محرم میرے

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

قسط 13 حصہ 1

وہ اکیلے آگے بڑھ کر اس قدر بے حسی کا مظاہرہ کر چکا تھا کے نور کا دل کیا اندر ہی نہ جائے ۔۔۔
وہ پہلی دفعہ وہاں آئی تھی اور وہ بے مروت آدمی اُسے دروازے پر چھوڑ کر ہی چلا گیا تھا ۔۔۔
وہ وہیں کھڑی حیرت اور دکھ سے اُس کی پشت کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔مگر شہیر دروازے تک پہنچنے سے پہلے اُس گلاب کی پتیوں سے سجی راہداری کے درمیان میں ہی رک گیا۔۔۔۔
وہیں سے پلٹ کر اُس کی جانب دیکھتے ہوئے اُسےاندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔اور ساتھ ہی انور کو گھور کر دیکھا ۔۔۔۔۔انور تو اُس کے دیکھتے ہی ایکشن میں آکر جلدی سے گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔مگر نور وہیں کھڑی رہی ۔۔۔۔۔
حالانکہ اُس کے رکنے اور اپنی طرف بلانے سے کچھ اطمینان ملا تھا مگر غصّہ اپنی جگہ قائم تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔وہ کچھ دیر وہیں رکا اُس کا انتطار کرتا رہا اور جب وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلی تو تاسف سے سر جھٹک کر اُس کے پاس آیا ۔۔
چلو ۔۔۔۔۔۔۔
اُسے سٹل دیکھ کر کچھ نرمی سے کہا ۔۔اور ساتھ ہی انور کو بیگز لے کر واپس آتے دیکھ سامان اندر لیجانے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
“ایک موقع نہیں چھوڑتے نہ آپ مجھے نیچا دکھانے کا ۔۔بہت گھمنڈ جو ہے آپکو اپنی دولت کا ۔۔۔مجھے نہیں آنا آپ کے ساتھ۔۔۔۔”
نُور خفگی اور غصے سے بولتی آنسوؤں کو روک کر واپس پلٹنے لگی کے اُس نے ایکدم سے بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔اور اتنی سختی سے کہ اُس تصادم سے نور کی دھڑکنیں ڈگمگا گئی۔۔۔۔۔۔۔
شہیر کا ہاتھ اُس کے بازو سے ہٹ کر اُس کی ہتھیلی تک آیا اور اُس کی ہتھیلی تھام کر اوپر اُس کی نظروں کے سامنے کی۔۔۔۔نور نا سمجھی سے اُسے دیکھتی سمجھنے کی کوشش کرنے لگی کہ وہ کیا بتانا چاہ رہا ہے ۔۔۔
“یہ میں پہلے بھی کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔کیوں کے تمہیں کِسی بھی طرح چھونے کے لیے مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔۔بس تمہاری مرضی کا خیال تھا اسلئے ۔۔۔۔۔”
وہ کچھ سخت جتاتے انداز میں بولا۔۔۔۔اور اُس کا ہاتھ تھامے مضبوط چال چلتا اُسے لیے دروازے کی طرف بڑھا۔۔۔نور اُسے تاسف سے دیکھتی رہی کہ کیسا حق جتاتا انداز تھا اُس انسان کا جو بے رخی اور سنگ دلی کے تمام ریکارڈ توڑ چکا تھا۔۔۔۔
وہ اُس کا ہاتھ اُسی طرح تھامے اندر کی طرف بڑھ رہا تھا مگر نور نے ذرا سی کوشش سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ۔۔۔
اندر قدم رکھتے ہی دلفریب سجاوٹ نے اُس کا سواگت کیا ۔۔۔۔گھر جتنا باہر سے خوبصورت تھا اتنا ہی اندر سے بھی ۔۔۔اُس پر اوپری سجاوٹ نے کشش دوبالا کر دی تھی ۔۔۔۔لیونگ روم کی چھت دیواریں یہاں تک کہ فلور بھی چھوٹی چھوٹی ڈیکوریشن لائٹس اور وہائٹ بلونز سے سجے خوبصورت منظر پیش کر رہے تھے ۔۔۔۔۔
لیونگ روم کی دائیں دیوار جو کہ شیشے کی تھی جس سے لان کا مکمل منظر واضح تھا۔۔۔۔۔اُس کے پردے دونوں سائیڈ میں سمیٹ کر درمیان میں بڑے بڑے لفظوں میں ویلکم ہوم لکھا ہوا تھا ۔۔۔۔
حالانکہ شہیر کی موجودگی میں بس اُسے غصّہ آتا تھا مگر اس وقت لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔کیوں کے یہ سب اُس کے لیے کیا گیا تھا۔۔۔۔
جب کے وہ خود اس وقت اپنے ہی گھر کو اجنبی نظروں سے دیکھ رہا تھا اور اپنی ماں کے ذہن پر فخر کر رہا تھا ۔۔۔۔اُنہیں پتہ تھا شہیر سے ایسی کوئی امید نہیں کی جا سکتی کے وہ خوشدلی سے نئے گھر میں اپنی بیوی کا استقبال کرے گا تبھی اُنہوں نے اپنے تئیں سارا انتظام کردیا تھا۔۔۔۔
بڑا سا ڈرائنگ ہال تھا شیشے کی دیوار کے ٹھیک سامنے دو فیٹ کا فاصلا چھوڑ کر صوفے کا سیٹ اپ تھا ۔۔۔۔،اُس کے مخالف سمت یعنی ہال کے بائیں حصے میں ڈائننگ ٹیبل اور اُس کے ٹھیک سامنے اوپن کچن کا کاؤنٹر تھا۔۔۔۔۔
کچن کے مخالف سمت تھا بیڈروم اور دونوں کے درمیان سے اوپر جاتی سیڑھیاں جس کے ہر اسٹیپ پر گلاس کینڈل کی سجاوٹ تھی۔۔۔
اور اوپر ہی شہیر کا بیڈروم تھا کیوں کہ انور اُس کا سامان رکھ کر سیڑھیاں اُترتا واپس اُن کی طرف آرہا تھا ۔۔۔
“سامان آپ کے بیڈروم میں رکھ دیا ہے سر “
اُس نے آکر اطلاع دی تو نور کا اندازہ صحیح ثابت ہوا۔۔۔
“ٹھیک ہے۔ تم جاؤ اور جو کہا ہے وہ کرو تھوڑا جلدی”
شہیر نے اپنے ازلی روکھے انداز میں جواب دیا اور یقیناً انور بھی عادی تھا اس چیز کا تبھی مسکرا کر دونوں کو بائے کہتا وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
شہیر نے ایک نظر اُس کی جانب دیکھا اور قدم سیڑھیوں کی طرف بڑھائے ۔۔ ۔۔۔وہ منہ سے تو کچھ کہتا ہی نہیں تھا مجبورا اُس کے اشارے کو ہی سمجھ کر نور کو اُس کے پیچھے چلنا پڑا ۔۔۔
آخری سیڑھی کے بعد چھوٹا سا کوریڈور تھا سیڑھیوں اور کوریڈور دونوں کی ریلنگ شیشے کی تھی۔۔۔۔۔جن پر فاصلے فاصلے سے ڈیکوریشن لائٹس جگمگا رہے تھے ۔۔
کوریڈور میں ایک دیوار کے ساتھ صوفہ اور ٹیبل سیٹ تھے جس پر کچھ فائلز پڑی تھیں۔۔۔۔شاید وہ یہاں بیٹھ کر کام کرتا تھا۔۔۔
روم کے دروازے کے نزدیک ہی موجود کنسول ٹیبل پر گلاب کی پتیاں اور گلاس کیندلز کی سجاوٹ تھی۔۔۔۔۔غرض گھر کا کوئی کونا سونا نہیں تھا۔۔۔
مگر اصل سرپرائز تو روم کا دروازہ کھولنے کے بعد ملا تھا ۔۔اُس نے ہینڈل پریس کرکے دھکیلا ۔۔۔۔دو قدم آگے بڑھتے ہوئے ایک سرسري نظر گھمائی اور وہیں کے وہیں سٹل ہوگیا ۔۔۔اُمّید تو اُسے تھی کے جب پورے گھر پر محنت کی ہے تو یقیناً اُس کا روم بھی نہیں چھوڑا ہوگا مگر یہاں تو حد کردی گئی تھی ۔۔ ۔۔
اُس کے بیڈروم کو ہنی مون سویٹ سمجھ کر ڈیکور کیا گیا تھا ۔۔۔۔پوری کی پوری شکل بدل دی گئی تھی ۔
فلور پر سرخ پتیاں بکھری ہوئی تھیں اور کچھ فاصلے فاصلے پر رکھے گلاس کینڈلز روشن تھے۔۔۔۔۔
بیڈ کے پیچھے کی دیوار پر ہارٹ شیب لائٹ ہینگینگز لٹک رہے تھے۔۔۔۔
بیڈ پر موجود آف وائٹ چادر پر روز پیٹلز سے بڑا سا ہارٹ بنا ہوا تھا اور اطراف میں کافی فاصلے فاصلے سے دو پتیوں سمیت بند گلاب کی لڑکیاں نیچے زمین کو چھو رہی تھی۔۔۔۔
فضا میں خوشبو کی بھرمار تھی ۔۔۔۔۔
جس کو اُنہوں نے گھر کے ڈیکوریشن کی زمیداری دی تھی اُس نے اپنے کام سے پورا انصاف کیا تھا مگر جن کے لیے کی تھی ۔۔۔۔اُن دونوں کے لیے صورتِ حال بہت ہی خطرناک ہو چکی تھی ۔۔۔
ایک طرف وہ کھولتے دماغ کے اثر سے مٹھیاں بھینچے سرد سپاٹ تاثرات لیے کھڑا ایک ایک کونے کو گھور رہا تھا تو دوسری طرف نور آنکھیں پوری کھولیں اُس منظر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔دل زوروں سے دھک دھک کر رہا تھا اور سانس جیسے آنے جانے سے انکار کر رہی تھی۔۔۔۔
۔اور جب شہیر نے اُس کی جانب دیکھا تو وہ پتہ نہیں کیوں بوکھلا کر ایکدم سے لڑکھڑا گئی اور گرنے کے ڈر سے ڈریسنگ مرر کی ٹیبل کے کارنر کو تھام لیا۔۔۔۔
وہ اُسے نظر انداز کرکے آگے بڑھا اور گلاس وال سے پردے ہٹا دیے۔۔۔۔۔کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔۔۔ڈیکوریشن لائٹس اور کینڈل بے اثر ہو گئیں۔۔۔نور نے سانس بحال کرکے پورے کمرے میں نگاہ دوڑائی ۔۔۔۔روشنی کے اثر سے دھیان اُس سجاوٹ سے ہٹ کر کمرے کی ترتیب پر گیا۔ ۔جہاں ہر چیز قابلِ ستائش تھی۔۔
نیچے کی طرح اوپر بھی دیواروں پر آف وائٹ ہی پینٹ تھا صرف سیلنگ اور پردے ڈارک گرے کلر میں تھے۔۔۔۔بیڈ کے ٹھیک سامنے کاوچ تھا ۔۔۔۔۔۔دروازے والی دیوار کے ساتھ قد آور ڈریسنگ مرر اور ٹیبل جس پر کرسٹل واس میں تازہ گلاب کی ڈالیاں سجی تھی۔۔
اور ڈریسنگ مرر کے بازو دیوار نسب چینجنگ روم۔۔۔۔
اور بیڈ کے مخالف سمت تھا گلاس ڈور جو ٹیرس کی طرف کھلتا تھا اور جہاں سے ٹیرس کا خوبصورت منظر کسی بھی نظر کو جکڑنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔۔۔گلاس ڈور سے کچھ قدم آگے ٹیرس کے آدھے حصے میں مستطیل شکل میں بنا روف ٹاپ پول جس کے شفاف پانی میں لہروں کی ہلکی سی جنبش بھی صاف دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
باقی آدھے حصے میں پرگولا ۔۔۔۔۔جسے سفید پھولوں کی بیلیں چھپانے کی پوری کوشش کر رہیں تھی ۔۔۔۔
بلا شبہ وہ ٹیرس اُس گھر کا سب سے خوبصورت حصہ تھا۔۔۔۔۔
وہ مکمل طور پر اُس منظر میں محو تھی جب شہیر نے روم کی لائٹس آن کی تو اُس نے چونک کر پلکیں جھپکیں اور اُس کی جانب دیکھا جو اُس کے وجود سے یکسر بیگانہ سگریٹ جلا کر لبوں میں دبائے رسٹ واچ نکال رہا تھا۔۔
نور کے ذہن پر پھر ماحول کی سنگینی کا احساس غالب آیا تو وہ پریشان سی ادھر اُدھر دیکھنے لگی ۔۔۔اُس کے لیے وہاں سے ایک انچ بھی آگے بڑھنا بھی مشکل ثابت ہو رہا تھا۔۔۔۔
دونوں جانتے تھے کے یہ سب اُن دونوں کے لیے بے معنی ہے مگر پھر بھی اُس فضا نے لمحوں کو معنی خیز بنا کر صورت حال عجیب کردی تھی۔۔نظر بھی ملانا مشکل کر دیا تھا ۔۔۔
“کیا میں یہاں اپنے لیے کوئی اور روم لے سکتی ہوں ۔۔۔”
اور جب اُسے لگا وہ مزید کچھ دیر اُس جاں سوز خوشبُو میں سانس نہیں لے پائے گی تو بیگ کے سٹریپ کو انگلی میں لپیٹے ہوئے کچھ جھجھک کر پوچھا ۔۔۔۔
وہ آستین کی فولڈ کھول رہا تھا۔۔۔۔رخ ٹیرس کی جانب تھا اور نور بند شیشے پر اُس کا دھندلا سا عکس دیکھ سکتی تھی ۔۔۔
نور کی بات سن کر بھی وہ بلکل نارمل رہا۔۔۔اُس کی بات سے تاثرات میں کوئی فرق پڑتا نظر نہیں آیا شاید وہ اس بات کی اُمّید رکھتا تھا۔۔۔۔
وہ کچھ سیکنڈ اُس کے جواب کی منتظر رہی جب کے وہ پرسوچ نظروں سے باہر دیکھتا رہا ۔۔۔
“Are you sure۔۔۔۔”
بلاخر اُس نے نور کی جھنجھلاہٹ کا اثر لے کر منہ کھولنے کی زحمت کی اور اُس کی طرف پلٹ کر پوچھا تو نور نے آہستہ سے سر ہلا دیا ۔۔وہ بنا کچھ بولے سوالیہ نشان چھوڑ کر چینجینگ روم میں چلا گیا اور نور نے غصے سے بند دروازے کو گھورا اور پیر پٹخے ۔۔۔۔
سمجھ نہیں آیا کے اُسکے انتظار میں وہاں رکے یا خود ہی باہر چلی جائے ۔۔۔اُس نے ایک بے زار سی نظر چادر پر ہارٹ شیپ کا حصہ بنے سرخ پتیوں پر ڈالی اور سوچا کے بنا دل والے انسان کے لیے اتنا بڑا ہارٹ بنانا بھی بیوقوفی ہے۔۔۔۔
تبھی دروازہ واپس کھلا تو گڑبڑا کر فوراً زمین کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
چلو ۔۔۔۔۔
وہ لفظوں کا کنجوس انسان بس ایک لفظ کہتا دروازے کی طرف بڑھا اور ساتھ ہی ایک طرف پڑی اُس کی بیگز بھی تھام لی تو نور نے شکر کا سانس لیا اور اُسے گھورتی اُس کے پیچھے چل دی۔۔۔۔۔
نیچے والے روم میں آکر اُس کے دل کو سکون ملا۔۔۔بلکل سادہ سا کمرہ تھا ۔۔۔اوپر والے بیڈرم کے مقابلے کافی چھوٹا ۔۔۔۔۔کوئی ڈیکوریشن بھی نہیں تھا نہ زیادہ سامان تھا۔۔۔۔۔بس بیڈ۔۔۔۔۔ ڈریسنگ ٹیبل اور کبرڈ۔۔۔۔مگر اس کے ساتھ ایک کمرے میں رہ کر بار بار اُس سے الجھنے اور فرار کی راه تلاشنے سے۔۔۔ یہاں اطمینان سے رہنا مناسب تھا ۔۔۔۔۔
“یہ روم پرفیکٹ ہے۔۔۔۔میں یہاں رہ لوں گی اگر آپکو ٹھیک لگتا ہے تو۔۔۔”
وہ روم سے واپس باہر آئی اور اُس سے بس فارمالی اجازت طلب کی کہ گھر تو اُس کا ہی ہے۔ ۔۔۔جس پر شہیر نے فون سے نظریں ہٹا کر ایک پل کو نہایت سنجیدگی سے اُس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔نور کو عجیب سا محسوس ہوا وہ نظریں جھکا گئی۔۔۔۔۔۔
دماغ پر زور دے کر سوچا کہ یہ کیا ہے ۔۔۔۔
“میں تھوڑی دیر کے لیے باہر جا رہا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ اُس کے سوال کو درگزر کیے اپنی بات کہتا دروازے کی جانب بڑھا تو نور بھی کچھ سوچ کر جلدی سے آگے بڑھی ۔۔
“کیا میں یہ سب صاف کردوں۔۔۔۔”
اُس نے جلد بازی میں پوچھا ۔۔۔۔شہیر نے رک کر اُس کی جانب دیکھا۔ اور ایک نظر پورے ہال کو ۔۔۔
“انور سے کہا ہے ایک فیمیل کیئر ٹیکر کے لیے۔۔۔ ایک آدھ گھنٹے میں کِسی کو یہاں بھیج دیگا وہ۔۔۔۔۔۔”
اُس نے آہستہ سے جواب دیا۔۔۔۔اور دروازہ کھول کر باہر نکلا نور بھی ایک پل کو رک کر پھر اُس کے پیچھے بڑھی۔۔۔۔
“اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔آپ منع کر دیجئے اُنہیں۔۔۔۔۔۔میں کر لوں گی ۔۔۔”
نور نے فورا کہا ۔۔۔۔اس سے پہلے کے وہ سیڑھیاں اُترتا پھر روک دیا ۔۔۔اُس نے آنکھیں بند کرنے کھولیں کیوں کے ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا جب کوئی جاتے وقت بار بار راہ روک رہا تھا ۔۔
“صرف اسکے لیے نہیں گھر کے پرمننٹ کاموں کے لیے بھی ۔۔۔کِسی میل سرونٹ کی موجودگی میں تمہیں انکمفرٹبل فیل ہوگا اسلئے۔۔۔۔۔۔”
وہ کچھ بیزار ہو کر تفصیل سے بولا
“لیکن کیوں ضرورت ہے فیمیل کی بھی۔۔۔۔جو بھی کام ہوگا وہ میں خود ہی کر لوں گی۔۔۔۔۔۔”
نور نے بے نیازی سے کہتے اُسے منع کیا ۔۔
“تمہارے لیے سب سے بڑا کام ہے کے تم فلھال اسٹڈی پر فوکس کرو۔۔۔۔۔کل سے کالج ہے۔۔۔اب میں جاؤں ۔۔۔”
وہ جلدبازی میں تھا گھڑی میں وقت دیکھتے ہوئے بولا اور بات ختم کرنی چاہئی۔۔۔
“میں دونوں چیزیں مینیج کر سکتی ہوں ۔۔۔۔آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔”
نور نے جتا کر کچھ روکھے انداز میں کہا تو اُس نے کوفت سے آنکھیں گھمائی۔۔۔کہ جو کرنا ہے کرو۔۔۔۔
“اب میں جاؤں۔۔۔۔_”
کچھ جھنجھلا کر بولا تو نور کو احساس ہوا کہ وہ شاید جلدی میں ہے اور اُس نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔
اگر کوئی ضرورت پڑے تو کال کرنا۔۔۔۔۔
وہ سکون کی سانس لے کر کہتا باہر نکل گیا نور وہیں رکی رہی جب تک اُس کی گاڑی دور جا کر ایک موڑ پر پلٹتے ہوئے اوجھل نہیں ہو گئی ۔۔۔۔
•••••
•••••••
دن سرعت سے گزر رہے تھے ۔۔۔۔۔ آمد زمستاں نے راتوں کو خنکی سے بھر دیا تھا اور بارشیں جاتے جاتے اپنی نمی ہواؤں میں چھوڑ گئیں تھی۔۔۔ہواؤں کا رخ بدل گیا تھا۔۔۔۔موسم بدل گیا تھا ۔۔۔منظر بدل گئے تھے۔۔۔۔کچھ نہیں بدلا تو دونوں کے درمیان بسی لا تعلقی ۔۔۔
وہی خاموشی۔۔۔بے نیازی ۔۔۔۔وہی اجنبیت کی کچی دیوار ۔۔۔۔۔۔
نہیں بدلا تھا۔۔۔ تو شہیر کا بیگانہ پن۔۔۔ اُس کی بے حسی۔۔۔۔اُس کی بے اعتنائی ۔۔۔سرد رویہ۔۔۔۔۔
مگر نور کا دل بدل گیا تھا اُس کے احساس اُس کے جذبات لاکھ کوشش کے باوجود بے قابو ہو کر اپنی منتخب کردہ روش پر چل رہے تھے۔۔۔۔پتہ نہیں کونسے لمحے میں آکر وہ ہار گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔شہیر نے تو کبھی کوئی سرا نہیں سونپا تھا ۔۔۔۔۔اُسے ایک بھی بہانہ نہیں دیا تھا اپنی جانب بڑھنے کا ۔۔۔۔۔مگر پتہ نہیں وہ کب اُس کی طرف چل پڑی تھی ۔۔
روم الگ کرکے دور ہونے کی بجائے اُسے پہلے سے زیادہ نزدیک کرچکی تھی خود کے ۔۔۔۔
لاکھ کہتی لاکھ سوچتی کے اس عارضی تعلق کا کوئی حاصل نہیں۔۔ ۔۔
اُس کی طرف بڑھنے والی راہ کی کوئی منزل نہیں۔۔۔۔
وہ ویران صحرا ہے جہاں محبت کے پھول کبھی نہیں کھل سکتے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔مگر وہیں یہ سب خیال دل کو متاثر کرکے واضح کردیتے کے انجام جو بھی ہو آغاز تو ہوچکا ہے۔۔۔
فرق تو پڑنے لگا ہے ۔۔۔اُس کا ہونا نہ ہونا محسوس تو ہونے لگا ہے۔۔۔۔۔اُس کی بے رخی دل کو بری تو لگتی ہے۔۔۔۔اُس کا سامنے ہونا نظروں کو سکون تو دیتا ہے ۔اپنے نام کے آگے اُس کا نام انوکھی خوشی تو دیتا ہے۔۔۔
وہ ان چھوئے اجنبی جذباتوں کی ڈور سے بندھتی جا رہی تھی مگر خود سے بھی اس بات کا اعتراف نہیں کرتی تھی یا تسلیم نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔بلکہ خود کو رٹایا ہوا تھا کے وہ شخص قابلِ رحم بھی نہیں کہاں کے اُس سے محبت کا سوچا جائے ۔۔۔مگر محبت کا تعلق کب دماغ سے ہوتا ہے کے یہ سوچنے سمجھنے کا موقع دے۔۔۔۔۔
دماغ تو اشاروں پر کام کر رہا تھا۔۔۔۔۔
شہیر کے تمام اوقات حفظ کرلیے تھے ۔۔ اُس کے جاگنے کا ۔۔۔۔تیار ہونے کا ۔۔۔۔۔آفس جانے کا ۔۔۔۔۔واپس آنے کا ۔۔۔۔سونے کا ہر وقت ذہن نشین تھا۔۔۔۔۔اُس کی پسند نہ پسند ۔۔۔۔بنا پوچھے بتائے بھی معلوم کرلی تھی ۔۔۔۔بے ارادہ سارا وقت بس اُس کے یا اُس کے کاموں کے مطلق سوچتی رہتی تھی۔۔۔
صبح اٹھ کر اُس کے لیے ناشتا بنانا ۔۔۔۔اُس کے روم سے باہر آنے کا انتظار کرنا۔۔۔اُس کے بریکفاسٹ کرنے تک وہیں آس پاس موجود رہنا۔۔۔۔ایک ایک ضرورت کا خیال رکھنا۔۔اُس کے روم کو ہر وقت ترتیب سے رکھنا۔۔ اُس کے مانگنے سے پہلے ہی ہر چیز حاضر کردینا۔۔۔اُس کے گھر سے نکلتے وقت خود باہر کا گیٹ کھولنا اور جب تک گاڑی نظروں سے اوجھل نہ ہو جائے وہیں کھڑی رہنا۔۔۔
اُس کے بعد کا جو وقت کالج میں گزرتا اُس میں بھی زیادہ تر خیالات اسی کے حوالے سے چلتے رہتے ۔۔۔۔گھر والوں سے فون پر بات ہوتی تو شہیر کے ذکر پر پہلے کی طرح ناگواری نہیں بلکہ دلچسپی سے ہر بات سنتی۔۔۔۔۔
کالج سے واپس آکر پورے دل سے اُس کے لیے نئے نئے کوکنگ کے تجربے کرنا اور رات کو اُس کے آنے کے وقت کا تعین کرکے باہر نکل کر اُس کا انتظار کرنا۔۔۔۔۔۔
نور کے لیے یہ محض ایک شیڈول ۔۔۔۔ایک عام سا معمول تھا۔۔۔مگر شہیر کو یہ معمول معمولی ہرگز نہیں لگتا تھا ۔۔۔۔
اُسے محسوس ہوتا تھا نور کا اپنے اوپر حد سے زیادہ دھیان دینا۔۔۔۔حلانکہ دونوں کے درمیان کبھی بات نہیں ہوتی تھی۔۔۔۔کبھی اتفاق سے بھی ساتھ بیٹھ کر کچھ لمحے نہ گزرتے تھے ۔۔۔ایک گھر میں ہوتےہوئے ایک بار بھی کبھی ساتھ کھانا تک نہیں کھایا تھا۔۔
۔۔۔۔مگر وہ خود ان اوقات سے گزر چکا تھا اسلئے اُس کے بدلتے رخ کو سمجھتا تھا۔۔۔۔۔۔۔کئی بار اُسے منع کرتا کے اُس کے کام نہ کرے۔۔۔۔۔گھر کے لیے کوئی کیرٹیکررکھنے دے۔۔۔۔ رات کو اُس کا انتظار نہ کیا کرے۔۔۔
مگر نور اُسے کوئی تیکھا ۔۔۔ بے معنی ۔۔۔۔لاپرواہ سا جواب دے کر جتا دیتی تھی کے وہ کوئی اُسے اہمیت دینے کے لیے نہیں بلکہ بس اپنے شوق کی خاطر یہ سب کرتی ہے ۔۔۔۔اور یہ جواب صرف شہیر کو نہیں بلکہ وہ خود کو بھی دیتی آرہی تھی ۔۔۔
اپنا آپ تو اُس نے اس دھوکے کی نظر کردیا تھا مگر شہیر کے لیے یہ کسی مصیبت سے کم نہیں تھا ۔
سخت دل تو سخت دل ۔۔۔بے حس تو بے حس ۔۔مگر تھا تو ایک انسان ہی اور کوئی انسان ایسا نہیں جسے محبت کی طلب نہ ہو۔۔۔۔چاہے جانے کا احساس طلسمِ سامری سا اثر رکھتا ہے۔۔۔اُس کی لپیٹ میں آنے سے کوئی ذی روح نہیں بچ سکتا۔۔۔۔۔
Instagram
Copy link
URL has been copied successfully!

🌟 نئی کہانیوں اور ناولز کے اپ ڈیٹس کے لیے ہمارے فیس بک پیج کو فالو کریں! 🌟

کتابیں جو آپ کے دل کو چھوئیں گی

Avatar
Social media & sharing icons powered by UltimatelySocial