قسط: 21
قندیل جس کی انکھ فجر کی نماز پڑھنے کے بعد لگی تھی سات بجے کے قریب اپنے گھر میں ہوتی غیر معمولی ہلچل کی وجہ سے نید سے جاگ گئی
وہ جب کمرے سے باہر نکلی تو اس نے دیکھا گھر میں مختلف طرح کی سجاوٹ کی جا رہی ہے یہ دیکھتے ہی ایک دم سے ہی اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہو گیا وہ سیڑھیاں اتر کے نیچے ائی تو سامنے صغیر شاہ اور ساتھ میں سفیان بیٹھا صغیر شاہ سے کچھ راز و نیاز کی باتیں کرا تھا
جبکہ سلطان شاہ اور سلمہ بیگم اپنے روم میں تھے ستارہ. نے آنے سے منع کر دیا تھا جبکہ چندہ کی وفات 5 سال پہلے ہو چلی تھی
جبکہ سندس بیگم کچن میں کھڑی ملازموں کو حکم دے رہی تھی اس نے بے دلی سے سب چیزیں دیکھی اور اپنے قدم واپس اپنے کمرے کی طرف کر لیے کیونکہ اسے ان چیزوں میں بالکل انٹرسٹ نہیں تھا ابھی وہ کچھ ہی سیڑھیاں پار کر پائی جب اسے پیچھے سے صغیر شاہ کی اواز ائی
بیٹا کہاں جا رہی ہو کچھ دیر ہمارے پاس بیٹھے جاؤ ۔۔۔۔۔۔
مانا کہ تمہاری شادی ہے پر ہم بھی تمہارے کچھ لگتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صغیر شاہ نے طنز کرتے ہوئے کہا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ قندیل کی شادی کہیں اور ہو وہ چاہتے تھے کہ قندیل کی شادی سفیان کے ساتھ ہو جائے مگر سفیان قندیل سے 15 سال بڑا تھا اس وجہ سے قندیل کی ماما نہیں مان رہی تھی جبکہ اس کی ایاش طبیعت کی وجہ سے قندیل کا بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا اس سے شادی کرنے کا
کیا کروں تایا ابو مجھے شادی کی خوشی ہی اتنی ہے کہ اس خوشی میں اپ مجھے نظر ہی نہیں ائے خیر میں فریش ہو کر اتی ہوں ناشتے کے ٹیبل پہ ملیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا کہنے کے بعد قندیل نے واپس اپنے قدم اپنے کمرے کی طرف بڑھائے
جبکہ پیچھے صغیر شاہ اس کے الفاظ سوچتا سبقت کی وجہ سے سرخ ہو گیا تھا وہ قندیل سے ایسی امید نہیں کرتے تھے کیونکہ قندیل نے انہیں باپ کا درجہ دیا تھا اج تک ایسی کوئی بات نہیں کی تھی
جبکہ سفیان تو قندیل کے تیور دیکھ کر ہی خاموش ہو گیا تھا وہ نہیں چاہتا تھا کہ کچھ ایسا ہو جو اس کے لیے اور اس کی باپ کی صحت کے لیے اچھا نہ ہو اس لیے وہ خاموش ہی رہا
قندیل جب واپس کمرے میں ائی تو ایک دم سے اس کا دل بھر سا گیا وہ بیڈ پر اندھے منہ لیٹے منہ تکیے میں دیے زور و شور سے رونا شروع ہو گئی رات کی سوجی انکھیں رونے کی وجہ سے اب مزید درد کر رہی قندیل نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ کچھ ایسا ہو جائے گا اس نے تو یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ کبھی اس سے خود کشی کرنے کی نوبت ائے گی اور اب سب ہو رہا ہے جو اس کی سوچ سے پرے تھا وہ محض 19 سال کی عمر میں اپنے خوابوں کا قتل کرتے ہوئے ماں کا مان رکھتے اپنی زندگی کو ختم کر رہی تھی
وہ بیڈ سے اٹھی اور سائڈ ڈرو سے اپنے بابا کی تصویر نکال کے سینے سے لگا کر سسکیاں لیتے ہوئے رونے لگی
بابا اپ دیکھ رہے ہیں نا اج اپ کی جان سے پیاری بیٹی پر کتنے ظلم کیے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔
میری ماں ہی میرا ساتھ نہیں دے رہی جبکہ وہ جس نے اپ کی بیٹی کی عزت لوٹنے کی کوشش کی اس کے ساتھ ہی اج اسے رخصت کر دیا جائے گا
میں کیسے کروں گی اس کا سامنا وہ مجھ پہ ہنسے گا اس نے تو یہی کہنا ہے نا کہ تم جسے دھتکار کے ائی تھی اج اسی کی ہی سیج سجائی بیٹھی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سسکیاں لے کر روتی اپنے باپ سے فریاد کر رہی تھی اپنے باپ کو اپنے دکھڑے سنا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی اسے روتے کچھ ہی وقت گزرا جب دروازہ کھلنے کی اواز سے اس نے پیچھے پلٹ کے دیکھا تو سندس بیگم ہاتھ میں ناشتے کی ٹرے لیے اس کے سامنے کھڑی تھی اسے یوں روتا دیکھ کر سندس کا ایک بار کٹ سا گیا مگر پھر اپنے بیٹی کے فیوچر کا سوچتے ہوئے خود کو مضبوط کرتے قدم بیڈ کے طرف بڑھائے بیڈ پر ٹرے رکھتے ہوئے سخت نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا تم رونا دھونا لے کے بیٹھی ہوئی ہو شادی ہو رہی ہے کوئی مرا نہیں ہے جو تم یوں روئی جا رہی ہو اٹھو اور ناشتہ کرو وعدہ کیا ہے تم نے مجھ سے کہ تم نکاح کرو گی اگر تم نے اس نکاح میں کوئی گڑبڑ کی تو تم میرا مرا ہوا منہ دیکھو گی قندیل اور یہ رونا دھونا چھوڑو
اٹھو منہ ہاتھ دھو کر ناشتہ کرو اور میرے ساتھ پارلر چلو باقی تیاریاں میں کر چکی ہوں
سندس نے سخت الفاظ کا چناؤ کرتے ہوئے بات کی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ ابھی وہ نرم پڑے اور قندیل حوصلہ ہار دے
امی اپ ایسا کیسے کر سکتی ہیں میرے ساتھ کچھ تو رحم کریں مجھ پر اپ کی ہی بیٹی ہوں قندیل نے روتے ہوئے گھٹنوں کے بل ان کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اب وہ اپنی ماں کے سامنے ہار چکی تھی وہ ان کے الفاظوں کے سامنے ہار چکی تھی
تماری ماں ہوں اس لیے تمہارے بھلے کا سوچ رہی ہوں قندیل تم بھی مجھے سمجھو نا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندس نے اسے اپنے سامنے یوں جھکا ہوا دیکھ کر ڈوبتے دل کے ساتھ کہا کیونکہ وہ ایک ماں تھی اسے وہ سب معلوم تھا جو اس کی بیٹی کے لیے سب سے زیادہ بہتر ہو سکتا ہے مگر قندیل اب جذباتی ہو رہی تھی
میری بھلائی نہیں ہے میں تم چھوٹی کا رشتہ زیادہ دیر چلان نہیں سکوں گی اپ بھی تو سمجھو نا قندیل میں نے کہہ دیا نا تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا
وعدہ کیا تھا امی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل نے کچھ کہنا چاہا جب سندس نے اسے درمیان میں ہی ٹوک دیا
میں نے کہہ دیا قندیل جلدی سے ناشتہ کرو اور پالر چلتے ہیں
ڈنڈا کی بات سننے کے بعد قندیل سندس کے سامنے کھڑی ہوئی امی میں نے وعدہ کیا تھا اور میں پورا بھی کروں گی پر میری ایک شرط ہے میں دلہن والا جوڑا نہیں پہنوں گی اور نہ ہی میں پارلر جائیں گی
یہ کیا کہہ رہی ہو قندیل اج تمہاری شادی ہے اور شادی والے دن ہی دلہن والا جوڑا پہنا جاتا ہے اور تم وہ پہنو گی
سندس تو اس کی یہ فضول سی ضد سنتے حیران ہو گئی تھی
امی میں اپ کا وعدہ پورا کرو گی اور اپ میری یہ شرط پوری کریں نہیں تو میں شادی نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل نے با ضد ہوتے کہا ٹھیک ہے جیسی تمہاری مرضی پارلر نہ جاؤ بس شادی والا جوڑا پہن لو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ایسا کچھ بھی نہیں کروں گی امی اور ناشتہ میں کر لوں گی اب اپ جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل نے اپنا رخ ان کی طرف سے موڑتے ہوئے کہا جبکہ سندس اپنی بیٹی کا یہ لہجہ دیکھ کر مرتے دل کے ساتھ اس کے کمرے سے باہر نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب جب صبح فجر کی نماز کے بعد مارننگ وک کے لیے نیچے ایا تھا تو نیلم بیگم کو یوں خوشی سے دمکتے چہرے کے ساتھ زور و شور سے کام کرتے تھے اس کے چہرے پر ایک دلفریب سی مسکراہٹ تھی
اس نے جاتے اپنے ماں کو پیچھے سے گلے لگایا اور ان کی گال پر بوسہ دیتے محبت سے کہا امی اپ اتنی ٹینشن کیوں لے رہے ہیں ہو جائیں گے سارے کام اپ کے جوڑوں کو درد ہونے لگ جائے گا بیٹھ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا اب تو میں ٹھیک ہوئی ہوں جوڑوں کے درد کو تو اب بھول جاؤں میں اپنی بیٹے کی خوشی میں خوش ہوں اور اس خوشی میں مجھے کوئی درد نہیں روک سکتا اور مجھے بہت سارے کام کرنے ہیں تم اپنے کام سے کام رکھو
اتنی جلدی کیا ہے تین بجے نکاح ہے ارام ارام سے کام کریں اتنی صبح صبح اپ کام کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.
تو مجھے نہ سمجھا کہ میں نے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا
تو جو کرنے جا رہا تھا وہ کر
نیلم بیگم نے نروٹھے پن سے کہتے ہوئے مٹھائی کی ٹوکریاں پیک کروانی شروع کی جو قندیل کے گھر انہوں نے لے کر جانی تھی اپنی ماں کا قرارا سا جواب سنتے قلب مارننگ واک کو نکل گیا
ڈیڑھ بجے کا وقت تھا جب سب تیار ہو کر نکلنے کی تیاری میں تھے
قلب نے کالا سوٹ اور مردانہ سکن کلر کی چادر اپنے کندھوں پر پھیلا رکھی تھی جبکہ نیلم بیگم ہلکے گلابی کلر کا سوٹ پہنے تیار تھی جب کہ دوسری طرف حارث سفید کلر کا سوٹ پہنے ماہی کے ساتھ کھڑا تھا ماہی نے گرے کلر کی میکسی پہن رکھی تھی وہ اس میکسی میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی اس کہنا تھا کہ وہ اس میکسی میں اوور لگ رہی ہے جبکہ حارث نے اسے کہا
کہ وہ بہت خوبصورت رہی ہے جس کی وجہ سے خود کو سیٹسفائیڈ کرتے ہوئے وہ یہ پہن چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل تیار ہونے پر تمام لوگ گاڑیوں میں بیٹھے ان کی اس چھوٹی سی بارات میں قلب اس کی مما ,,حارث ماہین ,, کرن ارم اور غازم شاہ اور حسن شاہ شامل تھے
بارات جب شاہ منشن پہنچی تو مین ڈور پر سندس ,, سلمہ ,, سلطان شاہ اور صغیر شاہ کھڑے تھے جبکہ سفیان کسی کام کا بہانا بنا کر جا چکا تھا
ان کا ویلکم بڑے جوش و خروش کیا گیا ویلکم کے لیے زیادہ افراد تو نہیں تھے مگر جو تھے انہوں نے میزبانی میں کوئی کسر نہ چھوڑی ۔۔۔۔۔۔۔
زیادہ مہمان نہ ہونے کی وجہ سے کھانا گھر میں ہی بنایا گیا تھا کھانا کھانے کے بعد قلب کے اشارے پر نیلم بیگم نے نکاح کا کہا
سندس بہن مجھے لگتا ہے نکاح کے کاروائی شروع کرنی چاہیے پھر بارات نے واپس بھی جانا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ سندس نیلم کی بات سننے کے بعد سر ہاں میں ہلاتی ماہین کو اپنے ساتھ لیتی اوپر کی طرف چلی گئی
جب وہ کمرے میں داخل ہوئی تو دلہن کا لہنگا بیڈ پر ویسے پڑا تھا جولری بھی ویسے پڑی تھی جب کہ قندیل واش روم سے نہا کے نکل رہی تھی
سرخ شورٹ کھلی سی شرٹ پہنے ساتھ میں بلیک ٹراؤزر پہنے وہ باہر نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ سندس اس کا یہ حلیہ دیکھ کر غصے سے تپ گئی کیونکہ اب اتنا وقت نہیں تھا کہ اسے دلہن کی طرح تیار کیا جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندیل بیٹا اپ تیار کیوں نہیں ہوئی میں کب سے اپ کو کپڑے دے کے گئی ہوں اپ کو ذرا خیال ہے کہ ابھی نکاح کی کاروائی شروع ہونے لگی اور اپ تیار نہیں ہیں کچھ تو میری عزت رکھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امی میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میں دلہن کا لہنگا نہیں پہنوں گی اور یہ میری شرط تھی میں اب بھی کہہ رہی ہوں میں نہیں پہنوں گی نکاح کرنا ہے تو ایسے ہی ٹھیک ہے نہیں تو میں نکاح نہیں کروں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ اس کی بات سننے کے بعد ماہین تو ہونق بنی اسے ہی دیکھ رہی تھی مطلب یہ نکاح اس کی مرضی سے نہیں ہو رہا تھا سندس بیگم نے اسے کچھ کہنا چاہا مگر پھر ماہین کی طرف مڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیٹا تم ہی اس کو کچھ سمجھاو میری تو یہ مان نہیں رہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندس نے بے بس سا ہوتے ماہین سے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی انٹی میں کوشش کرتی ہوں اپ نیچے چلیں میں اسے تیار کر کے لے کر اتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کی بات سننے کے بعد سندس بیگم نیچے چلی گئی جبکہ ماہین قندیل کے پاس ائی جو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی اپنے بال ڈرائر سے خشک کر رہی تھی ماہی نے اگے بڑھتے اپنا ہاتھ قندیل کے کندھے پر رکھا تو قندیل اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کندیل بات مان لو اپنی مما کی پہن لو لہنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اپنی طرف سے سمجھانے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین تم کیوں نہیں سمجھ رہی میرا نہیں ہے دل نکاح کرنے کا میں نہیں پہننا چاہتی یہ لہنگا اور مجھ سے نہیں ہوتا یہ میک اپ میں کہہ رہی ہوں اگر نکاح کرنا ہے تو ایسے کر لیں نہیں تو میں نکاح کے لیے راضی نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں راضی نہیں ہو کیا تم پر زبردستی کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔
ماہین نے جب اس سے یہ کہا تو قندیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا وہ یوں سب کو نہیں بتا سکتی تھی کہ اس کی ماں نے اسے قسم دی تھی اسے راز رکھنا تھا وہ اپنی ماں کو سب کے سامنے شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ ماہین کو اصل حقیقت کا علم نہیں تھا اسے صرف اتنا بتایا گیا تھا کہ میجر قلب قندیل کو پسند کرتا ہے اور اس نے رشتہ بھیجا اور قندیل کی ماما نے رشتے کے لیے ہاں کر دی باقی کیونکہ ان کی نازیبہ تصویریں انٹرنیٹ پر وائرل ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ قلب کے دیے گئے کام کو مکمل کرنے میں مصروف تھی اس لیے دوسری وجوہات کا اس سے علم نہیں تھا
اسے قندیل کی خودکشی کے بارے میں کوئی علم نہ تھا کیونکہ قلب نے حارث اور سندس بیگم کو کسی کو بھی بتانے سے منع کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ قندیل کی عزت کا تماشہ بنے لوگ اس سے سوال کریں کہ اس نے خودکشی کیوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے میں ویسے ہی تیار نہیں ہونا چاہتی سادگی سے نکاح کیا تو لہنگہ پہننے کی کیا ضرورت ہے ایسے ہی چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قندل نے اپنی طرف سے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہاری بات ٹھیک ہے نکاح بہت سادگی سے ہے مگر ماں باپ کے لاکھوں ارمان ہوتے ہیں وہ تمہاری ماں ہے تو ان کی بھی کوئی ارمان ہوں گے کہ وہ اپنی بیٹی کو دلہن بنا دیکھی اچھا ٹھیک ہے پھر تم ایسا کرو لہنگے کی جگہ میری وار ڈراپ سے کوئی تھوڑا سا ہیوی سوٹ نکال لو میں وہ پہن لیتی
نہیں تم کوئی ہیوی سوٹ نہیں پہنو گی جلدی سے اٹھو اور لہنگا پہن کے آؤ ۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اسے بازو سے کھڑا کرتے لہنگا اس کے ہاتھ میں پکڑاتے اسے واش روم کی طرف دھکا دیا قندیل اسے گھورتی واش روم کے اندر گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ لہنگا پہن کے باہر ائی تو بلڈی ریڈ کلر کا لہنگہ جو دور سے دیکھنے پر محرون کلر کا محسوس ہوتا تھا۔ جس پر سلور اور گولڈن کلر کا کام ہوا تھا اس میں قندیل کا دمکتا سفید بدل کہر ڈھا رہا تھا
قندیل اسے یوں اپنی طرف دیکھتے پا کر کچھ نروس ہوئی تھی اپنی نروس مس کو مٹانے کے لیے اس نے بات کا اغاز کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین تم مجھے اسے کیو دیکھ رہی ہوں چلو اب چلتے ہیں قندیل اپنے دوپٹہ اٹھا کر سر پر کرنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔
ایسے کیسے چلتے ہیں چلو ڈریسنگ پر مجھے تمہیں تیار کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
اب یہ کیا ہے ماہی تم نے لہنگہ پہننے کو کہا میں نے پہن لیا میں میک اپ نہیں کروں گی اور جولری تو بالکل نہیں پہنوں گی مجھے اس سے ریٹیشن ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیوں میری بے بی ڈول کیوں نہیں پہنو گئی تم پر تمہارا ہی نہیں نکاح کے بعد تمہارے شوہر کا بھی حق ہوگا اور مجھے نہیں لگتا کوئی بھی شوہر اپنی بیوی کو پہلی رات یوں بغیر میک اپ کے دیکھ کے ڈرنا چاہتا ہو گا
ارے بھائی اس کا بھی تو دل ہوگا نا کہ وہ اپنی دلہن کو سجا دیکھے۔۔۔۔۔۔۔
ماہین نے اپنی طرف سے شرات کی جبکہ قندیل نے اس کی بات سننے کے بعد سرخ انکھیں لیے اس کو دیکھا کیونکہ اس کی بات اسے اندر تک زخمی کر گئی تھی کیا اب وہ اس شخص کے لیے تیار ہو رہی تھی جس سے وہ اس دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی اس کے دل میں یہ خیال ایا
اچھا نہ قندیل مان بھی جاؤ چلو جا کے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہی نے اسے پھر اسے فورس کیا تو وہ کوئی بھی جواب دیے بغیر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے جا کر بیٹھ گئی وہ بالکل بے جان ہو گئی تھی اس میں مزاحمت کرنے کی ہمت نہیں رہی تھی اب
ماہین نے اس کی سچویشن کو مد نظر رکھتے ہوئے
میک اپ کے نام پر صرف سرخ رنگ کے لپسٹک اور مسکارا لگایا تھا جبکہ جولری میں نتھ، ٹکا، کانٹے اور ہار پہنایا تھا ہیوی جیولری سے میک اپ کے بغیر بھی وہ نکھری نکھری سی دلہن لگ رہی تھی جبکہ اس کی سرخ انکھیں اس کے مکمل سراپے پر قہر ڈھا رہی تھی
ماہین نے اسے مکمل تیار کرنے کے بعد ایک نظر اس کی سراپے پر ڈالی تو بے ساختہ اس کے دل سے ماشاءاللہ نکلا ۔۔۔۔۔۔۔۔
بیڈ پر پڑا سرخ رنگ کا دوپٹہ جس پر بڑے ہی خوبصورت انداز میں قلب شاہ کی دلہن لکھا ہوا تھا جو اج ہی قلب بارات میں اپنے ساتھ لے کر ایا تھا اس کے سر پر اوڑی ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ یہ دوپٹہ اپنے سر پر اوڑھا دیکھ قندیل کا دل پھٹنے کو تھا وہ اب تک اسی امید میں تھی کہ کوئی کرشمہ ہو جائے اور یہ نکاح رک جائے مگر جب اس کے نام کی چادر اوڑھ لی اب اسے کوئی راہ فرار نظر نہیں ارہی تھی۔۔۔۔۔۔۔
وہ ماہین کے ساتھ دھیرے دھیرے چلتی سیڑھیاں اتر رہی تھی جب سب اس کی طرف متوجہ ہوئے قلب نے سب کو سیڑھیوں کی طرف متوجہ پا کر اپنی نظر جب اس طرف کی تو اپنی نظریں ہٹانا بھول گیا بلڈی ریڈ کلر کے لہنگے میں اس کا دودھیا بدن کہر ڈھا رہا تھا اور اس کے نام کا اڑا دوپٹہ اسے مزید دلکش بنا رہا تھا اسے لگا کہ اگر دنیا میں سب سے خوبصورت کوئی منظر ہے تو وہ یہی ہے
ماہین نے قندیل کو لا کر قلب کے برابر میں بیٹھا دیا وہ ٹو سیٹر صوفے پر بیٹھا ہوا تھا
قلب کے برابر میں بیٹھنے سے قندیل کو اپنے بدن میں شعلے دہکتے محسوس ہوئے
کچھ ہی دیر میں نکاح کی کاروائی شروع کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاضی ان کے سامنے ا کے بیٹھتے نکاح کے کلامات شروع کر چکا تھا جبکہ قندیل اپنے سن ہوتے دماغ کے ساتھ وہاں موجود تھی
کچھ ہی دیر بعد اسے قاضی کے وہ الفاظ سنائی دیے جو اس کے لیے پگھلا ہوا سی سے کے مانند تھے
سیدہ قندیل شاہ ولد سید کبیر سلطان شاہ کیا اپ کو سید قلب حیدر شاہ ولد سید حیدر عباس شاہ حق مہر 50 لاکھ روپے سکہ اراج الوقت نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے دماغ میں لیزا کے الفاظ گردش کر رہے تھے
ویسے تو بڑی مومن بنتی ہو اپنے ہی پروفیسر سے چکر چلا لیا۔۔۔۔۔۔۔۔
لیزا کے یہ الفاظ یاد کرتے قندیل نے انکھیں زور سے میجتے لبوں سے وہ الفاظ ادا کیے جو وہ کبھی نہیں کرنا چاہتی تھی
جی قبول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاضی نے اپنے الفاظ ایک دفعہ پھر سے دہرائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیدہ قندیل شاہ ولد سید کبیر سلطان شاہ کیا اپ کو سید قلب حیدر شاہ ولد سید حیدر عباس شاہ حق مہر 50 لاکھ روپے سکہ اراج الوقت نکاح قبول ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قلب میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی یہ یاد رکھنا
اس نے اپنے اپ سے وعدہ کرتے ہوئے دوسری دفعہ قلب کو اپنے نصیب میں قبول کیا
جی قبول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قاضی نے تیسری دفعہ جب یہ الفاظ دہرائے تو اسے ایسا لگا جیسے وہ اس کے نصیب کو سیاہ کرنے کی اخری کوشش کر رہا ہے
جی قبول ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نے تین دفعہ قلب کو اپنے نصیب اپنی قسمت میں قبول کرنے کے بعد نکاح نامے پر دستخط کیے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ کچھ دیر بعد قلب کے سامنے بھی یہی الفاظ درہائے گئے تو اس نے بڑے دل نشین طریقے سے قندیل کو اپنی زندگی میں خوش امدید کیا اور نکاح نامے پر دستخط کرنے کے بعد تمام اطراف خوشی کی لہر دوڑ گئی سب ایک دوسرے کو مبارک باث دینے لگے
نکاح کے بعد کھانا تو وہ پہلے ہی کھا چکے تھے تو گھنٹے بھر میں انہوں نے رخصتی کا شور مچایا جبکہ قندیل کا کوئی سگا بھائی یا باپ نہ ہونے کی صورت میں حارث نے اسے قران کے سائے تلے قلب کے ساتھ رخصت کیا
رات کی تقریبا نو بجے وہ ادھر سے بارات لے کر نکلے تھے قلب کے باقی گھر والے تو گاڑیاں لے کر پہلے ہی چلے گئے تھے کیونکہ انہوں نے ادھر جا کر قندیل کے ویلکم کی تیاریاں کرنی تھی
قلب نے قندیل کے لیے گاڑی کا فرنٹ دور کھولا تو قندیل بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس کے ساتھ بیٹھ گئی ماہین نے قندیل کی گاڑی میں بیٹھنے میں ہیلپ کی اور بعد میں جا کر حارث کے ساتھ اپنی گاڑی میں بیٹھ گئی اور ان کے نکلنے سے پہلے ہی روانہ ہو گئی
جبکہ قلب نے حارث کی جانے کے بعد فرنٹ سیٹ پر اس کے برابر میں ا کر بیٹھا اور ڈراؤ کرنا شروع کیا
سندس بیگم نے ڈوبتے دل کے ساتھ قندیل کو رخصت کیا تھا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ قندیل شدید بری طرح سے ناراض ہو کر یہاں سے گئی تھی اور ہو سکتا ہے کہ جلدی واپس انے کا ارادہ نہ کرے مگر وہ اج خوش تھی کہ انہوں نے اج قندیل کو اچھے گھر میں رخصت کرتے اپنا وعدہ نبھایا تھا جو انہوں نے کبیر شاہ کی لاش سے کیا تھا جبکہ سلطان شاہ جس نے بیٹے کے جانے کے بعد اپنی پوتی کو اتنی اٹینشن نہیں دی اب اس کی رخصتی پر اپنے انسو بہنے سے روک نہیں پائے
گاڑی میں گہری خاموشی کا راج تھا قندیل سن بیٹھی تھی جبکہ قلب نے اس شانت ہوئی شیرنی کو ہلانے کی کوشش نہیں کی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ قندیل اس فل تپی ہوئی ہے اگر اس نے کوئی بات کی تو وہ اسے کچا چبانے سے گریز نہیں کرے گی
وہ جب گھر پہنچے تو قلب نے اس کی طرف کا دروازہ کھول کر اپنا ہاتھ اس کے سامنے پھیلایا جبکہ قندیل اس کے ہاتھ کو اگنور کرتے ہوئے اپنے قدم گھر کے اندرونی حصے کی طرف بڑھائے وہ گھر میں داخل ہوئی تو گلاب کی پتیاں زمین پر بکھرے اس کا استقبال کر رہی تھی اس نے گلاب کی پتیوں پر قدم رکھے جبکہ قلب ابھی بھی گاڑی کے پاس کھڑا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسے اکیلے گھر میں اینٹری کرتے تھے ایک ماہی کو ہنسی اور قلب پر ترس بیک وقت آیا تھا
قندیل نے اپنے قدم سیدھا نیلم بیگم کی طرف بڑھائے اور ان کے پاس جا کر ان کے کان کے قریب جھکتی بولی
انٹی میں بہت زیادہ تھک گئی ہوں مجھے جیولری سے الرجی ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے مجھے شدید اریٹیشن ہو رہی ہے کیا میں کمرے میں چلی جاؤں
اس نے بڑے ہی معصوم انداز میں کہا
جی بیٹا کیوں نہیں ماہین اپ انہیں قلب کے روم میں چھوڑ کر ائیں میری بیٹی تھک گئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیلم بیگم نے پہلے قندیل کو جواب دینے کے بعد مہین کو اپنی طرف متوجہ کیا
جبکہ قلب ابھی بھی دروازے میں کھڑا ہونقوں کی طرح سے دیکھ رہا تھا کہ یہ ہوا کیا ہے پہلے تو وہ اسے لیے بغیر گھر کے اندر ا گئی اور اب سیدھا کمرے میں جا رہی ہے بغیر کوئی رسم کیے
قندیل ماہین کے ہمراہ قلب کے کمرے میں چلی گئی جبکہ نیلم نے قلب کو اپنے پیچھے انے کا اشارہ کیا اور اپنے کمرے میں چلی گئی
قلب نیلم بیگم کا اشارہ سمجھتے اس کے پیچھے چل پڑا جبکہ حارث ماہین اور ان کی فیملی اپنے گھر کو رخصت ہوئی