محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 10 حصہ 2

گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔۔حالانکہ تھے تو خاندان والے اور چند پڑوسی ہی مگر پھر بھی کافی گہما گہمی ہو گئی تھی۔۔۔۔اور اُس کی ماں ایک ایک کا دھیان رکھنے کے چکروں میں پاگل سی ادھر اُدھر دوڑ رہیں تھیں ۔۔۔۔
کیا آفت لگ رہی ہو یار۔۔۔۔لگتا ہے اپنے حسن سے دشمن کو زیر کرنے کا ارادہ بنا لیا ہے۔۔۔۔اور آج تو پکا وہ چاروں خانے چت ہو ہی جائے گا۔۔۔
ذائشہ نے آتے ہی اُسے سراہتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بڑے داد دینے والے انداز میں کمنٹ پاس کیا تو نور کے ذہن میں پھر اُس کے الفاظ گونج گیے۔۔۔۔
“تم ہمیشہ ایسے قیامت بن کر ہی کیوں لڑنے آتی ہو ۔۔۔۔”
مطلب وہ اُس کی جانب سے اتنا بھی بے خبر نہیں تھا جتنا وہ سوچتی تھی۔۔۔۔کم سے کم اُسے نوٹس تو وہ کرتا ہی تھا ۔۔۔۔
“خوبصورتی انسان کا دھیان اور کسی کی نظروں کو تو اپنی طرف کھینچ سکتی ہے مگر کسی کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتی۔۔۔۔”
اُس نے پرسوچ انداز میں صرف ذائشہ کو جواب نہیں دیا بلکہ اپنے آپ کو بھی سمجھایا۔ ۔۔۔۔
“ویسے ہے کہاں تمہارا مجازی خدا ۔۔۔۔میں بھی تو دیکھوں کیسا ہے۔۔۔۔”
ذائشہ نے مسکرا کر بات کر رخ بدلتے ہوئے ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں جن میں تمام چہرے اُسے جانے پہچانے ہی نظر آۓ ۔۔۔۔۔
“تم تو مجھ سے ایسے پوچھ رہی ہو جیسے میں اُنہیں اپنے پلّو سے باندھ سے گھومتی ہوں۔۔۔”
نور نے آنکھیں گھما کر بیزاری سے جواب دیا تو ذائشہ نے ایکدم سے ہنس کر ۔۔۔۔خود کو آس پاس بیٹھی دو تین عورتوں کی ناگوار نظروں کا نشانہ بنایا۔۔۔
حسرت تو تمہاری یہی ہے مگر افسوس وہ بندہ بندھنے میں آ نہیں رہا ۔۔۔۔
اُس نے افسوس جتاتے ہوئے کہا تو نور نے اُسے گھور کر دیکھا ۔۔۔
“منہ بند کرو اور وہاں دیکھو ۔۔۔۔۔۔”
اُس کا دھیان پیچھے کی جانب دلایا۔۔۔اور زائشہ نے پلٹ کر دیکھا تو ایک اجنبی چہرہ اور اُس پر فاطمہ آنٹی کی ناز برادریاں ۔۔۔۔۔۔یعنی کے وہی آج کا مہمان خصوصی تھا۔۔۔۔
“آؤ بیٹا میں تمہیں سب سے ملاتی ہوں ۔۔”
وہ بڑے خوش مزاج اور میٹھے لہجے میں اُسے مخاطب کرتی ایک ایک کی اُس سے پہچان کروا رہی تھی۔۔۔۔جس میں اُس کی دلچسپی ذرہ برابر بھی نہیں دکھائی دیتی تھی مگر و شاید صرف اُن کا خیال کرتے ہوئے سب سے مل رہا تھا۔۔
“ایسے آدمی کا کھڑوس ہونا تو بنتا بھی ہے “
ذائشہ نے اُسے ستائشی نظروں سے دیکھ کر کہا تو نور نے بھی اُس کی جانب دیکھا۔ ۔
وہ گرے شرٹ نیوی بلیو فارمل کوٹ پینٹ میں۔۔۔۔۔۔ صبیح دلکش چہرے ۔۔۔۔۔ اپنی ڈیسنٹ پرسنلٹی اور سوبر اٹیٹیوڈ کے ساتھ وہاں سب سے خاص سب سے منفرد لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
“اس کی پہلی بیوی اندھی وندھی تھی کیا ۔۔۔۔اتنے غضب ڈیشنگ بندے کو کوئی کیسے چھوڑ سکتا ہے یار۔۔۔۔۔”
ذائشہ بھی بڑی فرصت سے اُسے نہار رہی تھی اور اُس کے اس۔ قدر رنج و افسوس سے کہنے پر نور نے چونک کر اُسے دیکھا۔۔۔۔۔وہ بنا پلکیں جھپکے شہیر کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
نور کی پیشانی پر لکیریں پڑی اور اُس نے اس پاس دیکھا تو محسوس ہوا جیسے ذائشہ ہی نہیں بلکہ وہاں موجود ہر عورت ہر لڑکی کا مرکزِ نگاہ وہی تھا ۔۔۔۔
اِس احساس نے اُس کے اندر کی بیوی کو جھنجھوڑ کر بیدار کر دیا اور دل میں جلن کی آگ زندہ ہوئی۔۔۔۔
اُس نے ذائشہ کو گھورا اور پھر شہیر کی جانب دیکھا کے ایسا کیا ہے جو اُسے سب کے سب گھورے جا رہے ہیں۔۔۔۔اور جواب میں سر تا پیر ہی وہ کمال لگا۔۔۔۔کے کوئی سراہے تو کیوں نہیں ۔۔۔۔اور دیکھے تو کیا نہیں۔۔۔۔
مگر ایک چیز قابل اعتراض ملی وہ تھے شرٹ کے اوپری دو کھلے بٹن۔۔۔۔۔جن سے فراخ سینہ واضح تھا۔۔۔۔
اُسے نہایت غصّہ آیا اور دل کیا ابھی سب کے سامنے جا کر اپنے ہاتھوں سے اُن دو بٹنوں کو بند کردے۔۔
مگر بات سب کی موجودگی یا تنہائی کی نہیں تھی اُس حق کی تھی جو شہیر کی جانب سے اُسے نہیں ملا تھا۔۔۔۔۔۔اور اس حقیقت نے اُس جلن پر پانی پھیر کر سب ٹھنڈا کردیا ۔۔۔۔اس کے قدم جکڑ لئے۔۔۔۔
مگر کم سے کم وہ ذائشہ کو اُس کی طرف مزید چند پل متوجہ برداشت نہیں کر پائی اور اُس کا رخ اپنی طرف کرکے اُسے گھورا۔۔۔۔
“””ماہ نور خان۔۔۔۔۔کیا تم اپنے فیصلے پر نظرثانی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔””
ذائشہ نے مصنوعی سنجیدگی سے بھرپور ایکٹنگ کی تو اُس نے دانت پیسے ۔۔۔۔
“””سوچ لو یار ایسے پیس مارکیٹ میں روز روز نہیں ملتے۔۔۔کہیں بعد میں پچتانا نہ پڑے ۔۔۔””
وہ ہنس کر سارے دانت دکھاتے ہوئے بولی ۔۔۔
“””پتھر کی مورتیاں بہت ملتی ہے بازار میں ۔۔۔۔تمہیں چاہیے ہو تو خرید لینا۔۔۔۔مجھے ایسے پتھر نما انسان میں دلچسپی نہیں جس میں دل نام کا حصہ موجود نا ہو ۔۔۔۔٫””
اُس نے زمین کو۔تکتے نہایت سنجیدگی سے کہا۔۔۔مگر ذائشہ ذرا بھی سیریس نہیں ہوئی۔۔۔
“پتھر تو تمہاری عقل پر پڑ گئے ہیں ۔۔۔۔۔ذرا آنکھیں کھول کر غور سے دیکھو تو سہی اُسے۔۔ ۔۔۔۔”
اُس کے گلے میں باہ ڈالے فدا ہونے والے انداز میں بولی تو نور نے اُس کا ہاتھ غصے سر جھٹک کر اُسے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔۔
“تم اپنی بكوس کے گھوڑوں کو لگام دے رہی ہو یا میں تمہیں دھکے مار کر اس گھر سے نکالوں ۔۔۔۔”
دانت بھینچے غصے سے اُسے دھمکایا تو وہ بے شرمی سے ہنسی ۔۔۔۔
“سچ سچ کہو نہ اپنے سر تاج کی کسی اور سے اتنی تعریف برداشت نہیں ہو رہی ۔۔۔۔۔۔۔”
اُسے مسکراتے ہوئے حقیقت کا احساس دلایا تو اُس نے پہلے اُسے اور پھر ایک نظر شہیر کو بھی گھورنا ضروری سمجھا۔۔۔۔مگر مزید کچھ بولنے سے بعض رہی کیوں کا جانتی تھی ذائشہ نے لائن پر نہیں انا ۔۔۔۔
وہاں صرف وہ دونوں ہی اُسے ڈسکس نہیں کر رہیں تھیں۔۔۔۔ بلکہ وہاں موجود ہر دوسرے انسان کا موضوع گفتگو شہیر احمد خان ہی تھا ۔۔۔۔جن میں سے ایک اُس کی پھپھو بھی تھیں جو اپنے بیٹے پر شہیر کو فوقیت دینے سے بھری بیٹھی۔۔۔اور آج کسی بھی حال میں اپنی بھڑاس نکالنے کے در پہ تھی۔۔۔۔۔
“شکل صورت ہی تو سب نہیں ہوتی۔۔۔۔انسان بھی تو اچھا ہونا چاہیے نہ۔۔۔
اور اگر اچھا انسان ہوتا تو پہلی بیوی کیوں جاتی چھوڑ کر۔۔۔۔ضرور کچھ بری عادتیں ہوں گی جبھی تو دوسری شادی کی نوبت آئی۔۔۔””
اُن کی آواز اتنی کم نہیں تھی کہ نور یا آس پاس کھڑے لوگ نا سنتے ۔۔۔۔۔نہ انداز پھیکا تھا۔۔۔بلکہ وہ تو یقیناً سب کو سنانے کی غرض سے ہی بول رہیں تھی۔۔۔۔۔
اور نور کو اُن کی باتوں سے حد درجہ بیچینی ہو رہی تھی ۔۔۔
اُسے شہیر کے لیے جتنا غصّہ صحیح۔۔۔۔ہزاروں اختلاف صحیح ۔۔۔مگر ایک بات وہ جانتی تھی کہ اُس کی بیوی اپنی بری فطرت کی بدولت اُسے چھوڑ کر گئی تھی نہ کے اُس کے کسی عیب و عادت کا اُس میں دخل تھا ۔۔۔۔
اور اس چیز میں اُسے کوئی شک شبہ ہوتا اگر یہ بات اوروں سے یا صرف اُس کے گھر والوں سے سنی ہوتی ۔۔۔۔۔ مگر یہ سچ خود اُس کی بیوی کی ماں قبول کرتی تھی کہ قصوروار اُن کی اپنی بیٹی ہے ۔۔۔۔
“مگر دولت کے آگے عیب کہاں نظر آتے ہیں ۔۔۔۔
میرے بھائی نے تو امیر زادہ دیکھا اور بیاہ دی بیٹی۔۔۔۔آگے پیچھے کچھ سوچنا ضروری نہیں سمجھا ۔۔۔عمر میں بھی گیارہ سال بڑا ہے نور سے۔۔۔۔”
اُن کے افسوس و شمار جاری تھے اور نور کے لیے مزید سہنا مشکل ہوئے جا رہا تھا وہ چاہ کر بھی اُن کی آواز سے دھیان ہٹا نہیں پا رہی تھی اور ضائشہ بخوبی محسوس کر رہی تھی۔۔۔۔
“اوائڈ کرو یار۔۔۔۔جسٹ چل “
اُس کی بے چین طبیعت اور ضبط سے پڑتی سلوٹیں دیکھ زائشہ نے اُسے مخاطب کرکے سکون سے کہا ۔۔۔اُس نے گہری سانس لی مگر۔۔۔۔۔۔۔۔
“بس اپنے سر سے بلا ٹال دی سمجھ لو۔۔۔۔آگے بیٹی کے ساتھ ادھر کچھ بھی ہوتا رہے تو اُنہیں پتہ تک نہیں چلنا۔۔۔۔جو پہلی بیوی کے ساتھ اچھا نا رہا ہو وہ دوسری کے ساتھ کہاں سے اچھا رہتا ہوگا۔۔۔۔ضرور ظلم کرتا ہوگا نور پر تبھی تو دیکھو کیسے اُداس لگ رہی ہے۔۔۔۔ارے اگر میرے گھر آتی نہ تو بیٹی بنا کر رکھتی اسے۔۔۔۔میرا بچہ انس تو ۔۔۔۔۔
اُن کی مسلسل جاری بکوا س نے چند ہی منٹوں میں اُس کے صبر و ضبط کو نگل لیا ۔۔۔اور وہ ذائشہ کہ روکنے کے باوجود نہیں رکی ۔۔۔
“پھوپھو بلکل صحیح کہہ رہی ہے۔۔۔۔۔۔”
جا کر اُن سب کے درمیان میں کھڑی ہوگئی کے پھپھو حیرت اور ناگواری سے اُسے دیکھنے لگی ۔۔۔ ۔
“”آج کل تو ماں باپ اپنی بیٹی کے لیے لڑکا تلاشتے ہوئے اُس کے عیب دیکھ ہی نہیں پاتے مگر اُس سے بھی بڑی بات کہ آج کل سگی ماؤں تک کو بھنک نہیں ہوتی کہ اُن کی اولاد باہر کیا گل کیا کھلا رہی ہے ۔۔۔۔۔اب جیسے بیچاری پھوپھو کو نہیں پتہ کہ اُن کا بچہ انس شادی سے پہلے ہی اپنا گھر بسائے ہوئے ہیں باہر ۔۔۔۔”
وہ ٹھیک سامنے کھڑی اپنی ممانی جو کب سے مزے لے رہیں تھی اُنہیں دیکھ کر نہایت فکر و خیال سے بولی جو سن ہو کر دیکھ رہی تھیں ۔۔۔
“ایک بار تو ریڈ لائٹ ایریا میں پکڑا گیا تھا پولیس کے ہاتھوں۔۔۔۔بابا نے بڑے مشکلوں ضمانت کروائی تھی۔۔۔۔”
پھر رخ دوسری سمت کیا جہاں پڑوس کی ایک عورت کھڑی تھی۔۔۔۔۔۔۔زایشہ بڑی مشکل سے ہنسی ضبط کر رہی تھی جب کے پھپھو کی حالت دیکھنے قابل تھی۔۔۔۔
“کیا بکوّاس کر رہی ہے تو۔۔۔۔”
اُنہوں نے غصے سے بپھر کر اُس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے بھڑک کر دیکھا ۔۔۔۔۔اور معاملے کی سنگینی محسوس کرتے فاطمہ بھی اُس طرف چلی آئیں ۔۔۔
“میں آپکو آئینہ دکھا رہی ہوں پھوپھو ۔۔۔۔۔
کیوں کے آپ کو صرف دوسروں پر اُنگلیاں اٹھانی آتی ہے۔۔۔۔۔اپنے گھر کا حال نظر نہیں آتا۔۔۔۔۔”
اُس نے صاف گوئی اور تلخئ سے جتا کر کہا۔۔۔۔
“نور”
فاطمہ نے قریب آکر بیٹی کو حیرت اور غصے سے پکارا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ وہ کیوں اس طرح کی بات کر رہی ہے۔۔۔۔وہ بھی اس طرح سب کی موجودگی میں۔۔۔۔۔
“شہیر کے بارے میں اُلٹا سیدھا بولے جا رہیں ہے کب سے۔۔۔۔۔”
نور نے اُن کی طرف دیکھ کر اپنی صفائی دی ۔۔۔۔۔وجہ بتائی تو اُنہوں نے بھاری دل سے اُسے درگزر کرنے کہ اشارہ کیا۔۔۔۔۔
“میں نے تو وہی کہا جو سچ ہےاب تجھے برا لگتا ہے تو میں کیا کروں۔۔۔۔۔”
پھوپھو نے طنز زدہ لہجے میں ہنکارا بھرا۔۔۔۔
“آپ کونسا اُنہیں جانتی ہے جو ایسے کمنٹس
دے رہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب آپ کے اور اپ کے بچوں کی طرح نہیں ہوتے دنیا میں_”
اُس نے بھی جواب میں جتانا ضروری سمجھا وہ کب کسی سے بحث مباحثے کرتی تھی مگر شہیر کے لیے الٹی سیدھی باتیں اُس سے برداشت نہیں ہو رہیں تھیں ۔۔۔۔اور اُس کی اس قدر ڈھٹائی پر تو اُنہیں مانو آگ ہی لگ گئی۔۔۔۔۔
اپنی حد میں رہ نور۔۔۔۔۔۔ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔۔۔۔اور تیرا باپ بھی مجھے نہیں روک سکتا ۔۔۔۔۔۔سمجھی نہ۔۔۔۔
وہ انگلی اٹھا کر وارن کرتے ۔۔۔۔۔اتنی زور سے بولیں کے اُن کی آواز پورے گھر میں گونج اُٹھی ۔۔۔۔۔اور پھر ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔۔۔۔۔
سب ساکت سے اُس طرف متوجہ ہوئے اور نور سبکی کے احساس سے سانس لینا بھول گئی۔۔۔۔۔دھڑکنیں يوں اپنا تماشا بن جائے پر خوف سے سست ہو گئیں ۔۔۔۔اور نظریں زمین سے جا لگی۔۔۔۔پھوپھو اب اُسے سب کے سامنے پوری طرح سنانے کے تیور لیے کھڑی تھی۔۔۔۔۔اور سب کے سامنے اس عزت افزائی کے خوف سے اُس کا دل کانپ رہا تھا۔۔۔ایکدم سے فضا بدل گئی تھی۔۔۔۔
“تُو اپنے آپ کو کہیں کی ۔۔۔۔۔۔”
اور اُس کی اُمید کے مطابق پھپھو نے شروعات بھی کی تھی لیکن ۔۔۔۔۔
“سٹاپ اٹ ۔۔۔۔۔۔۔”
اُس کے دائیں جانب سے آتی با رعب سرد سخت آواز پر اُن کی آواز اور نور کا دل دونوں تھم گئے ۔۔۔۔۔۔
وہ آکر نور کے پاس ان کے سامنے کھڑا ہوا تو نور نے نظریں اٹھا کر اُس کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
“بیوی ہے میری۔۔۔۔آپکی سرونٹ نہیں جو آپ اس طرح بات کریں۔۔۔۔۔ہاتھ نیچے کیجئے”
وہ سرد نظروں سے اُن کی انگلی کے اشارے اور اُنہیں دیکھتا ضبط سے دھیمے لہجے میں بولا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ذائشہ سمیت گھر کے تمام لوگ اس صورت حال پر پریشان کھڑے تھے اور باقی سب تماشائی بنے ۔۔۔۔۔۔
جب کے نور ساکت سی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔جس حساس دل کو ایک دن اپنی کی گئی بے قدردی کا غم پہاڑ جتنا بڑا لگ رہا تھا ۔۔۔۔تو اس دل کے لیے یوں بھری محفل میں ملا تھوڑا سا مان بھی آسمان جتنا وسیع تو ہونا ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بیچ میں مت آؤ داماد جی ۔۔۔۔۔میں اس سے بات کر رہی ہوں ۔۔۔۔
پھپھو اُس کے تیور دیکھ خوفزدہ ضرور ہوئی تھی مگر ہاری نہیں تھیں ۔۔۔۔۔۔بلکہ نور کی طرف اشارہ کرکے غصے سے بولیں ۔۔۔شہیر نے نور کی جانب دیکھا جو سٹل کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
بولو انہیں کہ ہاتھ پیچھے کریں۔۔۔۔۔
اُس نے خود کو اُن کا ہاتھ جھٹکنے سے بعض رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے نور کو دیکھ کر سنجیدگی سے کہا تو وہ چونکی اور حواس باختہ سی اس پاس دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
بولو۔۔۔۔۔
اُس کی خاموشی پر شہیر نے اپنی بات پر زور دیا۔۔۔نور گڑبڑا سی گئی۔۔۔ایک طرف پھپھو جو ناگواری سے شہیر کو دیکھ رہی تھی ایک طرف وہ۔۔۔جیسے نظروں سے نگلنے کا ارادہ رکھتا تھا ۔۔
پھوپھو ہے میری ۔۔۔۔۔۔
اُس نے کمزور سے وضاحت دے کر اُسے بعض رکھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
تو ۔۔۔۔۔۔۔
مگر اُس کی بات پوری نہ ہوئی کہ وہ بول اٹھا ایسے کے وہ گھبرا گئی۔۔۔۔
“کیااس طرح انسلٹ کریں گی تمہیں۔۔۔ہاتھ اٹھائیں گی تم پر ۔۔۔۔ان سے کہو معافی مانگے ۔۔۔۔۔
“Tell her to apologize”
۔”
اُس کا غصّہ طیش میں بدلہ اور اُس نے بے حد سختی سے کہا جب کہ معافی مانگنے والی بات پر نور کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئی۔۔۔۔۔اور پھپھو کو بھی کچھ کم حیرانی نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔
۔نور پریشان سی اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُسے اپنے آگے اپنا پاسباں بنا کھڑا دیکھ۔۔۔۔اُس کی یہ پرواہ دیکھ دل عجیب ہی انداز میں دھڑک رہا تھا مگر فلهال اُس سے زیادہ اُس کے تیور دیکھ ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
پھپھو تو نور کی ہمت دیکھنے کے انتظار میں کھڑی تھی مگر شہیر کی بات پر انس بھڑک کر آگے آیا تھا۔۔۔۔
کیا کہا تونے ۔۔۔۔۔۔میری ماں معافی مانگے وہ بھی اس سے۔۔۔۔۔اتنی اوقات ہے کیا اسکی۔۔۔۔۔۔
وہ نہائت نفرت حقارت سے بولا تو اُس کی آواز اور الفاظ نے شہیر کے ضبط کی طنابیں توڑ دیں۔۔۔۔۔۔۔
اُس نے پلٹ کر انس کو نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔
نظریں وہیں۔۔۔۔نور کے چہرے پر ہی جمی رہی یوں کہ اُسے سانس بھی لینا مشکل لگا ۔۔۔۔جیسے نگاہوں سے نکلتے شعلے اُسے جلا کر خاک کردیں گے۔۔۔
جیسے وہ ابھی اُسے اپنی بات نہ ماننے پر کوئی سخت سزا دیگا۔۔۔۔۔۔
“اور تو کیا عورتوں پر روب جھاڑ رہا ہے ہمت ہے تو مجھ سے بات کر “
اُس نے شہیر کی خاموشی پر اُسے چیلنج کرنا چاہا تو بگڑتا معاملہ دیکھ نور کے بابا جلدی سے آگے بڑھے اور اُسے خاموش ہونے کی تنبیہ کرنے لگے۔۔۔۔
جب کے شہیر تو جیسے شرط لگا کر نور کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔۔پلکیں تک نہیں جھپکیں ۔۔۔۔اُسے غضب ناک نظروں کے زیرِ عتاب رکھے اپنی آستین کے بٹن کھول کر اوپر فولڈ کرنے لگا۔۔۔اور دوسری آستین فولڈ کرتے ہوئے انس کی جانب پلٹا جو کچھ نہ کچھ بولے جا رہا تھا اور کسی کے روکنے پر رکنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔شہیر نے آگے بڑھ کر اُسے بنا سمجھنے کا موقع دونوں ہاتھوں سے دھکا دے کر پیچھے دھکیلا۔۔۔وہ بری طرح لڑکھڑا کر پیچھے ہوا مگر اگلے ہی لمحے غصے سے خود بھی اُس کی جانب بڑھا۔۔۔۔مگر شہیر نے اُسے ایک بھی موقع نہیں دیا بلکہ چہرے پر پے درپے اتنے مکے اور پیٹ میں اتنی لاتیں رسید کی تو تھوڑی دیر میں وہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا۔۔۔۔
نور کی امی اور بابا اُسے آواز دے کر روکنے کی کوشش کرتے رہے ۔۔۔اور پھپھو انس کی حالت دیکھ گھبرا کر اُس پر چلاتی رہی مگر شہیر پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔۔۔۔وہ اُس کی جان لینے کے در پر تھا اُسے دیوار پر دھکیلے مسلسل مارتا جا رہا تھا ۔۔۔۔اور نور ساکت سی کھڑی اُسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔دل میں ایک صدا گونج رہی تھی کہ کیا واقعی یہ سب اُس کے لیے کیا جا رہا تھا ۔۔
“پکا یہی تیرا ہسبنڈ ہے نہ ۔۔۔۔۔۔کہیں رونگ نمبر تو نہیں لگ گیا۔۔۔۔ کیوں کہ اس کی حرکتیں دشمنوں والی نہیں دیوانوں والی لگ رہی ہے ۔۔۔۔”
زائیشہ بھی کم حیران نہیں تھی۔۔۔خوشگوار حیرت میں اُس کے پاس آکر بول رہی تھی ۔۔۔مگر وہ سن کب رہی تھی ۔۔۔بلکہ وہاں موجود ہی کب تھی۔ ۔۔
“نور تو دیکھ کیا رہی ہے ۔۔۔۔۔جا کر روک شہیر کو۔۔۔۔”
جب اُس کی امی نے آکر اُسے جھنجھوڑا تب و ہوش میں آئی۔۔۔۔۔اور خالی خالی انداز میں اُنہیں دیکھنے لگی تو اُنہوں نے دوسری دفعہ غصے سے اُسے حالات کا احساس دلا کر شہیر کو روکنے کو کہا۔۔۔۔تب وہ جلدی سے اُس کی طرف بڑھی۔۔۔۔
“پلیز اُسے چھوڑ دیجئے۔۔۔۔۔”
بہت ہمت کرکے تھوڑی اونچی آواز میں اُسے روکنے کی کوشش کی مگر وہ بے اثر ٹھہری تو اُس نے ایکدم سے اُس کا بازو تھام کر روکا۔۔۔
شہیر نے غیظ وغضب سے اُسے دیکھا جیسے اب انس کی جگہ اُسے ہی کھڑا کرکے باقی کوٹہ پورا کرے گا ۔۔۔
“۔۔۔پلیز چلیئے یہاں سے”
اُس نے جھجھکتے ہوئے کہا تو شہیر نے جھٹکے سے اپنا بازو چھڑا کر اُسے مزید خوفزدہ ہونے پر مجبور کیا اور پھر اُس کی کلائی سختی سے تھام کر اُسے لیے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔پیچھے سے پھپھو کی ہائے ہائے جاری تھی مگر نور کا دل اب اپنی شامت کے ڈر سے بری طرح لرز رہا تھا۔۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial