قسط 12 حصہ 1
اُس کے لیے آسان تو ہرگز نہیں تھا ۔۔۔۔
سب کے سامنے آنا۔۔۔۔سب کے ساتھ کھانا ہنسنا بولنا مگر بے بسی تھی کے جب اُسے بلایا گیا تو اُس کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا سوائے روبوٹ کی طرح عمل کرنے کے۔۔۔۔
پچھلے کچھ دنوں سے اُس کی زندگی میں ہونے والے ہر برے واقعے کی وجہ ۔۔۔۔اس کی بے بسی کا زمیدار صرف ایک آدمی تھا ۔۔۔۔ اور وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی سوائے اُس پر کڑھنے اور افسوس بھیجنے کے۔۔۔۔
دماغی اور جسمانی دونوں طرح بے حد اذیت محسوس کرکے بھی وہ سب کے درمیان موجود تھی۔۔
ایک طرف اُس امتحان سے گزر رہی تھی جو دنیا کی ہر لڑکی کا مقدر ہے۔۔اعضاءشکن درد کا ایک سفر جو ہر حال میں سہنا تھا۔۔۔۔جس کا اظہار معیوب تھا۔۔۔۔۔اور ظاہر تھا۔۔۔۔ محض ایک فریب۔۔۔۔۔
درد کے تمام ٹکڑوں کو سمیٹ کر ہمت سے جوڑ کر مسکرانا تھا۔۔۔۔۔۔۔کوئی دوسرا آپشن موجود ہی نہیں تھا۔۔۔۔۔
دوسری طرف یہ ذہنی انتشار۔۔۔۔خود اذیتی اور پل پل بکھرتا حوصلا۔۔۔۔۔ٹوٹتا دل۔۔۔۔بڑھتی آزمائشیں۔۔۔۔اور ریزہ ریزہ ہوتے جذبات۔۔۔۔
دل تو چاہتا تھا وہاں موجود ہر چیز کو تحس نحس کردے۔۔۔۔ایک ایک سجاوٹ اُکھاڑ پھینکے اور چینخ چینخ کر سب پر اپنی بھڑاس نکالے۔۔تاکہ لوگوں کو اُس کے اندرونی اشتعال کا اندازہ ہو سکے ۔۔۔مگر اتنی ہمت کہاں سے آتی ۔۔۔۔اور پھر ہمیشہ کا پڑھایا سبق کیسے اتنی آسانی سے بھلایا جاتا ۔۔۔
کہ عورت مطلب۔۔۔صبر۔۔۔ضبط۔۔۔ایثار۔۔۔ سہار۔۔۔۔
اور اُس نے بھی پڑھائے گئے تمام باب اچھے سے یاد رکھ کر امتحان دیا ۔۔مگر پھر تنہائی کا سہارا پا کر جی بھر کی چیٹنگ کی۔۔۔۔
جھوٹی مسکراہٹ سے آزاد ہوئی۔۔۔۔
بوجھ بنے زیوروں کو نوچ نوچ کر خود سے دور پھینکا ۔۔۔۔لپسٹک کو بے دردی سے رگڑا۔۔۔۔۔
اور اندھیرے کمرے میں یخ بستہ فرش پر ۔۔ ۔۔بیڈ سے ٹیک لگائے گھٹنوں پر سر رکھے خود میں سمٹ کر بیٹھی جسم و جان کے روگ کو روتی رہی۔۔۔
مہمان جا چکے تھے۔۔۔۔۔۔گھر کے تمام مکین بھی تھکے تھکے اپنے کمروں میں جا کر آرام کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔سجا سجایا کچھ دیر پہلے تک ہنسی مسکراہٹوں سے گونجتا vلان اب ویران تھا۔۔۔
وہ روم میں آیا تو بھی وہ اُسی پوزیشن میں بیٹھی ہوئی تھی
گہرے اندھیرے میں کھڑکی سے آتی ہلکی ہلکی روشنی تھی اور خاموشی میں گونجتی مدھم مدھم سسکیاں۔۔۔۔۔
وہ اُسے دیکھ کر حیران نہیں ہوا۔۔۔نا لائٹ آن کی۔۔۔نہ کچھ کہا۔۔۔
خاموشی سے چل کر اُس کے پاس آیا اور تھوڑا سا فاصلا رکھ کر خود بھی فرش پر بیٹھ گیا۔۔پہلے تو صرف سامنے موجود دیوار کو دیکھتا رہا پھر نظریں اُس کی جانب کیں ۔۔۔۔۔اور اُس کے جھکے سر کو دیکھتا گیا۔۔۔۔بھلے اپنی غلطی کا احساس تھا مگر اعتراف کرنے کے لیے لفظ نہیں تھے۔۔۔۔
نور اُس کی موجودگی کو محسوس کرکے بظاہر بے نیاز رہی۔۔۔۔مگر حقیقتاً دل و جان سے منتظر تھی کے شہیر کوئی ایک لفظ منہ سے نکالے ۔۔۔۔اچھا یا برا۔۔۔۔غلط یا صحیح بس کچھ کہے ۔۔۔۔بس اُسے مخاطب کرے ۔۔۔۔تاکے اُسے اپنے اندر بھڑکتے الاؤ کو بجھانے کا موقع ملے۔۔۔۔وہ اُس سے لڑنے کی وجہ چاہتی تھی چیننخنے کا بہانہ چاہتی تھی۔۔۔۔مگر شہیر نے یہاں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔۔۔کچھ نہیں بولا ۔۔ایک لفظِ تسلی نہ لفظِ اعتراض ۔۔۔۔
لمحے خاموش گزرتے گئے مگر کچھ نہیں۔۔۔۔
اُس کے صبر کو یہاں بھی اتنا آزمایا کے وہ کڑھ کے رہ گئی۔۔۔اور ایکدم طیش میں آکر غصے سے سر اٹھاکے اُسے دیکھا۔۔
جو سر بیڈ سے ٹکائے اطمنان سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔خالی دل۔۔۔۔تحی احساس۔۔۔۔بے تاثر نگاہوں سے۔۔۔
“کیوں دیکھ رہے ہیں آپ میری طرف۔۔۔۔۔۔”
وہ بھیگی بھاری آواز میں غصے سے بولی۔۔۔۔مگر وہ جوں کا توں رہا۔۔۔۔نہ حرکت نہ جنبش۔۔۔
کیوں دیکھ رہے ہیں مجھے۔۔۔۔۔
اسنے جنونی ہو کے ایکدم سے اُس کے شولڈر پر ہاتھ مار کر اُسے دھکیلنا چاہا جس پر وہ سیدھا ہوا اور ضبط سے اُس کے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔۔۔۔اور دوبارہ وہ اپنا عمل دہراتی اُس سے پہلے اُس کی کلائی تھام کر روکتے ہوئے اُسے سنجیدگی سے دیکھا۔۔۔۔۔
وہ شوریدہ سری سے کلائی چھڑانے کی کوشش کرکے ہلکان ہو گئی مگر چھڑا نہیں پائی ۔۔۔۔ یہاں تک کہ بے بسی اور جھنجھلاہٹ میں اُس کے ہاتھ پر جھک کر دانت گاڑ دیے مگر اُسے مانو کوئی فرق ہی نہیں پڑا۔۔۔۔۔بلکہ خود کے لیے یہ محنت وبال جان بن گئی۔۔۔۔اور پیٹ میں اٹھتے درد کی شدّت پر اس نے بے ساختہ سمٹ کر ہاتھ پیٹ پر رکھتے ہوئے آنکھیں بند کرلیں۔۔۔۔۔
شہیر نے چونک کر اسے دیکھا اور ایکدم سے کلائی چھوڑ دی۔۔۔۔۔چند پل اُسے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا اور پھر اُس کے شولڈر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کچھ پوچھتا کہ وہ طیش میں آکر بری طرح اُس کا ہاتھ جھٹک گئی۔۔۔
کیا تکلیف ہے آپ کو مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔کیا چاہتے ہیں اب ۔۔۔
زچ ہو کر بولی تو وہ غور سے اُس کے بکھرے بکھرے روپ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
کیا کوئی نئی کوشش سوجھی ہے آپ کو اپنی مام کو خوش کرنے کی جس کے لیے میری ضرورت آن پڑی۔۔۔۔۔
کیوں کے آپکی مام کی خوشی اور سکون سے بڑھ کر تو کچھ ہے ہی نہیں نہ۔۔۔۔
نہ کسی کی مرضی نہ کسی کے جذبات۔۔۔۔۔
آپ کو تو کِسی چیز سے لینا دینا ہی نہیں ہے۔۔۔
اُس نے غصے سے کہتے کہتے آشفتگی سے شکوہ کیا تو
شہیر کا دل کسی انجانے بوجھ کے اثر سے بھاری ہونے لگا وہ اُس کے بکھرے کاجل سے نظریں پھیر گیا۔۔۔۔۔ا
مام نے کہا شادی کرلو تو کرلی ۔۔۔
مام نے کہا نارمل رہو تو نارمل ہونے کا ڈراما کر لیا۔۔۔۔
کل آپ کی مام کہیں گی اُنہیں۔ اپنا پوتا چاہئے ۔۔۔۔
آپ نے سوچ کر رکھا کچھ کے نہیں۔۔۔۔
کیسے پوری کریں گے اُن کی خواہش۔۔۔۔۔
اناتھ آشرم سے بچا گود لیں گے یا کسی جدید
سائنس کے ذریعے ایجاد کریں گے۔۔
وہ بھری بیٹھی تھی۔ ۔۔۔دکھ و افسوس کے ساتھ تمسخر اور غصے سے اُس پر بھڑاس نکالتی رہی۔۔۔بنا اپنے لفظ لہجے اور بات کا تعین کیے ۔مگر وہ تب بھی کچھ نہیں بولا۔۔۔
اُس کی چپ سے وہ مر کیوں نہ جائے مگر اُس نے نہیں بولنا تھا ۔۔۔اور نہیں بولا۔۔۔۔
“تماشا بنا دیا میرا۔۔۔۔۔تماشا بنا دیا ۔۔۔۔”
وہ غصے سے بیڈ کی چادر کھینچتی چینخ کر وہاں سے اٹھ گئی ۔۔۔اور وہ تھک کر سر پیچھے گرائے آنکھیں موند گیا ۔۔۔
+++
وہ چینج کرکے سونے کے لیے جانے لگی تب اُس نے پُکارا اور نور نے نہایت ضبط سے مٹھی بند کی۔۔۔۔۔دانت بھینچے۔۔۔۔۔
مجھے تھوڑا کام ہے ۔۔۔۔ کیا تم آج کی رات یہاں سوجاوں گی۔۔۔
وہ رسانيت سے بولا تو نور بنا کوئی جواب دیے پیر پٹختی بستر تک آئی کشن کو سرہانے پھینک کر لیٹتے ہوئے چادر سر تک لے لی۔۔۔وہ گہری سانس لے کر زمین پر پڑے کانوں کے خوبصورت اویزے اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھنے لگا۔۔۔۔
*****
نیند کھلی تو سر بے حد بھاری تھا اور بدن ٹوٹ رہا تھا۔۔۔۔خود کو بجائے سٹدی کے بے آرام صوفے کے بیڈ پر پا کر حیران ہوئی مگر پھر دھیرے دھیرے یاد آیا کہ وہ یہاں کب اور کیوں سوئی تھی۔۔۔۔۔
اور یہ بھی کہ آج اُسے شہیر کے ساتھ دہلی جانا تھا مگر وہ اُس سفر کے خیال سے ہی پریشان تھی کے اُس کا دل بستر سے نکلنے کو نہیں چاہ رہا تھا اور پھر یہ مصیبت۔۔۔پیکنگ کرنا تیار ہونا اور پھر ایک لمبا سفر ۔۔۔۔۔وہ بھی ایسے انسان کے ساتھ کے مشکل پڑنےپر وہ اُسے بتا تک نہیں سکتی تھی۔۔۔۔۔۔مگر بہر حال کوئی دوسرا راستہ بھی نہیں تھا۔۔
سر جھٹکتے ہوۓ سارا زور سمیٹ کر اٹھی تو اُسے اپنے اوپر کچھ نرم گرم بوجھ سا محسوس ہوا۔۔۔۔۔چادر ہٹائی تو دیکھا وہ ہاٹ واٹر بیگ تھی۔۔جو ابھی بھی ہلکی ہلکی گرم تھی۔۔۔
لیکِن آئی کہاں سے یہ سوچ سوچ کر بھی وہ اندازہ نہیں لگا سکی اُسے بس اتنا یاد تھا کے وہ درد سے بے سکون تھی تو عادتاً کشن پیٹ پر رکھ لیا تھا۔۔۔۔مگر یہ بیگ اُسے کہیں سے یاد نہیں پڑتی تھی کے اُس نے لی ہو ۔۔۔
اور اُس روم میٹ سے ایسی اُمید بھی قطعاً نہیں تھی۔۔۔
وہ مزید سوچ سوچ کر پریشان ہوتی مگر دروازے پر ہوتی دستک کے باعث اٹھنا پڑا تو دھیان وہاں سے ہٹ گیا ۔۔۔اُس نے دروازہ کھولا تو افرا اُسے ناشتے کے لیے بلانے آئی تھی۔۔۔۔اُسے سخت شرمندگی ہو ئی کہ وہ اتنی دیر تک سوتی رہی ہے اور جانے سب کیا سوچ رہے ہو گے ۔۔۔۔و افرا کو جواب دے کر جلدی تیار ہونے کی غرض سے کپڑے لے کر واشروم میں گھس گئی اور وہ بیگ کا سوال سوال ہی رہ گیا۔۔۔
@###
“مام ۔۔۔۔وہ میری جو میٹنگ تھی پوسپون ہو گئی ہے۔۔۔اسلئے آج جانا کینسل کر دیا ۔۔۔۔۔۔”
ناشتے کے دوران اُس نے اطلاع تو اپنی ماں کو دی تھی مگر اُن سے پہلے نور اُس کی بات پر پوری طرح متوجہ ہوئی اور خدا کا ڈھیروں شکر ادا کیا کہ آج اُس کا جانا ٹل گیا تھا ۔۔۔وہ جیسے ایک سخت آزمائش سے بچ گئی تھی ۔۔۔کیوں کے اُسے اندازہ تھا یہ سفر اُس کے لیے کافی تکلیف دہ ثابت ہونے والا تھا۔۔۔
“بہت اچھا کیا بیٹا ۔۔۔۔اسی بہانے ایک اور دن ہمارے ساتھ رہ لوگے تم دونوں ۔۔۔”
رئیسہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔اور وہ ایک نظر نور کے پر اطمینان چہرے کو دیکھ دوبارہ پلیٹ کی طرف متوجہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
_________
سب ساتھ تھے۔۔۔موسم خوشنما تھا۔۔۔۔ماحول خوشگوار۔۔۔۔۔۔مگر اُس ماحول میں اُس کی موجودگی صرف اپنے ساتھ ایک ذبردستی تھی ۔۔۔۔۔
سب اس کی خاطر وہاں جمع تھے تو وہ اٹھ کر کیسے جا سکتی تھی۔۔۔۔۔۔رئیسہ بیگم اور وحیدہ بیگم خاص اُس کے لیے اچار بنا رہیں تھیں۔۔۔۔
عمیر اور افرا اُس کے پاس فوٹو البم لیے ۔۔۔گزری خوبصورت یادیں اور قصے شیئر کر رہے تھے ۔۔۔۔ اور جواب میں اُنہیں دینے کے لیے اُس کے پاس بس ایک زبردستی کی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔۔۔کوئی اور وقت ہوتا تو شاید وہ دلچسپی لیتی اور انجوئے بھی کرتی مگر اس وقت اُس کے لیے وہاں آرام سے بیٹھنا بھی جنگ لڑنے جیسا تھا۔۔۔۔۔وہ بہانہ کرکے اٹھ بھی جاتی لیکِن دل نہیں مانا ۔۔۔۔۔
“بھابھی ۔۔۔۔۔صاحب نے آپکو روم میں بلایا ہے “
ملازمہ نے آکر اُسے اطلاع دی حالانکہ بھابھی وہ اُسے ہی کہتی تھی مگر بات اتنی انوکھی تھی کہ نور نے نہ سمجھی سے اپنے آس پاس دیکھا کہ شاید وہ کسی اور سے کہہ رہی ہو۔۔۔۔۔۔مگر افرا اور عمیر کے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔
“کک۔۔کون صاحب ۔۔”
اُس نے غائب دماغی سے پوچھا تو سب کو اُس کے شاک انداز پر ہنسی آئی۔۔۔۔۔
“شہیر صاحب نے بلایا ہے آپکو بھابھی “
ملازمہ نے تاسف سے پوری بات دہرانا ضروری سمجھا ۔۔۔۔
“”کیوں””
اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا ساتھ ہی وہ گلا تر کرتی اٹھ کھڑی ہوئی کہ۔۔بھلا اب وہ کس ارادے سے اُسے یوں سب کے بیچ سے روم میں بلا رہا ہوگا ۔۔۔۔
بھابھی وہ تو آپکو وہاں جا کر ہی پتہ چلے گا ۔۔۔۔جایئے نہ۔۔۔۔
افرا نے اُسے پریشان دیکھ ہنستے ہوئے کہا تو اُس نے لب کاٹتے ہوئے اُسے دیکھا اور پھر سب کا خیال کرتے ہوئےدھڑکتے دل سے قدم آگے بڑھائے۔۔ مگر وہاں سے روم کے دروازے تک پہنچنے کے درمیان اُس کا دل یہ سوچ سوچ کر پاگل ہوچکا تھا کے اس طرح بلانے کے پیچھے کیا وجہ ہوگی۔۔۔کہیں اُسے پھر اپنی ماں کی خاطر نیا شوشہ نہ سوجھا ہو۔۔۔۔یا کل رات اُس نے جس طرح بات کی اُس کا ہاتھ کاٹ دیا کہیں اُس پر غصّہ نکالنے کو تو نہیں بلایا ۔۔۔ویسے تو وہ vتیز آواز میں بات کرنے پر بھی کافی برہم ہوتا تھا اور یہاں تو نور نے حد کردی تھی ۔۔۔شاید رات کو موقعےکی نزاکت دیکھ کے وہ ٹال چکا تھا مگر اب اُس کی کلاس لینے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔ڈھیروں سوال پریشان کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔
وہ اندر داخل ہوئی تو وہ صوفے پر سکون سے ٹیک لگائے بیٹھا لیپٹاپ کی جانب متوجہ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
“کیوں بلایا آپ نے مجھے۔۔۔”
نور نے کوئی رعایت نہیں دی کافی بے رخی سے پوچھا تاکہ وہ اُس سے کسی قسم کی اُمید بھی نہ رکھے…اور اُسے کمزور بھی نہ سمجھے ۔۔۔
لیکِن شہیر نے اُس کے لب و لہجے پر اُسے کُچھ یوں دیکھا کے وہ گڑبڑا گئی۔۔۔اور گھبرا کر نظریں پھیر گئی ۔۔۔۔
مجھے لگا تم وہاں سب کے ساتھ کمفرٹیبل نہیں ہو ۔۔۔۔اسلیئے ۔۔۔۔
اُس نے سنجیدگی سے کچھ کچھ جتاتے انداز میں کہتے ہوۓ بات ادھُوری چھوڑی ۔۔۔ایک پل کو تو وہ اُس کی بات پر حیران ہوئی ۔۔۔۔مگر اُس حیرانی کے خوشفہمی میں بدلنے سے پہلے ہی سنبھل گئی ۔۔۔کے اس آدمی کی فطرت ہے ایک پل کو مہربان ہونا اور پھر اپنی اصلیت پر آجانا۔۔۔۔۔۔
” اس روم میں آپ کے ساتھ رہنے سے تو وہاں انکمفرٹیبل رہنا زیادہ اچھا ہے۔۔۔۔۔”
وہ تمسخر سے بڑبڑاتی واپس جانے کے لئے پلٹی مگر ۔۔۔۔۔
“اگر پرابلم میرے ہونے سے ہے تو اٹس اوکے۔۔آئے ایم گوئنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔یو جسٹ ریلیکس ۔۔۔۔۔۔”
اس کا ہاتھ ہینڈل پر ہی تھا جب وہ نہایت تحمل سے کہتا اُس کے کچھ بھی کہنے سے پہلے اسٹڈی روم کا دروازہ کھول کر اُس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔۔۔
چند سیکنڈ کے لیے تو نور کی نظریں پرسوچ انداز میں اُس بند دروازے کو ہی دیکھتی رہی۔۔۔اور اُسے سمجھنے کی کوشش کرتی رہی ۔۔۔
اس وقت تو وہ قیاس نہیں لگا سکی اس دیدہ دلیری کی۔۔۔۔مگر جاننے میں وقت نہیں لگا۔۔۔اور جب وجہ سامنے آئی تو بہت کچھ بدل گیا۔۔۔۔۔۔
ویسے تو وہ اُس کے روم میں آنے سے پہلے ہی وہاں سے غائب ہوجاتی تھی مگر اُس رات اُسے احساس ہی نہیں ہوا کے وہاں کچھ دیر لیٹنے کا سوچ کر وہ کب سے اندھیرے میں بیڈ پر ہی ایک بےجان سامان کی طرح پوری سمٹ کر پڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ کئیں بار اٹھنے کی سوچی مگر ہمت نا پید تھی ۔۔
اور جاگتے ہوئے بھی جیسے آس پاس کا کوئی ہوش و خیال نہیں تھا۔۔۔۔۔پیٹ میں اٹھتے درد کا چہرے پر صاف اثر نمایاں تھا۔۔۔۔ جب دروازے کی آواز سنی اور لائٹس آن ہوئی تب اُسے مجبوراً آنکھیں کھولنی پڑی اور وہ تمام قوت جمع کرتی اٹھ بیٹھی۔۔۔۔۔
“سوری۔۔۔۔۔۔میں بس جا ہی رہی تھی۔۔۔۔۔۔”
ایک نظر اُسے دیکھ کر سست سی آواز میں کہتے ہوۓ تکیے کو ٹھیک کرتی اٹھنے لگی مگر ۔۔۔۔
ویٹ ۔۔۔۔میں نے کہا جانے کو۔۔۔۔۔تم یہاں سو سکتی ہو۔۔۔۔۔
اُس نے روک کر منع کردیااور وہ رک بھی گئی بھلے اُس نے مروت میں کہا ہو مگر نور کے لیے غنیمت تھا کیوں کہ وہ واقعی وہاں سے اٹھ کر جانا نہیں چاہتی تبھی بجائے تردد کے شکر منا کر جیسے ہی وہ وہاں سے غائب ہوا واپس لیٹ گئی اور چادر سر تک اوڑھ لی۔۔۔۔
گھنٹوں تک اُسی طرح بے سکون کروٹ پر کروٹ پوزیشن پر پوزیشن بدلتی رہی۔۔۔۔تو کبھی بلکل ساکت ہو کر لیٹی رہی ۔۔۔۔کبھی تکیے کے بنا تو کبھی ایک کے اوپر ایک دو کشن رکھ کر ۔۔۔۔۔کبھی اٹھ بیٹھی اور پیچھے ٹیک لگائے دیر تک آنکھیں بند کرکے سونے کی کوشش کی۔
تاکہ کِسی طرح نیند مہربان ہوجائے تو کچھ دیر راحت ملے ۔۔۔۔۔۔مگر نیند بھی اپنی آمد سے پہلے راحت مانگ رہی تھی ۔۔۔
کشنز کمر کے پیچھے رکھ کر آرام دہ پوزیشن میں بیٹھی تب بھی جاگ رہی تھی بس آنکھیں بند تھی تبھی جب اپنے نزدیک کسی کو محسوس کیا تو فوراً آنکھیں کھول لیں ۔۔۔
اور نیم اندھیرے میں اُسے اپنے سامنے دیکھ کچھ حیران کچھ پریشان ہو کر سیدھی ہونے کی کوشش کی مگر شہیر نے محض سر کے اشارے سے اُسے روک دیا اور ہاٹ واٹر بیگ کی کیپ ٹائیٹ کرکے اُس کی طرف بڑھائی۔۔۔۔
وہ ساکت سی اُس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھنے لگی۔۔۔۔ایک لمحے کے لیے جیسے دماغ ہر سمت سے بوجھل ہوگیا ۔۔۔نظریں ہاتھ سے واپس اُس کے چہرے تک آئیں ۔۔۔۔خالی بے تاثر نظریں۔۔۔۔۔
بیٹر فیل ہوگا۔۔۔۔۔۔”۔۔”
شہیر نے اُس کے بنا کوئی رسپانس دیے خاموشی سے دیکھنے پر ہمیشہ کے انداز میں سنجیدگی سے کہا تو وہ میکانکی انداز میں ہاتھ بڑھا کر وہ بیگ تھام گئی مگر نظریں اُس کے چہرے سے نہیں ہٹائی۔۔۔یہاں تک کہ وہ وہاں سے چلا گیا تب بھی نور کی نظریں خالی جگہ پر اُسی طرح ٹھہری رہی جیسے وہ اب بھی وہاں موجود ہو ۔۔۔۔۔۔۔
اور دل و دماغ اپنی جگہ پر نہ رہے۔۔۔دماغ گزرے ایک دن میں ہوئے تمام واقعات دہرانے لگا۔۔۔۔اور دل جانے کونسی سمٹ بڑھتا چلا گیا ۔۔۔
اُس کا کل رات کام کے بہانے نور کو وہاں سونے کے لیے کہنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سب کے درمیان اُس کی بے آرامی محسوس کرکے وہاں سے بلوا لینا۔۔۔۔جہاں وہ ڈنر کی وجہ سے ایک دن رکنے پر مجبوراََ راضی ہوا تھا اُس کی خاطر بنا جتاتے یا ظاہر کیے جانا کینسل کردینا ۔۔۔۔۔
اور وہ ہاٹ واٹر بیگ جس کو لے کر وہ حیران تھی۔۔۔۔
اُس کی نظریں اُس خالی جگہ سے ہٹ کر اپنے ہاتھ تک آئی جہاں بیگ اُسی طرح تھامی ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔اس اچانک افتاد نے ہر تکلیف سے جیسے فراموش کردیا تھا ۔۔۔۔ ۔۔
” اپنے ساتھ کمپرومائز کرنا پڑتا ہے نور ۔۔۔۔۔روٹین کے ساتھ کمپرومائز کرکے لوگو کے سامنے اشتہار نہیں کیا جاتا اور تم اکیلی تو نہیں ہو نہ سب کے ساتھ ہوتا ہے یہ۔۔بند کمرے میں بیٹھ جانا اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔۔ٹھیک کرو اپنی شکل ۔۔۔ “
جس درد کا اظہار بھی ممنوع تھا۔۔۔۔جس کی نمائش بے شرمی کہلاتی تھی۔۔۔۔اُس درد کو محسوس کرکے کسی کی یہ پرواہ۔۔۔۔۔اس بکھرتے وقت میں کسی کا سمیٹنا اور بس ایک جملہ” بیٹر فیل ہوگا” معمولی نہیں تھا۔۔۔۔۔کسی بھی انمول خزانے کی حیثیت رکھتا تھا ۔۔۔کسی بھی عورت کو خرید سکتا تھا ۔۔۔۔۔۔
اُس نے وہ بیگ سائیڈ میں رکھا اور سن اعضاء کو حرکتِ دیتی آہستہ سے پیر نیچے کرکے بیڈ سے اتری ۔۔۔۔نہ چپل کا خیال کیا نہ دوپٹے کا ۔۔۔۔
اُس کے قدم اسٹڈی روم کی جانب بڑھے ۔۔۔دروازہ کھولا تو وہ بک شیلف کے پاس کچھ تلاشتے ہوئے ساتھ سموکنگ میں مصروف تھا ۔۔۔دروازہ کھلنے پر سوالیہ نظروں سے نور کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ اسی سست روی سے آگے بڑھی اُس کے ٹھیک سامنے آکر رکی اور ایکدم سے اُس کے سینے میں سما گئی۔۔۔۔۔۔وہ شدتوں سے حیران ہوا ۔۔۔۔ہاتھ میں موجود کتاب چھوٹ کر گر گئی۔۔۔۔۔
نور بے آواز ڈھیروں آنسو اُس کی شرٹ کی نظر کرتی رہی۔۔۔۔بنا بولے اُس پر واضح کیا کے اُس کی یہ تھوڑی سی قدر کتنا بڑا مقام رکھتی ہے اُس کے نزدیک ۔۔۔۔۔۔
ویسے بھی عورت کے وجود کو محبت سے زیادہ عزت اور پرواہ کی طلب ہوتی ہے۔۔۔۔۔
جب کے وہ نہایت الجھن میں تھا ۔۔۔۔۔اُس کے نازک وجود کی قربت اور آنسوؤں کی نمی پر سخت بے چین ۔۔۔۔۔نہ اُسے تھام سکتا تھا نہ دور کر پا رہا تھا۔۔۔۔۔۔یہاں تک کہ لمحے سرکتے گئے اور بے قراری بڑھتی گئی۔۔۔وہ ضبط کی انتہا پر کھڑا رہا اور نور اُسے بے چین کرکے اپنا سا را دکھ بہا کر غنودگی میں جانے لگی ۔۔
######
شہیر نے اُس کے لرزتے وجود کو تھمتے اور خود پر اپنا بوجھ منتقل کرتے محسوس کیا تو آنکھیں بند کرکے کھولتے ہوئے ایک مضمحل بوجھل سانس فضا کے سپرد کی اور اُسے تھامتے ہوۓ بنا خود سے الگ کیے بازؤں میں اٹھا لیا۔۔۔اتنی نرمی سے کے نور کی نیند میں ذرا سا بھی خلل نہیں پڑا۔۔۔۔
وہ اُسے روم میں لایا اور اُسی احتیاط سے بستر پر لٹا کر کنفرٹر اوڑھایا ۔۔۔وہیں سے پلٹ کر اُس بڑھتی بے قراری اور گھٹن سے جان چھڑانے کی کوشش کی مگر پھر رک گیا۔۔۔۔اُسکے چہرے کو بے تاثر نظروں سے دیکھتے ہوئے جھک کر ماتھے پر بکھرے چند بالوں کو پیچھے کیا۔۔۔۔۔اپنے دل سے سوال کیا کہ نور کے لیے وہاں کیا گنجائش نکلتی ہے تو جواب میں درد ۔۔۔۔۔ھمدردی ۔۔۔۔ندامت ۔۔۔۔۔۔اور احترام تو بکثرت موجود پائے مگر احساسِ اُلفت غیر موجود۔۔۔۔
اور وہ جانتا تھا کہ کبھی اُس سے محبت ممکن بھی نہیں ۔۔۔۔۔
اُس نے خود ہی تمام دروازے بند کردیئے تھے ۔۔۔راہیں مسترد کر رکھی تھی۔۔۔۔کیوں اُسے نہ وہ احساس پسند تھا نہ وہ لفظ ۔۔۔۔۔۔