے گی باقی رہی بات میرے خاندان کے بارے میں جاننے کی تو انشاءاللہ میں بہت جلد اپ کی ملاقات اپنی مما سے کروا دوں گا پہلے اپ جا کے قندیل کو منائے اس رشتے کے لیے پرسوں میری مما اپ کے گھر میرا رشتہ لے کے ائیں گی تب تک اپ قندیل سے بات کریں
اور اگر وہ اس رشتے کے لیے نہیں مانتی تو میں اس سے اس حد تک تو جنونی محبت کرتا ہی ہوں کہ کسی کی بھی پرواہ کیے بغیر میں اسے اٹھا کر لا کر نکاح کر سکتا ہوں اس نے سرخ انکھوں سمیت سندس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اتنی بات کرنے کے بعد قلب بغیر کچھ کہے اپنے سن گلاسز انکھوں پر لگاتا باہر کی طرف چلا گیا جبکہ سندس ابھی بھی وہیں بیٹھی اس کی لفظوں کا اصل زائل کر رہی تھی
اس کے الفاظ میں ایک جنون جھلک رہا تھا جسے محسوس کرتے سندس اندر تک لرز گئی تھی
سندس جب گھر کی طرف واپسی کا سفر طے کر رہی تھی تو اسے کسی حد تک قلب کی باتیں صحیح لگی تھی اگر قندیل قلب سے نکاح کر لے تو اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے وہ اس کا پروفیسر بھی ہے دیکھنے میں بھی خوبصورت ہے اور وہ اس سے جنون کی حد تک محبت بھی کرتا ہے اور دولت کا کیا ہے دولت تو ان کے پاس بھی بے شمار ہے وہ کسی حد تک اپنے دل کو مانا چکی تھی قلب کے لیے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا بات یہ ہے اپ کے لیے اپ کے پروفیسر قلب کا رشتہ ایا ہے اور مجھے ہر لحاظ سے بہتر لگا ہے اپ کا کیا کہنا اس بارے میں
سندس نے کچھ محتاط ہوتے بات کا اغاز کیا
مما یہ اپ کیسی باتیں کر رہی ہیں اپ اس رشتے سے انکار کر دیں قندیل نے بہت سفاکیت سے کہا
کیوں کر دوں میں انکار اور کیا مطلب ہے تمہاری اس بات کا کس لیے انکار کروں اچھا خاصا رشتہ ہے اور ویسے بھی بیٹیوں کو زیادہ دیر گھر میں نہیں بٹھانا چاہیے سندس نے اس سے ڈبل سفاکیت سے کہا
جب کہ اس کی بات سننے کے بعد قندیل کی انکھوں میں دھرا دھر انسو بھرے
مما کیا میں اپ کے لیے بوجھ بنتی جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بوجھ نہیں میرا بیٹا بیٹیوں کو ایک نہ ایک دن تو اگلے گھر جانا ہی ہوتا ہے اور اگر اب اتنا اچھا رشتہ ا رہا ہے تو میں انکار نہیں کرنے والی تم اپنے اپ کو تیار کر لو قلب کی مما ا کر شادی کی ڈیٹ فکس کر جائیں گی
میں نے کہا نا مما میں نے شادی نہیں کرنی تو نہیں کرنی اور قلب سے تو بالکل نہیں کرنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل ہے سندس کے بعد سننے کے بعد کچھ برہمن ہوتے کہاں
قلب سے نہیں کرنی تو اور کس سے کرنی ہے تم نے شادی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں سفیان بھائی سے شادی کر لوں گی پر قلب سے شادی کبھی نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل میں سیدھے اور صاف الفاظ میں کہہ رہی ہوں اگر تم نے اس رشتے کے لیے انکار کیا یا کوئی گڑبڑ کی تو میں اپنی جان لے لوں گی باپ تو تمہارا پہلے ہی اس دنیا سے چلا گیا ہے اب تم اپنی ماں کو بھی خود ہو گئی اور ایک میری بات اور غور سے سن لو اب کل سیدھا نکاح ہوگا اور تم نکاح کرو گی ورنہ میں اپنی جان لے لوں گی
اتنا کہنے کے بعد سندس نے اپنا رخ قندیل کی طرف سے موڑ لیا
جبکہ قندیل انسو ٹپکاتی انکھوں سے سندس کو دیکھ رہی تھی جو اج اتنی سفاک بنی ہوئی تھی کہ اپنی بیٹی کے انسو بھی اس پر کوئی اثر نہیں کر رہی تھی
ٹھیک ہے امی اگر اپ کا یہی فیصلہ ہے تو میں اس جہنم میں بھی جانے کو تیار ہوں بس اپ بار بار اپنی جان لینے کے بعد نہ کریں
بلا لیں کل قلب کو میں نکاح کے لیے تیار ہوں اتنا کہنے کے بعد قندیل کمرے سے باہر چلی گئی
جبکہ اس کے جانے کے بعد سندس زور و شور سے رونا شروع ہو گئے اج کیسے دن آ گئے تھے ان کی زندگی میں کہ اسے اپنی بیٹی کے لیے ایسے الفاظ استعمال کرنے پڑ رہے تھے وہ کیسے بچاتی اپنی بیٹی کو اس بدنامی سے جو ان تصویروں کی وجہ سے اس کی ہو چکی تھی
اس بدنامی سے بچنے کے لیے سندس کے پاس اس سے اچھا راستہ اور کوئی نہیں تھا
پر بروقت گزرنے کے ساتھ سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے وقت سے بڑا مرہم اور کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️
قندیل کی مما سے بات کرنے کے بعد قلب حارث کے فون کرنے پر سیدھا سکرٹ روم میں ایا تھا
ہاں بولو حارث کیا بات تھی جو تم نے مجھے اتنی ایمرجنسی سے بلایا
سر بات ہی کچھ ایسی ہے اپ نے مجھے اس انسان کے بارے میں مکمل انفارمیشن لانے کو کہا تھا میں لے ائی ہوں
قلب کی بات سننے کے بعد ماہین نے بات کا اغاز کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہمارا شک 100 پرسنٹ صحیح نکلا یہ اس انسان سے پراپر ملی ہوئ ہے جس نے اج سے سات سال پہلے اس یونیورسٹی میں لڑکیوں کی سمگلنگ اور ڈرگز کا کام سٹارٹ کیا تھا یہ اس کے ٹیم کا نئ ممبر ہے
میں نے کچھ دن اس کی چہل پہل انے جانے کی مکمل خبر رکھی یہ اس انسان سے تو نہیں ملی جس کے لیے یہ کام کرتی ہے مگر وہ مکمل اس گینگ کا حصہ ہے جس نے یہ ڈرگز کا کام شروع کیا تھا
اور سر رابیہ جو اس مہینے کے اخر میں پاکستان واپس انے لگی تھی اس کی فلائٹ کینسل ہو گئی ہے شاید انہوں نے جب لاکر چیک کیا ہوگا تو وہ پین ڈرائیو انہیں نہیں ملی ہوگی انہیں شک ہو گیا ہے کہ کوئی ان پر نظر رکھ رہا ہے
ماہین کو اپنی بات مکمل کرتے دیکھ حارث نے اپنی بات کا اغاز کیا اور اپنی لائ گئی انفارمیشن قلب کو دی
اس سے واپس پاکستان انا تو پڑے گا ہی کیونکہ مجھے لگتا ہے اس پین ڈرائیو میں ان تمام اشخاص کے نام یا تصویریں وغیرہ ہوں گی جو پہلی سمگلنگ اور ڈرگز کریس میں شامل تھے کیونکہ اج سے سات سال پہلے کی ریٹ میں ڈرگز اور لڑکیاں تو بازیاب ہو گئی تھی مگر ان اشخاص کے نام سامنے نہیں ائے تھے جو یہ کام کر رہے تھے اور اگر پرنسپل کو اس بارے میں کچھ معلوم تھا تو ان کا ایک ایکسیڈنٹ کی صورت میں قتل کر دیا گیا اب یہ واحد ذریعہ ہے ہمیں ان قاتلوں تک پہنچانے کا
حارث تم رابیہ کے واپس انے کی مکمل انفارمیشن رکھنا جب وہ واپس ائیں تو سب سے پہلے مجھے اطلاع دینا
اور ماہین تم اس لڑکی پر نظر رکھو اور کوشش کرو کہ معلوم ہو سکے کہ وہ کس گینگ کا حصہ ہے اس گینگ میں کتنے فرد شامل ہیں
اس کے بعد سننے کے بعد دونوں نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ قلب ان دونوں کو دیکھتا سکرٹ روم سے باہر چلا گیا کیونکہ اسے ابھی نیلم بیگم کو بات بتانی تھی جو اج قندیل کی مما اور اس کے درمیان ہوئی تھی تاکہ وہ کل رشتہ لے کے جا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial