قسط: 15
کسی نا کسی طرح ہم نے وہ رات گزاری اور صبح ہوتے ہی قاری صاحب سے رابطہ کیا ہم نے نماز گھر پر ہی پڑھ لی تھی اور قاری صاحب کو بتا دیا کہ اپ نے تعویز بنانے ہیں اور جتنے لوگوں کو ہو سکے اور اتنے لوگوں کو پہنا دینا ہے تاکہ باقی لوگ محفوظ رہیں اب وہ سب لوگ جنہوں نے ہمارے ساتھ جانا تھا وہ ہمارے گھر کی طرف ا گئے اور ہم سب اپنے گھر والوں سے ملنے لگے
ہمیں سب گاؤں والوں نے دعائیں دی اور اب ہم اپنی راستے کے لیے نکلنے ہی لگے تھے کہ ہم نے پہلے احمد اور ارسلان کو ان کے گھر پر ایک مضبوط زنجیر کے ساتھ باندھ دیا اور اس کے گھر والوں کو ہدایت کی کہ کچھ بھی ہو جائے لیکن اپ نے ان دونوں کو نہیں چھوڑنا ان کے گھر والوں نے ہمیں یقین بھی کرایا کہ ٹھیک ہے ہم ان کو نہیں چھوڑیں گے تو پھر ہم سفر کے لیے نکل پڑے ابھی سورج کی روشنی نکلنے ہی لگی تھی
کہ ہم راستے پر نکل پڑے جاتے ہوئے میں نے حویلی کی طرف دیکھا میں نے ماما سے کہا ماما ہم وہ گڑیا کو اٹھا ساتھ لے چلے کیا کہتے ہیں مامو بولا نہیں ابھی نہیں ابھی ہم وہاں پر جائیں گے اس کے بعد ا کر گڑیا کے ساتھ دیکھیں گے کیا کرنا ہے ہم اپنے سفر کے لیے چل پڑے اور ابھی ہم تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ سورج کی روشنی تیز ہونے لگی
موسم نہ زیادہ گرم تھا نہ زیادہ ٹھنڈا بس نارمل سا موسم تھا جس سے ہمیں زیادہ پیاز محسوس نہ ہوئی اور ہم اسانی سے سفر کرنے لگے میں نے مامو سے پوچھا مامو کیا دو تین گھنٹے کا سفر ہے مامو بولے نہیں بیٹا دو تین گھنٹے کا تو جنگل کا سفر ہے باقی یہ قسبہ ہم سے کافی دور ہے ہم ہو سکے اگر جلدی چلتے رہے تو شام تک اس قصبے میں پہنچ جائیں گے
اگر ہم کہیں پر رکے یا زیادہ ارام کیا یا سستی دکھائی تو پھر ہمیں رات ہو جائے گی اور ہم صبح کو ہی پہنچیں گے میں نے کہا نہیں مامو ایسے نہیں ہم جلدی چلتے ہیں ہم تقریبا 10 لوگ تھے اور ہم سب نے کھانا اور اپنی ادوایات وغیرہ ساتھ لے لی اور ہم راستے کے لیے جا رہے تھے ہم کافی دفعہ چشمہ ندیوں کے پاس رکتے وہاں پہ پانی وغیرہ پی لیتے اور پھر سفر کے لیے چل پڑتے
مامو نے کہا کہ سب نے جنگل سے پہلے پانی کی بوتلوں کو بھر لینا ہے کیونکہ جنگل سے ہم نے نہ پانی پینا ہے اور نہ ہی ہم نے کچھ کھانا ہے جنگل کو ہم نے جتنی جلدی ہو سکے اتنی جلدی پار کر کے ندی تک پہنچنا ہے میں نے مامو سے پوچھا مامو جنگل کیا واقعی زیادہ خطرناک ہے مامو نے بولا بیٹا جب تم دیکھو گے
جنگل کو تمہیں شاید ڈر اور خوف سے تم کانپنے لگ جاؤ وہ جنگل بہت ڈرانا ہے اور وہاں پر اکثر اوقات دن میں ہی اسیب نظر آجاتا ہے کبھی کبھار تو ایسا لگتا ہے جیسے کوئی زندہ لاش درخت کے اوپر لٹک رہی ہو ہم چلتے رہے ہیں تقریبا ہمیں تین بج گئے اور ہم نے کھانا وغیرہ کھایا ارام کیا کچھ دیر کے لیے ہم لیٹ نے لگے تھے
کہ مامو نے بولا یہاں پر لیٹنا نہیں ہے ہم نے سفر کرنا ہے ہم مغرب کے وقت تک وہاں پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ ہمیں بعد میں کوئی مسئلہ یا پریشانی نہ ہو یہ نہ ہو کہ رات ہمیں جنگل میں ہو جائے اور پھر جنگل کے اندر ایک خوف لگا رہے گا میں جنگل کی طرف جانے کے لیے بہت اتاولا ہو رہا تھا کہ پتہ نہیں کیسا جنگل ہوگا کیا ہوگا لیکن میرا دل زور زور سے دھڑک بھی رہا تھا
اور مجھے بہت جلدی تھی کہ میں جنگل کی طرف پہنچ جاؤں مامو نے اشارہ کیا وہ دیکھو سامنے میں نے سامنے دیکھا تو سامنے دور مجھے کافی اونچے اونچے درخت نظر ائے وہ ایسے تھے جیسے کوئی دیو ہیکل جن ہمیں اوپر سے باہیں پھیلا کر اپنی طرف بلا رہا ہو
جنگل کے بیچ میں ایک پہاڑی بھی تھی جو دکھنے میں ہی دور سے کالی اور کوئی کالا جن نظر معلوم ہو رہا ہو اب ہم جنگل کے لیے تیار تھے اور ہم نے پانی وغیرہ سب کچھ بھر لیا جس پر مامو نے کہا کہ جس نے جو کچھ کرنا ہے یہاں پر کر لے جنگل میں کسی کو کچھ نہیں کرنے دیا جائے گا ہم صرف راستہ ہی دیکھیں گے اور وہاں سے جتنی جلدی ہوگا ہم اتنی جلدی چلیں گے
اور پھر ہم سب نے ایک ساتھ رہنے کی بھی بات کی کہ سب نے ایک ساتھ رہنا ہے کوئی اگے پیچھے نہ ہو تاکہ ہم میں سے کوئی بھی اگر اگے پیچھے ہوا تو کوئی حادثہ پیش ا سکتا ہے شام ہونے کے قریب تھی اور جنگل بہت نزدیک اگیا تھا اب تو جنگل میں ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی پہلے سے ہی ہمارے انتظار میں بیٹھا ہو مجھے دور سے ہی الوں کے بولنے کی اوازیں انے لگی بہت خوفناک اور ڈراؤنی اوازیں اتی ہیں اگر کوئی بولتا تو اس کی اواز دور دور تک گونجتی
مجھے پرسینہ آنے لگا مامو بولا بیٹا اگر تمہیں ڈر لگ رہا ہے تو تم یہاں سے واپس ہو سکتے ہو میں نے کہا نہیں اب تو میں اپ کے ساتھ ہی جاؤں گا ویسے بھی ہمیں تعویذ پہنے ہوئے تھے ہمیں کچھ حوصلہ تھا کہ ہمیں انشاءاللہ کچھ نہیں ہوگا اور ہم خیریت سے پہنچ جائیں گے جیسے ہی ہم جنگل کے اندر انٹر ہوئے جنگل کی حدود زیادہ بڑی تھی ہم جنگل کے اندر داخل ہوئے اور پھر ہم چلنے لگے راستے میں میں نے ادھر ادھر دیکھا
مجھے ایسا لگا جیسے کوئی کھڑا ہو اور ہماری طرف ہی دیکھ رہا ہو کبھی کوئی سفید کپڑوں میں کھڑی ایک لاش کبھی درختوں کے اوپر لٹکے پتے ایسے لگتے ہیں جیسے کوئی لاش لٹک رہی ہو ہمیں کافی دفعہ کچھ آوازے بھی سنائی دی کوئی چیز کے چل نے کی اوازیں انے لگی مامو نے کہا یہاں اسی وجہ سے دور دور تک کوئی ابادی نہیں ہے یہ جنگل بہت ہی ویران اور اکیلا ہے
میں نے مامو کو اگ جلا نے کا کہامامو نے کہا یہاں پہ کچھ ایسی حرکت نہیں کرنی اگ جلانے کی اور بس خاموشی سے تم چلتے رہو ہم سب ایک ساتھ ہو کر چل رہے تھے اتنا میں سامنے سے ہمیں کچھ سسراہٹ سی محسوس ہوئی جیسے پتوں کے اوپر کوئی چل کر ا رہا ہو ہم ادھر ادھر دیکھنے لگے
اور سیدھا چلتے رہے مامو نے کہا یہ ہمیں بھٹکا رہے ہیں تم بس خاموشی سے جو راستہ ہے اس کو نہیں چھوڑنا اس کے اوپر ہی چلتے رہو ہم ابھی جنگل کے تھوڑا سا اگے ہی گئے ہوں گے کہ ہمیں عجیب سی ٹھنڈی ہوا محسوس ہونے لگی ہمارے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہم میں سے ایک جو اسد نامی شخص تھا وہ کہنے لگا میں تھک چکا ہوں مجھے تھوڑا سا ارام کرنا ہوگا مامو نے کہا تم چلتے رہو سب سے زیادہ پریشانی کی بات یہ تھی کہ جنگل کے اندر ہم بائیک گاڑی کچھ بھی نہیں لے کے جا سکتے تھے
جنگل پیدل عبور کرنا پڑتا تھا اس لیے ہم لوگوں نے پیچھے ہی گاؤں میں اپنے بائکس وہاں پر ہی کھڑے کر دیے اور جنگل کے لیے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا گاؤں کے لوگوں نے ہمیں کافی منع کیا لیکن ہم نے اپنی مجبوری بتائی تو انہوں نے کہا اگر تم اپنی جان ہیھلی پر رکھ جانا چاہتے ہو تو ہم اپ کو کچھ نہیں کھ سکتے
ہم نے دیکھا کہ ایک دیو ہیکل انسان جس کے لمبے لمبے ناخن اور بال اک انکھوں سے جیسے خون نکل رہا ہو اور وہ اگے کھڑا ہماری طرف ہی گھورے جا رہا ہے ہم نے اس کو دیکھا تو ہم ایک جگہ پر کھڑے ساکن رہ گئے ہمارے اندر اتنی ہمت ہی نہ تھی کہ ہم ہل جل کر سکتے وہ دیو ہیکل انسان ہماری طرف بڑھنے لگا ساتھ ہی ہمیں کچھ ڈراؤنی اوازیں انے لگی
ایسے لگا جیسے ہمارے سروں کے اوپر کوئی چیز منڈلا رہی ہو میں نے اوپر کی طرف دیکھا تو میری اچانک سے زور سے چیک نکل گئی اوپر کوئی لاش تھی جو لٹکی ہوئی تھی اور وہ ہمارے اوپر ہی گرنے والی تھی کہ مامو نے مجھے پکڑ کر سائیڈ پر کر لیا وہاں پہ جگہ جگہ پر کچھ ہلکی پھلکی اگ سی لگتی ہے اور بجھ جاتی کبھی کوئی سایہ سا کبھی کہیں سے کوئی سفید کفن جیسا ہمیں نظر اتا
لیکن ہم حوصلہ کر کے اہستہ اہستہ اگے بڑھنے لگے وہ جو دیو ہیکل انسان ہمارے گلے میں تعویذ کی وجہ سے نزدیک نہیں ا رہا تھا لیکن تھوڑا دور ہٹ رہا تھا ہمیں تعویل کا حوصلہ تھا لیکن ہم ڈر اور خوف ہمارے اندر بہت زیادہ تھا انسان کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو لیکن جب کوئی مشکل یا کوئی ایسا واقعہ انسان کے سامنے اتا ہے تو ایک دفعہ وہ بھی کانپ جاتا ہے