قسط 9 حصہ 3
اُس کی ماں بس خاموش ہو کر رہ گئیں تھی۔۔۔۔کل سے جو خوشی اور جوش اُن کے اندر تھا سب جیسے ایکدم سے کھینچ لیا گیا تھا اور نور کو اپنے آپ سے نفرت سی محسوس ہو رہی تھی کیوں کہ اس سب کی وجہ وہ تھی۔۔۔۔۔۔مگر اُسے ڈھونڈھنے سے بھی دوسرا آپشن نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔
بابا واپس گھر آئے تب ایک نئی پریشانی نے آ گھیرا جب اُسے پتہ چلا کہ اُنہوں نے رات کو ایک چھوٹی سی دعوت رکھی ہے۔۔۔۔وہ حیران ہوئی جب کے وہ بہت خوشی خوشی اُسے بتا رہے تھے کے رات کو کون کون آنے والا ہے۔۔۔۔۔اور اُنہوں نے کیا کیا انتظام کیا ہے ۔۔
“لیکن بابا اس سب کی کیا ضرورت تھی۔۔۔”
وہ لاکھ کوشش کرکے بھی اپنی پریشانی چھپانے سے قاصر رہی ۔۔۔
شادی بہت جلد بازی میں ہوگئی تھی بیٹا۔۔۔۔کسی کو بلانے کا موقع ہی نہیں ملا تھا۔۔سب شکایتیں کر رہے تھے کے ہم نے چپکے چپکے بیٹی بیاہ دی۔۔۔۔اسلئے سوچا ایک چھوٹی سی دعوت کے بہانے سب خاندان والوں کو بلا کر ان کی شکایت دور کردی جائے اور پھر سب شہیر سے بھی مل لے گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
اُنہوں نے تفصیل سے بتایا۔۔۔تو نور ایکدم سے بول پڑی۔۔۔
_لیکِن آج ہی کیوں بابا۔۔۔۔۔کیا بعد میں_”
اُس کے لہجے کی یاسیت محسوس کرکے اُنہوں نے جانچتی نظروں سے اُسے دیکھا اور نور بولتے بولتے چپ ہوگئی ۔۔۔۔دل کی دھڑکنیں بڑھ گئیں تھی۔۔۔
“ہمیں لگا کہیں شہیر واپس جانے کی جلدی نہ کرے۔۔۔۔اسی لیے تمہاری امی اور میں نے صلاح کرکے آج رات کا ہی پروگرام بنا لیا ۔۔۔میں تو آتے ہوئے سب کو دعوتیں بھی دیتا آیا ہوں ۔۔۔۔کیا کوئی پریشانی ہے بیٹا۔۔۔””
بابا نے مکمل طور پر سنجیدہ ہوتے ہوئے فکرمندی سے پوچھا ۔۔۔اور وہ بہت کڑے دل سے مُسکرا پائی ۔۔
“نہیں بابا میں ایسے ہی کہہ رہی تھی۔۔۔آپ نے بلکل صحیح کیا۔۔۔۔۔”
اپنے لفظوں سے اُنہیں جلدی سے تسلی دی ۔۔۔۔اور وہ کچھ اندازہ نہ لگا لے اس خوف سے اٹھ کر کچن میں چلی آئی …..
######@@@@#####@@@@
وہ روم میں آئی تب وہ جاگا ہوا تھا کچھ الجھن میں تھا۔۔۔۔۔فون پر نظریں جمائے ادھر سے ادھر چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔۔۔
نور کو سخت کوفت سی محسوس ہوئی کہ اب پھر اُسے آواز دینی پڑے گی ۔۔۔اُس سے بات کرنا پڑیگا۔۔۔۔کیوں کہ وہ اُسے ناشتے کے لیے بلانے بھیجی گئی تھی۔۔۔۔
اور اس سب کا ذمےدار وہ خود تھا۔۔۔۔امی کو تو اُس نے سب سنا دیا تھا ۔۔۔۔ مگر بابا سے وہ کیا کہہ سکتی تھی ۔۔۔۔اُنہیں کیسے منع کر سکتی تھی۔۔۔
اُس کا دل سخت پشیماں تھا مگر وہ بنا قصور کے پس رہی تھی۔۔۔۔
وہ چند سیکنڈ یوں ہی کھڑی رہی تو شہیر کا خود ہی اُس کی طرف دھیان گیا ۔۔۔۔
میں یہ پوچھنے آئی تھی کہ آپ ناشتا کرنے نیچے چلیں گے یا میں آپ کے لیے یہیں لے آؤں ۔۔۔۔۔
اُس کے دیکھنے پر وہ اپنی ناگواری اور پریشانی چھپا کر پوچھنے لگی ۔۔۔۔
مجھے نیچے چلنے میں کوئی پرابلم نہیں ہے لیکن۔۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سےجواب دیتے ہوئے شرٹ کا گریبان پکڑ کر کپڑوں کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔کل والے ہی کپڑے تھے۔۔۔سفید شرٹ اتنی ہی صاف تھی مگر اُس پر ڈھیروں سلوٹیں پڑ گئیں تھی۔۔۔۔
وہ تو صرف نور کو وہاں چھوڑنے آیا تھا اُس کا سامان یا کپڑے تو وہاں تھے ہی نہیں اور نور کو اس بات کا احساس تھا تبھی اُس نے پہلے ہی ایک نزدیکی شاپ پر کال کے ذریعے کچھ کپڑے سیلیکٹ کرکے منگوا لیے تھے۔۔۔۔۔
میں نے پاس ہی کی ایک شاپ سے آپ کے لیے کچھ کپڑے بلوائے ہے۔۔۔۔اگر آپ کو پسند آئے تو پہن لیجئے گا۔۔۔
اُس نے لاپرواہی سے کہا اور بیڈ پر بے ترتیب پڑی چادر اٹھا کر فولڈ کرنے لگی۔۔۔۔جس میں مانو اُس کی خوشبو بس گئی تھی۔۔۔۔
بنا کپڑوں کے رہنے سے تو بہتر ہی ہے۔۔۔۔۔
وہ آہستہ سے بڑبڑایا۔۔۔۔۔جو نور نے بخوبی سنا۔۔۔
ویسے زیادہ کپڑوں کی ضرورت تو نہیں پڑےگی۔۔۔۔۔آج تو آپ واپس جائیں گے ہی نہ۔۔۔۔۔
اُس نے بجائے سیدھے پوچھنے کے گھما کر سوال کیا اور اُس کی بات پر شہیر نے بنا اُسے دیکھے آنکھیں گھمائی۔۔۔
زندگی میں پہلی بار مہمان بن کر کہیں رکا ہوں ۔۔۔وہ بھی اتنی بے شرمی سے۔۔۔۔۔۔
دانت بھینچ کر پہلے سے بھی آہستہ آواز میں بڑبڑایا جب کے نور نے سننے کی بھرپور کوشش کی کیوں کے اپنے اس سوال کا جواب جاننے کے کے لیے وہ سخت بے چین تھی۔۔۔
کچھ کہا آپ نے۔۔۔۔۔۔
بڑبڑا ہٹ سمجھ نہیں آئی تو اُسے مجبوراََ پھر پوچھنا پڑا۔۔۔۔اور شہیر نے تب اُسے بڑے ہی سرد انداز میں گھورا۔۔۔۔کہ اُس نے اپنا حلق تر کیا ۔۔۔۔
کتنا ٹائم لگیگا کپڑے آنے میں۔۔۔۔
اور بجائے جواب دینے کے پھر اُسے کوئی اور ہی جملہ سننے ملا تو اُس نے غصے سے دانت بھینچے
مجھے کیا پتہ۔۔۔۔آجائے گے تو دے دوں گی آپ کو۔۔۔ابھی آپ ایسے ہی نیچے چلیں ۔۔۔۔بابا آپکو ناشتے پر بلا رہے ہیں۔۔۔
سخت ضبط اور بیزاری سے کہتی ہوئی ہاتھ میں اچھے سے فولڈ کی ہوئی چادر کو بیڈ پر پٹخ کر روم سے باہر نکل گئی ۔۔
مائیکے آتے ہی تیور بدل گئے ۔۔۔۔
وہ خالی چوکھٹ کو دیکھتے ہوئے بولا اور سر جھٹک کر دوبارہ موبائل کی طرف توجہ دی۔۔۔۔۔
∆∆∆∆∆∆∆
شہیر کو بابا اپنے ساتھ کہیں باہر لے گئے تھے ۔۔۔اور تب وہ وقت پا کر اپنی دوست جو کے چند گھروں کی دوری پر ہی ہوتی تھی اُس سے ملنے چلی آئی ۔۔۔۔۔
اور دعا کی کہ وہ اُسے گھر پر مل جائے کیوں کہ وہ گھر پر نہیں ہاسٹل میں ہوا کرتی تھی مگر ان دنوں کیونکہ اُس کی چھٹیوں کے امکان تھی تبھی اُس کے گھر پر ملنے کی امید بھی تھی ۔۔۔
لکڑی کے مضبوط دروازے پر دستک دی تو دروازہ
ذائشہ کی امی نے کھولا اور اُسے وہاں دیکھ کر بے حد خوش ہوئی ۔۔۔۔ گلے سے لگا لیا۔۔۔
اُس نے زایشہ کا پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ وہ اپنے کمرے میں ہے اور نور نے سکون کی سانس لی۔۔۔۔ وہ اُس کے کمرے کی جانب چل دی۔۔۔
دستک دینے پر دروازہ اُس نے کھولا جسے دیکھنے کو وہ ترس گئی تھی ۔۔۔۔
“کہیئے کس سے ملنا ہے آپ کو”
زائشہ بس ایک پل کو حیران ہوئی تھی پھر فوراً ہی اُس کے تاثرات بدل گیے تھے ۔۔۔
“اپنی لائف لائن سے۔۔۔۔۔۔”
نور نے اُداس سا مسکرا کر کہا تو اُس نے ابرو اٹھا کر دیکھا۔۔۔
“کیوں کیا ضرورت آن پڑی اُس کی”
وہ چھوٹی آنکھیں کرکے اُسے گھورتے ہوئے پوچھنے لگی
” یہ دل جو اُس سے اپنے دکھڑے شئیر کرنے کا عادی ہیں کھینچ لایا مجھے۔۔۔۔اسے اپنے غم گسار کی بے حد ضرورت ہے اس وقت”
وہ آنسو روکتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
“سوری مگر آپ کے لیے اس روٹ کی سبھی لائنیں ان ابیلیبل ہے “
اُس نے خفگی سے کہا اور پلٹ گئی نور نے آگے بڑھ کر اُسے تھام لیا اور بے ساختہ رو دی۔۔۔۔
“سوری یار ۔۔۔۔پلیز معاف کردو مجھے”
مگر سچ میں مجھے میری دوست کی بہت ضرورت ہے اس وقت۔۔۔۔۔”
وہ اُس سے لگ کر تھکے تھکے انداز میں بولی تو زاعشہ نے رخ اُس کی جانب کیا ۔۔۔
“کیوں تمہارا سیکنڈ ہینڈ ہسبنڈ تمہیں بھاؤ نہیں دے رہا کیا “
اُس کے آنسو پوچھتے ہوئے اب بھی ناراض انداز میں پوچھا تو نور روتے روتے مسکرائی ۔۔۔۔۔
“اُس مسٹر کھڑوس کا تو نام نا لو۔۔میرا جینا مشکل ہوگیا ہے اُس کی وجہ سے۔۔۔۔۔”
وہ بے حد بیچاری مظلوم شکل بنا کر بولی تو زائشہ نےاپنے تمام دانت دکھائے ۔۔۔
بہت خوشی ہوئی یہ سن کر۔۔۔۔
اُس کی بات کو انجوئے کرتے ہوئے بولی تو نور نے اُسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔اور غصّہ ہو کر وہاں سے جانے لگی مگر ذائشه نے ہنستے ہوئے اُسے روک کر اپنے گلے لگا لیا۔۔۔
______
تو پھر اب وہ یہاں کیوں آیا ہے۔۔۔۔
اُس کی ساری بات خاموشی سے سننے کے بعد زائشه نے الجھ کر پوچھا ۔۔۔
یہی تو میری بھی سمجھ میں نہیں آرہا۔۔۔۔نہ وہ بتانے کو تیار ہے۔۔۔کتنی بار پوچھ چکی ہوں مگر جواب تک دینے کو راضی نہیں وہ انسان۔۔۔۔
اُس نے جھنجلا کر کہا چہرے پر بیزاری ہی بیزاری تھی ۔۔۔شہیر کے لیے غصّہ ہی غصّہ تھا۔۔۔۔کافی کا مگ جوں کا توں اُس کے ہاتھ میں موجود تھا۔۔۔۔
اُن کے آنے سے مجھے کتنی مشکل ہو رہی ہے صرف میں جانتی ہوں۔۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آرہا کیا کروں ۔۔۔۔
امی کو تو پھر بھی سب بتانا آسان تھا۔۔۔مگر بابا سے تو میری نظریں بھی ملانے کے ہمت نہیں ہو رہی ہے۔۔۔
اور امی سب جان کر بھی مجھے سمجھنے کو تیار نہیں۔۔۔۔بلکہ مجھے ہی غلط مان رہی ہے ۔۔
سمجھ نہیں آرہا کہ آخر مجھ سے کونسی غلطی ہوگئی۔۔۔۔
اُس نے بھاری۔۔۔۔ تھکان زدہ لہجے میں کہتے ہوئے جلتی آنکھوں کو میچ کر کھولا ۔۔
میں تمہیں تمہاری غلطی بتاتی ہوں ۔۔۔۔۔
زائشہ کافی کا مگ صوفے کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اُس کے پاس آئی اور صوفے کے بازو پر ٹک گئی۔۔۔نور خاموشی سے اُسے دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
“تمہاری غلطی یہ ہے کہ تم نے ہمیشہ سے ہر معاملے میں کمپرومائز کیا ہے۔۔۔۔۔بچپن سے چھوٹی چھوٹی چیزوں کے لیے سمجھوتہ کیا ہے۔۔۔۔پڑھنا چاہتی تھی مگر گھر کا بوجھ کم ہوجائے اس کیلئے پڑھائی چھوڑ دی ۔۔۔۔ایک طلاق شدہ انسان سے شادی کرلی کیوں کے اس میں تمہارے گھر والوں کی خوشی اور اُن کی آسانی تھی۔۔۔۔تم نے اپنے بارے میں سوچا ہی نہیں کبھی۔۔۔ہمیشہ اپنی مرضی اور خواہشات کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے نور۔۔۔۔اور زندگی کا يه اصول ہے جو سہتا ہے نہ اُس پر زیادہ آزمائشیں ڈالتی ہے۔۔۔۔”
ذائشہ نے اُسے ایک ایک بات یاد دلا کر جتایا تو اُس کا دل مزید بوجھل ہونے لگا ۔۔۔۔خاص اپنی پڑھائی کی بات پر ۔۔۔وہ بھی چاہتی تھی کے ذائشہ کی طرح خوب آگے تک پڑھے۔۔۔مگر واقعی گھر کے حالاتوں نے اُسے اپنی اس خواہش سے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا تھا اور اس نے ایچ ایس سی کے ایکزم دے کر پڑھائی چھوڑ دی تھی ۔۔۔۔کئی بار دل کرتا تھا کہ بابا سے کہے اُسے پڑھنا ہے مگر پھر خود کو ہی سمجھا لیتی تھی۔۔۔۔
اُس کی خاطر ذائشہ نے کئیں دفعہ سکالر شپ کے لیے بھی اپلائی کیا تھا مگر قسمت ہی اُس کے ساتھ نہیں تھی ۔۔۔
“مگر اس بار تم ایسا مت کرنا۔۔۔۔۔اس بار کوئی کمپرومائز مت کرنا اپنے ساتھ ۔۔۔۔۔یہ چار آٹھ دن کی بات نہیں زندگی بھر کا فیصلہ ہے۔۔۔۔۔اور تمہارا یہ فیصلہ بلکل سہی ہے نور۔۔۔۔۔۔۔”
اُسے اپنی سوچ میں گم دیکھ زائشہ نے اُس کا چہرہ ہاتھ سے اپنی طرف کرتے ہوئے ٹھوس لہجے میں کہا۔۔اُس کے آنسو مزید بے ربط ہوتے گیے۔۔۔۔۔
“آنٹی غلط نہیں ہے ۔۔۔۔۔وہ جو کہہ رہی ہیں وہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے ۔۔۔وہ پریکٹیکل ہوکر سوچ رہی ہے ۔۔۔۔۔۔اُنہوں نے ہم سے زیادہ دنیا دیکھی ہے اسلئے اُنہیں پتہ ہے کہ اس فیصلے کے بعد تمہیں کیا مشکلیں پیش آئیں گی۔۔۔۔تم اپنے آج کے لیے پریشان ہو اور وہ تمہارے مستقبل کے لیے پریشان ہے۔۔۔۔۔
مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم اپنی سیلف رسپکٹ کی بلی چڑھا کر اُس انسان کے لیے بے مول ہوتی رہو جسے تمہاری قدر ہی نہیں۔۔۔۔
ذائشہ کی باتوں سے اُس کے دل میں بھرا غبار دھیرے دھیرے مدغم ہونے لگا۔۔۔۔اُس نے دل سے اقرار کیا کہ اگر ہمارے پاس کوئی ایسا ہم راز نہ ہو جو ہمارے دل کی بات سمجھ پائے تو زندگی بوجھ سے کم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
“ہاں اگر وہ ایک موقع مانگتا ۔۔۔۔تمہیں یہاں آنے سے روکتا تو میں تمہیں یہی کہتی کہ تم اُسے وہ موقع دو ۔۔۔۔۔۔اگر تب تم اُسے نظر انداز کرکے آگے بڑھتی تو تمہاری اگلی زندگی میں ہمیشہ یہ افسوس شامل رہتا کہ کاش تم نے اُسے وہ موقع دے دیا ہوتا۔۔۔
۔مگر جب یہاں ایسی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ تمہیں اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔۔۔۔۔”
زائشہ اُسے سنجیدگی سے سمجھا رہی تھی اور وہ بھیگی آنکھوں سے یک ٹک اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔واقعی اگر وہ اُسے ایک دفعہ بھی روکتا تو شاید کوئی سوچنے کی نوبت آتی مگر یہاں تو بس خاموشی تھی۔۔۔۔
“مگر میں یہ بات امی کو کیسے سمجھاؤں زاشہ ۔۔۔۔”
اُس نے بے بسی سے کہا ۔۔۔۔زائشہ نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے اُس کے آنسوؤں کو ہتھیلی میں جذب کیا ۔۔۔۔
“کچھ دن پریشان ہوں گی ۔۔۔ناراض ہوں گی پھر سمجھ جائیں گی۔۔۔تم فکر مت کرو میں بھی بات کروں گی اُن سے۔۔۔۔تم بس اتنا یاد رکھو کہ تمہیں اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹنا ہے۔۔۔۔۔اور پھر میں ہوں نہ تمہارے ساتھ۔۔۔۔۔
کچھ جھک کر اُسے خود سے لگاتے ہوئے بولی تو نور کا دل مزید بھرنے لگا۔۔۔۔۔
اور اگر امی اور بابا نے میرا ساتھ نہیں دیا۔۔۔۔۔ مجھے واپس جانے پر مجبور کیا تو۔۔۔۔
نور نے پیچھے ہو کر اپنا دے اپنی پریشانی بتائی تو وہ دھیرے سے مسکرائی ۔۔۔
“تو تم یہاں آجانا میرے پاس ۔۔۔۔میں ہوں نہ تمہارے لیے۔۔۔۔۔میرے گھر اور میرے دل کے دروازے ہمیشہ کھلے ہے تمہارے لیے۔۔۔۔”
اُس نے نور کا موڈ بحال کرنے کو ہلکے پھلکے انداز میں کہا تو نور نے منہ بنایا۔۔۔۔
نہیں میں نہیں آسکتی۔۔۔۔تمہیں نہیں جھیل سکتی میں ۔۔۔۔۔
اپنی آستین سے گال کو رگڑتے ہوئے بولی اور دونوں ایک ساتھ ہنس دیے ۔۔۔مگر اُس کے آنسو ہنوز جاری رہے ۔۔۔
“تم بس جلدی اپنے سیکنڈ ہینڈ شوہر کو ٹھکانے لگاؤ ۔۔۔۔اُس کے بعد آگے کے راستے خود نکل آئیں گے۔۔۔۔میں آج ہی اپنے کالج میں تمہاری اسکالر شپ کے لیے اپلائی کرتی ہوں ۔۔۔۔۔
اُس کے بعد اس گھر اور لوگوں کی باتوں سے کچھ عرصے کے لیے تو تمہیں راحت مل ہی جائے گی۔۔۔۔”
زائشہ نے اپنے طور پر فوری حل نکال کر اُسے پرسکون کرنا چاہا مگر نور کے لیے یہ بس ایک جھوٹی تسلی تھی۔۔۔۔
“تمہیں کیسے پتہ کہ مجھے اسکالر شپ ملےگی ہی پہلے بھی تو کتنی بار ٹرائے کر چکی ہو نہ۔۔۔۔اتنی اچھی قسمت کہاں ہے میری۔۔۔۔شاید تم صحیح کہتی ہو۔۔۔۔زندگی مجھ سے ہر موڑ پر آزمائشیں چاہتی ہیں۔۔۔۔”
وہ مایوسی سے بولی تو زائشا نے سر تاسف سے ہلایا
“نیگیٹیو مت سوچو نور۔۔۔۔جو ہوگا اچھا ہی ہوگا۔۔۔۔”
اُسے بظاہر تسلی دی مگر اندر ہی اندر پریشان بھی تھی کیوں کے اُسے اندازہ تھا نور كس قدر مُشکل حالات کا سامنا کر رہی ہے