محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 9 حصہ 2

کچھ دیر فاطمہ اُس سے باتیں کرتی رہی اور اس دوران نور بس علی کی باتوں میں مشغول رہی جو اپنے میٹرک کے امتحانات کے متعلق اُسے بتا رہا تھا۔۔
پھر دونوں ہی اُن کے آرام کی غرض سے چلے گئے مگر جاتے جاتے بھی امی اپنے داماد جی کے حوالے سے چار پانچ ہدایتیں دے کر ہی گئیں۔۔۔۔
اب آپ مجھے بتائیں گے آپ یہاں کیا کر رہے ہیں۔۔
اور دونوں کے وہاں سے جاتے ہی شہیر کی امید کے مطابق سوال گولے کی طرح آ برسا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔۔۔
شہیر نے گہری سانس خارج کرکے اُس کی آنکھوں میں پھر براہ راست دیکھتے ہوئے اُسے نظریں جھکانے اور منہ بند کرنے پر مجبور کیا۔۔۔۔مگر اُس کے ماتھے پر جمع شکنیں اور چہرے کا غصّہ ہنوز قائم تھا۔۔
اور جب اُس نے شہیر کو پرسکون انداز میں کورٹ اُتار کر کف کے بٹن کھول کر آستین فولڈ کرتے دیکھا ۔تو پھر بولنے پر مجبور ہوئی۔۔۔۔
“آپ سچ میں یہاں رکیں گے۔۔۔۔”
اس دفعہ بے حد حیرت کے ساتھ بے حد عاجزی بھی شامل تھی۔۔۔۔
تمہیں کوئی پروبلم ہے۔۔۔۔
اُس نے بے نیازی بیزاری سے پوچھا۔۔۔۔۔اور سگریٹ لبوں میں لے کر سلگانے لگا۔۔۔
مجھے پروبلم نہیں ہے لیکن آپکو ضرور ہوگی۔۔۔یہ جگہ آپ کے شایان شان نہیں ہے آپ یہاں ایڈجسٹ نہیں کر پائیں گے۔۔۔۔
اُس نے جل کر دانت پیستے ہوئے کہا ۔۔۔اور شہیر نے ایک کش لگا کر پھر اُس کی طرف ویسے ہی دیکھا تو پھر اُس کا دل سہما۔۔۔۔مگر اس دفعہ اُس نے نظریں نہیں چرائی ۔۔۔۔بس سانس کچھ پل روک کر رکھی ۔۔۔۔
میں کہاں ایڈجسٹ کر سکتا ہوں کہاں نہیں یہ بھی اب تم ڈیسائد کروگی۔۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے پوچھا نور نے تذبز ہو کر پہلو بدلہ اور انگلیاں بے دردی مروڈی ۔۔۔
اُسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر ہو کیا رہا ہے رات گزرتی جا رہی تھی مگر اُسے نیند کی خبر تک نہیں تھی جب کے شہیر اب بیڈ پر بیٹھ کر پیچھے ٹیک لگائے سکون سے اپنا مشغلہ پورا کرنے میں مگن تھا۔۔۔۔
چل کیا رہا ہے آپ کے دماغ میں۔۔۔۔۔۔۔جب ہمارے درمیان سب کچھ ختم ہو چکا ہے تو اب آپ کرنا کیا چاہ رہے ہیں۔۔۔۔۔میری مشکلیں بڑھانے میرے پیچھے کیوں آئے ہیں۔۔۔۔
وہ پریشان ہو کر بولی اور بولتی رہی مگر شہیر نے اُس کی بات درمیان نے روک کر ایکدم سے کہا۔۔۔
“I don’t know ۔۔۔۔۔”
بے حد غصے اور جھنجھلاہٹ سے۔۔۔۔اور یہ غصّہ اور جھنجھلاہٹ صرف نور کے بار بار سوال کرنے پر نہیں اپنے آپ پر بھی تھی۔۔۔۔نور ساکت سی اُسے دیکھتی رہ گئی ۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں خوف سے اوپر نیچے ہو گئیں۔۔۔
ایک اور بار وہی سوال مت کرنا ۔۔۔۔چاہو تو چلا جاتا ہوں يار بس۔۔۔۔
وہ شدید کوفت زدہ لہجے میں بولا تو نور اُس کے بدلے رویے پر حیران اور پریشان آخر کو ہار مان کر وہاں سے ہٹ گئی ۔۔۔سٹڈی ٹیبل کے سامنے رکھی چیئر پر بیٹھ کر اپنے دکھتا سر میز پر رکھ دیا۔۔۔۔۔
جب کے شہیر نے ایک نظر اُسے دیکھا اور پھر سر جھٹک کر دوسری سگریٹ سلگانے لگا۔۔۔۔
نور کچھ پل یونہی بیٹھی رہی پھر تھکن سے چور بدن اور جلتی آنکھوں پر رحم کھاتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئی ۔۔۔۔باتھروم میں جا کر کپڑے چینج کیے اور واپس آکر اپنے لیے نیچے بستر لگانے لگی۔۔۔۔
وہ بس خاموشی سے اُس منظر کا حصہ بنا ہوا تھا مگر جب اُسے بستر نیچے لگاتے دیکھا تو پتہ نہیں کیسے احساس ہمدردی کے تحت بول پڑا۔۔۔۔
تم یہاں سو سکتی ہو۔۔۔۔۔اٹس اوکے
خاموشی میں ارتعاش بن کر اُبھرتی اُس کی بھاری آواز پر نور نے ضبط سے دانت بھینچے کہ وہ اُس سنگل بیڈ پر اُسے سونے دعوت دے رہا ہے تو خود کہاں جا کر سوئے گا۔۔۔۔۔
اور آپ کہاں سوئے گے ۔۔۔۔چھجّےپر۔۔
وہ اس قدر بھری ہوئی تھی کہ بے ساختہ بول گئی اور پھر فوراً ہی اپنی غلطی کا احساس بھی ہوا تو ایکدم سے پلٹ کے اُس کے طرف دیکھا ۔۔ جو ابرو اٹھا کر اُسے دیکھ رہا تھا شاید اُس کے جملے کو محسوس کر چکا تھا۔۔۔۔
وہ میرا مطلب ۔۔۔
وہ ایکدم سے اپنی جگہ سے اٹھ کر صفائی کے لیے لفظ تلاشنے لگی۔۔۔
یہاں صوفہ نہیں ہے اور دوسرے روم میں بھی میں نہیں جا سکتی اسلئے میں یہاں۔۔۔۔۔۔
مگر وہ اُسے اتنے غور سے دیکھ رہا تھا جیسے حفظ کے رہا ہو ۔۔۔۔۔ اُسے الجھن سی محسوس ہوئی۔۔۔۔
آپ کو کچھ چاہئے ۔۔۔۔۔۔
اُس نے اپنی بات ادھُوری چھوڑ کر جلدی سے پوچھا اور چھٹکارہ پانے کی کوشش کی ۔۔۔۔شہیر نے آہستہ سے سر نفی میں ہلا دیا تو وہ شکر مناتی اپنی جگہ لیٹ کر سر تو چادر تان گئی۔۔۔۔۔
######@@@@
رات گزر گئی تھی ۔۔۔۔۔پھر ایک نیا دن نکلا تھا مگر حقیقت وہی پرانی تھی۔۔۔دل کے ویرانے میں کوئی نئی کرن نہیں جاگی تھی ہنوز اندھیرا قائم تھا۔۔۔۔
وہ فجر ادا کرکے اپنے لیے بہتر زندگی کی دعا مانگ کر شہیر کو بنا جگائے ہی روم سے نکل آئی تھی۔۔۔
بابا اُسے دیکھ کر خوشی سے نہال ہوگئے تھے ۔۔اور وہ اُن کے گلے لگ کر بے اختیار رو پڑی تھی کہ جب وہ سب کو حقیقت بتائے گی تو کیا ہوگا۔۔۔۔
بابا نے اُس کے آنسو پوچھ کر اُسے خوب دعائیں دی تھی جن کا قبول ہونا شاید اب ممکن بھی نہیں تھا۔۔۔۔
اور آخر ا ن کے گھر سے باہر جانے کے بعد اُس نے امّی کو سب بتا دیا تھا ۔۔۔۔سارے حالات اُن کے گوش گزار کردیئے تھے اور جواب میں وہی ری ایکشن ملا تھا جو شائد دنیا کی نوے فی صد ماؤں کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔
“۔یہ تو کیا کہہ رہی ہے نور۔۔۔۔۔اتنا بڑا فیصلہ لینے سے پہلے تونے ایک بار بھی نہیں سوچا۔۔۔
شادی ہے کوئی مذاق نہیں ہے۔۔۔۔۔ایسے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بیٹھ کر۔۔ صلاح مشورے کرکے سلجھایا جاتا ہے اس طرح رشتے ختم نہیں کرلیے جاتے۔۔۔۔۔
اور پھر یہاں تو کوئی بات ہے بھی نہیں اتنا اچھا گھر ہے لوگ ہے۔۔۔اگر شہیر کے برتاؤ یا اُس کی بات کو لے کر تو پریشان بھی ہی تو یہ کوئی اتنی بڑی وجہ نہیں ہے کہ میں تجھے اپنے ہاتھوں سے اپنا گھر توڑنے دوں۔۔۔۔”
وہ پہلے تو اُس کی بات پر بے حد حیران ہوئیں تھی اور پھر اُسے سختی سے ڈانٹا تھا نہ ہی کوئی لفظِ تسلی نہ کوئی افسوس نہ کوئی دکھ ۔۔۔۔۔
نور کے لبوں پر بہت ہی مدھم مگر زخمی مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔۔۔۔دل اتاہ اندھیرے میں ڈوبنے لگا تھا ۔۔
“_مجھے آپ سے یہی امید تھی امی۔۔۔۔۔۔”
اُس نے عجیب سے ٹھنڈے انداز میں کہا کے وہ اپنی بے اختیاری پر پچھتا کر نظریں چرا گئیں۔۔۔۔۔پھر پیار سے اُس کے چہرے پر ہاتھ رکھا اور نرمی سے اُسے سمجھانے لگیں ۔۔۔
دیکھ بیٹا۔۔۔۔میں تیری ماں ہوں تیری دشمن نہیں ہوں جو تیرا برا چاہوں گی۔۔۔۔۔۔مگر جو بات تو دل سے لگا کر اتنا بڑا قدم اٹھا رہی ہے نہ وہ بات بلکل بے بنیاد ہے۔۔۔۔۔عام طور پر ہی اگر کوئی ارینج میریج ہوتی ہے نہ اُس میں بھی ایک دوسرے کو قبول کرنے میں وقت لگتا ہے یہاں تو پھر شہیر کے لیے مشکل ہونا واجب ہی ہے کیوں کہ وہ ایک عورت سے دھوکہ کھا چکا ہے ۔۔۔تُجھے اُسے تھوڑا وقت دینا چاہیے۔۔۔۔۔اُس کا دل جیتنے کی کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔ہاں اگر تیری کوششوں اور جتن کے بعد بھی وہ تُجھے نہیں اپناتا تو تُجھے پورا حق ہے کہ تو شکایت کرے مگر پہلے کوشش تو کر۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے سختی کی بجائے پیار سے اُسے سمجھایا۔۔۔۔وہی جو ہمیشہ سے ہر لڑکی کو سمجھایا جاتا ہے کہ محنت کرے۔۔۔۔سمجھوتہ کرے ۔۔۔۔صبر کرے ۔۔۔۔۔
“کوشش اور محنت کی گنجائش وہاں ہوتی ہے جہاں امید ہو۔۔۔۔جو پہلے ہی ٹھوکر مار دے اُس کا دل جیتنا ممکن نہیں ہوتا۔۔۔۔۔اور رہی بات سمجھنے کی تو میں پہلے ہی خود کو اس بات کا یقین دلا کر اُن کی زندگی میں شامل ہوئی تھی کہ میرے لیے آزمائش بہت مُشکل ہوگی مجھے قدم قدم پر اپنے آپ سے سمجھوتہ کرنا پڑےگی۔۔۔۔۔اور میں شاید کرتی بھی مگر۔۔۔۔۔۔اور پھر۔۔۔اُنہوں نے مجھے ایک بار بھی رکنے کو نہیں کہا ۔۔۔۔تو بتائیں کوئی امید ہی کہاں بچتی ہے۔۔۔۔
اور وہ جان کر بھی کہ کوئی فائدہ نہیں اپنی صفائی پیش کر گئی تھی۔۔۔۔آنکھوں کا ضبط ٹوٹتا جا رہا تھا۔۔۔جس پر بندھ باندھنے کی کوشش بھی جاری تھی۔۔
“۔اُن کی زندگی میں میری کوئی جگہ ہی نہیں ہے امی۔۔۔”
وہ کچھ رک کر اُن کی طرف دیکھتی۔۔۔۔۔ ایک جملے پر زور دے کے بے آس ۔۔۔بکھرے لہجے میں بولی۔۔۔فاطمہ نے دوپٹے سے اُس کے آنسو پونچھے اور۔۔۔۔۔
“تو جگہ بنانے کی کوشش کر بیٹا۔۔۔۔يوں ۔۔۔”
“اس طرح زور زبردستی بنائی جگہ کی کوئی وقعت نہیں ہوتی امی۔۔۔۔انسان کبھی نظریں ملا کر بات کرنے کے قابل نہیں رہتا۔۔۔۔ایک کا قد حد سے اونچا اور ایک کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔۔۔۔۔جب کہ یہاں تو دونوں کا برابر ہونا ضروری ہے نہ۔۔۔۔۔”
وہ اُن کی بات کاٹ کر اور اُس کا ہاتھ روک کر عاجزی سے بولی تو فاطمہ کو اُس کے ضدی انداز اور بے تکے تجزیے پر دوبارہ غصّہ آیا ۔۔۔۔اُنہوں نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ ليا ۔۔۔۔۔۔
“کیسی کتابیں باتیں اپنے ذہن میں پال کر بیٹھ گئی ہے تو۔۔۔۔۔یہ کہانیوں کی دنیا نہیں ہے زندگی ہے۔۔۔۔ یہاں تو مرد کو بھی ہر روز سنگھرش کرنا پڑتا ہے تو تو پھر ایک عورت ہے۔۔۔۔۔عورت کی تو قسمت میں ہی جنم لینے کے ساتھ آزمائش لکھی ہوتی ہے۔۔۔۔۔اُسے ہر روز لڑنا پڑتا ہے۔۔۔۔جگہ جگہ اپنی انا قربان کرنی پڑتی ہے۔۔۔۔قدم قدم پر جھکنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔
اور یہ مرد اور عورت کی برابری والی باتیں محض جھوٹ ہے بكواس ہے۔۔۔فریب ہے۔۔۔کیوں کے خود خدا نے مرد اور عورت کو الگ بنایا ہے۔۔۔۔
چاہے وہ جسمانی طور پر ہو ۔۔۔۔
ذہنی طور پر۔۔۔۔
یا جذباتی طور پر۔۔۔۔۔
عورت کبھی مرد کی برابری نہیں کر سکتی۔۔۔
مرد ہمیشہ دماغ سے سوچتا جب کے عورت ہر فیصلہ دل سے کرتی ہے ۔۔۔۔مرد طاقت میں بڑا ہوتا ہے اور عورت حوصلے میں ۔۔۔۔۔”
تبھی تو عورت سے امیدیں بھی زیادہ کی جاتی ہے
۔۔۔۔پھر تو اگر اپنی ہی خوشیوں کی خاطر سمجھوتہ کرتی ہے۔ ۔۔۔تو اُس نے نیا کیا ہے ۔۔۔۔۔غلط کیا ہے۔۔۔۔_”
اُنہوں نے اُس کی بات کو نکارتے ہوئے افسوس اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں سمجھایا تو نور وہاں چپ کرکے نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔اُسے یقین ہوگیا کہ وہ اپنا نقطہ نظر کسی کو بھی سمجھانے سے قاصر ہے۔۔۔۔اور ہار مان کر خاموش ہوگئی۔۔۔۔
“میں رئیسہ بیگم سے بات کروں گی ۔۔۔۔اُن سے کہوں گی شہیر سے بات کرے اُسے سمجھائے۔۔۔۔مگر تو بھی سمجھ لے یہ انتہائی قدم اٹھانے کی غلطی تو نہیں کریگی نور۔۔۔۔۔۔شہیر بہت اچھا لڑکا ہے ہر بات اچھی ہے اُس میں۔۔۔۔گھر پریوار بھی اچھا ہے۔۔۔۔اتنی سی بات کو لے کر سب گنوانا نہیں ہے تُجھے۔۔۔۔۔۔۔سمجھی۔۔”
اُسے خاموش۔۔۔۔ایک غیر مرئی نقطے کو گھورتے ۔۔۔..اپنے نچلے لب پر ستم کرتے دیکھ اُنہوں نے اُس کے دونوں ہاتھ تھامے جنہیں وہ چاہ کے بھی چھڑانے کی قوت نہیں سمیٹ پائی۔۔۔جسم و دل دونوں بےجان سے تھے مانو۔۔۔۔بس آنکھیں زندہ تھی۔۔۔۔۔
“وہ واقعی اچھے ہے امی۔۔۔۔۔کیوں کے اُنہوں نے میرے ساتھ منافقت نہیں کی۔۔۔۔مجھ سے جھوٹ نہیں بولا۔۔۔۔۔دل میں جو تھا وہی سلوک رکھا۔۔۔۔۔۔ہاں اُنہوں نے یہ غلط کیا کہ اگر اُن کی رضا نہیں تھی تو وہ ہامی ہی نہ بھرتے۔۔۔۔۔مگر شاید اس میں بھی اُن کا اتنا قصور نہیں تھا۔۔شاید اُنہیں بھی یہی چیز جتای گئی ہوگی کہ عورت تو نام ہی ہے قربان ہو جانے کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
وہ سر جھکائے اپنی ماں کی کلائی میں موجود سبز رنگ کی چوڑیوں پر نظریں جمائے بے تاثر ۔۔۔۔سرسراتے لہجے میں بولی۔۔۔۔اور فاطمہ کی آنکھیں بھی اُس کے ٹوٹے بکھرے دل افتادہ انداز پر نم ہوگئیں ۔۔۔۔
“شاید اُنہیں کہا گیا ہوگا۔۔۔۔۔کہ اگر تیرا دل راضی نہیں تو کیا ہوا ایک بازی کھیل کر تو دیکھ ۔۔۔۔فکر مت کر تُجھے لڑنا نہیں پڑےگا۔۔۔کیوں کے لڑنا تو صرف عورت کا مقدر ہے۔۔۔۔۔اگر اُسے اپنی جگہ چاہئے ہوگی تو وہ لڑیگی۔۔۔
اگر اُسے اپنی خوشیاں عزیز ہوگی تو وہ لڑیگی ۔۔
اگر اُسے اپنا گھر بچانا ہوگا تو وہ لڑیگی۔۔۔۔۔
تُجھے کچھ نہیں کرنا بس اُسے ایک بندھن میں باندھنا ہے جسے نبھانے کے لیے بھی اُسے لڑنا پڑےگا ۔۔۔۔۔جسے توڑنے کے لیے بھی اُسے لڑنا پڑےگا۔۔۔۔
اُس کے لبوں کی حرکت مسلسل جاری تھی ۔۔۔۔
مگر نظریں وہیں کی وہیں ٹھہری ہوئیں تھیں۔۔
جنہیں کچھ توقف کے بعد اٹھا کر اُس نے اُن کی جانب دیکھا۔۔۔۔
لیکن شہیر بہت اچھے ہے امی۔۔۔۔۔اُنہوں نے مجھے لڑنے پر مجبور نہیں کیا۔۔۔۔بلکہ مجھ سے پوچھا تم کیا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔جو تم چاہتی ہو وہی ہوگا۔۔۔۔اُنہوں نے مجھے نہ نبہانے کے لیے لڑنے پر اُکسایا نہ آزاد ہونے کے لیۓ لڑنے کی نوبت آنے دی۔۔۔۔۔وہ سچ میں بہت اچھے ہیں ۔۔۔۔۔
اُس نے برشتہ دل سے کہا مگر بات میں سچائی تھی اور وہ سچائی اُس کی ماں کے حق میں طنز سے کم نہیں تھی۔۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial